Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اداکارہ حبا بخاری نے سانحہ پمز اور موجودہ حالات پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس بولنے کو الفاظ نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ جس کا جو دل چاہے کرے اور کوئی فرق نہ پڑے لیکن مایوسی کفر ہے میں امید کرتی ہوں کہ...

35,051 Aufrufe • vor 8 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 Aufrufe • vor 1 Monat

میں اب صحافی نہیں رہنا چاہتی۔ صرف اس لیے کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نظر نہیں آتے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا ہمیں دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ دوسال کی ایسی نسل کشی کے بعد جو ہر جگہ واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی، جب میڈیا ادارے غزہ میں ہونے والے واقعات سے دانستہ آنکھیں چراتے رہے اور اپنے الفاظ استعمال کرتے رہے۔ مثال کے طور پر بچوں کو ’بچے‘ کہنے کے بجائے ’نوجوان‘ یا ’افراد‘ کہنا وغیرہ۔ محض دکھائی دینا عمل کو جنم نہیں دیتا، یہ اس لیے نہیں کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی نہیں کی، بہت سے لوگوں نے کی، آپ جیسے لوگوں نے بھی، لیکن اصل مسئلہ حکومتوں کا تھا۔ میڈیا نے ایسا کردار ادا کیا جیسے وہ سیاسی پارٹنر ہو اور سیاسی نظاموں کی تکمیل کر رہا ہو اور میں نے یہ جان لیا کہ حقیقی جمہوریت کہیں موجود نہیں، دنیا بھر کی حکومتیں ایک جیسی ہیں، چاہے وہ گلوبل ساؤتھ میں ہوں یا گلوبل نارتھ میں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ میں آمریت کھل کر سامنے ہوتی ہے جبکہ گلوبل نارتھ میں آمریت کو جمہوریت کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ وہ فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس جمہوری نظام ہے، ہمارے پاس انتخابات ہیں لیکن وہ ان گروہِ عوام کی آواز کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہر ہفتے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں اور تب مجھے احساس ہوا کہ صرف صحافی ہونا بے معنی ہے لیکن اس کے باوجود میں انسان پر یقین رکھتی ہوں، میں اب بھی انسانیت پر یقین رکھتی ہوں کہ انسانیت ہی کو رہنمائی کرنی چاہیے اور غالب آنا چاہیے، اسی لیے ہم آج یہاں موجود ہیں تاکہ خود کو تعلیم دیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دیں، نہ صرف اس بارے میں کہ فلسطین کیسے آزاد ہوگا کیونکہ فلسطین ضرور آزاد ہوگا، شاید آج نہیں شاید کل نہیں لیکن یقیناً کسی دن۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ پوری دنیا فلسطین کی طرح کیسے آزاد ہو سکتی ہے

شبانہ شوکت

30,100 Aufrufe • vor 6 Monaten

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,018 Aufrufe • vor 1 Monat