正在加载视频...

视频加载失败

آج کے فیصلے نے عدالتی نظام کو 24 کڑوڑ عوام کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ نواز شریف نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ جب چاہے، عوام کے سامنے پاکستان کے کسی بھی ادارے کی تضحیک کر سکتا ہے۔ اس ملک میں ایک مفرور اشتہاری مجرم کی اتنی...

115,434 次观看 • 2 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

وزیراعلیٰ سہیل افریدی نے آج تمام کرداروں کو بے نقاب کر دیا وہ عدالت کا حکم نامہ حاصل کرنے کے بعد اڈیالہ جیل پہنچے پہلے عدالت گئے حکم لیا اور پھر جیل روانہ ہوئے آج سہیل افریدی نے ثابت کر دیا کہ ایک تھانے دار چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو مگر وہ ایک جج کے فیصلے سے بالاتر نہیں ہو سکتا عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کے بعد سہیل افریدی نے مقررہ وقت تک دھرنا جاری رکھا کیونکہ ملاقات کا وقت چار بجے تک مقرر تھا اس سے زیادہ بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہ تھا وہ وہیں بیٹھے احتجاج ریکارڈ کرایا اور عوام کو بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ناانصافی کی جا رہی ہے بعد ازاں انہوں نے پریس کانفرنس میں سخت سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان کی مشاورت کے بغیر کسی بھی قسم کی کابینہ تشکیل نہیں دوں گا نہ ہی کسی میٹنگ میں شریک ہوں گا میرے کندھوں پر ساڑھے چار کروڑ عوام کی امانت ہے جنہوں نے ووٹ مجھے نہیں بلکہ عمران خان کے نظریے کو دیا ہے اس لیے میں ان کی رہنمائی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا آج اڈیالہ کے اندر اور باہر حقیقی معنوں میں ایک انقلابی فضا قائم تھی جنید اکبر نے بھی واضح کر دیا کہ اب ہمارا آخری سہارا عوام ہیں اور آئندہ ہم عوام کے ساتھ میدان میں اتریں گے

Agha Sheikh Sarwar

63,960 次观看 • 11 个月前

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,721 次观看 • 16 天前

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 次观看 • 3 个月前