Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اس قوم کو نہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا گیا اور نہ ہی سر اٹھا کر جینا سکھایا گیا۔ اگر آپ نے کچھ سکھایا ہے تو وہ صرف شارٹ کٹ کے ذریعے پیسہ کمانا اور کرپشن کرکے ناجائز دولت بنانا بے نظیر انکم میں 5 ہزار روپے اور...

18,807 görüntüleme • 3 yıl önce •via X (Twitter)

9 Yorum

sidratul... profil fotoğrafı
sidratul...3 yıl önce

This

Dr Asma Junejo profil fotoğrafı
Dr Asma Junejo3 yıl önce

❤️

sardar khosa profil fotoğrafı
sardar khosa3 yıl önce

پورا ملک بھیک صدقات خیرات پر چل رہا ہے ڈونرز این جی اوز کیا کرتی ہیں لوگوں نے بھیک مانگ کر بڑے ادارے بناکر اب فخر کرتے ہیں

MeherUddin Ali profil fotoğrafı
MeherUddin Ali3 yıl önce

@AbSabRana اسان غولامی کھی قبول کری چھڈی ا

SarmadSulemanSolnki profil fotoğrafı
SarmadSulemanSolnki3 yıl önce

سنڌو گورنمينٽ شرم ڪيو..

Saud Abbasi profil fotoğrafı
Saud Abbasi3 yıl önce

we #KASHMIRIAN love you #azazlatifpalejo .

Sana Ullah Khan profil fotoğrafı
Sana Ullah Khan3 yıl önce

There are some very basic and urgent reforms that are needed for Sindhi society that includes abolishing of tribal and feudal systems, end of copy culture, end of corruption virus that has become deeply embedded in Sindhi culture, easy-going-life, injustices to everyone

Syed Asif Ali Shah profil fotoğrafı
Syed Asif Ali Shah3 yıl önce

یہ سب اسلیے کیا گیا کہ ہمارے بیچ کوئ آ نہ جائے جو ہماری جگہ لے عوام کو جان بوجھ کر مسائل اور چھوٹی موٹی کرپشن کا عادی بنایا گیا تاکہ سر اٹھا نہ سکے جب کوئ آواز اٹھاتا ہے اسے چھوٹے چھوٹے مقدمات میں گرفتار کرلیا جاتا ہے اور خاموش کروادیا جاتا ہے یہ کام ایوب خان کے دور سے شروع ہوا

R K profil fotoğrafı
R K3 yıl önce

Behtreen

Benzer Videolar

اس مختصر ویڈیو میں آپ دیکھتے ہیں کہ قطبی ریچھ جب پتلی برف پر پہنچتا ہے تو وہ اپنے پیٹ کے بل رینگنے لگتا ہے اور جیسے ہی وہ نازک جگہ پار کرتا ہے تو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے اب آپ سوچیں گے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے تو اس کے پیچھے سادہ سی فزکس ہے قانون کہتا ہے کہ دباؤ یعنی پریشر اس قوت پر ہوتا ہے جو کسی سطح پر ڈالی جائے یعنی جتنا وزن ایک جگہ پڑے گا اتنا ہی زیادہ دباؤ ہوگا قطبی ریچھ کا اوسط وزن تقریباً پانچ سو کلوگرام ہوتا ہے اور اس کے پنجے کا سائز تقریباً تیس سینٹی میٹر کا مربع ہوتا ہے اگر وہ سیدھا کھڑا ہو تو سارا وزن صرف چار پنجوں پر آتا ہے جس سے ہر پنجے پر تقریباً ڈیڑھ ٹن فی مربع میٹر دباؤ بنتا ہے اور اتنا زیادہ دباؤ پتلی برف کو توڑ سکتا ہے ریچھ پانی میں گر سکتا ہے لیکن قدرت نے اس کو عقل عطا کی وہ جانتا ہے کہ اگر وہ رینگتا ہوا چلے اور اپنے جسم کو پھیلا کر وزن کو زیادہ جگہ پر تقسیم کرے تو دباؤ کم ہو جاتا ہے اور برف نہیں ٹوٹتی تو وہ آہستہ آہستہ لیٹ کر برف کے اوپر سے گزر جاتا ہے اور جیسے ہی خطرہ ختم ہوتا ہے وہ پھر سیدھا ہو کر چلنے لگتا ہے یہ سب کچھ اس کو کس نے سکھایا نہ اس نے کبھی اسکول دیکھا نہ کوئی فارمولہ پڑھا تو کہنے کو بس ایک ہی بات بنتی ہے سبحان اللہ جس نے ایک جانور کو بھی اپنے علم سے یہ سکھا دیا قطبی ریچھ کو نہ اسکول ملا نہ استاد پھر بھی فزکس کا ماہر نکلا یہ علم نہیں قدرت کی تعلیم ہے #موناسکندر

Moona Sikander

21,558 görüntüleme • 1 yıl önce

ایک ملتانی کا خواب اور میرا کاروبار تحریر/رئوف کلاسرا کل جناح سپر مارکیٹ میں گاڑی میں بیٹھا، سٹارٹ کی تو ایک نوجوان جو شاید میرا وہاں انتظار کررہا تھا وہ میری طرف آیا۔ اس نے کندھے پر ایک کالے رنگ کا تھیلا بھی اٹھا رکھا تھا۔ کہنے لگا آپ کی گاڑی کا بمپر تھوڑا سا ہٹا ہوا ہے۔ اس میں ربڑ ڈلنے والی ہیں۔ میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر اسے مزدوری دینے کا فیصلہ کیا کہ چلیں اس نوجوان کو مزدری چاہئے۔ گاڑی دفتر کی ہے کرانے کو آفس کو کہتا وہ کرا دیتے لیکن میں نے اس نوجوان کا کام دینے کا فیصلہ کیا جو میں اکثر کرتا رہتا ہوں ۔ میں نے گاڑی بند کی، نیچے اترا اور اسے کہا چلیں ڈال دیں۔ وہ بڑی محنت سے کام کرتا رہا۔ مجھے لگا اسے واقعی کام آتا ہے۔ اس کے پاس ہنر ہے۔ خوشی ہوئی کوئی نوجوان نوکری کی تلاش میں نہیں ہے اور اپنے ہنر سے عزت سے پیسے کما رہا ہے۔ میں اسے کافی دیر تک کام کرتے دیکھتا رہا۔ اس نے اچھا کام کیا۔ وہ کام کر کے فارغ ہوا تو اس نے کہا مجھے لگتا ہے آپ کی گاڑی کے بونٹ میں بھی بہت سارے ربڑ لگنے والے ہوں گے۔ کہیں تو وہ بھی کر دوں ۔ واقعی بونٹ اور گاڑی کے دروازوں میں ربڑ کے نٹ لگنے والے تھے جس سے ان کی آواز بند ہوتے وقت بدل گئی۔ میں نے اس سے پوچھا آپ کہاں سے ہیں۔ وہ بولا ملتان سے ہوں۔ سرائیکی میں گفتگو شروع ہوگئی۔ میں نے جیب سے دو ہزار روپے نکال کر اسے دیے۔ وہ اچانک بولا کوئی کہیں نوکری نہیں مل سکتی؟ میرا یہ سن کر موڈ سخت آف ہوا۔ میں نے کہا اگر آپ نے مجھے پہلے یہ بات کی ہوتی تو میں آپ سے کام نہ کرواتا۔آپ نے چند منٹس میں اپنے ہنر سے مجھ سے دو ہزار روپے کما لیے۔ اگر سارا دن اور کام نہ بھی ملے تو بھی ایک ماہ کا اوسط ساٹھ ہزار بنتا ہے۔ آپ اپنے باس خود ہو۔ جہاں چاہ کام کر لیا ۔ نہ دل کیا کام نہ کیا۔ لیکن آپ کے اندر ہر پاکستانی کی طرح خواہش ہے بس کہیں سے بیس تیس ہزار کی نوکری مل جائے۔ کہنے لگا دیکھیں ناں وہ لگی بندھی ہوتی ہے۔ تو میں نے کہا آپ بیس تیس ہزار کے ساتھ صبح چھ بجے سے رات بارہ بجے تک کہیں کام کرو گے۔ صبح سویرے وہ مالک آپ کے منہ پر ٹھنڈے پانی کی بالٹی انڈیل کر اٹھائے گا۔ دس گالیاں اس کی سنو گے یا آتے جاتے گاہکوں کی باتیں۔ بارہ چودہ گھنٹے تیس دن کام کر کے آپ کو بیس تیس ہزار ملے گا وہ اچھا لگتا ہے لیکن اپنے ہنر سے دن میں دو تین ہزار کمانا برا لگتا ہے؟ اس نے بھی ہمت نہیں ہاری اور کہنے لگ سر جی کہیں نوکری ہو تو بتائے گا۔ میں مایوس ہو کر گاڑی میں بیٹھا کہ اس نوجوان کے دل میں وہی ہے کہ لگی بندھی تنخواہ میں سارا دن بے عزتی کرا کے جو مزہ ہے وہ بھلا یوں اپنے ہنر کے ساتھ روزانہ تین چار ہزار روپے کمانے میں کہاں۔ شام کو اپنے دوست خاور اظہر سے ملاقات ہوئی اسے واقعہ سنایا ۔ میں نے کہا اب مجھے افسوس ہورہا ہے کہ اس نوجوان کا نمبر لے لیتا جس کا سارا خواب صرف بیس تیس ہزار کی نوکری ہے۔ وہ اپنے ہنر سے ساٹھ ہزار یا لاکھ روپیہ نہیں کمانا چاہتا۔ اسے تیس ہزار روپے ماہوار پر ملازم رکھ کر ایک چھوٹی سی ورکشاپ کرائے پر لے کر ہر ماہ میں خود دس بیس لاکھ خود کمائوں۔۔۔اس کی بیس تیس ہزار روپے کی نوکری کی ٹھرک بھی پوری ہو جائے گی اور میں بھی زندگی میں پہلی بار کوئی کاروبار کر کے پیسے کما لوں گا۔۔ کیا کہتے ہیں آپ میرے ہمدرد اور دوست 🤪؟ #RaufKlasra

Rauf Klasra

31,174 görüntüleme • 8 ay önce

اسمہ بلوچ کا واقعہ بلوچستان میں نہ پہلا تھا اور نہ ہی آخری ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں، لیکن اس واقعے میں لواحقین اور بلوچ عوام نے جس ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ اگر یہ لوگ خاموشی اختیار کر لیتے، عزت و ناموس کو اپنی کمزوری کو بنا کر خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جاتے، تو شاید آج اسمہ کی بازیابی ممکن نہ ہوتی۔ ہر ممکن طریقے سے اسمہ بلوچ کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، پاب اور بھائیوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیکر زبردستی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں تاکہ اصل مجرم خود کو بری الذمہ ثابت کر سکیں۔ اگر ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو ریاستی سرپرستی حاصل نہ ہوتی، تو وہ کبھی بلوچ عورتوں کو اغوا کرنے کی جرات نہ کرتے۔ بی بی اسمہ جتک کی بازیابی اسی لیے ممکن ہو سکی کیونکہ ان کے خاندان اور بلوچ قوم نے سخت احتجاج کا راستہ اپنایا۔ یہاں کا نام نہاد قانون صرف ظالم کو تحفظ دیتا ہے اور مظلوم کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے—اپنے گھروں سے نکل کر ہر ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونا۔ اس جدوجہد نے نہ صرف مزاحمت کی کامیابی کا، بلکہ اس درندوں کیلئے بھی مثال قائم کیا جو آج کے بعد اس طرح کے جرائم کرنے کی جراَت نہیں کریں گے۔ صرف مزاحمت ہی وہ طاقت ہے جو بلوچ قوم پر جاری جبر کے سلسلے کو ختم کر سکتی ہے۔ مشترکہ جدوجہد سے ہی ہم اس ظلم کے راستے کو روک سکتے ہیں۔

Sammi Deen Baloch

27,129 görüntüleme • 1 yıl önce

“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا! تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا! جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا! یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا! قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے! میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں! حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں! میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!” - پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان #مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی #حق_كى_جيت_ہو_گى

PTI

22,849 görüntüleme • 4 ay önce

آپ کے بھائی کو جنرل باجوہ نے بتایا تھا کہ سیاستدان بنو اور اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔ ہمارے سہارے پر نہ رہو۔ سیاستدانوں سے بات کرو۔ آپ کے بھائی سے کہا تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھو اور اسمبلیوں سے استعیفیٰ نہ دو۔ قانون کے اندر رہو۔ آپ کے بھائی نے نو مئی کروایا اور الزام ان پر لگایا جن پر حملہ ہوا تھا۔ آپ کے بھائی نے آئی ایم ایف سے کہا کہ قرضہ نہ دو۔ آپ کے بھائی نے ترسیلات زر کا بائیکاٹ کروایا اور اپنے ہی ملک کیخلاف کانگریس میں سماعت کروائی اور آج بھی اسی طرح کی سازشوں میں مصروف ہے۔ آپ کا بھائی ٹرول برگیڈ کے ذریعے ریاستی اداروں اور ان کے اہلکاروں کیخلاف ڈھائی سال سے گندی اور غلیظ مہم چلا رہا ہے۔ آپ کے بھائی کو پچھلے سال مئی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ قوم سے معافی مانگیں اور مذاکرات ہم سے نہیں سیاستدانوں سے کریں۔ رہی بات قانون اور آئین کی تو ان دونوں کا جنازہ آپ کا بھائی دوران حکومت میں نکال چکا ہے۔ 190 ملین پاؤنڈ کے غبن کی سزا اسے عدالت نے دی ہے اور عدالت ہی اس سزا میں ردو بدل کر سکتی ہے۔ یہ معاملہ مذاکرات سے حل نہیں ہونا۔ باقی انقلاب، بنگلادیش اور سری لنکا بنانے کی دھمکیاں تو آپ لوگ ڈھائی سال سے دے رہے ہیں۔ اب آپ لوگوں کیساتھ پاکستان ہو گیا ہے۔

Murtaza Solangi

27,322 görüntüleme • 1 yıl önce

فواد صاحب آپ نے کہا کہ آپ گوجرانولہ کے 52 بے گناہ اسیران سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر واقعی آپ کا دعویٰ درست ہے تو کبھی آپ ، محمود مولوی صاحب، عمران اسماعیل صاحب اور دیگر جا کر گوجرانولہ کے بے گناہ اسیران سے ملیں، ان کی فیملیز سے ملیں تو آپ کو پتا چلے کہ ان پر کیا ظلم کیے گئے اور کیا ستم ڈھائے جارہے ہیں، کبھی جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس یحییٰ خان سے بھی ملیں اور ان کو بتائیں کہ جن بے گناہوں کا کیس میں نام تک نہیں ہونا چاہیے تھا پہلے انہیں جھوٹی سزائیں ہوئیں، پھر ان کی وہ ضمانت کی درخواستیں جو ایک ڈیڑھ ماہ میں سنی جانی چاہئیں تھی، ان کے 3 برس سے فیصلے نہیں ہو سکے ، ان کی وہ اپیل جو ایک سال میں سپریم کورٹ تک پہنچ کر ڈیسائڈ ہو جاتی ، وہ ہائی کورٹ میں ابھی تک ابتدائی سماعت کے مراحل میں بھی داخل نہیں ہوئی، اگر آپ ان بے گناہوں کے ساتھ ہیں تو اس کیس کی ٹائم لائن کے کر پریس کانفرنس کیجئے تاکہ آپ کو اور آپ کے سننے والوں کو پتا چلے کہ اس کیس میں جبر کی کتنی بھیانک تاریخ رقم ہوئی ہے ، چلیں پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم اور تنظیم تو کمپرومائزڈ ہے ،کبھی آپ لوگ ہی ایک لسٹ اور بھی بنا لیں کہ پچھلے تین برسوں میں کس بے گناہ قیدی کا بھائی یا کس قیدی کی ماں ،کسی کا والد تو کس کس کی بہن اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کو جنازے تک میں شرکت نہیں کرنے دی گئی اس نوجوان پر کیا گزری ہو گی کہ جو نا حق قید ہے اور اس دوران اس کی ماں اس کی جدائی کا صدمہ نہ سہہ پائی اور پاکستان کی عدالتوں سے مایوس ہو کر اللہ کی عدالت میں پیش ہو گئی ، اور بیٹا اپنی ماں کو نہ تو قبر میں اتار سکا اور نہ اس کا آخری دیدار کر سکا Ch Fawad Hussain

Siddique Jan

79,757 görüntüleme • 25 gün önce