Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اس کیس کا (شادی ہونے والی تھی ) رات گئے پتا چلا تھا ہمین چند دن پہلے ۔ اور جتنا ہوسکا اس وقت رات اور اگلے دن میں کردیا ۔ اتنی جلدی جو جوجو ممکن تھا ۔ لڑکا کریانے کی دکان کرتا تھا تب دکان کو سرسری نظر سے...

43,781 görüntüleme • 23 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

میں کل شادی والے گھر کیوں گیا۔ مجھے پتا چلا بچی کا باپ پریشان ہے ایک زمیندار کی وجہ سے اس نے دو سال پہلے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا جس کو باپ نے انکار کر دیا۔ وجہ وہی 85 سال کا بزرگ 18 سال کی لڑکی سے ہمارے معاشرے میں شادی کرتا ہے تو صرف عیاشی کے لئے کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے پیغام بھیجا تھا کے مین دیکھ لونگا شادی کیسے ہوتی ہے۔ پھر شادی ہو بھی گئی اور وہاں چڑیا نے پر نہین مارا۔ ۔۔ اس ملاح باپ کی بڑی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے دو سال پہلے اس پر الگ سے پوسٹ لکھوں گا کے لوگ کیسے درندے ہین غریب انسان کو بیٹی کی بربادی کے بعد بھی کیسے کیسے لوٹنے کے رستے نکال لیتے ہین۔ مین اس شخص کی زندگی کے بہت سارے پہلو سامنے نہین لا رہا ورنہ معاشرہ اپنے گریبان مین جھانکنے کے قابل نہین رہ جائے گا۔ ۔۔ دوسری وجہ دلہن کے باپ کا کوئی قریبی رشتے دار موجود حیات نہین ہے ۔ تو ہر انسان ایسے موقع پر بار بار ہمت ہارتا ہے۔ میری موجودگی مین دو بار باپ نے منہ پر کپڑا رکھا اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں بار بار۔ پھر مین وہاں 3 لوگ چھوڑ کر ایا۔ ایک واجد کو جس نے دیگوں کا تمام کام ٹینٹ اور تمام گھر سے باہر کے کام سنبھال رکھے تھے۔ جو وڈیو مین بول رہا ہے۔ دوسرا اختر ماچھی اس کے ذمہ کھانا تقسیم کرنا اور روٹی کم نہ ہو جائے وہ سب انتظام تھا۔ پھر وہاں مین بندا جعفر موجود رہا بچی کی رخصتی تک ۔ تاکہ وہاں وہ دھمکی دینے والا کوئی آئے تو میری غیر موجودگی مین وہ خود اس کو سیدھا کرے اس کے دو بندے سائیڈ پر بیٹھے تھے تیار اگر کوئی آئے تو طبعیت فریش کرنے واسطے موقع پر۔ مین بول کر ایا تھا تھانہ کچہری مین دیکھ لوں گا تم لوگوں نے 17 کلومیٹر دور چنیوٹ روڈ تک بارات کو واپس پہنچا کر آنا ہے چاے جو ہو جائے۔ لوگ برے لوگوں سے برا سلوک رکھتے ہین لیکن مین ان سے پیار اس لئے کرتا ہون کے۔ جہاں یہ کسی کی مشکل مین مدد کرتے ہین اور کسی مئن اتنی ہمت نہین ہوتی۔ ۔۔ تندور دیگیں اور تنبو کناتین صبح 6 بجے بندے چنگچئ 4 تھین جن پر لوڈ کر کے نکلے تھے ۔ رستے کی وجہ سے 9 بجے کے قریب 17 کلومیٹر کا رستہ طے ہوا جگہ جگہ چنگچی پھنسے ۔ ہر جگہ اردگرد موجود علاقے کے لوگ کام آئے۔ ۔۔ ایک چیز کھانے مئن بڑھا دی۔ زردے کی دیگ۔ اس کی وجہ تھی دلہن کےباپ نے مجھ سے صبح سویرے بس اتنا بولا مہر علیانہ میرے جوڑے ہاتھ دیکھ لے کچھ میٹھا بھی کر دو میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ مین مجبور ہر گیا تھا اپنے سارے اصول اس ایک شادی کے لئے توڑ دئیے۔ ۔۔ باپ نے ہمارا دیا سامان اپنے پاس واحد پڑی چیز جو سیلاب مین بچ گئی تھی 6 سال پرانی پیٹی ۔ مین سامان رکھ کر دے دیا۔ ۔۔ کیسا باپ ہے۔ اب بیٹی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس بندے کی جھونپڑی میں بس دو چارپائیان چند کھانے پکانے کے برتن 4 چائے والے کپ ایک نلکا پانی والا بچے ہین۔ ۔۔ بارات آنے سے کچھ دیر پہلے شدید اندھیری شروع ہو گئی۔ بارات کے لوگ ویگن مین سے اتر کر ساتھ دھکے لگاتے رہے پھر بھی گھر سے ادھا کلومیٹر دور ویگن والا ڈرائیور جواب دے گیا اس سے آگے گاڑی لے جانا ممکن نہین۔ ۔۔ پھر آندھی اور طوفان شروع ہوا ۔ کھانا کھانے کو جگہ نہ۔ بچئ نکاح ہوتے ہی لڑکی کو ویگن مین بیٹھا دیا گیا۔ دلہا دلہن نے کھانا وہاں بیٹھ کر کھایا۔ تنبو کناتین گر گئیں تیز بارش اور آندھی سے۔ باقی ماندہ لوگ جو جھونپڑی مین بیٹھے تھے خواتین بھی انہوں نے برستی بارش میں وہاں اوپر شاپر اور ٹینٹ اوپر ڈال کر جیسے تیسے بارش والا وقت نکالا۔ کھانا وہیں کھایا۔ ۔۔ 8 بجے بارات رخصت ہوئی ۔ کل اندھی اس قدر تیز تھی کے ہم خود کئی بار واپسی پر موٹر سائیکل سے گرتے گرتے بچے ۔ واجد کا رکشہ کی سیٹیں دور جا گرین ۔ شیشے ٹوٹ گئے ۔ اسکا نقصان آج پورا ہو جائے گا۔ ۔۔ اس شادی نے باقی 153 شادیاں جو آج تک مین کروا چکا ہون سے بلکل الگ احساسات دئیے۔ گھر پہنچ کر دو نفل ادا کئے جب رخصتی ہو گئی مجھے فون ا گیا۔ نصیب رب لکھتا ہے ہم صرف محنت کر سکتے ہین ۔ نتائج کسی انسان کے ہاتھوں میں نہین ہین۔ ۔۔ رخصتی کے وقت سے پہلے دلہن کے پانچ ہزار اس کو پہنچا دئیے اور دلہا کے واجد ہمارے بعد جب بارات آئی تک دے اس نے دلہا کے ہاتھ مین۔ لڑکا بھی ایک مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے۔ کتنا کماتا ہو گا بس زندگی گزرنی ہے اس بچاروں نے۔ یہ دس ہزار ان کو کم سے کم 15 دن گھر پر رہنے کی ہمت دین گے ساتھ ۔ مزدوری پر جانے تک سہارا رہے گا ان کا۔ روٹی پانی کا۔ ۔۔ کھانا بہت اچھا پکا ہوا تھا۔ اور میٹھا مین کھاتا نہیں مجھے شروع سے پسند نہین آج تک مین نے میٹھا دودھ تک نہین پیا تو وہ دوسرے ساتھیوں۔ مبشر اور خان نے بتایا کے اچھا بنا ہوا ہے۔ ۔۔ دعا مین یاد رکھئیے گا جو ہمت تھی جو اوقات تھی وہ کیا ہے اس بندے کے واسطے #SaqibAllyana

Saqib Allyana

10,548 görüntüleme • 1 ay önce

مان نے واجد کے گھر جا کر بس اتنا بولا میری بیٹی کی کل شادی ہے۔ اور ہمارے گھر آٹا بھئ نہین ہے ۔ بیٹی کی رخصتی پر دینے کو کھانا یا جلیبی تو بس ایک خواہش ہی رہ جائے گی ۔ واجد کا فون ایا کل رات 10 بجے کے بعد مہر جی عورت دروازے پر کھڑی ہے ۔ مین نے بولا حقدار ہیں ۔ بولا ہان یہ کنفرم ہے 30 سال سے جانتا ہون اس خاندان کو۔ ساتھ والے گاون کے ہین رات کی تاریکی مین آئے ہین تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ تو اس گھر رات کو ہی واجد کی طرف ہر وقت رکھے ہوئے دو ایکسٹرا خریدے ہوئے جہیزون مین سے ایک واجد جا کر ان کے گھر چھوڑ آیا۔ ماں باپ نے جیسی دعائین دین بس عرش والا قبول فرمائے ۔ ۔۔۔۔۔۔ کھانا چیک کیا خود بہت مزے کا تھا ۔ دوپہر کے چند پل جتنے سکون سے گزرے ۔ شام کو وڈیوز پہنچنے پر کہاں کہاں چرکے لگے سینے مین یہ رب ہی جانتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کھانا دن کو ان تک پہنچا دیا ٹینٹ لگوا دئیے تھے صبح واجد نے ۔ جا کر ان کے گھر ۔ کسی گھر کے فرد کی تصویر مردوں مین سے بھی بنانا ممکن نہین تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔ عزت بچا کر بیٹی کو رخصت کرنا کتنا مشکل ہو چکا ہے ۔ جس نے دروازے پر ا کر صدا لگا دی اس کو خالی لوٹانا ظلم ہوتا ہے ۔ تمام کام احسن طریقہ سے طے پا گئے ۔ ۔ رب کعبہ ہم سب کو ہمت اور عزت عطا فرمائے احسن عمل کی ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل بیٹھ گیا اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد جب دلہن کے کپڑے مجھے نظر آئے ۔ بچی نے دلہن بن کر بھی دلہن والا کچھ نہین پہن رکھا تھا۔ میرا دم گھٹ گیا۔ سانس رک گی۔ واجد کو کال کی پوچھا تو پتا چلا باپ نے منع کیا تھا کے کپڑے نہ بنا سکا ہون نہ مانگ کر پہناون گا۔ ۔ ۔ کبھی کبھی چیخیں مار کر رونے کو دل کرتا ہے ۔ ایسے معاشرے مین ایسے فرشتے سفید پوش افراد بھی موجود ہین ۔ ۔ ۔ جن کی ایسے حالات مین بھی بس نہین ہوتی ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

61,294 görüntüleme • 14 gün önce

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
2:58

Sensitive content

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔

Saqib Allyana

86,228 görüntüleme • 1 ay önce

یہ 35 سیکنڈ کی وڈیو سب کو ہر حالت مین دیکھنا ہے جو مجھے پڑھتے ہین ۔ ہمت کر کے ۔ جن کو مان باپ اور رب سے اختلاف ہے ۔ جن کی خواہشات ہین ۔ ۔۔۔۔۔۔ اپنی بیٹیوں کو ضرور دکھائیں کے ایسے بھی شادیاں طے ہوتی ہین ۔ 13 تاریخ کو شادی ہے ۔ اور جہیز کیا ہے ۔ ہوش حواس اڑ جائیں گے اپ کے ماں اور باپ کی بات سن کر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کو پنجابی زبان کی سمجھ نہ لگے وہ پوسٹ پڑھ لے۔ کل شام میں اس گھر پہنچا بہت دیر سے پتا چلا۔ ان کی چھت اور کمرے کے حالات دیکھیں۔ 35 سیکینڈ کی یہ وڈیو میرا سب کچھ ایک امتحان تھی۔ بس ان سے پوچھا آپ کی تو بچی کی شادی بھی ہے کب ہے۔ تو باپ بولا 13 تاریخ کو ہے۔ میں بولا کچھ بنایا ہے بچئ کا۔ اس پر ماں بولی۔ کائی شے نہین بنائی ہیک کولی وی کائی نہین ساڈے کولی دھی دی۔ بس بچی کی بازو پکڑ کر اگلے گھر والون کو دینی ہے ۔ ترجمہ کوئی چیز نہیں بنائی ایک سالن ڈالنے والی پیالی بھی نہین ہے ہمارے پاس ایک چارپائی بنوائی تھی وہ بھی یہ کمرے مین بارش کیوجہ سے ختم ہو گئی ہے بس بچی کو بازو سے پکڑ کر لڑکے والون کے حوالے کر دینا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنا سا سوال ہے ۔ اب آپ کر کے دیکھاو ناشکری ۔ کیا اپ کے حالات اس گھر سے بھی بدتر ہین ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے یہ 35 سیکنڈ کی وڈیو کالجز اور یونیورسٹیوں کے اوڈیٹوریم میں پروجیکٹر پر دیکھاون اور وہاں موجود لڑکیوں سے سوال کرون ۔ دس پندرہ ہزار کے سنیکرز 4 لاکھ کا آئی فون ہاتھ میں جس جس بچی کے ہے اس کو ہم کیا تربیت دے رہے ہین گھر بسانے کو۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آج دوپہر کو اس بچئ کا جہیز کپڑے برتن پنکھا میک اپ کا سامان چارپائیان بستر سب خرید کر اس گھر مین پہنچانا ہین انشاءاللہ۔ ۔ ۔ #SaqibAllyana #Punjab

Saqib Allyana

164,719 görüntüleme • 1 ay önce

یہ بابا جی بنوں والے جمشید بھائی کے پاس گئے جو 11 اکتوبر کے لیے مسنگ پرسن کا ریکارڈ جمع کر رہے ہیں۔ ان بابا جی نے بتا کے ان کے بیٹے کو لاپتہ ھوے 13 سال ھو گئے ہیں اور لاپتہ ھونے سے چند دن پہلے اس کی منگنی کی گئی تھی اور اس کی منگیتر آج بھی اس کی منتظر ہے۔نا اس کا شمار زندوں میں ھوتا ہے نا مردوں میں بس انتظار کی سولی پے لٹکی ہے۔ہم نے اس لڑکی کے والد صاحب کے پاس گئے کہ اس کی کہیں اور شادی کروا دیں کب تک انتظار کرے گی کیونکہ ھمارے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں وہ ہمیں اپنی بیٹی کے پاس لے گئے جب اس کو بتا کہ ہم ایسا چاہ رہے ہیں تو وہ بولی کے میں قیامت تک انتظار کروں گی لیکن کسی اور سے شادی نہیں کروں گی۔وہ ایک عالمہ ہے ۔ اب خود سوچو کیسا ظلم ہے اس لڑکی کے ساتھ اور اس طرح کتنی ہی اور ھمارے بہنیں اس طرح آس لگائے بیٹھی ھوں گی یہ تو ایک کی بات آپ کے سامنے رکھا کتنی ایسی بہنیں ہیں جن کے شوہر سالوں سے لاپتہ ہے ایسے بچے ہیں جن کو باپ سے محرم رکھا گیا بچے چھوٹے سے جوان ھو گئے لیکن باپ کی کوئی خبر نہیں۔ اب اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے 11 اکتوبر کو اور سب س میں بھرپور حصہ لیں گے۔ انشاء اللہ

Umar pashteen

111,492 görüntüleme • 1 yıl önce

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 görüntüleme • 9 ay önce

شفیع جان کے شہباز گل پر ایک مرتبہ پھر الزامات شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ شہباز گل نے فیصل آباد سے دو حلقوں کے لیے ٹکٹ کا اپلائی کیا تھا اور ان دنوں عمران خان انٹرویوز بھی کر رہے تھے حقیقت یہ ہے جن دنوں عمران خان انٹرویوز کر رہے تھے شہباز گل ان دنوں امریکہ میں تھے انہوں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا، جس دن اپریل 2023 کو ٹکٹ اناونس ہوئیں اس دن نیویارک میں خورشید بھلی جن کے بھائی کو سیالکوٹ سے ٹکٹ بھی ملی تھی اس دن ہم نیویارک میں ان کے گھر تھے میں بھی وہاں موجود تھا شفیع جان نے ایک مرتبہ پھر من گھڑت الزامات لگاۓ حالانکہ سہیل آفریدی نے لاہور کے ایک بہت معتبر صحافی کے زریعے پیغام رسائی کر کے اس سارے معاملے کو ختم کروانے کا کہا تھا اس کے علاوہ ایک اور PTI کے سنیر ترین لیڈر نے بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا اور تمام اطراف سے خاموشی کی درخواست کی تھی اور تھوڑی دیر پہلے جب ان سے بات ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ اب یہ لوگ کوئی شیطانی نہیں کریں گے

Waqar khan

14,924 görüntüleme • 5 gün önce

دوسری شادی کے حق میں دلیلیں دینے والے معصومہ کے کردار کو جسٹیفائی کر رہے ہیں کہ دوسری شادی گناہ تو نہیں ہے، دوسری شادی عین شریعت ہے،عرض ہے کہ معصومہ نے پہلے ٹی ٹی کے بیٹے کو ہی پھنسانے کی کوشش کی تھی،جب وہ موسیٰ کو فائل دینے جانے سے پہلے گاڑھی لال لپ اسٹک لگایا کرتی تھی،موسی اس دو نمبر عورت کے دو نمبر ہتھکنڈوں میں نہیں آیا جب وہ موسیٰ سے ناامید ہو گئی تو ٹی ٹی کی طرف چلی گئی،کیونکہ اسے موسی یا ٹی ٹی کی پہلی دوسری شادی سے کنسرن نہیں تھا۔ اس کا کنسرن تھا راتوں رات امیر ہونا،ٹی ٹی(توقیر تاثیر )اس کے جال میں پھنس گئے،بقول معصومہ کے "ارے اماں ٹی ٹی کی عمر کے مردوں کو کوئی لڑکی ہنس کر دیکھ لے تو بیچارے ہفتہ بھر بھول نہیں پاتے، میں تو اسکی جوان بیوی ہوں" ڈرامے کی شروع کی قسطوں میں جب ریحام اور اس کا بیٹا معصومہ کے باپ کو دیکھنے ہسپتال جاتے ہیں، اس دن معصومہ جس طریقے سے ریحام کے ہینڈ بیگ اور انگوٹھیوں کی قیمتوں کا اندازہ لگا رہی ہوتی ہے، اس نے اسی دن اس فیملی کو ٹارگٹ کر لیا تھا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی،اگر اس طرح کی دوسری شادی کرنا شریعت ہے تو ضرور کریں سب،اپنے ساتھ کی بیوی جو ساتھ جوان تھی اور ساتھ ہی بوڑھی ہورہی ہو، اس پر جوان لڑکی کو دوسری بیوی بناکر یہ جتانا کہ بوڑھی صرف تم ہورہی ہو، میں نہیں پھر بیٹے کو ایم ڈی کی سیٹ سے فارغ کرکے اس کے کریڈٹ کارڈز بلاک کر دینا، اس کی شادی میں اس لئے شرکت نہ کرنا کہ اس نے سوتیلی ماں سے بدتمیزی کیوں کی، یہی پچھتاوے چھوڑتا ہے ویسے اس طرح کے اتفاقات کے لئے ٹی ٹی کی طرح بے انتہا امیر ہونا اور معصومہ کی طرح خوبصورت اور مکار ہونا بھی ضروری ہے۔

شبانہ شوکت

109,069 görüntüleme • 1 yıl önce

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 görüntüleme • 1 ay önce

زندگی کی مشکلات کہاں سانس لینے دیتی ہیں انسان کو۔ آج آپ کے سامنے ایک گھر کی وڈیو لگا رہا ہوں ۔ تین بہنیں ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے ۔ علاقے کے پٹواری نے اپنا ایک پرانا گھر جو جیسا بھی ہے تین یتیم بہنوں کو دے رکھا ہے۔ اس گھر کا لیول گلی سے 6 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔ جی بارش ہو جائے تو موٹر لگا کر پانی گھر سے نکالا جاتا ہے ۔ کیسی زندگی کے بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہوئے ان بہنوں کی پچھلی 18 سال کی زندگی گزری ہے ۔ لوگ ابھی زندگی ۔ معاشی حالات درست ہونے کی۔ دعا کرتے ہین ۔ ان بچیوں کی زندگی بارش نہ ہو کرتے گزر رہی ہے ۔ ۔۔۔۔ بس ایک بار پوچھا وہاں بیٹھے کے بہن جی اگر یہ گھر واپس لے لیا مالک نے تو پھر کیا کریں گی آپ۔ تو بولین رب ہی سہارا ہے ۔ اور کون ہے بھائی ہمارا۔ آنکھوں کی نمی چھپانےکو منہ دوپٹے سے صاف کرنے لگیں یہ بات کرتے ہوئے ۔ ۔۔۔۔ ایک بہن گھر میں کپڑے سی کر گزارا کرتی ہے۔ دوسری ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھا رہی ہے۔ تیسری جو سب سے چھوٹی ہے 18 سال کی وہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہے۔ پیدائشی ۔ اس کے دو آپریشن ہو چکے ہیں جھلی ڈل چکی ہے دل میں لیکن حالات ایسے مشکل اور تکلیف دہ ہیں کے اکثر وہ میڈیسن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے جو اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ مجھے میرے پیارے دوست بھائی نعیم گلزار نے جب ان کے بارے بتایا تو سب سے پہلے ان کے لئے سلائی مشین چائیے تھی وہ ساتھ لے کر گیا ۔ پہلی مشین جس سے یہ سلائی کر رہی ہیں آدھا ماہ دوکانوں پر دھکے کھاتی ہے۔ ۔۔۔۔ چھوٹی بہن جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے اس کے الفاظ نے وہاں موجودگی میں دل چیر دیا۔ بھائی میری زندگی کا کیا مقصد ہو سکتا ہے ۔ گھر اپنا نہیں بھائی سگے دونوں کبھی پوچھنے نہیں آئے دل کا عارضہ ایسا کے اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پلپٹیشن اور چکر شروع ہو جاتے ہیں ایسے لگتا ہے ابھی جان نکلی کے ابھی نکلی۔ ۔۔۔۔ وڈیو میں موجود آخری کلیپ میں اسی بچی کا پاوں ہے جس میں دو ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ 6 دن پہلے گھبراہٹ شروع ہوئی تو خود کو سنبھال نہیں پائی گلی میں گری تو پاس کھڑی ریڑھی پاوں پر سے گزر گئی ۔ سگے بھائی کو کال کی تو گلی سے اٹھا کر گھر تو لایا۔ لیکن بولا کچھ نہیں ہوا اس کو سب ٹھیک ہے اور چلا گیا۔ معاشی مسائل رشتوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ بچی کو ارتھوپیڈک سے بھی چیک کروا کر اس کی ہڈیوں کو پراپر جڑوا دیا ہے۔ ۔ اس دل کے عارضہ میں ہر چھ ماہ میں معالج سے چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اور ڈیڑھ سال ہو چکا ہے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کے ویگن پر فیصل آباد جا کر چیک اپ کروا لیتے سرکاری کارڈیو ہسپتال سے ۔ ۔۔۔۔ میں نے یہ پہلا گھر ہے جس کو ساتھ گاون میں زمین 3 مرلے لے کر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اوپر ایک کمرہ واشروم۔ اور کچن کر دینا ہے۔ انشاءاللہ یہ کرنا ہے۔ 3 کمروں کے پیسوں میں ان کا گھر مکمل ہو جائے گا بجلی کے کنکشن سمیت سارا حساب کر لیا ہے۔ اور نعیم بھائی نے زمین کی بات کر لی ہے۔ وہیں جہاں۔ شاہد ( مخنث کھسرے ) کا گھر۔ بن رہا ہے وہیں پاس یہ گھر بنے گا تاکہ ان کو تحفظ کا۔ بھئ مسلہ نہ ہو ۔ نعیم بھائی کا گاون ہے وہاں مشکل نہیں ہو گی ان کو ۔ ۔۔۔۔ بہت کچھ ہے جو لکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن الفاظ ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ اس کیس بارے میں لکھنا نہیں چاہتا تھا۔ بس اس کو مکمل کرنا تھا بنا کسی کوبتائے۔ لیکن مبشر اور نعیم کی سخت ہدایت پر لکھنا پڑا کے ۔ اس کو بیان کرنے سے وہ لوگ ھدایت پائیں گے جو ناشکری کرتے ہیں۔ جو متعصب ہو کر سوچتے ہیں۔ جو ہوتے سوتے کہتے ہیں ہمارے پاس کیا ہے ۔ ایک بہن کی ان میں سے شادی ہوئی ہوئی ہے۔ اس کا شوہر بھئ مزدوری کرتا ہے ۔ لیکن جسمانی طور پر کمزور ہے تو مزدوری بھئ بس گزارے لائق ہی ملتی ہے اس کو ۔ ۔۔۔۔ کیا اس سب کو پڑھ کر بھی آپ آئندہ ناشکری کریں گے ۔ کیا آپ کے پاس اب بھی ناشکری کا جواز موجود ہے ۔ خدا کا شکر ادا کریں آپ کو کیا نہیں۔ دیا ہوا رب نے ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

24,358 görüntüleme • 2 ay önce

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 görüntüleme • 7 ay önce

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل نے اپنی دی گئی خبر کی Correction کر دی، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا انکشاف کردیا۔ تہلکہ مچا دیا 🔥🔥 میں ایک خبر کی correction کردوں کل ہم نے بتایا تھا آپ کو کہ سہیل آفریدی صاحب کی 4 تاریخ کو کورکمانڈر سے بارہ سے دو بجے کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس میں تھوڑی سی correction کر دوں وہ ملاقات چار بجے کے بعد ہوئی تھی۔ ہمارے ذرائع سے تھوڑی سی کوتاہی ہوئی، بارہ سے دو بجے کسی اور کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی اور چار بجے کے بعد کورکمانڈر کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، کیونکہ کورکمانڈر جو تھے وہ چار بجے تک ایک پولیس کے اعلیٰ ترین افسران کے ساتھ خفیہ میٹنگ کررہے تھے۔ یہ ہم نے آپ کو اس لیے اس خفیہ میٹنگ کا بتانا نہیں تھا لیکن اس لیے بتا رہے ہیں کہ کورکمانڈر صاحب کو بھی پتہ ہو کہ ہمارے ذرائع کی اُن پر پوری نظر تھی وہ کہاں تھے؟ کس کمرے میں تھے؟ اُس میں کتنے ڈی آئی جیز تھے؟ پولیس لائن کا وہ کونسا کمرہ تھا؟ ہمیں سب معلوم ہے۔ تو چار بجے تک، ساڑھے چار بجے تک وہ وہاں تھے اور اُس کی کے بعد اُنکی ملاقات جو ہے وہ سہیل خان آفریدی کے ساتھ ہوئی۔

‏زہـــرہ لیــاقت

133,546 görüntüleme • 8 gün önce

رات 12 بجے کے قریب جب میں ترامڑی چوک میں واقع کوئٹہ آرم باغ کیفے میں چائے پینے کے بعد بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ہوٹل کے مالک امداد خان نے ایک ایسی کہانی سنائی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا انہوں نے سامنے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ بچہ گزشتہ چار سے پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ کھانا کھانے کے بعد 640 روپے کا بل ادا نہ کر سکا۔ اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دی اور کہا کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں، آپ گھڑی رکھ لیں امداد خان نے بتایا کہ انہوں نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا، “میرا بیٹا یہیں بیٹھا ہے، میں صرف پانچ منٹ میں پیسے لے کر آتا ہوں، پھر بل بھی ادا کر دوں گا اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گا مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے میں بچے کے پاس گیا اور پوچھا، “بیٹا، آپ کہاں سے ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟ وہ خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شاید وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے گھبرا رہا تھا یا پھر اپنے باپ کے انتظار میں گم تھا کچھ دیر بعد میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کھانا کھایا ہے؟ اس نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا آہستہ آہستہ جب وہ کچھ مانوس ہوا تو میں نے دوبارہ اس سے گھر کے بارے میں پوچھا۔ اس بار اس نے اپنے گھر کا پتا بتا دیا پھر میں، امداد خان، ان کے چند دوست اور ان کے بچے، اس معصوم کو اس کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑنے نکل پڑے وہاں پہنچ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ بچے کے والدین الگ الگ رہتے ہیں۔ اس کا والد وقاص خان، جو پیشے کے لحاظ سے پینٹر ہے، ایک گھر کے کرائے کے کچن میں رہائش پذیر ہے اور بچہ بھی اسی کے ساتھ رہتا ہے جب ہم وہاں پہنچے تو وقاص خان گھر پر موجود نہیں تھا۔ کافی انتظار اور تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار بچے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس کے سب انسپکٹر انور کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے والد تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے یہ واقعہ صرف 640 روپے کے ایک بل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے جہاں غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ ایک معصوم بچہ گھنٹوں اپنے باپ کے انتظار میں خاموش بیٹھا رہا، اور شاید اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور واپس آئے گا افسوس اس بات کا ہے کہ اسی ملک میں ایک طرف اشرافیہ اربوں روپے کے نئے جہاز خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ملک کے عام لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے بھی شدید مجبوری کا شکار ہیں۔ جب ریاست کی ترجیحات بدل جائیں تو ایسے ہی دردناک مناظر جنم لیتے ہیں!! صحافی مشرف ضیاف ستی کی تحریر 💔

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

39,719 görüntüleme • 1 ay önce

یہ ہے اس بلوچستان کی حالت جس کی کھربوں ڈالر کی معدنیات کے نمونے بریف کیس رکھ کر ٹرمپ کو پیش کئیے گئے ————————- اس بد نصیب صوبے کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سپریمُ کورٹ بار کو امدادی رشوت میں دس کڑور دئیے مگر اس نے کوئیٹہ کے تیس ستمبر کے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لئیے صرف پانچ لوگوں کے کفن دفن کے ہیسے دئیے۔ ایک باپ بیٹے کے وارثوں نے میتیں حاصل کرنے کے بدلے جب پیسے لینے کے الزامات لگائے تو پیسے لینے والا ایدھی فاؤنڈیشن کا رضا کار یوں پھٹ پڑا محمد عارف کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 17 سال سے ایدھی میں بطور رضا کار لاوارث یا مسخ شدہ لاشوں کے غسل، کفن دفن کا بندوبست کرتا آرہا ہے اس نے کہا کہ 30 ستمبر کو دھماکے میں آٹھ سے دس افراد شہید ہوئے تھے لیکن حکومت کی جانب سے صرف پانچ تابوت فراہم کیے گئے۔ پانچوں دن میں استعمال ہو گئے ،رات کو جب باپ بیٹے کی لاشوں کی شناخت ہوئی تو ہسپتال والوں نے مجھے رات ایک بجے کے بعد گھر سے بلایا۔ اس کا کہنا تھا کہ مردہ خانے میں خون آلود اور مسخ شدہ لاشوں کو صاف کرنے کی ہمت اکثر کسی میں نہیں ہوتی اس لیے وہ ڈیوٹی اوقات کے بعد بھی یہ کام کرتا ہے اور ہسپتال والے بھی ضرورت پڑنے پر اسے بلاتے ہیں۔ محمد عارف کے مطابق جب وہ رات گئے سول ہسپتال پہنچا تو تابوت دستیاب نہیں تھے۔ ایدھی کے پاس بھی اُس وقت تابوت اور کفن موجود نہیں تھے اس لیے مجبورا بازار سے خریدنا پڑے اس نے کہا کہ ایک تابوت چھ ہزار روپے کا آتا ہے میری تنخواہ صرف دس ہزار ہے ،اتنی تنخواہ میں دو تابوت خریدنا ممکن نہیں۔میں رات کے وقت شہداء کے ورثاء کو مزید پریشانی میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا اس لیے خود سے دو تابوت چھ چھ ہزار، دو کفن تین تین ہزار اور دو پلاسٹک کور پانچ پانچ سو روپے کے خریدےلاشوں کو صاف کرکے تابوت میں رکھا اور ورثا کے حوالے کیا اور پھر ورثاء سے اس کی رقم لی۔ محمد عارف کا کہنا تھا کہ انہوں نے ورثا سے جو رقم لی وہ صرف سامان کی قیمت ادا کرنے کے لیے تھی۔ بازار سے تابوت یا کفن کی قیمت پوچھ لیں اگر میں نے ایک روپیہ بھی زیادہ لیا ہو تو سزا دیں۔

Orya Maqbool Jan

44,451 görüntüleme • 10 ay önce

اب یہ مسنگ پرسن ہو گیا ہے ہجرت بھائی کے لیے اواز اٹھائیں 🚨🥲🙏 زمان پارک یہ وہ وقت تھا جب سب عمران خان کو چھوڑ کر چلے گئے تھے یہ بہانہ بنا کر کہ ہمیں عمران خان نے جانے کا کہا ہے ۔ یہی دن تھا جب سب نے عمران خان کو اکیلا کر دیا تھاسوائے اس ایک شخص کے جو قرآن پاک اپنے ہاتھ میں اور اپنے ایک دوست کے ساتھ وہاں موجود تھا اس نے وہاں سب کو چیخ چیخ کر جانے سے روکا کہ اگر خان صاحب کو وہ لے گئے تو ہم انھیں واپس نہیں لے پائیں گے لیکن کسی نے اس کی بات نہیں سنی 😢 آج بھی یہ شخص اپنے لیڈر کی رہائی کے لئے بے حس پاکستانی قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے فیصلہ سازوں کا ہر دروازہ کھٹکٹا کر دیکھ لیا کہ عمران خان کی رہائی مزاحمت کے بغیر ممکن نہیں ،اس نے ڈیڑھ سال صوابی میں دھرنا دیا اس کے بعد بہت سارے احتجاج کئے اب چار ماہ سے خوشحال گڑھ پر دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ شخص ہے حقیقی آزادی ٹائگرز کے سربراہ ہجرت کامران جن لوگوں نے عمران خان کو تب اکیلا چھوڑا وہی تین سال سے ساری مراعات مفادات لے رہے ہیں لیکن عمران خان کی رہائی پر کوشش تو درکنار رہائی کا نام بھی نہیں لے رہے ۔

Sara Mir

25,157 görüntüleme • 25 gün önce