Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اس پوسٹ کو ایک گھنٹے میں دو مرتبہ میں سوشل میڈیا سے ڈیلیٹ کروایا گیا۔ اتنا شئیر کریں کہ کوئی ڈیلیٹ نہ کرسکیں🙏 👈علیمہ خانم کا اصلی چہرہ سامنے آگیا۔ اس عمر میں بھی اسکی خارش ٹھنڈا نئیں ہو رہا۔۔۔ثابت ہوگیا یہ خاندانی کنجر ہیں بوڑھی ڈانسر کی کرشمے۔۔...

56,590 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 görüntüleme • 4 ay önce

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 görüntüleme • 2 yıl önce

گوگل کے ذریعے آپ اپنے گمشدہ یا چوری ہونے والے موبائل کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں اگر آپ نے مطلوبہ موبائل میں پاسورڈ نہیں لگایا تھا اور موبائل کہیں گم ہو گیا ۔ اب آپ کو ڈر ہے کہ کہیں اس کا کوئی اس میں سے ڈیٹا نہ نکال لے تو آپ گوگل کی مدد سے اس موبائل کو لاک لگا سکتے ہیں چاہے وہ آپ کے پاس نہیں ہے۔ اس سہولت سے کو استعمال کرنے کے لیے آپ نے پہ جائیں اپنا جی میل اکاؤنٹ لگائیں جو اس موبائل میں لگا ہے ۔ یہاں آپ اپنے موبائل کی لوکیشن دیکھ سکتے ہیں اس علاوہ اپنے موبائل کی بیٹری 🔋 بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ موبائل کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں اور موبائل پہ Silent لگا ہے تو آپ "Play Sound" پہ کلک کریں آپ کے موبائل کی رنگ بجے گی۔ دوسرا اس میں Secure Device " کا فیچر ملتا ہے اس پر جا کر آپ اپنے موبائل کو لاک لگا سکتے ہیں ۔ اور اس سے آپ اس موبائل میں کوئی میسج وغیرہ بھی بھیج سکتے ہیں کنٹیکٹ ڈیٹیلز وغیرہ ۔ اگر موبائل ملنے کے چانسز ختم ہو جائیں تو اس صورت میں "Factory Reset Device" کا فیچر بھی ملتا ہے اس سے آپ اس موبائل کو مکمل ری سیٹ کرسکتے ہیں اس میں موجود ہر چیز ڈیلیٹ ہو جائے گی۔ معلومات اچھی لگیں تو اسے ریٹویٹ کرکے دوسروں سے شیئر کیجئے ۔ مذید ایسی معلومات کے لیے فالو کیجئے ۔ جزاک اللّہ خیرا 🥀 #Google

𝗕𝗶𝗹𝗮𝗹 𝗛𝘂𝘀𝘀𝗮𝗶𝗻

668,521 görüntüleme • 2 yıl önce

مجھے فیصل آباد یونیورسٹی کا ایک واقعہ یاد آیا جس میں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے ایچ او ڈی کی جگہ سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے کسی اور لگانا تھا وہ صاحب عہدہ چھوڑنے اور کسی دھمکی میں آنے تیار نہیں تھے پھر ایک سٹوڈنٹ سے ان کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست ڈلوا دی گئ۔ شریف آدمی تھا پہلے گھبرا گیا، اپنے تمام سوشل میڈیا بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیے ۔ پھر ہمت پکڑی اور فیصلہ کیا کہ میں اس ہراسمنٹ کمپلینٹ کو فیس کرونگا انہیں کمپلینٹ کے فیصلے تک معطل کر دیا گیا اور تقریبا ایک سال بعد وہ معصوم ثابت ہوے، بچی نے بھی بتایا کہ اسے استعمال کیا گیا اور یوں وہ باعزت اپنے عہدے پر بحال ہوے۔ میں نے یہ سٹوری کور لی تھی لیکن کیس میرے پاس بچی کے حوالے سے آیا تھا۔ اس کیس میں بھی ججوں صاحب کے خلاف جو ہراسمنٹ کمپلینٹس، جن کا دعوی کیا جا رہا ہے آئی ہیں تو وہ سامنے لانی چاہیں، جدون کو عہدے سے ہٹایا گیا اور میڈم اینا کو وہ عہدہ دیا گیا اس کا نوٹیفکیشن بھی سامنے آنا چاہیے۔ یونیورسٹی بنی ہراسمنٹ کمیٹی کی تفصیلات اور رہورٹس سامنے آنی چاہیں۔ اور جن طلباء کو ججوں صاحب بقول میڈیا اور ادارے کے فیور دیتے رہے اس کی تفصیل بھی پبلک کر دیں۔ جب فیکلٹی چیٹس پبلک ہو سکتی ہیں تو یہ سب پبلک ہونا بہت ضروری ہے۔

Saddia Mazhar|سعدیہ مظہر

11,665 görüntüleme • 4 gün önce

میں نہیں کہتا کہ متحدہ عرب امارات مسلک کی بیناد پہ لوگوں کو نکل رہا ہے لیکن میں دو معاملات کا چشم دید گواہ ہوں اگر وہ یہاں بیان نہ کروں تو بددیانتی ہوگی میرے ایک جانے والے ہیں چھ سات سال پہلے وہ وزٹ ویزا پہ دوبئی گیا پھر جب وہاں پہ اسکا مستقل ویزا لگایا جانا تھا تو اسکے نام کیساتھ شاہ تھا ویزا نہیں لگا ابھی دو سال پہلے ایک دوست کے ویزے کے لئے اپلائی کیا اسکے نام میں علی تھا تو اسکا دوبئی کا ویزا مسترد ہوگیا اب آتے ہیں اصل مودے کی طرف اور اس ویڈیو کی طرف ان لوگوں کو گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات سے نکلا گیا وہ تو وجہ یہ بتا رہیں ہیں کہ ہم ایک مخصوص مسلک کے ساتھ وابستہ ہیں تو ہمیں اس لئے نکلا گیا لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنگ کے دوران انہوں نے کس ایسی سرگرمی میں حصہ لیا ہو جو وہاں کے قانون کے خلاف ہے ہوسکتا ہے انہوں نے ویڈیو یا تصویر بنائی ہوں ہوسکتا ہے کسی سوشل میڈیا پوسٹ کسی واٹس ایپ گروپ میں دوبئی کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہو ؟ کیونکہ جہاں اگر کسی کو علی نام کی وجہ سے ویزا نہیں ملتا وہاں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے نام کیساتھ علی ہے شاہ ہے وہ دوبئی میں کام کرتے ہیں میرے خیال میں انسان جس ملک میں روزی روٹی کمانے جاتا ہے اسکے قوانین کا احترام کرے مشکل وقت میں اس ملک کیساتھ کھڑا ہو جس نے اسکے گھریلو حالات بہتر کئیے /🙏

محفوظ الرحمن اعوان

32,686 görüntüleme • 3 ay önce

" سسٹم نہی ایک اڈہ ' ایک گندہ نالہ یا ایک کوٹھا " (اس نظام کو سسٹم کہنا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں اڈوں والی بدمعاشی ' گندے نالے والا تعفن اور کوٹھے والا بازاری پن ہے ) احسن اقبال صاحب کچھ ہفتے پہلے کولمبس آیے تھے - اپنی تقریر میں تین دفعہ بولے کہ میں اسی جیل میں تھا جس میں عمران خان آج ہے - تب میں نے وہاں پوچھ لیا کہ "آپ کو بھی سات ماہ تک بہن بھائی سے نہی ملنے دیا جاتا تھا " جس پر ان کے پاس کوی جواب نہی تھا - پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اوورسیز سے خطاب کر رہے ہیں ' آپ نے ان کے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟ جواب ملا کہ یہ وہاں آکر ووٹ ڈالیں - یہاں سے انٹرنیٹ ہیک ہوسکتا ہے - (البتہ وہاں جو پیپرز پر ٹھپے لگتے ہیں وہ سب سے فول پروف سسٹم ہے ) پھر میں نے سوال کیا کہ ملک سے اتنا برین ڈرین ہورہا ہے ' آپ کے منسٹر اور فیلڈ مارشل اس کو "برین گین" کہتے ہیں - یہ سمجھادیں - جواب ملا کہ "یہ ایک یونیورسل فنومینا ہے - پوری دنیا کا ہی برین ڈرین ہورہا ہے " وہاں سوال ہوا کہ ہائبرڈ نظام کب تک چلے گا ' جواب ملا کہ "عمران خان نے فوج کو اتنا مظبوط کردیا ہے کہ ان کو سیاست سے نکالنے میں اب وقت لگے گا " (سو اسی لئے ہم نے ان کو اور طاقتور کرنے کیلئے فیلڈ مارشل اور پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفینس بنا ڈالا )- یہ سوال جواب میں نے اس لئے لکھے کہ ان کی اس تقریر میں بھی آپ کو ایسا ہی "فلسفی " نظر آئیگا -دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات پہلے تحریک انصاف کے سپورٹرز اور پورا پاکستان کہتا تھا اب اس کی گواہی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خود دے رہی ہے - فارم 47 کا وزیر اعظم فارم 47 کا صدر ' اسی فارم 47 کی پارلیمینٹ اور اسی پارلیمنٹ کے ہاتھ سے ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم اور ان کے نتیجے میں بننے والا آج کا عدالتی نظام اور اور فیلڈ مارشل سمیت پانچ سال کی مدت والا چیف آف ڈیفینس فورسیز کا عہدہ ' سب ہی فارم 47 زدہ اور متنازع ہوجاتا ہے - اس وقت پوری قوم بس تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح فرروی 2024 کے انتخابات میں ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے سر عام کس طرح اپنا اپنا جرم قبول کررہے ہیں اور پھر بھی نہ چہرے پر کوئی ندامت ہے نہ ماتھے پر کوئی پشیمانی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس ہونا - یہ بھی بس پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی مل کر چوری کرو اور پھر سرعام اس چوری کو قبول کرکے ہنسوں ؛ اور قہقہے اور تالیاں بجاؤ -' آپ کو کوئی پوچھنے والا ' کوئی سوال کرنے والا نہی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس کرنا - کہ آپ کو جوابدہی کا خوف ہی نہ رہے - سسٹم اتنا کھوکھلا اور کرپٹ ہو کہ وہ اپنے منہ سے اپنے جرائم قبول کرنے والوں کو بھی پروسیکیوٹ نہ کرسکے - سٹسم اتنا کمزور ہو کہ وہ سائکل کی چوری پر ایک سال سزا سنا دے پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی چوری پر آپ کو وزیر اعظم اور صدر بنادے اور جب وہ اپنے اپنے منہ سے اپنا گناہ تسلیم بھی کریں تب ان کیلئے پنڈال سجاے اور تالیاں بجاے- اچھے خاصے چلتے سسٹم کو تباہ کرکے جو ایک غیر فطری سسٹم بنایا آج خود مان رہے ہیں کہ "سسٹم نہی چل رہا ' اور اب مزید تجربوں کی بات کر رہے ہیں " یہی بات جب سڑکوں پر عوام کرتے تھے تو یہ ان پر گولیاں چلاتے تھے - بھائی ! سسٹم پر مزید بات کرنے سے پہلے ان کو تو سزا ادیں جو یہ سسٹم لے کر آیے تھے کیوں اگر اگلے سسٹم کے موجد بھی ووہی اناڑی ' self proclaimed انجنئیر ہیں تو وہ بھی کیا خاک چلے گا - جنہوں نے پہلا سسٹم برباد کیا پہلے ان کو تو ایک ایک طمانچہ رسید ہو ' پھر اگلے سسٹم کی بات ہو - سسٹم ؟ کیا ہے یہ سسٹم ؟ کسی ارشد شریف کا قتل ہو تو اسی دن سب کو قاتلوں کا پتا ہو پر ساتھ میں یہ بھی یقین ہو کہ ان کو سزا نہی ملے گی - یہ ہے سسٹم ؟ الیکشن سے تین ہفتے پہلے سب سے بڑی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا جائے ' اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ووٹر کے حق پر حملہ ہے ' یہ ہے سسٹم ؟ پھر بھی جب انتخابات میں منہ کی کھانی پڑے تو 2 + 2 کو 22 لکھ دیا جائے ' الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو کسی سرکاری سکول کا حاضری والا رجسٹر بنا کر وہاں کاٹے مآٹے مار کر نمبرز پورے کیے جائیں ' یہ ہے سسٹم ؟ جو سب سے زیادہ ووٹ جیتے اس کو 33 سال کی قید سنادو ' جیل میں اس کے خاندان کا ملنا اس سے بند کردو ؛ اس کی بینائی ضایع ہونے لگے تو اپنی آنکھیں بند کرلو - اس کو وہ بنیادی حقوق بھی نہ دو جو ایک عام قیدی کا بھی حق ہوتا ہے ' یہ والا سسٹم ؟ جو صحافی آواز اٹھاے اس کو اٹھا لو - ملک بدر کردو - جیل میں ڈال دو - چینل سے نکال دو - یہ والا سسٹم ؟ جو جج اپنے کمروں میں کیمرے لگانے کے خلاف خط لکھے ' جو الیکشن ٹریبونل میں فارم 47 کو ویریفائی کرنے کیلئے وہاں کے فارم 45 بھی منگوالے ' اسکی ڈگری کو 35 سال بعد جعلی ثابت کردو ' اس کا چھوٹی عدالتوں میں ٹرانسفر کروادو ' اور کسی دوسری کورٹ سے 15 ویں رینک کے جج کو بلا کر اسکوان کے اوپر چیف جسٹس لگا دو ' عدالتوں کو جرگہ بنا دو ' یہ والا سسٹم ؟ جنہوں نے اس غیرعوامی حکومت کو یہ سسٹم بنا کر دیا' ان کے عہدوں کو ایکسٹنشن دو ' ان کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس بناؤ ' اور اپنے اس "symbiosis " اور اس بند بانٹ کو جب کوئی اور نام نہ ملے تو "ہائبرڈ " نظام کا نام دے کر کوئی بلغم کو مقیت شہد کہنے کی کوشش کرو ' یہ والا سسٹم ؟ سینیٹ اور کابینہ میں اپنے بندے بغیر الیکشن کے لاؤ ' ان کو ڈائریکٹ سینیٹر اور وزیر داخلہ لگاو اور پھر تین سال بعد اسی سے کہلواؤ کہ "سٹسم کولیپس کر گیا ہے " یہ والا سسٹم ؟ میری نظر میں اس نظام کو "سسٹم " کہنا ہی غلط ہے - سسٹم میں اصول ہوتا ہے ' نظم و ضبط ہوتا ہے ' دو جمع دو چار ہوتا ہے ' اس میں پروڈکشن ہوتی ہے - اس میں جواب طلبی ہوتی ہے ' اس میں مواخذہ ہوتا ہے - اس نظام کو سسٹم نہی "اڈہ" ' گندہ نالہ " یا "کوٹھا " کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں اس میں "اڈوں " والی بدمعاشی ہے ' "گندے نالے " والا تعفن ہے اور "کوٹھے " والا بازاری اور کنجرپن ہے جس کی گواہی اب یہ سسٹم اور اس کے بینیفشری اپنی زبان سے خود دے رہے ہیں - قلم کی جسارت وقاص نواز ------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Javeria Siddique Maryam Riaz Wattoo

Dr Waqas Nawaz

15,839 görüntüleme • 27 gün önce

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,710 görüntüleme • 1 ay önce

یہ میری بیٹی ہے۔ الحمدللہ اس نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ یہ بہت نیک، شریف اور فرمانبردار بچی ہے۔ اس کے والد گزشتہ دو سال سے روزگار کے سلسلے میں پردیس میں ہیں، اس لیے گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد اس کا زیادہ وقت موبائل اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں گزرنے لگا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے فکر تھی کہ کہیں اس کی توجہ تعلیم سے نہ ہٹ جائے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر دے سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اسے کالج میں داخل کروانے اور ہاسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے آفس کے باس سے بات کی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے نہ صرف میری بیٹی کا کالج میں داخلہ کروانے میں مدد کی بلکہ ہاسٹل میں رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی تعلیم، ہاسٹل اور دیگر ضروری اخراجات کی فکر نہ کروں۔ ہاسٹل میں ان کا بیٹا بھی رہتا ہے، جو ایک اچھا اور بااخلاق لڑکا ہے، اور وہ بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا۔ میں اپنے باس کی اس مہربانی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل انسانوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کے لیے اتنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میری دعا ہے کہ میری بیٹی اپنی تعلیم پر پوری توجہ دے، محنت کرے اور زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔

Nadia Malik🍁

22,552 görüntüleme • 2 ay önce

سیاحت کا خواب غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا..😢 سوات کے خوبصورت وادیوں میں آج جو سانحہ پیش آیا اس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے پندرہ سیاحوں کا سیلابی پانی میں بہہ جانا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک المناک حقیقت ہے جو ہماری انتظامی غفلت، بےحسی اور مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قدرتی حسن کو دیکھنے لمحوں کو جینے اور خوشیاں بانٹنے یہاں آئے تھے… مگر واپسی میں ان کے مقدر میں فقط تاحیات خاموشی، آنسو اور کفِ افسوس رہا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی وارننگ کے باوجود نہ ضلعی حکومت نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی سیاحوں کو بروقت خبردار کیا گیا۔ جب سیلابی پانی نے انہیں گھیر لیا تو وہ پکار اٹھے۔ مدد مانگی، زندگی کی دہائیاں دیں مگر ریاستی مشینری کہیں نظر نہ آئی۔ نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی اور نہ کوئی ضلعی افسر۔ وہ ایک گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے اور آخرکار وہ ہار گئے۔ کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ انسانوں کی زندگیاں ٹھیکوں، کمیشنوں اور بجٹ کی فائلوں میں دفن ہو چکی ہیں؟ کیا سیاحت کے فروغ کا مطلب یہ ہے کہ سیاح غیر محفوظ راستوں پر بغیر کسی حکومتی رہنمائی کے چھوڑ دیے جائیں؟ یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک ایسا ریاستی جرم ہے جو کئی قیمتی جانوں کو نگل گیا۔ جب ریاست شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو سوالات اٹھتے ہیں اور اٹھنے چاہئیں۔ میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ لیکن تعزیت کے ساتھ ہمیں یہ عزم بھی کرنا ہوگا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف حادثات پر افسوس نہ کریں بلکہ اس نظام کو جھنجھوڑ کر جگائیں، جو وقت پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بشکریہ : مسا تالپور

Gilgit Baltistan Tourism.

52,416 görüntüleme • 1 yıl önce

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 görüntüleme • 1 yıl önce

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 görüntüleme • 1 yıl önce

لندن کی خفیہ پارٹی میں کی پراسرار حرکات، کیا وقار ذکا پراسرار تنظیم الومیناٹی کے ممبر ہیں؟ پاکستانی میڈیا پرسن، ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹر، ٹی وی ہوسٹ اور کرپٹو انٹرپرینیور وقار ذکا جو اپنے ریئلٹی شوز اور آن لائن موجودگی کے باعث مشہور ہیں، حال ہی میں لندن کی ایک خفیہ پارٹی میں دیکھے گئے جہاں وہ ہاتھوں کے پراسرار اشاروں کے ساتھ رقص کرتے نظر آئے۔ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں جنم دیں کہ شاید یہ ان کی ’’الومیناٹی‘‘ (Illuminati) میں شمولیت کی کوئی خفیہ تقریب تھی۔ کافی عرصے سے وقار ذکا کے خفیہ طور پر الومیناٹی کے رکن ہونے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ بظاہر یہ اشارہ دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ الومیناٹی نے واقعی ان سے رابطہ کیا تھا۔ ویڈیو میں ان کے ایک مبہم جملے “I am” (یعنی “میں ہوں”) کو کئی لوگوں نے ان کی اس پراسرار اور خفیہ تنظیم سے وابستگی کی تصدیق کے طور پر لیا۔ وقار ذکا نے مزید یہ دعویٰ بھی کیا کہ شوبز کی دنیا کے اکثر لوگ کسی نہ کسی طور الومیناٹی سے منسلک ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا ممکن ہے کہ آپ میری دعا کر رہے ہوں کہ خدا میرے رقص کو قبول کرے؟ یہ جملہ سوشل میڈیا پر مزید پراسراریت اور تجسس کا باعث بن گیا۔

INSTANewsTv

362,083 görüntüleme • 10 ay önce