正在加载视频...

视频加载失败

اس نے کہا تھا، ’نيلے رنگ میں قیامت لگتی ہو‘ اب وہ محض ایک تعریف تھی یا کچھ اور، معلوم نہیں، پر جانے کیوں دل پر اثر کر گئی۔ 💙

37,622 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🔔🔔 کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن کراچی میں بارش اور “اربن فلڈنگ” کے دعوؤں کی رپورٹنگ بہت ہی دلچسپ ہے۔ صُبح ایک خاتون رپورٹر کی پانچ منٹ کی لائیو رپورٹنگ دیکھی وہ ملیر کینٹ کو جانے والی سڑک پر چھتری لیے موجود تھیں اور اُن کے عقب میں سڑک بالکل صاف تھی لیکن وہ منظر کشی ایسی کررہی تھیں جیسے بارش سب بہا کر لے گئی ہو، یہاں تک کہ اینکرز نے پوچھ لیا آپ ہمیں سڑک پر پانی دکھا سکتی ہیں؟ تو انہوں نے کیمرہ مین کو کہا آپ دوسری طرف کیمرہ گُھما کر دکھائیں اور جب کیمرہ گھوما تو سڑک کے آدھے حصہ پر تقریباْ ایک سے آدھا انچ پانی کھڑا تھا جبکہ باقی آدھی سڑک پر وہ آدھا انچ پانی بھی نہیں تھا اور ٹریفک کے ساتھ ساتھ لوگ پیدل بھی جارہے تھے صرف شلوار ٹخنوں سے تھوڑی اوپر کر رکھی تھی تاکہ شلوار پر “چھینٹے” نہ پڑ جائیں۔ ابھی یہ وڈیو بھی دیکھیے کار کے ٹائر کا ایک چوتھائی حصہ تک بھی پانی میں نہیں ڈوب رہا یعنی کہ یہاں بھی پانی دو یا تین انچ سے زیادہ نہیں کھڑا لیکن بتایا یوں جارہا ہے جیسے حیدرآباد سے پانی نہیں راوی چناب سے سیلاب بند توڑ کر کراچی میں داخل ہوگیا ہے۔

Asad Ali Toor

104,103 次观看 • 1 年前

دوبارہ سے پڑھیں سبکی tl پر اسکو ہونا چاہیے وہ کوئی عام دن نہیں تھا… وہ ایمان کا امتحان تھا۔ 2022 میں کرناٹک کے ایک کالج کے باہر، جب حجاب کے مسئلے پر ماحول کشیدہ تھا، کچھ شدت پسند لڑکے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسلم طالبہ کی طرف بڑھے۔ وہ لڑکی تھی—مسکان خان۔ اکیلی۔ کمزور جسم… مگر فولاد جیسا حوصلہ۔ سامنے نفرت بھرا ہجوم، کانوں میں شور، دل میں خوف کی ہلکی سی لرزش— مگر اسی لمحے اس کی زبان سے جو صدا نکلی، وہ پوری دنیا نے سن لی: اللہ اکبر! نہ وہ بھاگی، نہ چیخی، نہ پیچھے ہٹی۔ بس ڈٹ کر کھڑی رہی۔ اس ایک لمحے میں اس نے ثابت کر دیا کہ مسلمان عورت کمزور نہیں ہوتی— جب بات دین اور عزت کی ہو، تو وہ پوری امت کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ یہ صرف ایک لڑکی کا واقعہ نہیں تھا… یہ ہر اس بیٹی کی آواز تھی جو اپنے ایمان پر فخر کرتی ہے۔ وہ لمحہ بے حد شاندار تھا— ایسا لمحہ جسے کوئی نہیں بھول پائے گا۔ آؤ، اس منظر کو پھر اپنی ٹائم لائن پر زندہ کریں، تاکہ دنیا دیکھ لے: جب ایک مسلم لڑکی کھڑی ہوتی ہے، تو وہ تاریخ لکھ دیتی ہے۔

عائزے_رومان

17,039 次观看 • 7 个月前

طوائف کے بلتکار کی کہانی !! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر چند ڈاکو تشریف لائے، اتفاق سے 78 سالہ بوڑھی نائیکہ اکیلی تھی، نقدی بھی کچھ زیادہ پاس نہ تھی، زیورات سارے بینک میں پڑے تھے، قصہ مختصر، کوٹھے پر اس 78 سالہ نائیکہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو جناب من، ڈاکوؤں نے اس بڈھی طوائف کو کچھ ایسے دیکھا جیسے کوئی پھوجی افسر پلاٹ کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں تو یہی سہی۔ ڈاکوؤں نے باری باری بڑھیا کی ڈھولکی بجائی اور نکل لیے۔ ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بڑھیا کوٹھے سے نیچے آئی، اور گلی میں لڈیاں ڈالنے لگی، جشن منانے لگی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا، کہ اری بڑھیا، اتنی خوشیاں کس لیے ؟ بوڑھی نائیکہ نے کہا، آج چار گاہکوں نے میرا حسن لوٹا۔ میرا حسن آج بھی قیامت ہے۔ بڑھیا پھر بھارتی گانے پر ناچنے گانے لگی، قیامت قیامت ہیرا منڈی کے سارے دلال اور طوائفیں بھی اس بار جشن میں برابر کی شریک تھیں، سبھی ٹھمکے لگا رہے تھے 😊 نوٹ : یہ پوسٹ غیر سیاسی ہے 😂
0:16

Sensitive content

طوائف کے بلتکار کی کہانی !! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر چند ڈاکو تشریف لائے، اتفاق سے 78 سالہ بوڑھی نائیکہ اکیلی تھی، نقدی بھی کچھ زیادہ پاس نہ تھی، زیورات سارے بینک میں پڑے تھے، قصہ مختصر، کوٹھے پر اس 78 سالہ نائیکہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو جناب من، ڈاکوؤں نے اس بڈھی طوائف کو کچھ ایسے دیکھا جیسے کوئی پھوجی افسر پلاٹ کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں تو یہی سہی۔ ڈاکوؤں نے باری باری بڑھیا کی ڈھولکی بجائی اور نکل لیے۔ ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بڑھیا کوٹھے سے نیچے آئی، اور گلی میں لڈیاں ڈالنے لگی، جشن منانے لگی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا، کہ اری بڑھیا، اتنی خوشیاں کس لیے ؟ بوڑھی نائیکہ نے کہا، آج چار گاہکوں نے میرا حسن لوٹا۔ میرا حسن آج بھی قیامت ہے۔ بڑھیا پھر بھارتی گانے پر ناچنے گانے لگی، قیامت قیامت ہیرا منڈی کے سارے دلال اور طوائفیں بھی اس بار جشن میں برابر کی شریک تھیں، سبھی ٹھمکے لگا رہے تھے 😊 نوٹ : یہ پوسٹ غیر سیاسی ہے 😂

Kashif Aslam

61,401 次观看 • 1 年前

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,255 次观看 • 27 天前