Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آخر کار بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی…. یہ 22 دن پہلے لاہور سے اٹھا کر لائے، یہاں کسی کے گھر لے کر گئے، وہاں پہلے ہی منشیات چھپائی تھیں۔ ان لوگوں نے مجھے کہا آپ بنی گالہ کا بولیں، بنی گالہ کے شخص کا نام لیں۔ ڈرگ...

27,470 views • 3 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

لاہور کی خاتون ڈپٹی کمشنر کا خاتون افسر کے ساتھ سلوک ان ویڈیوز میں دیکھئیے ۔۔۔ کیا اسے بھی رات کو ایسے ہی گھر سے نہیں نکال دینا چاہئیے؟ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا اپنے ہی محکمہ کی پلاننگ آفیسر سمیرا چوہان کے سرکاری گھر پر رات گئے دھاوا پلاننگ آفیسر سمیرا چوہان کے گھر کا سامان سرکاری رہائشگاہ سے نکال کر سڑک پر رکھ دیا گیا ایم سی ایل کی پلاننگ آفیسر سمیرا چوہان کو نوٹس دیئے بغیر ڈی سی لاہور رافعہ حیدر کے دباو پر کارروائی کی گئی:ذرائع ایم سی ایل کا عملہ پلاننگ آفیسر سمیرا چوہان کو انکے 3 بچوں کے ہمراہ رات کی تاریکی میں گھر سے باہر نکال کرچلا گیا ایم سی ایل عملہ کی ظالمانہ کارروائی پر خاتون آفیسر کی وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل چند ماہ قبل لاہور سے قصور تبادلہ ہوا، خاتون آفیسر لاہور سے روزانہ قصور جارہی تھیں کرائے کے گھر سے سرکاری گھر میں شفٹ ہوئی تھی،بچے یہاں پڑھتے ہیں،وزیراعلی نوٹس لیں:خاتون آفیسر کی اپیل ایم سی ایل کا عملہ نوٹس جاری کرکے اپنے پاس رکھتا رہا لیکن مجھے کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا: خاتون آفیسر

Najam Wali Khan

188,665 views • 2 years ago

لامین یامال کی درد ناک کہانی!؟ صحافی نے لامین یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟ لامین یامال نے جواب دیا: "میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا، وہ اصل دباؤ تھا۔ میرے والد پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چنتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔" یہ جواب ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے، جس کے پیچھے ایک جذباتی ماضی چھپا ہے لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے والدین کرایہ نہ دے سکے۔ دو پڑوسیوں، لامین اور یامال نے ان کی مدد کی۔ والد نے عہد کیا کہ بیٹے کا نام انہی محسنوں پر رکھیں گے۔ یہ نام ایک ایسے قرض کا ریکارڈ ہے جسے خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ والدین کی علیحدگی کے بعد والدہ نے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں کام کر کے انہیں پالا۔ اسی نوکری کے دوران ان کی ملاقات "CF La Torreta" کلب کے کوآرڈینیٹر سے ہوئی، جنہوں نے لامین کی صلاحیت دیکھ کر فیس معاف کر دی۔ لامین نے بچپن میں والدین سے کہا تھا: "اگر میں عام نوکری کروں گا تو ہم مشکل میں رہیں گے، لیکن فٹبالر بن گیا تو آپ کو زندگی بھر فکر نہیں کرنی پڑے گی۔" انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں یہ وعدہ سچا کر دکھایا۔ لامین ہر گول کے بعد وہ انگلیوں سے 304 بناتے ہیں۔ یہ ان کے غریب محلے "روکافونڈا" کا پوسٹل کوڈ ہے، جہاں ان اجنبی پڑوسیوں نے ان کے خاندان کی مدد کی تھی۔آج، 19 سال کی عمر میں وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر کھیل رہے ہیں۔ آج رات اگر وہ گول کرتے ہیں، تو اربوں اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکے گا اور ان دو پڑوسیوں کے احسان کی گونج پوری دنیا سنے گی۔

ZEShan ⚫

37,434 views • 29 days ago

گروپ کپٹن عاصم طارق کو گولی مارنے کے بعد سعد عباسی نے صرف ایک کال کی... پھر فوراً اپنا موبائل بند کر دیا۔ وہ سیدھا غوری ٹاؤن پہنچا، موٹر سائیکل ایک گلی میں چھوڑ دی، بائیکیا لی اور دوست کے میڈیکل سٹور پہنچ گیا۔ بیگ وہیں رکھوایا، پستول دوسری جگہ چھپا دی، پھر کپڑوں کی دکان سے شرٹ بدل کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔ اگلا پڑاؤ فیض آباد بس اڈہ تھا، جہاں اس نے لاہور کی ٹکٹ خریدی اور روانہ ہو گیا۔ ادھر پولیس اس کے دوست تک پہنچ چکی تھی۔ سعد نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے بھیرہ کے قریب بس سے اتر کر دوبارہ اسلام آباد کا رخ کیا۔ اسے لگا پولیس لاہور میں اسے تلاش کرتی رہے گی، مگر اس کا یہی منصوبہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ اسلام آباد پہنچ کر اس نے کسی اور کے فون سے دوبارہ اسی دوست کو کال کی اور کہا: "میں اپنا سامان لینے آ رہا ہوں۔" بدقسمتی سے پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی۔ سعد خود سامنے آنے کے بجائے ایک بچے کو بیگ لینے بھیجتا ہے۔ جیسے ہی بچہ بیگ لے کر اس کے پاس پہنچا، پولیس نے گھیر لیا اور ملزم گرفتار ہو گیا۔ اب اس کے فرار کے دوران مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں، جنہوں نے پوری فرار کی کہانی کو بے نقاب کر دیا۔

Shehroz Azhar

148,597 views • 1 month ago

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 views • 2 years ago

محترمہ مشعال یوسفزئی نے یہ جھوٹ پہلے بھی پھیلایا تھا کہ وہ اسلامیہ کالج پشاور کی پہلی خاتون صدر سٹوڈنٹ یونین رہی ہیں اور بعدازاں یکے بعد دیگرے وہ تین بار منتخب ہوئی ہیں۔ موصوفہ 2013 سے 2018 میں وہاں کی طالبہ تھیں اسلامیہ کالج پشاور میں کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ہی نہیں۔ موصوفہ وہاں ایک ہال جس نام خیبریونین ہال ہے اس کی سٹوڈنٹ صدر رہی ہیں۔ یہ یونین کا کام غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ذاتی باتوں کا علم بھی میں رکھتا ہوں جو موصوفہ کالج ہاسٹل میں کیا کرتی تھیں۔ کس طرح وہاں چند لڑکیوں کے ساتھ مل کر موصوفہ نئی آنے والی لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلا کر کیا کیا کرواتی تھی ریگنگ کے نام پر اور کس نام سے ہاسٹل اور کالج میں مشہور تھیں وہ ذرا نامناسب حرکات اور القابات ہیں لہذا میں فی الحال کیلئے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ البتہ موصوفہ ایک اور جھول سے کام لیتی ہیں کہ میں نے سو سالہ تاریخ رکھنے والے اسلامیہ کالج پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور دو مختلف سیٹ اپ ہیں۔ جس اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے لاء کی ڈگری کی وہ 18 سال پہلے بنا ہے۔ وضاحت: یہ تمام تفصیل مشعال کے ساتھ ہی اسی ٹینیور میں مگر اس سے جونیئر رہنے والے طالبعلم کی جانب سے ہی تفصیلات ملیں ہیں جن کا نام فی الحال بتانا مناسب نہیں کیونکہ وہ اب ایک نامور نوجوان ایکٹویسٹ اور صحافی ہیں۔

Azeem Butt

19,989 views • 7 months ago