Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

17,220 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 6

Фото профиля Zainab Tariq
Zainab Tariq2 лет назад

سبحان اللہ 🩷 🩵 ❤️

Фото профиля Ansar Maqbool عنصر مقبول
Ansar Maqbool عنصر مقبول2 лет назад

🥰

Фото профиля FAROOQ MAJEED
FAROOQ MAJEED2 лет назад

#DEEN_Muhammadi😇

Фото профиля Qaiser Abbas
Qaiser Abbas2 лет назад

سبحان اللّٰہ

Фото профиля Azim ansari AIMIM
Azim ansari AIMIM2 лет назад

Beshak

Фото профиля Muhammad Bilal
Muhammad Bilal2 лет назад

Assalam-o-Alaikum, es saal Mustafai Ijtima kis tarekh ko ho gha.

Похожие видео

امجد اسلام امجد کی بہت ہی خوبصورت نظم ”تمہیں مجھ سے محبت ہے“ محبت کی طبعیت میں ، یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے ؟؟ کہ یہ جتنی پرانی ، جتنی بھی مضبوط ہو جائے اِسے تائیدِ تازہ کی ، ضرورت پھر بھی رہتی ہے۔ یقین کی آخری حد تک ، دِلوں میں لہلہاتی ہو نگاہوں سے ٹپکتی ہو ، لہو میں جگمگاتی ہو ھزاروں طرح کے دلکش ، حسیں ہالے بناتی ہو اِسے اظہار کے لفظوں کی حاجت ، پھر بھی رہتی ہے محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی کہ جیسے طفلِ سادہ ، شام کو اِک بیج بوئے اور شب میں بارھا اُٹھے ، زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے ؟؟ محبت کی طبعیت میں ، عجب تکرار کی خُو ہے کہ یہ اِقرار کے لفظوں کو ، سننے سے نہیں تھکتی بچھڑنے کی گھڑی ہو ، یا کوئی ملنے کی ساعت ہو اسے بس ایک ھی دُھن ہے ، کہو مجھ سے محبت ہے کہو مجھ سے محبت ہے ، تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ سمندر سے کہیں گہری ، ستاروں سے سِوا روشن پہاڑوں کی طرح قائم ، ہَواؤں کی طرح دائم زمیں سے آسماں تک ، جس قدر اچھے مناظر ہیں محبت کے کنائے ہیں ، وفا کے استعارے ہیں ، ہمارے ہیں ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ھیں ، سنہر ا دن نکلتا ہے محبت جس طرف جائے ، زمانہ ساتھ چلتا ہے۔ کچھ ایسی بے سکونی ہے ، وفا کی سرزمیوں میں کہ جو اھل محبت کو ، سدا بے چین رکھتی ہے کہ جیسے پُھول میں خوشبُو کہ جیسے ہاتھ میں پارا ، کہ جیسے شام کا تارا۔ محبت کرنے والوں کی سحر ، راتوں میں رہتی ہے گماں کے شاخچوں میں ، آشیاں بنتا ھے الفت کا یہ عینِ وصل میں بھی ، ھِجر کے خدشوں میں رھتی ہے محبت کے مسافر ، زندگی جب کاٹ چکتے ھیں تھکن کی کرچیاں چُنتے ، وفا کی اَجرکیں پہنے سمئے کی رھگزر کی ، آخری سرحد پہ رُکتے ہیں تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر دھیرے سے کہتا ہے یہ سچ ھے نا ، ھماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی دھند لکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے اسی کا نام چاھت ہے تمہیں مجھ سے محبت تھی تمہیں مجھ سے محبت ہے. محبت کی طبعیت میں , یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے... ”امجد اسلام امجد“

اردو ورثہ

110,201 просмотров • 3 лет назад