Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اختلاف یا اتفاق دنیا تیزی سے تبدیل ہوتی جارہی خاصکر ہماری غذائیں جس سے ہر انسان کی شہوت و حوس بڑھتی جارہی جو کہ اس کے اپنے بس میں نہیں سیکس ایک فطری تقاضا ہے اپنے گھر والوں کی ضرورت کا خیال ضرور رکھیں بیوی باجی ہو یا کوئی...

103,186 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

میری اپیل ہے تمام مخلص اور نظریاتی گراؤنڈ ورکرز سے، جو عمران احمد خان نیازی سے حقیقی محبت کرتے ہیں، کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی آواز بلند کریں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود MNA اور MPA کے گھروں یا دفاتر کے سامنے پرامن احتجاجی طور پر کھڑے ہوں۔ آپ کو ان سے کسی قسم کی بحث یا جھگڑے کی ضرورت نہیں — بس اپنے ضمیر کی آواز کو ویڈیو پیغام کی صورت میں ریکارڈ کریں۔ ویڈیو پیغام میں صرف اتنا کہنا ہے: "میں اپنے علاقے کے MNA/MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آیا تھا، ہمیں امید تھی کہ یہ عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائے گا، لیکن اس نے ہمیں مایوس کیا۔ یا تو یہ بزدل ہے، یا غدار ہے، یا پھر کسی مجبوری کا شکار ہے — جو بھی وجہ ہو، عمران خان آج جیل میں ہے تو اس کا ذمہ دار یہی MNA/MPA ہے۔" یہ ویڈیو پیغام پرامن ہو، باوقار ہو، اور سچ پر مبنی ہو۔ اسے سوشل میڈیا پر پھیلائیں، تاکہ ہر پاکستانی کو معلوم ہو کہ عوام جاگ چکی ہے، اور اب کسی بے وفا نمائندے کو خاموشی کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر آپ میں یہ حوصلہ نہیں کہ اپنے علاقے کے MNA یا MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے جا کر ایک پرامن ویڈیو پیغام ریکارڈ کر سکیں… تو معذرت کے ساتھ، آپ حقیقی آزادی کی جنگ، عمران خان کی رہائی، یا پاکستان کی بقا کے دعوے صرف باتوں تک محدود رکھیں۔ لیکن مجھے یقین ہے! وہی مخلص، نظریاتی کارکن جو دل سے عمران خان سے محبت کرتے ہیں — وہ ضرور کھڑے ہوں گے، سچ بولیں گے، اور یہ پیغام سوشل میڈیا پر پھیلائیں گے۔ #مائنس_عمران_خان_نامنظور #رہائی_تک_مزاحمت #ReleaseImranKhan Aleema Khanum Mian Abbad Farooq Waqar Malik

Ayesha Khan

28,126 Aufrufe • vor 1 Jahr

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی معروف رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ظالم اپنا ظلم بلوچستان کے ہر کونے میں جاری رکھے ہوئے ہیں، بلوچستان کے ہر گھر میں آگ برسائی جا رہی ہے۔ چاہے وہ زہری کا علاقہ ہو جہاں پچھلے 25 دنوں سے کرفیو نافذ ہے - اس دوران کتنے لوگ بھوک اور بیماری سے جان بحق ہوئے ہیں، اور کتنی خواتین اور بچے فائرنگ اور ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں۔ آواران میں ہر ہفتے کسی بلوچ کو فوجی کیمپ میں طلب کر کے اس کی مسخ شدہ لاش پھینک دی جاتی ہے۔ مکران میں بھی ایک ہفتے کے اندر ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں پانچ بلوچ نوجوان اغوا کر کے جبری طور پر گمشدہ کیے گئے یا فائرنگ کر کے شہید کر دیے گئے۔ یہ کسی گھر یا طبقے کی کہانی نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کی کہانی ہے - ظالم یہاں بلوچ کی نسل کشی بلوچ کے اپنی سرزمین پر کرنا چاہتے ہیں۔ جو کوئی بلوچ قوم کے لیے بولنا چاہتا ہے، اسے خاموش کرنے کے لیے سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کیا گیا ہے، دیگر تنظیموں کے رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، اور مختلف قوانین کا سہارا لے کر انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے تاکہ وہ بلوچ نسل کشی کے خلاف بات نہ کریں۔ ہمارے عام عوام کو ڈرایا جا رہا ہے۔ رات کے وقت گھروں کی دیواریں پھلانگ کر گھس آتے ہیں۔ کبھی جعلی غم خوار بن کر لوگ بھیجے جاتے ہیں تاکہ تمھیں ڈرا دھمکا کر جھوٹی تسلیاں دے کر تمہاری آواز دبائی جائے اور یہ کہہ کر کہ تمہارے مسئلے حل کر دیے جائیں۔ ان تمام حربوں سے ایک بات واضح ہے، ریاست خاموشی سے ہماری نسل کشی جاری رکھنا چاہتی ہے، اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔ ایک فرزند، جو بے بسی اور غریبی میں بھی زندگی گزارنے کے ہزاروں خواب رکھتا تھا، اس کی لاش اس کے خوابوں کے ساتھ دفن نہ ہو۔ اس لاش کو زندہ رکھیں - کم از کم جو لوگ اغوا ہو رہے ہیں ان کے کیسز سامنے لائیں، جو لوگ قتل ہو رہے ہیں ان کی لاشیں اپنے خوابوں کے ساتھ سڑکوں پر لا کر دھرنا دیں تاکہ دنیا دیکھے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کم از کم ہم اپنے دشمن کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جو چاہے ہمارے ساتھ کرے - بچوں اور عورتوں کو لاپتہ کرے یا قتل کرے، اور اپنے دلالوں کو شہروں میں آزاد چھوڑ دے۔ لازم ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں، ہماری خاموشی ہماری نسل کشی کو مزید تقویت دے گی۔ ہمیں اس طاقت اور خاموشی کو توڑنا ہوگا۔ جس بلوچ کے گھر میں کوئی ظلم ہوا ہے اسے سامنے لائیں - ظلم کا خاتمہ یہی سے ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔

BAAM

14,884 Aufrufe • vor 11 Monaten

پاکستان ہر سال ایک نیوزی لینڈ، یا ایک ناروے،یا ایک فن لینڈ،یا ایک آئرلینڈ،یا ایک ڈنمارک، یا ایک سنگاپور اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ پاکستان کی ہر سال 65 لاکھ آبادی بڑھ رہی ہے،دنیا میں 24 ترقی یافتہ ممالک ہیں جن میں سے ہر ایک کی کل آبادی 65 لاکھ سے کم ہے۔ اب اگر پاکستان سے 10 لاکھ لوگ سالانہ باہر بھی جاتے رہیں تو پاکستان پر اس کا برا نہیں بلکہ بہت اچھا اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔ چھوٹی سی زمین پر آباد اگر اتنا بڑا آبادی کا حامل ملک اگر 10 لاکھ لوگ بھی پاکستان سے باہر بھیجتا جائے تو سمجھیں کہ پاکستان اپنی"ہیومن ریسورس"ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان کی ترسیلات زر ملکی مجموعی برآمدات سے زیادہ ہیں اگر 10 لاکھ لوگ سالانہ ملک سے باہر جاتے ہیں تو سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالرز مزید زرمبادلہ پاکستان بھجوانے کا باعث بنتے ہیں۔ اور پاکستان سے باہر رہ کر وہ پاکستان کے"سٹرٹیجک مفادات"کا تحفظ کرنے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی گلوبل ورلڈ میں بڑھتی ہے،سٹیک ہولڈنگ بڑھتی ہے۔ یہ برین ڈرین نہیں کہا جا سکتا کیونکہ آپ کے پاس پھر بھی سالانہ 55 لاکھ لوگ ملکی آبادی میں ایڈ ہوتے جا رہے ہیں۔ ملکی معیشت اگر بہت ہی اچھی بھی ہو جائے تو بھی پاکستان کی زمین اتنی ہی رہے گی۔ کینیڈا کا رقبہ پاکستان سے 10 گنا سے زیادہ ہے اور آبادی صرف 4 کروڑ ہے۔ وسائل کے حساب سے دنیا میں آبادی کا توازن ہونا ایک بہتر عمل ہے۔یہ توازن جن بھی وجوہات سے بن رہا ہے اس کو بننے دینا چاہیے۔ اس پر غیر ضروری شور مچا کر حکومتوں کو انڈرپریشر تو کیا جا سکتا ہے۔مگر معروضی حالات کے مطابق یہ عمل ہوتے رہنا چاہیے۔ سوائے اس کے کہ آبادی بڑھنے کی شرح منفی میں لے جائی جائے۔ اور اس آبادی بڑھنے کے موضوع پر کوئی اینکر،دانشور مذہبی عقائد کی وجہ سے یا مختلف وجوہات کی وجہ سے بولنے کو تیار نہیں۔ لہذا اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے دوران بھی جو جا رہا ہے،اس کی حوصلہ افزائی کریں۔جو آ رہا ہے اسے آنے دیں۔بس یہ کریں کہ جو جا رہے ہیں ان کو اچھی تعلیم دیکر یا ہنرمند بنا کر بھیجیں۔ دنیا گلوبل ہو چکی ہے،سب کو اپنی اپنی دوڑ لگانے دیں، جو جاتے ہیں وہ جب چاہیں واپس بھی آ سکتے ہیں۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

20,820 Aufrufe • vor 9 Monaten