Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اس سال ۲۳ مارچ کو NADRA نے PAK-ID موبائل ایپ کا عوامی اجرا کیا۔ اب تک لاکھوں پاکستانی اس سے مستفید ہوچکے۔جب موبائل پر شناختی دستاویزات بنانے کی انقلابی سہولت دستیاب ہے تو سفارشوں اور دفاتر کے چکر لگانے سے بچیں اور گھر بیٹھے دستاویزات بنوائیں - اس سے...

66,394 просмотров • 3 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 11

Фото профиля Yousuf Khan
Yousuf Khan3 лет назад

@NadraPak سر یہ سعودی گورنمنٹ کا 2019 میں میڈیا میں چلایا گیا اشتہار ہے، یہ تصویر دس سال کی داستان ہے، میری خواہش ہے بطور پاکستانی میں ایسی ہی تمثیلی داستان نادرا کی دیکھوں ؟ کیا یہ ممکن ہے ؟

Фото профиля FANCO
FANCO2 лет назад

NEW OFFICIAL COLLABORATION ALERT! Get your PERSONALIZED @Godzilla_Toho Japanese hanko stamps at for yourself, friends and family! #fanco #godzilla #GodzillaMinusOne 👉

Фото профиля Release Imran Khan
Release Imran Khan3 лет назад

@NadraPak

Фото профиля Monib Raj
Monib Raj3 лет назад

@NadraPak Sir you are a gem. Unfortunately, every time your position is ruined by the mafia.

Фото профиля Fazal Hadi Hassan
Fazal Hadi Hassan3 лет назад

@NadraPak بلاشبہ نادرا ایک بہترین اور قابل فخر سسٹم ہے، کل پرسوں یہاں 🇳🇴 میں اسی پر دوستوں سے بات ہو رہی تھی۔ قومی شناخت کے لیے نادرا ہماری قوم کے لیے ایک بہترین ادارہ اور سسٹم ہے، جس پر فخر کرنا چاہیے۔ میرا نہیں خیال کہ ناروے جیسا ملک بھی نادرا کی طرح سسٹم (ڈیٹا بیس) نظام رکھتا ہوگا؟

Фото профиля خټک
خټک3 лет назад

@NadraPak Waste of time and money the system is yet mot mature the nikah nama is now issued digitally by Nadra thats mean data already is in system but you have to again register your marital status in Nadra is that not a joke. 2nd the app didn’t link the data from website it fail to scan

Фото профиля پنجاب1947
پنجاب19473 лет назад

@NadraPak Worst ever ... پاک آئی ڈی میں فنگر پرنٹ سینسر دنیا جہان کا فضول ترین سینسر استعمال کیا گیا ہے مجال ہے جو فنگر پرنٹ کی پہچان کرئے

Фото профиля Muhammad Shahid
Muhammad Shahid3 лет назад

@NadraPak طارق ملک صاحب آپ کے محکمے میں زیادہ تر لوگوں کو خراب کیا جاتا ہے میں چار چکر لگا چکا ہوں میرا بائیو میٹرک کا مسئلہ تھا اس چکر میں میرا 2500 لے کر نیا شناختی کارڈبنا دیا مگر کسی دفتر میں بھی میرا انگوٹھا نہیں لگتا نہ سم نکلوا سکتا ہوں نہ بینک میں بائیو میٹرک کام کرتی ہے

Фото профиля Muhammad Munir Rana
Muhammad Munir Rana3 лет назад

@NadraPak یہاں سعودی عرب میں سعودی لوگ اپنے موبائل سے ہی اپنا پاسپورٹ بنا لیتے ہیں اور 3 دن بعد پاسپورٹ گھر آ جاتا ہے تصویر بھی اپنی مرضی کی لگا سکتے ہیں

Фото профиля FairComment
FairComment3 лет назад

@NadraPak Kaisay kaisay heera kho diya #Pakistan ne. God bless you tariq Malik sb.

Фото профиля M AQeeL Umar
M AQeeL Umar3 лет назад

@NadraPak ایپ بے حد مفید ثابت ہوئی ہے لیکن آ خری اپ ڈیٹ کے بعد فنگر پرنٹس لینے سے قاصر ہے اور ویسے بھی فنگر سے پہلے اٹیسٹر مانگ رہی ہے اور وہ بھی فیملی میمبر اور فیملی میمبر بھی وہ جو سائن کرتا ہو انگوٹھے والا نہیں چلتا ۔ فنگر پرنٹس والا سیکشن ویب سائیٹ کی طرح اٹیسٹر سے پہلے ہونا چاہیے۔

Похожие видео

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے بے بنیاد الزامات میں گرفتار کسٹم کلکٹر ڈاکٹر کرم الہی بارے اظہار خیال 🟥ڈاکٹر کرم الہی جس کا تعلق پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے، ایک نہایت ایماندار کسٹم کلکٹر ہے 🟥عوامی نیشنل پارٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، نظریاتی طور پر ان کا گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے 🟥اس کو بلوچستان ٹرانسفر کیا گیا، وہ ایک دیانتدار آفیسر تھا اور کسی دباؤ میں نہیں آرہا تھا 🟥اس سے روابط ہوئے مگر اس نےکوئی بھی غیر قانونی کام سے انکارکیا 🟥دباؤ نہ ماننے کی پاداش میں آج اس کو نشان عبرت بنانے کی کوشش ہورہی ہے 🟥پہلے تو وہ غائب کردیا گیا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے 🟥اس کی فیملی کو ہراساں کیا گیا، اس کا ایک بھائی یونیورسٹی لیکچرر ہے، اس کو بھی اذیت دی گئی 🟥اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے 600 کلو غیر قانونی چاندنی پکڑی تھی 🟥چاندنی پکڑنے کے بعد اس کو پختونخوا ٹرانسفر کیا گیا 🟥600 کلو کی چاندنی کی لاہور منتقلی کے وقت 200 کلو نقلی چاندنی کے ساتھ تبدیل کی گئی 🟥اگر اس نے کرپشن کی تھی تو گرفتاری کا بھی ایک طریقہ کار اور ادارے ہیں 🟥مگر یہاں تو 20 دن اس کا پتہ تک نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہے 🟥اگر اس نے کرپشن کی بھی ہے تو اس کے گھر والوں کا کیا قصور تھا کہ ان کو ہراساں کیا گیا 🟥آج وہ ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہے کیونکہ اس نے غیرت کی تھی اور غیر قانونی کام سے انکار کیا تھا #AimalWaliKhan | #ANP

Awami National Party

39,156 просмотров • 1 месяц назад

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 просмотров • 2 месяцев назад

یہ میرا پہلا پروگرام ہے پی ٹی بی پر جو 2007 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔۔ اج سے تقریبا 19 سال پہلے۔ عراق اور افغانستان کی جنگیں جاری تھیں اور جنرل مشرف کا دور تھا۔ اس پروگرام میں اپ کو اشارہ مل جائے گا کہ ہم نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ امریکی جنرل مشرف سے ناراض ہیں اور اب جنرل مشرف کو ہٹانے کی سازش کی جائے گی۔ یہ وہ دور تھا جب کوئی خواب میں نہیں سوچ سکتا تھا کہ جنرل مشرف کو ہٹایا جائے گا ‌۔ چند ہفتوں مہینوں کے بعد ہی ان کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔ اس وقت بھی امریکیوں نے کوشش کی تھی کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے اور امریکی فوج کا نقصان کم ہو اور پاکستانی فوج استعمال ہو عراقی مزاحمت کے خلاف۔۔ یہی کھیل امریکیوں نے 2015 میں کھیلنے کی کوشش کی جب سعودی عرب کے ذریعے پاکستانی فوج کو یمن کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔‌ وہاں بھی ہم نے رکاوٹ ڈالی ‌ اور اب یہ تیسری کوشش کی گئی کہ جب پاکستانی فوج کو ٹرمپ معاہدے کے ذریعے فلسطین بھیج کر غزہ کے مجاہدین کے خلاف استعمال کیا جائے۔‌ اللہ کا شکر ہے کہ یہ سازش بھی امریکیوں کی ناکام ہوئی۔. پچھلے 18 برس میں اللہ نے ہمارا کوئی تجزیہ غلط ثابت نہیں کیا الحمدللہ۔۔ لوگوں کو دیر سے سمجھ اتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

26,846 просмотров • 1 год назад

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 просмотров • 7 месяцев назад

وزیراعظم محمد شہبازشریف نےملک کے غریب و متوسط طبقے کو اپنی چھت کے حصول کے لئے ’’ وزیراعظم اپنا گھر سکیم ‘‘کا باقاعدہ اجراء کر دیا. اس ضمن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ عام آدمی کو چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،سکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرض آسان شرائط پر دستیاب ہو گا ، پہلے سال 50ہزار گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ،آئندہ چار برسوں میں ہدف 5 لاکھ گھروں کا ہو گا ، 10 مرلے تک گھر تعمیر کئے جاسکیں گے اور اس کے لئے فنانسنگ کا حجم 3.2کھر ب روپے ہو گا، قرضے کی واپسی کی مدت 20سال ہو گی پہلے 10سال مارک اپ 5فیصد اور اگلے 10سال مارک اپ مارکیٹ کی شرح کے مطابق ہو گا. گھروں کی تعمیر کیلئے ایک کروڑ روپےتک قرضہ لیا جاسکے گا.. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سکیم کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہو گا، تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ،سکیم پر عملدرآمد کا ہر مہینے خود جائزہ لوں گا۔ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ، وفاقی وزرا ، ارکین پارلیمنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کے تحت قرض حاصل کرنے والے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہاکہ’’ وزیراعظم اپنا گھر سکیم ‘‘کے اجرا کی تقریب میں شرکت میرےلئے باعث مسرت ہے ، عوام کو اپنا گھر فراہم کرنا کسی بھی حکومت اور ریاست کا بنیادی اور مقدس فریضہ ہے ، پاکستان کی 24کروڑ آبادی میں سے بڑی تعداد اپنی چھت سے محروم ہے ، اس حوالے سے آج کی یہ تقریب انتہائی یادگار ہے ، اس سکیم کے اجراءکے لئے بہت زیادہ محنت کی گئی ہے اور بہت سے مسائل درپیش تھے لیکن انہیں نجی شعبے کی مشاورت اور دیگر متعلقہ افراد اور حکام کے تعاون سے حل کیا گیا ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ ایک نوجوان ڈرائیور غلام حسین کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر بنانے کا موقع فراہم کیا ہے اور اسے قرض ملا ہے ، چیک حاصل کرنے والوں میں آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے لوگ بھی شامل ہیں ، اس سکیم کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ’’ گھر ہو تو اپنا ‘‘اس سکیم کا تسلسل ہے جس کا میں نے پنجاب سے آغاز کیا تھا اور اس کا نام آشیانہ رکھا گیا تھا اوراس کا موثر آغاز کیا گیا تھا اور مختلف مقامات پر خود اس سکیم کا سنگ بنیاد رکھا اور چابیاں لوگوں کے حوالے کیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ ہر مہینے اس سکیم کا جائزہ لیں گے تاکہ اگرکسی قسم کی کوئی رکاوٹ ہو تو اسے دور کیا جائے اور ادائیگیاں بروقت ہوں، وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت قرض کے حصول کا طریقہ کار آسان بنایا گیا ہے. انہوں نے مزید کیا کہ زیادہ قرضہ فراہم کرنے والے بینکوں کو 14اگست کوقومی ایوارڈ دیا جائے گا اور جو بینک اس میں کوتاہی کا مظاہرہ کریں گے ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو گی ۔وزیرعظم نے کہاکہ آئندہ بجٹ میں بھی مختلف سکیموں کو شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے، اس سے بہت سے شعبے جڑے ہوتے ہیں ، اس سے ہماری صنعت و حرفت کو ترقی ملتی ہے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ، چند ماہ قبل ملک کے ممتاز برآمد کنندگان میں ایوارڈز تقسیم کئے گئے اور انہیں ملک کے عمومی سفیر بھی بنایا جبکہ ان کے لئے 2 سال کے بلیو (سرکاری) پاسپورٹ کا بھی اجرا ءکیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کے تحت اہل افراد میں مختلف بینکوں کے چیک بھی تقسیم کئے.

Prime Minister's Office

31,363 просмотров • 5 месяцев назад

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 просмотров • 9 месяцев назад