Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اختر مینگل ہو یا مہارنگ لانگو الطاف کالیا ہو یا سندھی قوم پرست یہ سب ڈالر خور ہیں اور گدھ ہیں جنہیں لاشیں درکار رہتی ہیں اختر مینگل کی بیٹی پنجابیوں کی بہو اور اختر مینگل کا کاروبار پنجابیوں کے ساتھ ہے اور تمام جائیداد کا 90 فیصد پنجاب...

18,075 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von کاشف لطیف
کاشف لطیفvor 1 Jahr

جیسے نواز گنجے کو کتے کی طرح ذلیل لرکے حکومت سے نکالا گیا تھا تو اس نے نعرہ لگایا تھا جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ ۔۔۔ اس وقت تیری ممی کے یار نے جو کہا تھا وہ لسانیت نہیں تھی ؟؟؟

Profilbild von Kamran Bukhari
Kamran Bukharivor 1 Jahr

عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر رائے ونڈ کے چوروں کو حکومت دی گئی ہے ان چوروں نے پاکستان کے قومی تشخص کو تباہ کر دیا ہے ۔روزانہ معصوم شہریوں کو دہشت گرد شہید کر رہے ہیں اور یہ تماشائی ہیں؟

Profilbild von RedDeer.Games IR
RedDeer.Games IRvor 1 Jahr

🎹 Master the Piano on Your Nintendo Switch with "Piano: Learn and Play"! 🎶 #RT🙏 🎹👉 Unlock the joy of music: Easy tutorials 📘 Songs for all levels 🎼 Fun for all ages 🎉 Start your musical journey today! 🌟 Play now! #Piano #NintendoSwitch #NS2

Profilbild von Hamna Malik👻
Hamna Malik👻vor 1 Jahr

لسانی سیاست کرنے والے ہمیشہ مفادات کے پجاری رہے، پی ٹی آئی بھی اسی بیانیے کو ہوا دیتی رہی۔

Profilbild von Motti🧕
Motti🧕vor 1 Jahr

لسانی نفرت پھیلانے والے ہمیشہ بے نقاب اور رسوا ہوتے ہیں، پی ٹی آئی بھی اس سے مبرا نہیں۔

Profilbild von KHANAM🎀
KHANAM🎀vor 1 Jahr

لسانی سیاست ہمیشہ بے نقاب ہوتی ہے

Profilbild von yawra malik
yawra malikvor 1 Jahr

نفرت کی سیاست ناکام

Profilbild von Sania
Saniavor 1 Jahr

لسانی سیاست کرنے والے ہمیشہ بے نقاب ہوتے ہیں

Profilbild von Fabio Nunes
Fabio Nunesvor 1 Jahr

لسانی سیاست صرف انتشار ہے

Profilbild von Nazia
Naziavor 1 Jahr

Bilkul Sahi kha

Ähnliche Videos

تو جی بی کا الیکشن آٹھ فروری کا ہی ایک ریپیٹ تھا، وہ ایک سلیکشن تھی جو الیکشن کے نام پر کر لی گئی ہے اور اب ریوڑیوں کی طرح اقتدار بانٹا جائے گا۔ جو اسلام آباد میں اٹھارہویں ترمیم پر شاید کوئی سیٹلمنٹ کر لیں، بس پھر بدلے میں انہیں اقتدار مل جائے گا۔ یہ اقتدار دینے کا کون سا طریقہ ہے؟ اس میں عوام کی کیا حیثیت ہے؟" ​ان تمام چیزوں کی وجہ سے ملک میں بڑے تشویش ناک حالات پیدا کر دیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں اختر جان مینگل نے 10 تاریخ کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے، ہم اس ہڑتال کی بھی حمایت کریں گے، وہ ہمارے کولیشن پارٹنر ہیں اور وہاں کی صورتحال مخدوش ہے۔ ​اور پھر جو پولیٹیکل پریزنرز (سیاسی قیدیوں) کے ساتھ ہو رہا ہے؛ عمران خان صاحب کے ساتھ ملاقاتیں نہیں ہونے دی جا رہیں، جو لاہور میں اسیران ہیں ان کو میڈیکل گراؤنڈز پر بھی (علاج کی) اجازت نہیں مل رہی۔ ریاست کی یہ جو بروٹیلٹی (سفاکی) ہے، یہ تھمنے میں نہیں آ رہی اور بالآخر یہ لوگوں کو دیوار سے لگا رہے ہیں۔" وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفی نواز کھوکھر

PTI

20,245 Aufrufe • vor 2 Monaten