Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اس ویڈیو کو دیکھو ایک غریب کا بیٹا ایک چھوٹی سی نوکری کے لیے تپتی سڑک پر پھیپھڑے پھٹنے تک دوڑتا ہے، گرتا ہے اور تڑپتا ہے۔میں نےخود اپنی آنکھوں سے ایسے بے بس نوجوان دیکھے ہیں جن کے پاس ٹیسٹ سینٹر تک پہنچنے کےلیے گاڑی کا کرایہ تک...

51,027 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 görüntüleme • 2 ay önce

جن لوگوں کو اس نقصان سے قوم کو بچانے کا سوچنا ہے وہ اپنے ساتھیوں کے سینے پر تمغے لگانے اور دیگر ساتھیوں کو خوش کرنے کے لیے بڑی بڑی گاڑیاں منگوانے میں مصروف ہیں، غیر ملکی دوروں کے ان کے شاہانہ اخراجات عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے ادا ہوتے ہیں اور ساتھ میں غیر ملکی دوروں پر ان لوگوں کو لے کر جا رہے ہیں جو پاکستان کے کسی دوسرے شہر لے جانے کے لائق بھی نہیں ہیں، زمین پر کس کے پاس عام لوگوں کی جانوں اور ان کی املاک کے بارے میں سوچنے کا وقت ہے؟ وفاقی حکومت کی طرف سے ایک پورا محکمہ چلایا جا رہا ہے تاکہ قبل از وقت وارننگ کا نظام تیار کیا جا سکے ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں اور عوام میں نچلی سطح پر تباہی سے بچنے کے لیے عام آگاہی پیدا کی جائے، لیکن وہ محکمہ عوام کی حالت پر کسی بھی پچھتاوے کے بغیر مراعات سے لطف اندوز ہو رہا ہے، NDMA نامی اس محکمے کی قیادت غالباً فوج کے سب سے زیادہ اہل اور اعلیٰ گڈ مین جنرل صاحب کر رہے ہیں، NDMA ایک اور محکمہ جو اعلیٰ اور طاقتور لوگوں کے لیے مخصوص ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کا لطف اٹھاتے رہیں، لوگ مصائب کا شکار ہیں اور جنرل صاحب اپنی مراعات بڑھانے میں مصروف ہیں! #پاکستان_کی_کہانی

Qasim Khan Suri

105,875 görüntüleme • 1 yıl önce

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 görüntüleme • 3 ay önce