Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

آج پھر محبوب کے شہر نے آسمانی پانی سے وضو کیا، تو اس کا نور پر نور مزید بڑھ گیا۔ مسجد نبوی کے میناروں اور گنبدوں پر بارش کی آواز، ایک آسمانی دھن ہے جو کبھی بور نہیں کرتی۔ یا رب! خیر اور برکت کی بارش ہو اور ہم...

15,782 просмотров • 10 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آٹسٹک عیلیہا نور الامین مینگل بنام نور الامین مینگل۔۔۔ اگر اس ملک میں آٹسٹک بچی کو بھی عدالتی نظام سے انصاف نہیں مل رہا تو سوچیں کہ عام انسانوں کے ساتھ یہ نظام کیا سلوک کرتا ہوگا۔ فیملی عدالت نے میری آٹسٹک بیٹی کا ماہانہ خرچہ 75 ہزار روپے مقرر کیا حالانکہ ہم نے قانون کے مطابق تمام ٹھوس شواہد، حقائق، قانون، آٹسٹک مریضہ کے علاج معالجہ و دیگر ضروریات، اور ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، چلڈرن ہسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر بطور عدالتی گواہ آکر شہادت دے کر گئی اور میری بیٹی کی علاج معالجہ، تعلیم اور دیگر ضروریات کے مئوقف کی تائید کی جس کے بعد ہم نے استدعا کی کہ دعوی کی استدعا کے مطابق ساڑھے 3 لاکھ خرچہ اور سالانہ 20 فیصد اضافہ دیا جائے کیونکہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ بچی کا والد نورالامین مینگل گریڈ 21 کا بیوروکریٹ ہے اور اس کے آمدن کے ذرائع ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ساڑھے 3 لاکھ سے بھی زیادہ خرچہ ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن فیملی عدالت نے صرف 75 ہزار خرچہ مقرر کیا۔ ظاہر ہے کہ ایک بااثر بیوروکریٹ کیخلاف فیصلہ دینے کیلئے سول جج کو ایمانداری اور خدا خوفی بھی چاہیئے ہوتی ہے جو کہ فیصلے کے مطابق نظر نہیں آتی۔ (اسکی وجوہات پھر کبھی لکھوں گی)۔ خیر ہم اپیل میں گئے تو وہاں بھی وہی سلوک ہوا۔ اب ہم لاہور ہائیکورٹ میں اپنا مقدمہ الگ لڑے رہے ہیں اور مدعا علیہ کے لاہور ہائیکورٹ جیسے ادارے میں اثر و رسوخ کیخلاف الگ لڑ رہے ہیں۔ خیر فیملی جج اور اپیل جج کے فیصلوں کے باوجود مینگل صاحب نے اپنی 7 سالہ artistic بیٹی عیلیہا نور مینگل کا پورے سال میں سے صرف دو ماہ کا خرچہ دیا ہے اور باقی خرچہ دینے میں حیلے بہانے اور تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ مردوں کے معاشرے پر مشتمل عدالتی نظام کی بے حسی کی بدولت سکول کی فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ایلیا نور مینگل کا اسکول چھوٹ گیا ہے اور تھراپیز بھی ریگولر نہیں ہو پا رہیں جس کی وجہ سے میری بیٹی کا آٹزم دوبارہ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ نور الامین مینگل اپنے باقی تین بیٹوں اور ایک بیٹی کو بادشاہوں والی زندگی دے رہے ہیں اور اس autistic بیٹی کو تعلیم ، علاج اور بنیادی ضروریات کا حق بھی نہیں دے رہے۔ اللہ کی عدالت سے ہی ہمیشہ امید تھی اور ہے لیکن میں ماں ہوں، بے بس بھی ہوں اور اپنی بیٹی کی تکلیف کو دیکھ کر بہت تکلیف میں بھی ہوں۔ میرے لئے اور میری autistic بیٹی کے لئے آپ سب دعا کیجئے گا #Autism #AutismAwareness #AutismAcceptance #Neurodiversity #AutismSpectrum #AutismParent #AutismMom #AutismJourney #AutismLife #SingleMomLife #SupportAutism #DifferentNotLess #noorulaminmengal #autisminpakistan

Ambreen Sardar

104,921 просмотров • 4 месяцев назад

ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر قیادت کے لواحقین کے ہمراہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاست نے ان مظلوم ماؤں اور معصوم بچوں کی بات سننے یا ان کے مسئلے کے حل کے بجائے، انہیں شدید بارش میں ایک عارضی شیلٹر یا کیمپ لگانے کی اجازت تک نہیں دی۔ یہ بلوچ مائیں اور بچے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کوئٹہ سے اسلام آباد اس امید پر آئے کہ شاید ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے، ریاست نے ان کی فریاد سننے کے بجائے انہیں خراب موسم اور تیز بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے یہ خواتین اور بچے شدید خراب موسم کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے ہیں، مگر ریاستی بے حسی اپنی جگہ قائم ہے۔ ہم تمام انسان دوست افراد، سول سوسائٹی، اور بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظلوموں کی آواز بنیں، اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں، اور ان ماؤں اور بچوں کی اس پرامن جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔

Mahrang Baloch

19,552 просмотров • 1 год назад

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 просмотров • 2 месяцев назад

یہ شخص کہتا ہے کہ ایک پاکستانی کی جان ہزار افغانیوں کی جانوں پر مقدم ہے۔ کاش یہ بات تم ارشد شریف کی ماں سے جا کر کہتے جس کا بیٹا ایک سچا پاکستانی تھا، جس نے صرف تم جیسے غداروں کو بے نقاب کرنے کی جرات کی اور اسی جرم میں اسے جلاوطنی، تعاقب اور آخرکار قتل تک پہنچا دیا گیا۔ یا پھر ظلے شاہ کے والدین سے پوچھتے جس کو مارنے سے پہلے اس کے نازک اعضاء تک کو ٹارچر کیا گیا۔ کسی پاکستانی جان کی قدر پوچھنی تھی تو وقار ستی کے والد سے پوچھتے جس کے بچے کے سر میں ڈی چوک پر فوجیوں نے گولی ماری اور پھر لاش دینے سے بھی انکار کر دیا۔ یا مریدکے کے فیصل کی ماں سے پوچھتے جو اپنے بچے کا چہرہ تک نہ پہچان سکی کیونکہ اسے مارنے کے بعد اس کے سر پر فوجی گاڑی گزار دی گئی تھی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کا خون بیچ کر تم نے اپنا اقتدار بھی بنایا جائیدادیں بنائیں بیرون ملک کاروبار خریدے جزیرے بناۓ پزا سٹور خریدے محل بناۓ اور اپنے بچوں کے مستقبل بھی۔ اس لیے تمہاری گندی زبان سے جب لفظ پاکستان یا پاکستانی نکلتا ہے تو وہ لفظ نہیں لگتا وہ شہید پاکستانیوں کے خون پر کیا گیا ایک تلخ مذاق لگتا ہے۔

Waqar khan

46,737 просмотров • 6 месяцев назад

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,394 просмотров • 2 месяцев назад

سیاحت کا خواب غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا..😢 سوات کے خوبصورت وادیوں میں آج جو سانحہ پیش آیا اس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے پندرہ سیاحوں کا سیلابی پانی میں بہہ جانا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک المناک حقیقت ہے جو ہماری انتظامی غفلت، بےحسی اور مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قدرتی حسن کو دیکھنے لمحوں کو جینے اور خوشیاں بانٹنے یہاں آئے تھے… مگر واپسی میں ان کے مقدر میں فقط تاحیات خاموشی، آنسو اور کفِ افسوس رہا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی وارننگ کے باوجود نہ ضلعی حکومت نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی سیاحوں کو بروقت خبردار کیا گیا۔ جب سیلابی پانی نے انہیں گھیر لیا تو وہ پکار اٹھے۔ مدد مانگی، زندگی کی دہائیاں دیں مگر ریاستی مشینری کہیں نظر نہ آئی۔ نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی اور نہ کوئی ضلعی افسر۔ وہ ایک گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے اور آخرکار وہ ہار گئے۔ کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ انسانوں کی زندگیاں ٹھیکوں، کمیشنوں اور بجٹ کی فائلوں میں دفن ہو چکی ہیں؟ کیا سیاحت کے فروغ کا مطلب یہ ہے کہ سیاح غیر محفوظ راستوں پر بغیر کسی حکومتی رہنمائی کے چھوڑ دیے جائیں؟ یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک ایسا ریاستی جرم ہے جو کئی قیمتی جانوں کو نگل گیا۔ جب ریاست شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو سوالات اٹھتے ہیں اور اٹھنے چاہئیں۔ میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ لیکن تعزیت کے ساتھ ہمیں یہ عزم بھی کرنا ہوگا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف حادثات پر افسوس نہ کریں بلکہ اس نظام کو جھنجھوڑ کر جگائیں، جو وقت پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بشکریہ : مسا تالپور

Gilgit Baltistan Tourism.

52,416 просмотров • 1 год назад