Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آج مشن نور کو پورا ایک سال ہو چُکا ہے۔آخری بار ہم سب اختلافات کے باوجود اس پر یکجا ہوئے تھے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔آواز بھدی ہونے کی وجہ سے کبھی زندگی میں اذان دینے کی جسارت تک نہیں کی۔ جو اس ویڈیو میں ہے وہی میری...

53,744 görüntüleme • 16 gün önce •via X (Twitter)

17 Yorum

AI creator شرارتی profil fotoğrafı
AI creator شرارتی16 gün önce

مشن نور ایک اچھی کوشش تھی یہ وہ آخری بار تھی جب پی ٹی آئی کا تمام سوشل میڈیا ایک نقطے پر متحد تُھا اُسکے بعد ہم سب متحد نہ ہوسکے اس مشن میں کامیاب کرنے میں آپکے تمام دوستوں کی کاوش قابلِ ستائش ہے 🙏

The Metaphysicist profil fotoğrafı
The Metaphysicist16 gün önce

آپکی بات لوگ سنتے ہیں آپکی نظر سے شاید نہ گزری ہو آپ سے درخواست کی تھی کہ ایک دفعہ پھر ایک دن/رات لوگوں سے دو نفل حاجت عمران خان کی رہائی کیلئے پڑھنے کی درخواست کریں بیشک ہمارا رب رحمن و رحیم و کریم ہے بہت شکریہ

Rebel Abbasi 🇵🇰🇵🇸🇾🇪🇮🇷🇱🇧 profil fotoğrafı
Rebel Abbasi 🇵🇰🇵🇸🇾🇪🇮🇷🇱🇧16 gün önce

احمد بھائی مارچ سے پہلے ایک دفعہ پھر کچھ اس طرح کے کیمپین بھی تو لانچ کی جا سکتی ہے جس میں سب حصہ لیں اور ایک سب کچھ جوڑنے والی ایکٹیوٹی ہو جائے لیکن کچھ ایسا ہو جس سے کیمپین بھی ہو جائے مارچ کی

Muhammad Junaid profil fotoğrafı
Muhammad Junaid16 gün önce

Ahmad bhai aik azaan 25 september ki b campaign kren. Much needed.

𝙈𝙪𝙝𝙖𝙢𝙢𝙖𝙙 𝘼𝙢𝙞𝙧 profil fotoğrafı
𝙈𝙪𝙝𝙖𝙢𝙢𝙖𝙙 𝘼𝙢𝙞𝙧16 gün önce

احمد علی خان صاحب ایک نیا مشن شروع کرتے ہیں عوام کو بیدار کرنے کیلئے

Ibrahim Husaain profil fotoğrafı
Ibrahim Husaain16 gün önce

بہت اچھی کوشش تھی

Kiki profil fotoğrafı
Kiki16 gün önce

Heart touching I wish we live in this kind of country and people ya Allah protect all my people

Ayesha profil fotoğrafı
Ayesha16 gün önce

We should do it again Ahmed bhai

Zulqar nain Haidar profil fotoğrafı
Zulqar nain Haidar16 gün önce

آ مین یا رب العالمین 🤲

پاکستان کی محافظ عوام 🇵🇰 profil fotoğrafı
پاکستان کی محافظ عوام 🇵🇰16 gün önce

ہم اکٹھے ہیں کیونکہ مقصد ایک ہے ظالم کے خلاف بولنا۔ باقی ہر ایک اپنا انداز ہو سکتا ہے اور سوچ بھی اتنی بڑھی بات نہیں بس ہر ایک بندہ اپنی ایمانداری سے کوشش کرے۔

Uzma Ali profil fotoğrafı
Uzma Ali16 gün önce

آپ لوگ سو گئے ھو🥲

Mahad Prnc profil fotoğrafı
Mahad Prnc16 gün önce

At least one azaan compaign before 27 September.

Shahid Khan profil fotoğrafı
Shahid Khan16 gün önce

Lol ultai karai huke bhi karo tu khandoo jail mai hi sarega

PAKISTAN MY SOUL profil fotoğrafı
PAKISTAN MY SOUL16 gün önce

ایک اور کوشش بھی کرنا چاہے بلکہ یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہے۔ ایک دن ایسا بھی ہونا چاہے جس دن پورے ملک میں پاکستان کا اور انقلاب کا جھنڈا ہونا چاہے۔ ہمیں pti کے علاوہ ایک انقلاب کا جھنڈا بھی بنانا چاہے۔ ایک دن ہر گھر پر یہ ۳ جھنڈے لگانے چاہے۔

Usman Ali profil fotoğrafı
Usman Ali15 gün önce

Mission ka name tou change kar laeta phir propaganda hoga

Ume Hamza profil fotoğrafı
Ume Hamza16 gün önce

اب دو رکعت نفل حاجت ان ظالم حکمرانوں سے نجات کے لئے بھی کیمپین شروع کریں۔۔۔

Sajid Shaikh profil fotoğrafı
Sajid Shaikh15 gün önce

چانبی والے کھلونے عمران شیطان کی طرح اسلامی ٹچ

Benzer Videolar

ایک سوال کا جواب چاہئیے۔ چین میں بہت سے پہاڑی سلسلے ہیں، جن میں سرنگیں کھود کے روڈ بنائی گئی۔ آپ اس سُرنگ کو ہی لے لیں، یہ پوری ویڈیو چار منٹ سے کم کی ہے۔ اس میں آپ صاف دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ضلع کو دوسری ضلع سے سرنگ کے ذریعہ ملا دیا گیا۔ مجھے بتایا گیا ک پہلے پہاڑی سلسلے سے روڈ جاتی تھی جس کی وجہ سے تقریباً دو گھنٹے لگ جاتے تھے۔ اور اب وہی فاصلہ فقط چار منٹ میں طے ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں؟ شاہرائے قراقرم موسم سرما کے تقریباً چار مہینے برفانی تودوں کی وجہ سے بند رہتی ہے، موسم گرما میں بھی جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بندش رہتی ہے۔ اور یہ ایک تاریخی روڈ ہے جو ہمیں دنیا کی اہم ترین معیشت چین سے ملاتی ہے۔ کیا ہم بھی سرنگوں کے ذریعے اس روڈ کو پورا سال کیلئے کارآمد نہیں بنا سکتے؟ ایسا کرنے سے ناصرف ہم معاشی فوائد لے سکتے ہیں بلکہ بہت سے رئیل ایسٹیٹ کے نئے پراجیکٹ، ٹورازم کے لاتعداد مواقع بنا سکتے ہیں۔

Raja Faisal

13,744 görüntüleme • 4 ay önce

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 görüntüleme • 4 ay önce

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 görüntüleme • 6 ay önce

اس ویڈیو میں نظر انے والی بچی کی عمر تقریبا 13 یا 14 سال ہے اور اس کی طلاق ہو چکی ہے اس کو بچے کی کسٹڈی ملی ہے کہاں ہے وہ ماہرین وہ عقل والے لوگ جو بار بار کہتے ہیں بچوں کی جلد از جلد شادی کروا دی جائے میرا اپ لوگوں سے ایک سوال ہے اب اس بچی کا فیوچر کیا ہوگا اتنی کم عمری میں یہ ایک ماں بن چکی ہے اور اسے طلاق بھی ہو چکی ہے وہ تمام لوگ جو یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں بچوں کی شادی 12 13 14 سال کی عمر میں کی جائے ان کے خلاف قانون بننا چاہیے کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر ہو اور اس کو لاگو بھی کیا جائے اور جتنے بھی لوگ یہ دلیل دیتے ہیں پہلے وقتوں میں جلدی شادی ہوتی تھی پہلے وقتوں میں لوگوں کی خوراک خالص تھی لوگ میچور ہوتے تھے ایک 15 سال کی بچی اس ٹائم پہ بچی نہیں ہوتی تھی وہ پورا گھر سنبھال لیتی تھی اور مرد بھی مضبوط ہوتے تھے یہ والی جنریشن بہت کمزور ہے فزیکلی اور ایموشنلی براہ کرم اس طرح کے پروپیگنڈے بند کر دیں کہ بچوں کی 12 سال کی 13 سال کی عمر میں شادی کر دی ہے بہت اچھا کیا ہے

Tayyba Awan 🌸

14,326 görüntüleme • 2 ay önce

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 görüntüleme • 1 ay önce

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,933 görüntüleme • 1 yıl önce