Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آزاد کشمیر میں پرسکون زندگی تھی اور دنیا کے لئے مثال تھا کہ جو کشمیر ہمارے پاس ہیں وہ کتنے پیار محبت سے رہ رہے ہیں. مگر اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں اور ان کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش...

12,638 views • 2 months ago •via X (Twitter)

11 Comments

Wallace's profile picture
Wallace2 months ago

کشمیر سے آنے والے اکا دکا لوگ بتا رہے ہیں کہ اب ان لوگوں کو واپس لانا ناممکن لگ رہا ہے، ڈفرز نے کشمیر کو بھی بلوچستان بنا دیا ہے یا عنقریب بنا دینا ہے

Harpreet Singh's profile picture
Harpreet Singh2 months ago

Kamine jhooth bol bol ke nahi thakde Faujian di juti thale tuhadi saareyan di jindagi sirf faujiya nu amir banan ch nikal jani hai Chutziye kithon de 😂

Nikhs's profile picture
Nikhs2 months ago

Abbas sir,aap ek kam kare.. Pok ke logo ko ye khule tour par jahir karne ko bolo, aur written me likh kar Hindustan ke government ko dene ko bolo ki hum khudko Hindustan ka part declare karte hai aur hame pakistan se bachao.. Fir Hindustan aage ki kaarwai karega..

Ania's profile picture
Ania2 months ago

I am for the rights of human beings anywhere . But it should be for the people and not for political gains of greedy systems

deep bhatnagar's profile picture
deep bhatnagar2 months ago

🧐

Lalit's profile picture
Lalit2 months ago

Madarchodo Pakistani always spread fake news Madarchodo

Zoha Khan's profile picture
Zoha Khan2 months ago

A stable economy and peaceful environment can create better opportunities for everyone. What do you think should be the country's top priority right now?

Chillipeppers's profile picture
Chillipeppers2 months ago

So finally what was taken by force is now facing the wake up call.

Prashant's profile picture
Prashant2 months ago

That was lie spread by pakistan he was the real trouble maker sending pakistani terrorists in Kashmir. When internet became cheap and free in India..people from indian Kashmir showed real peace and prosperity of indian kashmir to the world..

Asim Siddiqui's profile picture
Asim Siddiqui2 months ago

lol 😂

Khuram shehzad's profile picture
Khuram shehzad2 months ago

کشمیریوں کو کیڑا کس بات کا ہے۔ اچھی زندگی تو انجوائے کر رہے ہیں۔

Related Videos

ایک ماہرنگ کو قید کیا ہے آج بلوچستان کا ہر فرد ہر عورت وہی بات کر رہی یے جو ماہرنگ کیا کرتی تھی ۔ آپ کیوں اتنے نااہل اور کمزور اور بذدل ریاست ہیں کہ ہر دوسرے دن آپکی عوام روڈوں پہ رل رہی ہوتی ہے لاشیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں وہ رو رہے ہوتے ہیں،انصاف کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ ان بچوں کو بچانا ریاست اور فوج کی ذمہ داری ہے ۔ اگر آپ ہمارے بچوں،ہمارے گھروں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر آپ یہ وردی پہننے کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ جب تک آپ عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے آپ کسی ٹائٹل حقدار نہیں ہیں یہ وردی اس بات کی گارنٹی ہے کہ آپکی عوام محفوظ ہے کیونکہ انکے پاس فوج ہے۔ اگر اس فوج اور ایف سی کے باوجود میرے جوان بچوں کے جنازے پڑے ہوئے ہیں تو یہ فوج یہ ایف سی کسی کام کے نہیں ۔ جب وہ چار تھے آپ نے انکو کیوں نہیں مارا؟ جب وہ چار سے بارہ ہوئی آپ نے انکو کیوں نہیں پکڑا؟ اب وہ بار سے چار سو ہو گئے ہیں ابھی بھی وہ بھاگ گئے ہیں۔ یہ آپشن کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کہ آپ زمین چھوڑ کر چلے جاؤ۔اتنی ساری فوج ایف سی کس لیے ہے اگر وہ اس زمین کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔ ہمارااپنی زمین پہ جینا حرام ہے۔ یہ ہجرت اور آپریشن والا آپشن ہی کیوں ہے ؟ آپکے پاس اس بات کی گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے ؟ اور وہ بول کے گئے ہیں کہ ہم دوبارہ آئیں گے انکی یہ اسٹمنٹ آپکی نااہلی ، نالائقی کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔ اگر یہ آرمی جو ہمیں بلوچستان میں تحفظ نہیں دے سکتی وہ اس ملک میں کہیں بھی تحفظ نہیں دے سکتی ہم صرف آپ سے زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں ۔

Rodium-A

27,638 views • 2 months ago

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 views • 9 months ago

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 views • 6 months ago

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 views • 11 months ago