Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اسامہ بن لادن بنی گالا یا اسکی حدود سے گرفتار نہیں ہوا تھا۔ جپ خیبرپختونخوا میں ANP کی حکومت تھی اور یہاں دہشتگردی ہو رہی تھی تو اس وقت موجودہ وزیراعظم پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور یہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ...

137,200 Aufrufe • vor 10 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 Aufrufe • vor 8 Monaten

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 Aufrufe • vor 2 Jahren

میرے بیٹے کے قاتل کا نام قیوم تھا، وزیرستان سے اسکا تعلق تھا اور حکیم اللہ محسود و بیت اللہ محسود کے ساتھ ہوتا تھا وہ کراچی میں گرفتار ہوا تھا، دوران تفشیش اس نے میاں راشد حسین کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف کیا میرے بیٹے کی شہادت کے بعد وہ ترقی پاکر کراچی میں کمانڈر بن گیا تھا گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ اسکی ضمانت ہونے جارہی ہے اطلاع دی گئی کہ اگر آپ اسکی رہائی نہیں چاہتے تو آپ اسکے خلاف دعویداری کرے مجھے اس کا کافی دکھ ہوا اور میں نے انکو بتایا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میرا بیٹا قوم کی جنگ میں شہید ہوا تھا، دہشتگردی کے خلاف ریاست کی ایک پالیسی تھی اور میں حکومت کا ایک نمائندہ تھا ہماری حکومت تھی، میں اطلاعات کا صوبائی وزیر تھا اور اسکی پاداش میں میرے بیٹے کو شہید کیا گیا تھا اگر کسی آپریشن کے دوران فوج، پولیس، ایف سی یا دیگر ادارے کا کوئی اہلکار شہید ہوجائے تو اسکی دعویداری ریاست کرتی ہے یا اسکا خاندان؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہید ہونے والے کا کیس آگے لیکر جائے اگر میں ذاتی دعویداری کروں گا تو یہ بیٹے کے خون سے غداری ہوگی میری کوئی بھی ذاتی دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہم امن اور محبت کے پیروکار ہیں اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اگر کوئی ریاستی پالیسی کی راہ میں قربان ہوجائے تو اسکو تحفظ فراہم کرنا چاہيئے اور ریاست کو اس کی اونر شپ لینی چاہیئے ایسا کرنے سے دہشتگرد ذاتی طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے اور ان کو پیغام جائے گا کہ یہ پوری قوم کی نمائندگی پر ہورہا ہے میاں افتخار حسین صدر عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا Mian Iftikhar Husain #ANP | #AwamiNationalParty | #MianIftikharHussain

Awami National Party

90,207 Aufrufe • vor 2 Jahren

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,003 Aufrufe • vor 3 Monaten