Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آج میرا دل کر رہا ہے یہ آیت بار بار پڑھو وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُ(42) #خان_سے_ملاقات_کرواؤ

31,633 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

9 Yorum

Farman Ullah profil fotoğrafı
Farman Ullah1 yıl önce

#ForwardedAsReceived

KJV Cards profil fotoğrafı
KJV Cards1 yıl önce

Psalm 19 KJV: The heavens declare the glory of God; And the firmament sheweth his handywork. Day unto day uttereth speech, And night unto night sheweth knowledge. There is no speech nor language, Where their voice is not heard. Their line is gone out through all the earth, And their words to the end of the world. In them hath he set a tabernacle for the sun, Which is as a bridegroom coming out of his chamber, And rejoiceth as a strong man to run a race. His going forth is from the end of the heaven, And his circuit unto the ends of it: And there is nothing hid from the heat thereof. The law of the LORD is perfect, converting the soul: The testimony of the LORD is sure, making wise the simple. The statutes of the LORD are right, rejoicing the heart: The commandment of the LORD is pure, enlightening the eyes. The fear of the LORD is clean, enduring for ever: The judgments of the LORD are true and righteous altogether. More to be desired are they than gold, yea, than much fine gold: Sweeter also than honey and the honeycomb. Moreover by them is thy servant warned: And in keeping of them there is great reward. Who can understand his errors? Cleanse thou me from secret faults. Keep back thy servant also from presumptuous sins; Let them not have dominion over me: Then shall I be upright, And I shall be innocent from the great transgression. Let the words of my mouth, And the meditation of my heart, be acceptable in thy sight, O LORD, my strength, and my redeemer.

Makzz profil fotoğrafı
Makzz1 yıl önce

😢😢😢💔💔💔

Imran Ahmad Khan Niazi😍🫡 profil fotoğrafı
Imran Ahmad Khan Niazi😍🫡1 yıl önce

#ForwardedAsReceived

MiAN ARSHAD SHARIF profil fotoğrafı
MiAN ARSHAD SHARIF1 yıl önce

Tum khan Europe mn abi tak jail mn hona tha

ch sabir gujjar 🇵🇸 profil fotoğrafı
ch sabir gujjar 🇵🇸1 yıl önce

پی ٹی آئی کنجریاں کہاں یہ سب اب

dholuk profil fotoğrafı
dholuk1 yıl önce

Wasy nahi karta ajj he kar raha hy

H.A. Maqsood profil fotoğrafı
H.A. Maqsood1 yıl önce

Randian road py tamasha krti hain aik play boy ky Liye or JB girift hojae to Islam darmian me leati hain

Najeeb Asghar profil fotoğrafı
Najeeb Asghar1 yıl önce

The best, respectable and most disciplined police in the whole world is Pakistan police. What one can see in the video is just a small example.

Benzer Videolar

میں نے زندگی میں کبھی کسی کو بدعا نہی دی ۔ مگر یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد میں مجبور ہو گیا ہو ۔۔ میرا دل چاہتا ہے جھولی اٹھا کر ظالم کو بدعا دوں ۔۔ تم نے یہ کیا کر دیا ۔۔ ایکیٹر شان شاہد نے پوچھا خان صاحب گھر میں اکیلے ہوتے ہیں تو کھانا کیسے منیج کرتے ہیں ۔۔ یقین جانیے خان صاحب کے یہ الفاظ سن کر انکھ سے انسو ا گے ۔۔ میں ملنگ بندہ ہوں ۔۔ جو نوکر اپنے لیے بناتے ہیں وہی کھا لیتا ہوں ۔۔ انہیں کے ساتھ بیٹھ کر ۔۔۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ ہم نے اخری بار اپنے نوکر کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کب کھایا تھا ۔۔ یا پھر جو نوکر اپنے لیے کھانا بناتا ہے وہ ہم نے کب نوش کیا تھا ۔۔ اب ایسے شخص پر تھوک کے حساب سے کیسز بنا دیے اور ایسے اےسے کیسز جنکی مثال تاریخ میں نہی ملتی ۔۔ کیا میرا رب یہ نہی دیکھ رہا ۔۔ وہ جیل میں بیٹھا پر سکون ہے اب ازاد ہو کر بھی غلام ہیں ۔۔ اپ طاقتور ہیں ائیں اپکا عدالتیں اپکی ریاست اپکی ۔ میڈیا اپکا ۔۔ کیا بگاڑ لیا ۔۔ کونسا کام اس ملک میں درست سمت جارہا ہے کوی اک کام بتا دیں ۔ جو کام کرتے ہیں اپکے حصے میں انٹرنیشنل ذلت اتی ہے ۔۔ اور رب عمران خان کو اور عزتیں دے رہا ہے ۔۔ تین سال سے لیکر ستر سال کا بزرک بھی دل سے اواز نکالتا ۔۔ عمران خان زندہ اباد ۔۔
1:17

Sensitive content

میں نے زندگی میں کبھی کسی کو بدعا نہی دی ۔ مگر یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد میں مجبور ہو گیا ہو ۔۔ میرا دل چاہتا ہے جھولی اٹھا کر ظالم کو بدعا دوں ۔۔ تم نے یہ کیا کر دیا ۔۔ ایکیٹر شان شاہد نے پوچھا خان صاحب گھر میں اکیلے ہوتے ہیں تو کھانا کیسے منیج کرتے ہیں ۔۔ یقین جانیے خان صاحب کے یہ الفاظ سن کر انکھ سے انسو ا گے ۔۔ میں ملنگ بندہ ہوں ۔۔ جو نوکر اپنے لیے بناتے ہیں وہی کھا لیتا ہوں ۔۔ انہیں کے ساتھ بیٹھ کر ۔۔۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ ہم نے اخری بار اپنے نوکر کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کب کھایا تھا ۔۔ یا پھر جو نوکر اپنے لیے کھانا بناتا ہے وہ ہم نے کب نوش کیا تھا ۔۔ اب ایسے شخص پر تھوک کے حساب سے کیسز بنا دیے اور ایسے اےسے کیسز جنکی مثال تاریخ میں نہی ملتی ۔۔ کیا میرا رب یہ نہی دیکھ رہا ۔۔ وہ جیل میں بیٹھا پر سکون ہے اب ازاد ہو کر بھی غلام ہیں ۔۔ اپ طاقتور ہیں ائیں اپکا عدالتیں اپکی ریاست اپکی ۔ میڈیا اپکا ۔۔ کیا بگاڑ لیا ۔۔ کونسا کام اس ملک میں درست سمت جارہا ہے کوی اک کام بتا دیں ۔ جو کام کرتے ہیں اپکے حصے میں انٹرنیشنل ذلت اتی ہے ۔۔ اور رب عمران خان کو اور عزتیں دے رہا ہے ۔۔ تین سال سے لیکر ستر سال کا بزرک بھی دل سے اواز نکالتا ۔۔ عمران خان زندہ اباد ۔۔

Saleem Speaks

68,934 görüntüleme • 8 ay önce

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,624 görüntüleme • 1 ay önce

مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔ کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے تھانوں کی پولیس اپنے اپنے تھانوں کو چھوڑ کر پولیس لائن میں آ کر جمع ہو گئی ہے۔ جو مقامات ہمارے تحفظ کے لیے تھے، آج ان کو خود تحفظ حاصل نہیں۔ کس کے پاس جائیں؟ ہم روایتی لوگ ہیں۔ اگر میں غم کے اندھیروں میں کھڑا ہوں، اگر میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں، اور ہر طرف میرا خون بہہ رہا ہو، تو ایسے ماحول میں کم از کم میں جشن نہیں منا سکتا۔ بڑا دل ہے، ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے، زندگیاں غیر محفوظ ہیں، اور ساتھ ساتھ جشن بھی منایا جا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ہم نے یہاں بڑے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ میں روز مرہ کی بات کر رہا ہوں۔ پورے سال کے تعلیمی دور میں وہ ہر روز اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک مدرسے میں تیرہ سو اور دوسرے مدرسے میں پندرہ سو طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شہادت کے لباس میں دفن کیا گیا۔ تو مجھے فیض کا یہ شعر یاد آیا: کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔ وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں۔ میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں تو وہ اپنا خون اپنی مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔ تو ہماری پالیسیاں کہاں ہیں؟ امن و امان نہ ہو تو کاروبار کہاں ہوگا؟ آج میرے علاقوں میں، جناب اسپیکر، توجہ سے سن لیجیے، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں۔ دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں میں مسلح لوگ۔ عام آدمی اپنے بچے کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، لیکن قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے۔ میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے۔ میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔ ہمارا کوئی سپاہی محفوظ نہیں، کوئی شہری محفوظ نہیں۔ ایک ہی گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا نوجوان صبح لے جایا گیا، صحرا میں اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی گاؤں سے ظہر کے بعد دوسرے شخص کو لے جایا گیا اور مغرب سے پہلے اس کی لاش آ گئی۔ اس طرح ہماری جانیں آسان ہو گئی ہیں، اس طرح ہمارا خون سستا ہو گیا ہے۔ آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے۔ کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ امن و امان کے لیے، نہ شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔ حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں: لوگوں کی معیشت کو بہتر کرنا اور لوگوں کی جان و مال اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا۔ نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں۔ اس بات کا بھی نوٹس لیا جائے کہ جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے ٹینڈر آتے ہیں تو ٹھیکیدار کو سائٹ پر جانے سے پہلے پورے ٹینڈر کے پیسے کا دس فیصد دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی ان علاقوں میں جاتے ہیں، ان گاؤں میں جاتے ہیں اور وہاں کس ماحول میں ہوتے ہیں؟ اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے نوٹیبل لوگ بھی اب غمی خوشی اسلام آباد تک محدود ہو گئے ہیں۔ اور اگر کوئی عام آدمی گاڑی میں جا رہا ہو یا درس حدیث دے رہا ہو تو اسے شہید کر دیا جاتا ہے، جیسے مرغی کو بھی اتنی آسانی سے ذبح نہیں کیا جاتا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

34,824 görüntüleme • 3 ay önce

میں واپس آؤں گا" دیکھتے ہوئے ایک خیال بار بار ذہن میں آتا رہا۔ پارٹیشن کو کئی دہائیاں گزر گئیں، کردار بدل گئے، سرحدیں بدل گئیں، کہانیاں بدل گئیں، مگر بچھڑنے کا دکھ آج بھی وہی ہے۔کسی نے اپنا گھر چھوڑا، کسی نے اپنا شہر، کسی نے اپنی محبت اور کسی نے اپنے پیاروں کو۔ وقت گزرتا رہا، نسلیں بدلتی رہیں، مگر جدائی کے زخم شاید کبھی پرانے نہیں ہوتے۔یہ فلم دیکھ کر مجھے ہمارے ہاں افغانستان سے آنے والے اُن خاندانوں کا خیال آیا جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی کئی عشرے پاکستان میں گزار دیے۔انکے کے بچے یہیں پیدا ہوئے، کسی نے یہیں تعلیم حاصل کی، کسی نے یہاں روزگار بنایا، اور کسی نے یہیں محبت کی شادی کر کے اپنا گھر بسایا۔پھر ایک دن واپس جانے کا وقت آیا۔وہ جدائیاں بھی عجیب تھیں۔ کسی کا دوست پیچھے رہ گیا، کسی کا گھر، کسی کی محبت، کسی کی وہ گلیاں جہاں اس کی پوری زندگی گزری تھی۔ہر خاندان کی اپنی ایک کہانی تھی، اور کئی کہانیاں ایسی تھیں جنہیں سن کر دل واقعی دہل جاتا تھا۔شاید یہی انسان کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ سرحدیں نقشوں پر بنتی ہیں، مگر رشتے دلوں میں بنتے ہیں۔پارٹیشن ہو یا آج کی ہجرت، وقت گزر جاتا ہے، کردار بدل جاتے ہیں، مگر بچھڑنے کا درد…شاید کبھی نہیں بدلتا۔۔💔

Harmeet Singh

26,098 görüntüleme • 14 gün önce

آج طیب بلوچ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ نہایت قابلِ مذمت ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے اس عمل کی مذمت کرتا ہوں کہ کسی بھی صحافی کو خواہ اس کا رویّہ کچھ بھی ہو جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچانا چاہیے اب ذرا سوچیے اور غور کیجیے کہ معاملہ کیا تھا جب ہم نے طیب بلوچ کو دیکھا اس وقت دن کے گیارہ بج رہے تھے وہ خاصے فاصلے پر کھڑے رہے، شاید اپنے ماضی کے بیانات اور رویوں کے باعث عوام سے براہِ راست سامنا کرنے سے گریزاں تھے اس کے باوجود وہ بار بار عوام سے فون پر رابطہ کرتے رہے جیسا کہ تصاویر اور ہماری ویڈیوز سے بھی واضح ہے کہ وہاں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن موجود تھے لیکن انہوں نے انہیں ہاتھ تک نہیں لگایا بعد ازاں پریس کانفرنس شروع ہونی تھی، جس میں کچھ تاخیر ہوئی کیونکہ علیمہ آپا وہاں کچھ دیر بعد پہنچیں ان کے ہمراہ موجود ساتھی بار بار کہہ رہے تھے کہ آپا کو فوراً پریس کانفرنس کا آغاز کرنا چاہیے، لیکن میڈیا نمائندگان اصرار کر رہے تھے کہ تھوڑا توقف کیا جائے۔ بالآخر علیمہ آپا نے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھ کر کانفرنس کا آغاز کیا۔ اسی لمحے طیب بلوچ سامنے آئے اور انہوں نے پہلا سوال رکھا۔ ان کا سوال یہ تھا کہ "آپ کے کارکن اور آپ خود بعض صحافیوں کے خلاف پراپیگنڈا کر رہے ہیں، یہ کیسا رویّہ ہے؟" اس پر نعیم پنجوتہ خاصے برہم ہوئے اور تلخ کلمات استعمال کیے۔ اگرچہ علیمہ آپا اور دیگر ساتھیوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، مگر ماحول کشیدہ ہوتا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد طیب بلوچ نے دوسرا سوال کیا: "آپ کس طرح سے صحافیوں کے خلاف منظم مہم چلا سکتی ہیں، آپ کی حیثیت ہی کیا ہے اوقات کیا ہے اپ کی؟" جیسے ہی لفظ "حیثیت" استعمال ہوا، تو نعیم پنجوتہ نے پھر بدزبانی کی اور دیگر افراد نے بھی اس کی تائید میں سخت جملے کہے۔ میں نے خود بھی طیب بلوچ کے رویّے کو غیر موزوں قرار دیا، لیکن حالات تیزی سے بگڑ گئے۔ اس موقع پر طیب بلوچ مشتعل ہو گئے اور کارکنوں کو للکارنے لگے کہ "میں تم سب کے خلاف ایف آئی آر درج کرواؤں گا"۔ نتیجتاً کارکنوں نے ان پر تشدد کیا۔ ہم صحافیوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور صلح صفائی کروائی، مگر اس دوران ہمیں بھی کچھ دھکے اور مکے سہنے پڑے۔ طیب بلوچ بار بار کہتے رہے: "مجھے جانے دیں، مجھے مارنے دیں"، اور ان کا رویّہ خاصہ غیر متوازن دکھائی دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر میڈیا نمائندگان نے علیمہ آپا کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ ہم نے علیمہ آپا سے کہا کہ چاہے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا آپ کی بات نہ سنے، لیکن ڈیجیٹل میڈیا آپ کی آواز ضرور پہنچائے گا۔ چنانچہ ہم نے پریس کانفرنس ریکارڈ کی، اگرچہ الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان ہمیں روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ آج علیمہ آپا کے ساتھ جو رویّہ اپنایا گیا، وہ نہایت نامناسب اور افسوسناک تھا۔ یوں لگتا تھا کہ میڈیا پہلے سے طے کر کے آیا تھا کہ پریس کانفرنس کو ناکام بنانا ہے۔ آخر میں میرا سوال یہ ہے کہ اگر آج طیب بلوچ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو "پراپیگنڈا" کہا جا رہا ہے، تو پھر میرا مقدمہ کہاں گیا؟ مینارِ پاکستان پر مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا، فائرنگ کی گئی۔ کیا آج تک ان قاتلوں کا سراغ ملا؟ کیا ان کا احتساب ہوا؟ جب ان سنگین جرائم کا حساب نہیں لیا گیا تو آپ بتائیے کہ باقی معاملات میں کس طرح انصاف ممکن ہے؟

Agha Sheikh Sarwar

114,972 görüntüleme • 11 ay önce

شہید سید باقر الحکیم اعلی اللہ مقامہ نے قُم کے ایک حسینیہ میں روز عاشور مجلس پڑھتے ہوئے مقتل امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ کیا تھا ۔ مصائب کے اس حصے کی ویڈیو اکثر نظر سے گزرتی ہے۔ یہ ویڈیو اس قدر درد ناک ہے کہ امام حسین علیہ السلام سے محبت رکھنے والا ہر انسان، بلا تفریق مکتب و مذہب، بے چین ہوکر رہ جائے۔ تقریر عربی میں ہے لیکن اُردو ترجمہ بھی ساتھ ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ شہید باقر الحکیم رح امام حسین علیہ السلام کا مقتل پڑھتے ہوئے یہ جملے کہتے ہیں: " زینب سلام اللہ علیھا نے آواز دی، اے عمر سعد لع ین، حسین ع قتل ہورہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو؟ عمر کی آنکھوں اور داڑھی سے آنسو ٹپک رہے تھے یہاں تک کہ اُس نے منہ پھیر لیا۔ زینب سلام اللہ علیھا دوبارہ پکاریں "کیا تم میں سے کوئی مسلمان ہے؟" کسی نے جواب نہ دیا۔ عمر ابن سعد ملعون نے اپنی فوج کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھو اور حسین ع کو قتل کردو۔ شمر لعین آگے بڑھا، حسین علیہ السلام کے قدموں تک آیا۔۔۔۔اُن کے سینے پر بیٹھا اور تلوار سے بارہ ضربیں لگائیں۔۔۔۔ " ۔ آخری جملے پر شہید باقر الحکیم رح نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے مقتل کے کاغذ ہوا میں اُچھال دیے، عمامہ اتار کر پھینک دیا اور غم کی شدت سے سر اور منہ پیٹ کر یا حسین یا حسین ع پکارتے رہے۔ شدت گریہ و غم سے وہ روتے ہوئے کبھی منبر پر بیٹھتے تھے اور کبھی کھڑے ہوجاتے تھے۔ میں نے یہ منظر جب بھی دیکھا، میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ایک عالم مقتل امام حسین علیہ السلام کے اس سخت ترین حصے کو بیان کرتے ہوئے کیا محسوس کر رہا ہوگا کہ اس پر شدت غم کی ایسی کیفیت طاری ہوگئی؟ ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مقتل امام حسین علیہ السلام پڑھتے ہوئے شہید سید باقر الحکیم رح کی اِس ویڈیو کو ناصبیوں اور غم حسین علیہ السلام سے بغض رکھنے والوں نے شیعوں کا مذاق اڑانے کیلئے بار بار شئیر کیا۔ "کیا یہ اسلام ہے" جیسے جملے لکھ کر ٹھٹھے بازی کی۔ میں سوچتا رہا کہ شیعوں سے نفرت اپنی جگہ لیکن یہ جس شخصیت کا مقتل پڑھا جا رہا ہے، کیا تمہارا اُس سے بھی کوئی تعلق نہیں؟ میرا دل یہ سب دیکھ کر بھی کٹ کر رہ گیا لیکن پھر شہید باقر الحکیم رح کے پڑھے ہوئے مقتل امام حسین علیہ السلام ہی کے جملے اور وہ منظر کشی یاد آگئی۔ مجھے یاد آگیا کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیھا نے پکار کر پوچھا تھا کہ کیا تم میں کوئی مسلمان ہے؟ اور مسلمانوں کا پورا لشکر خاموش کھڑا رہا تھا۔ میں نے مقتل کے وہ جملے بھی سن رکھے ہیں جب شمر لعین نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت گردن پر خنجر چلا رہا تھا اور سیدہ زینب سلام اللہ علیھا تلہ زینبیہ پر کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھیں تو شمر لعین قہقہے لگا رہا تھا۔ بس میں سمجھ گیا کہ اکسٹھ ھجری میں جن مسلمانوں کو پسر سعد لعین نے آگے بڑھ کر امام حسین علیہ السلام کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، جس شمر لعین نے امام حسین علیہ السلام کی پشت گردن پر خنجر چلاتے ہوئے قہقہے لگائے تھے، اُسی شمر لعین اور اُنہی مسلمانوں کی نسلیں آج مقتل امام حسین علیہ السلام پر ہنستی ہیں۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ ۔ #نوردرویش

Syed M Mehdi

32,657 görüntüleme • 2 yıl önce

🔵 نیا سال آ گیا… لوگ خوشیاں منا رہے ہیں، دعائیں کر رہے ہیں، اور ادھر بلاسفیمی بزنس گروپ کی متاثرہ مائیں ایک اور سال اپنے بچوں کے بغیر دیکھ رہی ہیں۔ جب گھڑی نے بارہ بجائے، تو کسی ماں نے کیک نہیں کاٹا… اس نے اپنے بچے کی تصویر کو سینے سے لگایا اور خاموشی سے رو دی۔ اس کے لیے نیا سال کوئی خوشخبری نہیں لایا، بس ایک اور سالِ انتظار دے گیا۔ یہ سال بھی گزر گیا دروازہ نہ کھلا قدموں کی آہٹ نہ آئی وہ بچہ، جسے جھوٹے الزام میں چھین لیا گیا تھا، واپس نہ آیا۔ ماں آج بھی وہی سوال کرتی ہے: میرا بیٹا کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اور جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے… لمبی، ظالم خاموشی۔ نئے سال کی رات سب کچھ بدلنے کا وعدہ کرتی ہے، مگر ان ماؤں کے لیے وقت وہیں رک گیا ہے جہاں ان کا بچہ آخری بار نظر آیا تھا۔ یہ آنسو کمزوری نہیں، یہ زندہ ضمیر کے ثبوت ہیں۔ اور اگر اس نئے سال میں بھی ان کی آواز نہ سنی گئی تو یہ ملک صرف سال نہیں بدلے گا، اپنا ضمیر کھوتا جائے گا۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor450 #450LivesMatter

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

17,428 görüntüleme • 7 ay önce

🚨سانحہ مری🚨 ملتان کی گرمی سےبچنےکےلیےمری آئی فیملی کوآگ نےجلادیا😭 لوگ کھڑے تھےدیکھ رہےتھے چیخ رہےتھے بہت کوشش کی مگر کوئی کچھ نہ کر سکاہر کوئی بھاگا کسی نے پانی ڈھونڈا کسی نے مدد کے لیے پکارا مگر آگ سب سے زیادہ طاقتور نکلی وہ لمحہ کتنا کربناک ہوگا جب ایک انسان دوسرے انسان کو بچانا چاہے مگر اپنے ہاتھ خالی پائے،کہتے ہیں ایک ماں نے اپنے بچوں کو آخری بار گلے لگالیاآگ میں بھی انہیں اپنے سینے سے جدا نہ ہونے دیا اور دونوں اکھٹے جل گےیہ محبت نہیں یہ ماں کا دل ہے جو آخری سانس تک اپنے بچوں کے ساتھ رہا آج وہاں صرف راکھ نہیں،وہاں ماؤں کی دعائیں جلی ہیں بچوں کی ہنسی جلی ہےاور کئی گھروں کی دنیا اجڑ گئی ہےیہ ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرےگا آج ملتان کے ساتھ مری کی بھی ہرآنکھ اشک بارہے آج دکھ نےشہر نہیں دیکھےآج دردنےفاصلے مٹا دیےہردل سوگوار ہر آنکھ نم ہے،یامیرے اللہ ان سب کوجنت میں اعلی مقام عطا فرمااور ہمیں ایسی بے بسی دوبارہ نہ دیکھانامیرے مالک آمین۔
0:59

Sensitive content

🚨سانحہ مری🚨 ملتان کی گرمی سےبچنےکےلیےمری آئی فیملی کوآگ نےجلادیا😭 لوگ کھڑے تھےدیکھ رہےتھے چیخ رہےتھے بہت کوشش کی مگر کوئی کچھ نہ کر سکاہر کوئی بھاگا کسی نے پانی ڈھونڈا کسی نے مدد کے لیے پکارا مگر آگ سب سے زیادہ طاقتور نکلی وہ لمحہ کتنا کربناک ہوگا جب ایک انسان دوسرے انسان کو بچانا چاہے مگر اپنے ہاتھ خالی پائے،کہتے ہیں ایک ماں نے اپنے بچوں کو آخری بار گلے لگالیاآگ میں بھی انہیں اپنے سینے سے جدا نہ ہونے دیا اور دونوں اکھٹے جل گےیہ محبت نہیں یہ ماں کا دل ہے جو آخری سانس تک اپنے بچوں کے ساتھ رہا آج وہاں صرف راکھ نہیں،وہاں ماؤں کی دعائیں جلی ہیں بچوں کی ہنسی جلی ہےاور کئی گھروں کی دنیا اجڑ گئی ہےیہ ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرےگا آج ملتان کے ساتھ مری کی بھی ہرآنکھ اشک بارہے آج دکھ نےشہر نہیں دیکھےآج دردنےفاصلے مٹا دیےہردل سوگوار ہر آنکھ نم ہے،یامیرے اللہ ان سب کوجنت میں اعلی مقام عطا فرمااور ہمیں ایسی بے بسی دوبارہ نہ دیکھانامیرے مالک آمین۔

Ali Imran Abbasi

165,325 görüntüleme • 2 ay önce

باجوڑ میں پولیس اہلکاروں کی شہادت نماز جنازہ میں اہلکاروں کا سخت ردعمل ڈی پی او صاحب اور ڈی سی صاحب آپ سنیں میں نے آج دو مردے نہلائے ہیں یہ کل 75 مردے ہیں جن کو میں نے غسل دیا ہے ڈی پی او صاحب آپ جانتے ہیں کہ اس مقام پر چوکی بنی ہے سامنے طالبان ہیں کون ہے جو یہ پلان بناتا ہے اور اس اہلکار کو وہاں بھیجتا ہے؟ وہاں کل رات بھی ایف سی پر حملہ ہوا پرسو بھی حملہ ہوا بچی زخمی ہوئی ہے جو پلان بناتا ہے اسے سامنے لائو میرے ساتھیوں کا قاتل تو یہ پلان بنانے والا ہے رات کو ناکے لگتے ہیں طالبان کا گڑھ ہے یہاں ضیاالرحمن کو شہید کردیا مجھے پورا خاندان کہتا ہے چپ رہو کچھ بولو نہیں میں بولوں گا چاہئے 76واں مردہ میرا ہی نہلا دیاجائے ڈی پی او صاحب آپ یہاں مہمان ہیں یہاں لوگ آپ کے پاس آئیں گے کسی کی تعریف کریں گے کسی کی برائی کریں گے لیکن باجوڑ کی پولیس کو مارا جا رہا ہے بار بار ہم کہتے ہیں کہ ایک سپاہی کچھ نہیں کرسکتا سید عزیز کو شہید کرکے وہ واپس آئے اور انہوں نے سید عزیز کی ویڈیو بنائی اور ہمارے گروپس میں شیئر کی ہمارے مردے کی بے عزتی کرتے ہیں آپ اور ڈی سی صاحب ساتھ بیٹھ جائیں آپ لوگ ہمیں مروا رہے ہیں اور ہمیں ان سے نہ مروائیں ہم پاکستان پر جان قربان کرتے ہیں میرا دادا درہ میں شہید ہوا ہے ہم نے اپنے قاتل کو معلوم کرلیا ہے تم کیوں اس قاتل کونہیں معلوم کرسکے اتنی بڑی مشینری اور وسائل کا کیا فائدہ؟ ابھی آپ کے دفتر میں بیٹھ کر دعا کرلیں گے اور معاملہ ختم ہوجائے گا سب اہلکار بنوں والوں کی طرح کھڑے ہوجائیں یا پھر اسی طرح تم لوگوں کی میتیں نہلائی جائیں گے مجھے بتایا جائے کہ مجھے کون مار رہا ہے

Muhammad Faheem

26,861 görüntüleme • 3 ay önce

زندگی کی مشکلات کہاں سانس لینے دیتی ہیں انسان کو۔ آج آپ کے سامنے ایک گھر کی وڈیو لگا رہا ہوں ۔ تین بہنیں ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے ۔ علاقے کے پٹواری نے اپنا ایک پرانا گھر جو جیسا بھی ہے تین یتیم بہنوں کو دے رکھا ہے۔ اس گھر کا لیول گلی سے 6 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔ جی بارش ہو جائے تو موٹر لگا کر پانی گھر سے نکالا جاتا ہے ۔ کیسی زندگی کے بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہوئے ان بہنوں کی پچھلی 18 سال کی زندگی گزری ہے ۔ لوگ ابھی زندگی ۔ معاشی حالات درست ہونے کی۔ دعا کرتے ہین ۔ ان بچیوں کی زندگی بارش نہ ہو کرتے گزر رہی ہے ۔ ۔۔۔۔ بس ایک بار پوچھا وہاں بیٹھے کے بہن جی اگر یہ گھر واپس لے لیا مالک نے تو پھر کیا کریں گی آپ۔ تو بولین رب ہی سہارا ہے ۔ اور کون ہے بھائی ہمارا۔ آنکھوں کی نمی چھپانےکو منہ دوپٹے سے صاف کرنے لگیں یہ بات کرتے ہوئے ۔ ۔۔۔۔ ایک بہن گھر میں کپڑے سی کر گزارا کرتی ہے۔ دوسری ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھا رہی ہے۔ تیسری جو سب سے چھوٹی ہے 18 سال کی وہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہے۔ پیدائشی ۔ اس کے دو آپریشن ہو چکے ہیں جھلی ڈل چکی ہے دل میں لیکن حالات ایسے مشکل اور تکلیف دہ ہیں کے اکثر وہ میڈیسن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے جو اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ مجھے میرے پیارے دوست بھائی نعیم گلزار نے جب ان کے بارے بتایا تو سب سے پہلے ان کے لئے سلائی مشین چائیے تھی وہ ساتھ لے کر گیا ۔ پہلی مشین جس سے یہ سلائی کر رہی ہیں آدھا ماہ دوکانوں پر دھکے کھاتی ہے۔ ۔۔۔۔ چھوٹی بہن جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے اس کے الفاظ نے وہاں موجودگی میں دل چیر دیا۔ بھائی میری زندگی کا کیا مقصد ہو سکتا ہے ۔ گھر اپنا نہیں بھائی سگے دونوں کبھی پوچھنے نہیں آئے دل کا عارضہ ایسا کے اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پلپٹیشن اور چکر شروع ہو جاتے ہیں ایسے لگتا ہے ابھی جان نکلی کے ابھی نکلی۔ ۔۔۔۔ وڈیو میں موجود آخری کلیپ میں اسی بچی کا پاوں ہے جس میں دو ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ 6 دن پہلے گھبراہٹ شروع ہوئی تو خود کو سنبھال نہیں پائی گلی میں گری تو پاس کھڑی ریڑھی پاوں پر سے گزر گئی ۔ سگے بھائی کو کال کی تو گلی سے اٹھا کر گھر تو لایا۔ لیکن بولا کچھ نہیں ہوا اس کو سب ٹھیک ہے اور چلا گیا۔ معاشی مسائل رشتوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ بچی کو ارتھوپیڈک سے بھی چیک کروا کر اس کی ہڈیوں کو پراپر جڑوا دیا ہے۔ ۔ اس دل کے عارضہ میں ہر چھ ماہ میں معالج سے چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اور ڈیڑھ سال ہو چکا ہے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کے ویگن پر فیصل آباد جا کر چیک اپ کروا لیتے سرکاری کارڈیو ہسپتال سے ۔ ۔۔۔۔ میں نے یہ پہلا گھر ہے جس کو ساتھ گاون میں زمین 3 مرلے لے کر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اوپر ایک کمرہ واشروم۔ اور کچن کر دینا ہے۔ انشاءاللہ یہ کرنا ہے۔ 3 کمروں کے پیسوں میں ان کا گھر مکمل ہو جائے گا بجلی کے کنکشن سمیت سارا حساب کر لیا ہے۔ اور نعیم بھائی نے زمین کی بات کر لی ہے۔ وہیں جہاں۔ شاہد ( مخنث کھسرے ) کا گھر۔ بن رہا ہے وہیں پاس یہ گھر بنے گا تاکہ ان کو تحفظ کا۔ بھئ مسلہ نہ ہو ۔ نعیم بھائی کا گاون ہے وہاں مشکل نہیں ہو گی ان کو ۔ ۔۔۔۔ بہت کچھ ہے جو لکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن الفاظ ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ اس کیس بارے میں لکھنا نہیں چاہتا تھا۔ بس اس کو مکمل کرنا تھا بنا کسی کوبتائے۔ لیکن مبشر اور نعیم کی سخت ہدایت پر لکھنا پڑا کے ۔ اس کو بیان کرنے سے وہ لوگ ھدایت پائیں گے جو ناشکری کرتے ہیں۔ جو متعصب ہو کر سوچتے ہیں۔ جو ہوتے سوتے کہتے ہیں ہمارے پاس کیا ہے ۔ ایک بہن کی ان میں سے شادی ہوئی ہوئی ہے۔ اس کا شوہر بھئ مزدوری کرتا ہے ۔ لیکن جسمانی طور پر کمزور ہے تو مزدوری بھئ بس گزارے لائق ہی ملتی ہے اس کو ۔ ۔۔۔۔ کیا اس سب کو پڑھ کر بھی آپ آئندہ ناشکری کریں گے ۔ کیا آپ کے پاس اب بھی ناشکری کا جواز موجود ہے ۔ خدا کا شکر ادا کریں آپ کو کیا نہیں۔ دیا ہوا رب نے ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

24,358 görüntüleme • 2 ay önce

آج ایک بار پھر سرزمین فلسطین پر صہیونی قوتوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، پانچ ہزار کے قریب چھوٹے بچے، ہماری مائیں اور بہنیں شہید ہوئی ہیں، ملبوں کے نیچے اب بھی دبی ہوئی ہیں، وہی ملبے ہی ان کی قبرستان بنے ہوئے ہیں، یہ بزدل کا کام ہوا کرتا ہے جو چھوٹے بچوں ،عورتوں، پرامن شہریوں پر بمباری کرتا ہے۔ جرات ہے تو پھر میدان میں کیوں نہیں آتے،لوگ بڑے بڑے فلسفوں میں جاڑ رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، جدلیات لڑا رہے ہیں، ہم تو صاف بات کرتے ہیں، المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نہ خود اس کے اوپر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کے ظلم کے لیے اس کو سپرد کرتا ہے۔ اہل فلسطین ہمارے بھائی ہیں اور آج پوری امت مسلمہ پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، جانی مالی قربانی ہو ،اخلاقی ،سیاسی حمایت ہو اور آج خدا خدا کر کے اسلامی تنظیم کانفرنس کا سربراہی اجلاس بھی ہو رہا ہے، میں آپ کی اجازت سے انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آج امت مسلمہ اکٹھی ہے خیال رکھو کمزور موقف مت دکھانا! اگر امریکہ اور مغربی دنیا اپنے بحری بیڑے لا کر صہیونی قوتوں کی حمایت کر سکتا ہے، ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے لیے آسکتا ہے تو پھر مسلمان برادری کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں صرف رونے کے لیے ہے اور میدان میں نکلنے کے لیے نہیں ہیں۔ اگر افغانستان کے محاذ پر ہمارے بھائیوں پر تکلیف آئی ہم شانہ بشانہ کھڑے رہے، آج اگر فلسطین کے مسلمانوں پر ایک مشکل گھڑی آئی ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں ۔ جمعیت علماء اسلام نے پشاور ، کوئٹہ ،کراچی میں جلسہ کیا۔آج آپ کے اس اجتماع سے بھی جو تائید مل رہی ہے، میں اسے معمولی تائید نہیں سمجھتا۔ مسلمان امت کیا چاہتی ہے؟ اسلامی قیادت نے مسلمانوں کے جذبات کو دیکھنا ہے۔ خود امریکہ میں وہاں کے عوام نے اس ظلم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں، برطانیہ،فرانس میں مظاہرے ہوئے ہیں اور اپنی حکومتوں پہ تنقید کی ہے جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ دنیا کے عوام کی رائے کے مطابق نہیں ہو رہا۔ ہم اسلامی تنظیم کانفرنس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ جرات مندانہ موقف لے اور براہ راست اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کریں۔ میں نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی۔ وطن عزیز اور اس پر بسنے والے پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے میں فلسطین کے حماس قیادت کو ملنے ے گیا اور میں نے ان کی قیادت کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے بھی بڑے وضاحت کے ساتھ کہا کہ پوری دنیا میں ہماری سب سے بڑی امید پاکستان ہے، کہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے، اور پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو جرات مندانہ موقف دیا ہے ہم دل و جان سے اس کی قدر کرتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے بچوں کے اوپر بمباری کا سلسلہ بند کر دیا جائے، یہ جنگ کا حصہ نہیں ہوا کرتے، یہ اسلام ، شریعت اسلامیہ کا اخلاق ہے کہ جنگ میں بچوں کا قتل ،عورتوں ،بوڑھوں پہ ہاتھ اٹھانا جرم ہے، یہاں تک کہ ان کی کلیساؤں میں اور عبادت خانوں میں بیٹھے ہوئے عبادت میں مصروف راہبوں کو بھی مت چھیڑنا، ان کے مال مویشی کو بھی نہیں چھیڑنا، ان کے باغات کو تباہ نہیں کرنا، ان کے فصلوں کو تباہ نہیں کرنا، یہ جنگ کے وہ عظیم الشان اصول ہیں جو دین اسلام نے دئے ہیں۔ جس طرح صہیونی قوم کہتی ہے کہ ہمارے لیے بچوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، عورتوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، انسانیت کا قتل، میں سوچتا ہوں کہاں ہے وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، آج اگر ہم یہاں پر جلسے میں ایک سخت لفظ کہہ دے پوری دنیا کی مغربی دنیا ان کے این جی اوز ان کے انسانی حقوق کی تنظیمیں وہ ہمارے پیچھے پڑ جاتی ہے یہ بڑے شدت پسند ہیں۔آتنگ واد ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

78,009 görüntüleme • 2 yıl önce

🛑نفرت کا بیوپار اور مذہب کارڈ کا آزادانہ استعمال 🛑 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کے نام نہاد ترجمان نے وکٹم فیملیز کے وکلا کو کافر قرار دے دیا اور کہا کہ ان کے نکاح منسوخ ہوچکے ہیں۔ اور اب یہ وکیل اپنے ایمان کی گواہی علماء کی موجودگی میں دیں 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ اپنے حواس کھو بیٹھا ہے اور لوگوں کے ایمانوں کے فیصلے کرنا شروع ہوگیا ہے 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ انتہائی مکار ، شاطر ، مذہب کا بیوپاری اور اخلاقیات کے ہر درجے سے گرا ہوا گروپ ہے جو تحقیقات کے خوف سے نہ صرف ہر جگہ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے بلکہ اب لوگوں کو سرعام کافر کہنا شروع ہوگیا ہے 🔶اگر بلاسفیمی بزنس گروپ کے اس فلسفے کو مان لیا جائے تو پھر پورے پاکستان میں کوئی مسلمان رہ جائے گا ؟ 🔶بلاسفیمی بزنس نفرت ، فتنہ انگیزی اور فساد فی الارض کو ہوا دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ملکی حالات خراب ہوں ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کیوں کہ پورا گروپ بمع ہنی ٹریپنگ ایمان اور مخدومہ ایکسپوز ہوچکے ہیں 🟢وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ" (البقرۃ: 11) مفہوم: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ 🔶 فیملیز کو جن وکیل صاحب کو بلاسفیمی بزنس گروپ نے کافر قرار دیا ہے وہ الحمد للّہ ایک سچے مسلمان اور حافظ قرآن ہیں ۔ 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کو نہ تو شرم ہے اور نہ ہی اللہ کا اور روز قیامت کا خوف ، جس کو چاہا کافر بنادیا جس کو چاہا اسلام سے خارج کردیا جس کو چاہا اس کا نکاح منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔ 🔶یہی آیت جو موصوف نے استعمال کی ہے ان کے فلسفے کے حساب سے کیا وہ واپس انہی پر بھی صادق نہیں آتی؟ کہ جس پر یہ الزام لگا رہے ہیں اگر وہ ویسے نہیں ہیں تو یہ ان پر واپس لوٹ آتا ہے تو کسی کو کافر قرار دینے سے پہلے انہیں اس پر بھی غور کرلینا چاہییے تھا یا مذہب کا بیوپار نہیں کرنا چاہیے تھا 🔶ایک جنگ کے دوران حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک دشمن شخص کا پیچھا کیا۔ جب اسامہؓ نے اس شخص پر قابو پایا اور تلوار اس کی گردن پر رکھی، تو اس شخص نے فوراً "لا إله إلا الله" (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) پڑھ لیا۔ مگر حضرت اسامہؓ نے یہ سوچ کر کہ یہ شخص جان بچانے کے لیے صرف زبان سے کلمہ پڑھ رہا ہے، دل سے نہیں، اسے قتل کر دیا۔ جب حضور اکرم ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ ﷺ بہت ناراض ہوئے۔ آپ ﷺ نے حضرت اسامہؓ سے فرمایا: "کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تھا اور تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا؟" اسامہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اس نے محض جان بچانے کے لیے کہا تھا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟" (یعنی تمہیں کیسے پتہ کہ اس کے دل میں کیا تھا؟) اور آپ ﷺ بار بار فرمایا: "قیامت کے دن تم اس کلمے کا کیا جواب دو گے؟" صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4269 صحیح مسلم، حدیث نمبر: 96 🔶 لوگوں کے دلوں کے حال اللہ جانتا ہے مگر بلاسفیمی بزنس گروپ کا یہ نام نہاد ترجمان اور اسائلم والے کا بیٹا لوگوں کے دلوں کے حال بھی جاننا شروع ہوگیا ہے یہ صفات تو صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھیں ۔ 🟢 "إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا فِي قُلُوبِكُمْ" مفہوم: بیشک اللہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 51) 🔶 جو کام اللہ تبارک و تعالیٰ کے کرنے کے ہیں وہ اس بلاسفیمی بزنس گروپ نے کرنے شروع کردیے ہیں لوگوں کے دلوں کے احوال اور ایمانوں کے فیصلے سوشل میڈیا پر بلاسفیمی بزنس گروپ کے یوٹیوبر کرنے لگے ہیں۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor400

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

32,418 görüntüleme • 1 yıl önce

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 görüntüleme • 2 ay önce

عمران خان سیکٹر E-7 اسلام آباد میں میرے پڑوسی تھے جب میں 2008 میں پی ٹی آئی کا کارکن بنا۔ میری عمر پندرہ سال تھی۔ میں وہاں پر اپنی گھر کے قریب کالج کے بعد کرکٹ کھیلتا تھا جب عمران خان نے ہمیں بُلا کر بتایا کہ مجھے آپ جیسے نوجوان لوگوں کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سارا نظام کرپٹ ہے اور ہمارے حکمران امریکہ سے پیسے لے کر غلامی کرتے ہیں جس کے بعد مجھے انہی کے وارڈ کا جنرل سکریٹری اور پھر صدر منتخب کیا گیا۔ ہم لوگ تقریباً ہر جمعہ کو عدلیہ کی آزادی (چیف جسٹس افتخار چوھدری بحالی تحریک)، ڈرون حملوں اور مہنگائی کے خلاف پریس کلب اور آبپارہ چوک میں احتجاج کیا کرتے تھے۔ رشتہ دار، دوست یہاں تک کہ سکول کے ٹیچر بھی مزاک بناتے تھے کہ عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتا لیکن عمران خان کے حکم پر اپنی محنت اور کوشش جاری رکھی۔ اس وقت جب پولیس پکڑتی تھی تو تھانے لے جا کر دو تین چھِتر مار کر چھوڑ دیتی تھی۔ پارٹی میں کبھی بھی عہدہ یا ذاتی مفاد لینے کی سیاست نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایک ورکر ہونے کی حیثیت سے گراؤنڈ پر کام کیا۔ کبھی بھی میڈیا پراجیکشن نہیں کی اور نا ہی تصاویر اور وڈیوز کا شوق رکھا۔ میں اپنی حکومت میں بھی ہمیشہ فوج کے سیاسی مداخلت پر تنقید کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں اور آیئندہ آنے والے وقت میں بھی کرتا رہوں گا کیونکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب تک خفیہ اداروں کی سیاسی مداخلت اور انجنیئرنگ ختم نہیں ہوگی پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی زندگی میں قسم کھائی ہے کہ اگر نظریہ عمران خان کے لئے مجھے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہانہ پڑے گا تو میں ایک بار بھی نہیں سوچوں گا۔ میں اپنی یہ تصویر شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وقت نے مجبور کیا کہ بتایا جائے کہ ٹوئٹر پر بیٹھ کر تنقید کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن اپنے لیڈر کے نظرئے کو تشدد کے بعد بھی قائم و دائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ہمیشہ سے پی ٹی آئی کا اثاثہ رہا ہے لیکن ہم بات یہ کر رہے ہیں کہ جب تک سینئر قیادت عوام کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کے لیے باہر نہیں نکالی گی یہ لوگ عمران خان کو رہا نہیں کریں گے۔ کیا کوئی سینئر لیڈر بتا سکتا ہے کہ آٹھ ماہ بعد بھی آج عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک کا آغاز کیوں نا کیا جاسکا ؟ ایسی کیا رکاوٹ ہے آج بھی سینئر قیادت احتجاج اور جلسے کرنے سے خوف زدہ ہے جبکہ عمران خان ہر میٹنگ میں سینئر قیادت کو کہہ چکے ہیں کہ پورے پاکستان میں احتجاج کئے جایئں۔ سوشل میڈیا کو چاہئے کہ اپنی سینئر قیادت سے سب سوال پوچھے اور ان پر دباؤ ڈالیں کہ عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک چلایئں۔ میری کسی بھی ٹویٹ یا لفظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معزرت خواہ ہوں۔

Wajahat Sami

145,379 görüntüleme • 2 yıl önce