正在加载视频...

视频加载失败

اس کرہ ارض پر یہ پہلا سائکل والا بابا تھا جس نے سٹینڈ پہ کھڑی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی اور پولیس کے انتظار میں لیٹ گیا 😂 مزید ستم یہ کہ بابا جی نے نہایت اچھی کوالٹی والا مائیک بھی داڑھی کے نیچے چھپایا ہوا ھے 🎤...

58,287 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

ملتان میں کرکٹ ٹیم کے روٹ کے راستے میں آنے والے موٹر سائیکل سوار کی نئی فوٹیج۔ ایس ایچ او کو تو فورا سزا مل گئی کہ اس نے ضرورت سے زیادہ فورس استمعال کی ۔ لیکن اس فوٹیج کے بعد پوچھنا تو بنتا ہے اس چالیس سالہ موٹرسائکل والے کو کس خوشی میں ملتان پولیس نے دس ہزار روپے انعام دیا ہے جو پولیس والوں کے روکنے پر نہیں رکا بلکہ اس نے الٹا پولیس والے کو چلتے ہوئے موٹر سائکل پر اپنے دائیں ہاتھ سے مارا اور نکل گیا اور اسی وقت دو سکینڈز بعد کھلاڑیوں کی گاڑیاں قریب سے گزری ہیں اور ایس ایچ او نے اسے پکڑ کر زمین پرگرایا اور فورس استمعال کی۔ ایس ایچ او نے زیادہ طاقت استمعال کی لیکن جس طرح اس بندے نے پولیس والے کو مار کر پرے کیا اور کھلاڑیوں کے روٹ آگے آنے کی زبردستی کی کوشش کی اس کے بعد وہاں کھڑے ایس ایچ او سے کیا توقع کرنی تھی؟ موٹر سائیکل والا شکر کرے کہ یہ امریکہ نہیں تھا ورنہ وہاں صدر لیول کی سیکورٹی یا پولیس تین سکینڈز میں کچھ اور کر گزرتی۔ Government of Punjab Maryam Nawaz Sharif

Rauf Klasra

317,000 次观看 • 1 年前

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 次观看 • 9 个月前

کبھی کبھی تو ایسے لگتا یہ معاشرہ رہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ ہم سب درندے بن چکے ہیں۔ سید ذین شاہ نامی بچےکو 40 درندوں نے بے دردی سے قتل کیا کسی نے ہتھوڑیوں سے ہاتھ کی انگلیاں توڑی، کسی نے چاقو مارے، کسی نے بلیڈ مارے، کسی نے سر پر ڈنڈے مارے کسی نے آگ لگائی، ایک معصوم بچے کو سینکڑوں زخم دئے گے۔ قبر میں ڈالتے وقت بھی زخموں سے خون نکل رہا تھا😭 اور جب سید فوت ہو گیا تو بھی ان ظالموں کا دل ٹھنڈا نہیں ہوا، سید کے گلے میں رسی ڈال کر موٹر سائیکل سے باندھ کر گلیوں میں گھسیٹتے رھے۔ حالیہ خبروں کے مطابق راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں ایک بہت افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک نوجوان زین شاہ کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ دو گروپوں کے درمیان لین دین یا جھگڑے کے بعد پیش آیا۔ خبروں کے مطابق پہلے سراج محسود نامی شخص فائرنگ میں مارا گیا، جس کے بعد مشتعل افراد میں سے کسی کا کہنا تھا کہ یہ بچہ زین شاہ بھی حملہ آوروں میں موجود تھا۔ مشتغل ہجوم نے زین شاہ کے گھر دھاوا بول دیا، وہاں سے بچے کو پکڑا اور مبینہ طور پر اس پر شدید تشدد کیا۔ بعد میں پولیس تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سراج محسود کو لگنے والی گولی زین شاہ نے نہیں چلائی۔۔ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے اور مزید گرفتاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔۔۔

چوہدری شاہد محمود

19,693 次观看 • 3 个月前

کسی کو مار دینا، اٹھا لینا یا جبری طور پر لاپتہ کر دینا پاکستان میں نیو نارمل ہو جائے گا، اگر کل کو فوج ن لیگ کے سعد رفیق کو اٹھاتی ہے اور لاپتہ کر دیتی ہے تو انتظار پنجوتہ کو بھی تو اٹھایا گیا تھا عثمان ڈار بھی اٹھایا گیا تھا فرخ حبیب بھی اٹھایا گیا تھا، اگر کل کو حمزہ شہباز کو فوج جوتے مار کر اٹھا کر کچھ دنوں کے لیے غائب کر دیتی ہے تو بہت سارے لوگوں کو اٹھایا گیا تھا عمران خان کے بھانجے کو بھی اٹھایا گیا صداقت عباسی کو بھی اٹھایا گیا اور اگر کل کو مریم صفدر کی بہن کو اٹھا کر سڑک پر گھسیٹتے ہیں تو عمران خان کی بہنوں کو بھی سڑک پر گھسیٹا گیا تھا، اگر کل کو کوئی بلاول زرداری کو چپیٹریں مارتا ہے اور اس کے منہ پر کالا کپڑا ڈال کر گھسیٹ کے لیکر آتا ہے تو فواد چوہدری کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا، جب حکومتی لوگوں کے ساتھ کل کو یہ سب کچھ ہو گا تو عوام کے لیے یہ سب نارمل ہو جائے گا کہ خیر ہے یہ تو ہوتا رہتا ہے پاکستان میں! #KhanIllegallyJailed3Years #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

82,067 次观看 • 22 天前

لاہور میں موجود نکاح والی گلی میں جھگڑا ہو گیا ۔۔۔ اپ نے لاہور کی اس گلی کا ذکر تو سنا ہو گا جس کے بارے میں مشتاق یوسفی کہتے ہیں اگر اس گلی میں اک طرف مرد اور دوسری طرف سے عورت ارہی ہو تو ان کے درمیان صرف نکاح کی گنجائش نکلتی ہے ۔ اب اس گلی میں ڈاکٹر روبی ملک کو جو کہ ٹک ٹاک کی ڈاکٹر ہیں اک بوڑھے بابے نے اچھی خاصی سنای ۔۔ لڑای کا بیک گراونڈ میں بتا دیتا ہوں اس تنگ گلی میں اک بابا جی کا گھر ہے سب نے گلی کے تنگ ہونے کی وجہ سے اسے نکاح والی گلی مشہور کر دی ۔۔ اے روز یہاں ٹک ٹاکر شوٹنگ کرنے پہنچ جاتے ہیں ۔ اس گلی میں کی گھر ہیں وہ بیچارے ان سے تنگ ہیں ۔۔ ڈاکٹر روبی ملک بھی کمیرے لیکر پہنچ جاتی ہیں نکاح والی گلی میں شوٹنگ کیلے ۔۔۔ جس پر گلی میں رہنے والا بابا فل گرم ہو گیا ۔ اور خوب سنوای انکو ۔ کہ میری جوان بیٹیاں ہیں اپ لوگوں کے مذاق کی وجہ سے پورے شہر میں ہم بدنام ہو گے ہیں کہ یہ نکاح والی گلی ہے ان گھروں میں نکاح ہوتے ہیں ۔۔ بہنوں بیٹیوں کے گھر تباہ ہو گے ۔۔ اپ کی یہ تفریح بن چکی ہے ۔۔ اب یہ ویڈیوز کے کچھ حصے ہیں

Saleem Speaks

43,541 次观看 • 4 个月前