Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اختر مینگل نے پہلی دفعہ آزاد بلوچستان کا نعرہ لگا دیا بلوچستان پوائنٹ آف نو ریٹرن سے آگے جا چکا ہے یہ ایک حقیقت ہے میں وزیراعلی کی طرح بڑھکیں نہیں ماروں گا کہ سب کی کمر توڑ دی حقیقت میں پاکستان ریاست کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور...

48,490 views • 7 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 views • 3 months ago

مجھے بھی بہت آفرز دی گئیں کہ تمہیں ایم این اے بنا دیں گے تمہیں وزیر بنا دیں گے تم کیا چاہتے ہو یہ پاکستان کا جھنڈا ہمیشہ رہے گا عمران خان ہمیشہ نہیں رہے گا اس سے پہلے بھی جو آئے وہ بھی چلے گئے تم شخصیت پرستی چھوڑ دو تم پاکستان کو دیکھو فوج ہمیشہ رہے گی، یہ (ملٹری اسٹیبلشمنٹ) اس طرح کی باتیں ہر ایک کو کرتے ہیں انہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میں ان کی باتوں میں آ جاؤں لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ لوگوں کو صرف اور صرف خریدتے ہیں، بازار میں جس کی قیمت لگ جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی یہ ہمیشہ سے عمران خان نے ہمیں سمجھایا ہے اور سکھایا ہوا تھا، میں نے ایک نظریہ کی وجہ سے سیاست شروع کی اور آج اللہ کا شکر ہے کہ اسی نظریہ پر کھڑا ہوں چاہے جلا وطنی میں ہوں جتنی بھی مشکلات گزری ہیں لیکن جب عمران خان کو دیکھتا ہوں کہ ایک ہزار اکتیس دن ہو گئے ہیں وہ شخص جو پاکستان کا سب سے مقبول ترین لیڈر ہے تمام مسلمان امہ انہیں چاہتی ہیں ان کے لیے دعائیں کرتی ہیں وہ اتنی مصیبت میں ہیں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں بجلی نہیں ہوتی ٹیلیویژن نہیں ہوتا خبروں تک رسائی نہیں ہے لوگوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا انہیں آنکھ کی تکلیف ہے گند میں مکھیاں مچھروں میں وہ رہ رہے ہیں لیکن ٹوٹ نہیں رہے عاصم منیر کی جو یزیدیت ہے اس کے آگے وہ سر نہیں جھکا رہے تو یہ ہمیں حوصلہ دیتی ہے، میری خیبر پختونخواہ کے تمام ایم پی ایز سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے عمران خان کے نام پر تمہیں ووٹ پڑے ہیں تم ایم پی اے بن گئے ہو وزیر بن گئے ہو اور اللہ نے عزت دی ہے تو یہ آپس کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کو چھوڑ کر آپ سب کو چاہیے کہ ایک ایجنڈے پہ آئیں اور وہ ہے عمران خان کی رہائی۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

46,819 views • 3 months ago

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,527 views • 28 days ago

پنجاب کی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ مجھے ہندوستان سے خطرہ نہیں ہے۔ جب وہ ایک وزیراعلیٰ کہہ سکتی ہے کہ مجھے ان صوبوں سے خطرہ ہے بلوچستان، سندھ یا خیبر پختونخوا ہے۔ اس سے کوئی یہ گلہ نہیں کر سکتا۔ اچھا یہ سرفراز جو ان کا اپنا ہوا ہے. اگر وہ یہ کہتا کہ مجھے پنجاب سے خطرہ ہے. تو آج شاید وہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ کہیں پہ بھی کسی بھی معصوم کا خون بہایا جاتا ہے، ہم نے اس کی مذمت کی ہے۔ ہم تو بلوچستان کے وہ لوگ جن کو کہا جاتا ہے نہ کہ قبائلی ہیں جاہل ہیں۔ دو بجٹ ہمارے دورِ حکومت میں پاس ہوئے ایک تھا ۱۴ ارب کا۔ اس ۱۴ ارب میں۱۲ ارب نان ڈیولپمنٹ کے تھے۔ قلات کالج ہمارے دورِ حکومت میں بنا۔ خاران میں کالج بنایا گیا، سوراب میں ہم نے کالج بنیاد رکھی۔ ہم اس دوران تو اس میں آپ تو بنیاد ہی رکھ سکتے ہیں نہ۔ پٹفڈر میں۔ ہم اسکول میں پڑھتے تھے، ہیڈ ماسٹر ہمارا پنجابی تھا۔ لوگوں کی یادداشت کمزور ہے۔ پہلے یہ دیکھا جائے کہ عمران خان اس وقت تو زیرِ عتاب ہیں، ہمیں یہ باتیں کرنی نہیں چاہئیں۔ افسوس ہوتا ہے جس انداز میں اس کو ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہم ایک معاہدے کے تحت ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔الحمدللہ مولانا سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سردار اختر مینگل Akhtar Mengal

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

130,203 views • 1 day ago

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 views • 1 year ago

"ہم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر کارکنوں کی گرفتاری کے باوجود ایک سیاسی جماعت نیچے جانے کے بجائے اوپر جا رہی ہے۔ ہم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ عدلیہ نے سب مل کر ایک الیکشن ہرایا ایک سیاسی جماعت کو، لیکن وہ پھر بھی جیت گئی۔ ہم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ ایک سیاسی جماعت کی انتخابی نشان چھین لی گئی۔ ہم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ ایک سیاسی لیڈر کو گرفتار کیا گیا اور جب سے وہ گرفتار ہوا، تب سے لے کر اب تک نہ ہم نے اسے دیکھا نہ اس کی آواز سنی۔یہ سب کچھ پہلی دفعہ ہو رہا ہے اور یہ ایک نئی تاریخ بن رہی ہے۔ جب بہت سی چیزیں پہلی دفعہ ہو رہی ہوں، تو امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلی دفعہ پاکستان میں عوام کا راج آ جائے، پہلی دفعہ پاکستان میں یہ اندھیرا چھٹ جائے، پہلی دفعہ بند کمروں کے فیصلے کالعدم ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ پہلی دفعہ پاکستان میں میڈیا اور عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں پہلی دفعہ حقیقی جمہوریت اور حقیقی آزادی آ جائے۔" Imran Riaz Khan #احتجاج_جاری_رہے_گا

PTI

100,345 views • 1 year ago