Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

استاد محترم سید جواد نقوی و حجت الاسلام و المسلمین محترم جناب سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری صاحب ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال #AllamaRajaNasirAbbas #SyedJawadNaqvi #ittehad_e_ummat #iranisraelconflict

12,497 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

25 Yorum

ملک مدثر اقبال profil fotoğrafı
ملک مدثر اقبال6 ay önce

اولاد علی سید عاصم منیر شاہ کے مقابلے س گئے ہو اب یہ فتنہ پھیلانا کسی کام نہیں آنا انشاء اللہ ملک پاکستان پر اللہ کی رحمت ہے فتنہ پروروں سے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچے دے گا ہمارا سید عاصم منیر

توصیف profil fotoğrafı
توصیف6 ay önce

قاسم سلیمان کے قتل پر ٹرمپ کو مبارکباد دینے والوں کے ساتھ گھومتے ہوۓ فخر تو محسوس ضرور ہوا ہوگا

Mani bhai profil fotoğrafı
Mani bhai6 ay önce

Yeh gash—tee kaa bacha sakal say kufi lag reh hai

nac profil fotoğrafı
nac6 ay önce

United we stand divided we fall

Khurram Malik profil fotoğrafı
Khurram Malik6 ay önce

ہم سب کو ایک ہونا ہوگا پاکستان اسرائیل امریکہ کے قبضے میں ہے @OfficialDGISPR

Abdullah profil fotoğrafı
Abdullah6 ay önce

راجہ ناصر بہت جلد آپکو دھوکہ دے گا، کیونکہ اسکا اصل ہدف اپنی سوشل میڈیا کی fan base کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔ آپ سے مل کر اس نے خود کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے جس نے "بڑے مقصد" کے لیے اپنی انا کی قربانی دے دی،

جنوب آسيوي بأسماء عربية على تويتر. profil fotoğrafı
جنوب آسيوي بأسماء عربية على تويتر.6 ay önce

0+0=0

Masroor Mohd Yaseen Mir profil fotoğrafı
Masroor Mohd Yaseen Mir6 ay önce

Parwardigar aap sab ko salamat rakhay.

Yawar Abbas profil fotoğrafı
Yawar Abbas6 ay önce

Bahi yeh noha Kon sa kindly link de skty ho

Brave profil fotoğrafı
Brave6 ay önce

یہ ہیں انتشاری دونوں ان دونوں لنگڑے امرانڈو کے ساتھ جیل میں باندھو انہوں نے پاکستان میں فساد کرنے کی پوری کوشش کی ایران پاکستان کا شکریہ ادا کر رہا ہے اور یہ دونوں بیغرت پاکستان کے خلاف بکواس کرتے ہیں

ʙᴀꜱɪᴊɪ 𓆩☫𓆪 profil fotoğrafı
ʙᴀꜱɪᴊɪ 𓆩☫𓆪6 ay önce

مولا دونوں کو سلامت رکھے۔ آپ دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اتنی خوشی ہو رہی ہے بتا نہیں سکتا۔ ♥️🌹🫡

Zari profil fotoğrafı
Zari6 ay önce

Pakistan mein aggressive mat philao

Gull Official profil fotoğrafı
Gull Official6 ay önce

Muhtram Jawad naqwi Sahab or raja nasir Abbas sahab

AbbasQaisar profil fotoğrafı
AbbasQaisar6 ay önce

تم بھی پڑھے لکھے ج*** نکلے

Nadeem Zaman profil fotoğrafı
Nadeem Zaman6 ay önce

سارے غدار اور حرامی ایک ساتھ

Imran Ali profil fotoğrafı
Imran Ali6 ay önce

ماشاءاللہ پروردگار سلامت رکھے

Ali Raza Sherwani profil fotoğrafı
Ali Raza Sherwani6 ay önce

حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ

asli farmer profil fotoğrafı
asli farmer6 ay önce

کتے خنزیر

Zameer profil fotoğrafı
Zameer6 ay önce

@mwmpakofficial Your organization, its workers, shia community leaders should also focus on personal security issues. Usa, israel, pak isi army will use ssp, jhangvi, sunnis, against shias. Not that they have response to one shia past present future. Openly tell these ppl to go to hell.

Sahil Sattar profil fotoğrafı
Sahil Sattar6 ay önce

السلام علیکم مولانا صاحب کیا حال ہیں امید کرتا ہوں اپ خیریت سے ہوں گے مولانا صاحب ایران کی امداد کرنے کے لیے ہم کسے ڈونیٹ کریں اگر اپ ڈونیشن اکٹھی کر رہے ہیں تو کائنڈلی اپنا کوئی اکاؤنٹ نمبر شیئر کریں جزاک اللہ خیر

AZAM SAANI profil fotoğrafı
AZAM SAANI6 ay önce

حقیقی علی زادے حافظ سید عاصم منیر کے سامنے سارے متعہ زادے نقوی تقوی جعفری بینقاب ہوگئے۔ اللہ نے حسینیت کو ستائیسویں رات میں خمینیت کے آلودگی سے پاک کردیا۔۔

Abdul Ghaffar profil fotoğrafı
Abdul Ghaffar6 ay önce

بچپن سے شیطان شیطان سن رہے تھے آج دیکھ بھی لیے وہ بھی اکٹھے دو

Muhammad Waseem profil fotoğrafı
Muhammad Waseem6 ay önce

لعنت تم دین فروشوں پر

Wajahat Shigri profil fotoğrafı
Wajahat Shigri6 ay önce

Ustad Muhtaram

Mustansir Abbas profil fotoğrafı
Mustansir Abbas6 ay önce

MashAllah 💕

Benzer Videolar

سہیل خان آفریدی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ، نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر آج اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس ، سابق سپیکر قومی اسمبلی و سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اسد قیصر، وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفی نواز کھوکھر, ترجمان تحریک انصاف حسین احمد یوسفزئی اور قائد پاکستان تحریک انصاف کے وکیل خالد یوسف چوہدری بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت و علاج ، قانونی دستاویزات پر دستخط و حق انصاف تک رسائی سے روکے جانے ، آمدہ بجٹ، National Finance Commission (NFC) ایوارڈ، صوبائی حقوق ، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Fahim Akhtar Malik

50,320 görüntüleme • 5 ay önce

اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم سربراہی اجلاس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان اور قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اسلام آباد میں جاری ہے، جس میں آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سیاسی و امن و امان کی صورتحال، سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک، سیاسی اسیران کے بنیادی و آئینی حقوق کی مسلسل پامالی اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ و سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، پاکستان رائٹس موومنٹ کے سربراہ سینیٹر مشتاق احمد خان، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ زین شاہ، وکیل سابق وزیراعظم عمران خان قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری، سنی اتحاد کونسل کے قائم مقام چیئرمین صاحبزادہ حسن رضا، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر، حقوقِ خلق پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمار علی جان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد خان ترین ایڈووکیٹ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی، سابق اراکین بلوچستان اسمبلی نواز بلیدی، ملک نصیر شیوانی اور حاجی زاہد بلیدی سمیت دیگر اہم سیاسی رہنما شریک ہیں۔ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے مبینہ بے دریغ استعمال، سابق وزیراعظم عمران خان اور دیگر سیاسی اسیران کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک، ان کے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کی پامالی، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور اس کے سیاسی و آئینی مضمرات پر تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ شرکاء ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کے تحفظ، انسانی حقوق کی پاسداری اور سیاسی استحکام کے لیے لائحہ عمل پر بھی غور کر رہے ہیں۔

Siddique Jan

15,141 görüntüleme • 2 ay önce

پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تعاون مزید وسیع کرنے کے عزم کا اظہار اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی ایوانِ صدر میں ملاقات صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کا ایوانِ صدر آمد پر استقبال کیا پاکستان اور ایران کا مشترکہ مفاد کے مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون مزید بنانے کے عزم کا اعادہ دونوں ممالک کا دوطرفہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے دو طرفہ تجارتی میکانزم فعال کرنے کی ضرورت پر زور دونوں ممالک نے خطے کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا دونوں رہنماؤں کا اہم علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال صدر آصف علی زرداری کا غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار صدر مملکت کی غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیل کی فوجی جارحیت کی شدید مذمت پاکستان فلسطینی کاز کی مستقل اور واضح حمایت جاری رکھے گا ، صدر مملکت دونوں صدور کا غزہ کے عوام پر اسرائیلی جبر کے خاتمے، انسانی امداد میں اضافے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ مذہب، ثقافت اور تاریخ پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، صدر مملکت پاکستان - ایران تعلقات کو دونوں برادر ممالک کے باہمی مفاد میں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت صدر مملکت نے عام انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت ہونے پر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا شکریہ ادا کیا صدر مملکت نے اصولی موقف اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور ان کے حق خودارادیت کی مسلسل حمایت پر ایران کو سراہا ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید وسیع اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دونوں برادر ممالک کے مفاد میں اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ، صدر مملکت دونوں ممالک میں دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر کی سطح تک بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، صدر مملکت ایران کے صدر نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران فلسطینی بھائیوں کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا بعد ازاں ، صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر کے اعزاز میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیا AsifAliZardari

PPP

21,802 görüntüleme • 2 yıl önce

سب چاہتے تھے کہ عمران خان شفاء ہسپتال آئیں، جہاں آزاد اور غیر جانبدار ڈاکٹرز ان کا معائنہ کریں گے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے حقیقی صورتحال سامنے آ سکے۔ آپ جانتے ہیں کہ موجودہ نظام جھوٹ پر مبنی ہے۔ جب خدا جھوٹوں کی گواہی قبول نہیں کرتا، تو ہم کیسے کر لیں؟ جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے والا انسان فاسق و فاجر ہو جاتا ہے، اور قرآن کے مطابق کسی فاسق کی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ یہ لوگ مینڈیٹ لوٹ کر آئے ہیں؛ انہوں نے حق غصب کیا ہے اور ڈاکہ ڈالا ہے، اس لیے ہم ان کی باتوں پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت اور ان کی تیار کردہ رپورٹس کی حقیقت سب کے سامنے ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال کراچی کا واقعہ ہے جہاں ایک شخص مارا گیا، ڈاکٹر نے رپورٹ غلط لکھی اور اب دوبارہ اس کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے۔ جب پاکستان میں ایسے حالات ہوں، تو پھر عدلیہ اور سپریم کورٹ کی طرف ہی دیکھا جاتا ہے۔" قائد حزب اختلاف سینیٹ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

Siddique Jan

27,930 görüntüleme • 1 ay önce

اسلام آباد: 25 مارچ 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی. وزیراعظم نے خلیج کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی عالمی امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو آگاہ کیا. وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے سیاسی اور ملکی امور پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا. بلاول بھٹو زرداری نے جنگ کے تناظر میں پاکستان کو درپیش ممکنہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسی کی تعریف کی. وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا. ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خلیج کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی خارجی اور داخلی سیکیورٹی اور ممکنہ درپیش مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسی اور اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کی مشکل حالات میں وفاقی حکومت کی پالیسی کی صحیح سمت متعین کرنے میں وزیر اعظم کی حکمت عملی اور اقدامات کی تعریف کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

23,752 görüntüleme • 6 ay önce

اسلام آباد: 25 مارچ 2026 وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پاکستان کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے حوالےسے بنائی گئی حکمت عملی اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا، متعلقہ محکموں اور افسران کی پزیرائی کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کے حوالےسے تمام متعلقہ محکمے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں. موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں، جبکہ عالمی سپلائی لائین متاثر ہے، خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر ملک میں وافر مقدار میں موجود اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے تیزی سے کام کیا جائے. کراچی، گوادر اور دیگر پاکستانی اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہء عمل تیار کیا جائے. وزیرِ اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے. حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر کا قابل قبول نہیں۔ تاخیر کے مرتکب افراد کی جواب دہی یقینی بنائی جائے گی. اجلاس کو دی گئی خلیجی ممالک کو اشیائے ضروریہ کی برآمدات کے حوالےسے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے برآمدات کے حوالےسے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دی ہے. ان فوڈ آئٹمز میں چاول، خورنی تیل ، چینی، گوشت، پولٹری ، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات پھل، سبزیاں وغیرہ شامل ہیں. خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے. سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد کے حوالے سے کوئی اضافی ادائیگی نہیں کی جائیگی. اشیائے خورونوش کی برآمدات کے حوالےسے ہوائی اور بحری اوپن روٹس کو استعمال کیا جائے گا. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز منعقد کئے جا رہے ہیں. کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی بھرپور فعال رہیں. ٹرانس شپمنٹ کی صلاحیت میں اضافے کے لئے آف-ڈاک ٹرمینلز پر بھی ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی اجازت دی گئی ہے جس کے لئے کسٹمز قوانین میں ضروری ترامیم کر دی گئی ہیں. بندرگاہوں پر نقل و حمل کے حوالے سےنرخ 60 فیصد تک کم کر دئے گئے ہیں. بندرگاہوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسکس فعال کر دیئے گئے ہیں. خام تیل لانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کرایا جا رہا ہے. اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

17,509 görüntüleme • 6 ay önce

اعلامیہ تحریک تحفظ آئین پاکستان تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ایک اہم سربراہی اجلاس زیرِ صدارت محمود خان اچکزئی، قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی، منعقد ہوا۔ اجلاس میں علامہ راجہ ناصر عباس (قائد حزب اختلاف سینیٹ)، سلمان اکرم راجہ (سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف)، بیرسٹر گوہر خان (چیئرمین پاکستان تحریک انصاف)، فردوس شمیم نقوی (ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی)، صاحبزادہ حسن رضا(سربراہ سنی اتحاد کونسل)، سید زین شاہ (سربراہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی) ، ساجد خان ترین (سینئیر راہنما بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل)، محمد زبیر (سابق گورنر سندھ)، مصطفی نواز کھوکھر، ڈاکٹر عمار علی جان (چیئرمین حقوق خلق پارٹی، حسین احمد یوسفزئی (ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اور خالد یوسف چوہدری (وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان ) شامل تھے۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، علاقائی حالات بالخصوص ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، بلوچستان کے حالات، آئندہ احتجاجی حکمت عملی، اور عمران خان کے ساتھ جاری ناانصافی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین اس پر مکمل عملدرآمد کریں گے، جس سے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایران کے ساتھ ساتھ لبنان، شام اور غزہ کے مسائل کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ تحریک نے عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے چین میں منعقدہ پاکستان افغانستان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا اور علاقائی ترقی اور امن و امان کے کے لئے پڑوسیوں سے سنجیدہ مکالمہ اور بات چیت ہی سب سے بہترین راستہ ہے۔ تحریک تحفظ آئین کا مؤقف جنگ کے بجائے مذاکرات، قومی سلامتی اور علاقائی امن کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کسی بھی تنازع کا حل فوجی تصادم نہیں بلکہ بامعنی مکالمہ ہے۔ اجلاس میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملکی سیاست میں مکالمے، قانون کی حکمرانی اور مفاہمت کو فروغ دے، کیونکہ عوامی رائے کا احترام ہی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ داخلی بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہو کر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔ بلوچستان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ جاری آپریشن فوری طور پر بند کیے جائیں، اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں اور پرامن جمہوری ماحول بحال کیا جائے۔ اس ضمن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مزید برآں بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور صوبے کے وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کو روکنے پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے اقدام کا خیر مقدم کیا گیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان و اسلام آباد ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام مقدمات، ضمانتوں اور ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اور جیل میں قید قائد تحریک انصاف کی وکلاء، اہلِ خانہ اور سیاسی رفقاء سے ملاقاتوں کو فوری بحال کیا جائے اور اڈیالہ جیل حکام عمران خان کے سپریم کورٹ کے لئے قانونی دستاویزات جلد مکمل کروائیں۔۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان آئین کی بحالی، سیاسی قیدیوں بشمول عمران خان کی رہائی اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کے مطالبات کے حق میں 25 اپریل کو ملک گیر ضلع وائز جلسے منعقد کیے جائیں گے۔ شرکاء نے اسیر راہنما سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا ، ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ ، علی وزیر ،صمد وزیر کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی اور ان کی جلد رہائی کی مطالبہ کیا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے۔ اجلاس میں عمران خان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یکم مئی کے موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان ملک بھر میں محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالے گی اور معیشت کی بحالی کے لیے متبادل اقتصادی ایجنڈا پیش کرے گی۔ ملک کی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مہنگائی نے غریب، کسان اور مزدور طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس سلسلے میں کسانوں اور مزدور تنظیموں کو متحد کر کے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا۔ تحریک نے تنظیمی سطح پر پنجاب اور سندھ میں صوبائی کمیٹیوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ پنجاب میں تنظیم سازی کی ذمہ داری ڈاکٹر عمار علی جان جبکہ سندھ میں سید زین شاہ کو سونپی گئی۔ اجلاس میں 20 مئی 2025 کے مبینہ “مورو کیس” میں گرفتار کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا اور سندھ میں دفعہ 144 کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ عوام کو پرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہار رائے کی آزادی حاصل ہو سکے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام، عوامی حقوق کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر مثبت اقدام میں قومی مفاد کو مقدم رکھے گی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

18,323 görüntüleme • 5 ay önce

سب سے پہلے تو مجھے خوشی ہے کہ اس چٹے بلے کے چہرے پر سے بھی وحدت والا نقاب اترا کیونکہ ہمارے بہت سے اہل سنت بھی اسے انتہائ معتدل سمجھ کر فالو کیا کرتے تھے (میرا رب اسے مزید Exposeکرے) لیکن ساتھ ساتھ میں حیران ہوں کہ خانہ فرہنگ کے پیسے پر کھڑے کیے گئے ان قلعہ نما کمپاؤنڈز میں کیا کچھ نہیں ہو رہا؟ ایک طرف غیر ملکی سفارتی عملے کو بلا کر عہد و پیماں کیے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف یہی بیٹھکیں پاکستان کے خلاف بیانیہ گھڑنے اور سازشیں بننے کا اڈہ بنی ہوئی ہیں انہوں نے آج تک قائد اعظم کو تو کبھی رہبر نہیں کہا ، انکے رہبر ہمیشہ فارس کے امپورٹڈ رجیمی نمائندگان ولایت فقیہ ہی کیوں رہے؟ یہ جواد نقوی کا ادارہ عروة الوثقى ہے جہاں سے مسلسل ہذیان اور تبرا بکا جارہا، دن رات پاکستانی اداروں، فوج اور ریاستی مشینری کو برا بھلا کہا جارہا انکی زبان میں زہر، لہجے میں تکبر اور وفاداری ایرانی رجیم کے لیےہے ایران کے ڈکٹیٹروں کے ساتھ وفاؤں کے گیت گائے جا رہے ہیں، اور یہاں بیٹھ کر اپنی ہی ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس کی چھاؤں میں یہ سب سانڈ دن بدن پھیلتے جارہے سرزمینِ عرب اور پاک سرزمین پاکستان پر حملہ آور ہونے والے ملک ایران کے ساتھ محبت کے راگ الاپے جا رہے ہیں، اسکاوٹس کے نام پر منظم جتھے تیار ہو رہے ہیں، اور پاکستان کے اندر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا جاچکا ہے میرا سوال یہ ہیکہ کیا واقعی ریاست اتنی بے بس ہو چکی ہے؟ نہ کسی سرکاری ادارے میں جرات نظر آتی ہے، نہ لاہور میں بیٹھے کسی CTD یا CCDوالے کو فرصت ہے، نہ ہی کسی چڑیا گھر کے آس پاس بیٹھے مجھ سے “صحافی”کو غیرت آ رہی ہے کہ اس کھلی بغاوت کو روکا جائے کیا کوئ نہیں بازپرس کرنے والا؟ کہاں گئے وہ سیکٹر کمانڈر جو ایک ایک ٹوئیٹ پر ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے باغیوں کو پاتال سے نکال لاتے تھے؟ کہاں گئے وہ کڑیل جوان جو بلوائیوں کو بلوں سے بھی ڈھونڈ نکالتے تھے ؟ کیوں نہیں یہاں مریم نواز کا ہاتھ حرکت میں آتا؟ رینجرز، پولیس، ایجنسیاں، میڈیا ،سول سوسائٹی سب خاموش کیوں ہیں؟ کیا انکا زور صرف بابے خادم اور جھنگ کے نہتوں پر ہی چلتا ہے؟ اگر ملک کو گالی دینا بھی اب ایک پالیسی بن چکی ہے، تو پھر قوم کو صاف صاف بتا دیا جائے تاکہ آئندہ ہم بھی کسی غدارانہ زبان بولنے والے کو دیکھ کر ہش ہش کرنے سے پہلے اپنا آپ دیکھ لیں کیونکہ شاید آپ تو برداشت کر لیں، مگر ہم اپنے جیتے جی ارضِ پاک پر ہونے والی اس طرح کی کھلی بغاوت کا تماشا نہیں دیکھ سکتے اگر ہم کچھ بھی نا کرسکے تو کم از کم صدائے حق ضرور بلند کریں گے۰۰۰۰ راجہ ناصر عباس سے لیکر خانہ فرہنگ کے سفارتی عملے تک کی آونڑیاں جاونڑیاں اور یہ ریاست مخالف زبانیں اگر آپ کو نہیں کھٹکتیں تو بند کردیں یہ ساری دوکانیں اور جائیں اپنی بیرکوں میں واپس۰۰۰۰ خالی باتیں کرنے اور ویڈیو پیغامات جاری کروانے سے گند صاف نا ہوگا، انہیں کالعدم قرار دیکر سیل کریں ان قلعوں کو اور جس فیلڈ آپریٹر یا افسر کو انکی طرف بھیجیں تو پہلے اسکا اپنا بھی گراونڈ چیک کرالیا کریں کہ اسکی وابستگی کس کے ساتھ ہے ؟ وگرنہ یہی ہوگا کہ حوالدار صاحب عالیشان عمارت میں چائے پی کر5000 کا ہدیہ لیکر سب اوکے کی رپورٹ submit کریں گے اور وقت آنے پر آپ اس ٹرانسفر ہونے والے حوالدار ہی کو کوستے رہ جائیں گے آفتاب نذیر

Aftab Nazir

32,339 görüntüleme • 6 ay önce

اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی شرکت/ خطاب نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیرِ امارتِ اسلامیہ افغانستان! افغانستان کے فتحِ مبین کے پانچ سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ محترم سفیر صاحب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔ آسیا یک پیکرِ آب و گل است ملتِ افغان در آں پیکر دل است از کشادِ او کشادِ آسیا از فسادِ او فسادِ آسیا علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔ ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔ آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں، مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مجھے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یک جان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یک جان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

28,894 görüntüleme • 1 ay önce

عید سے دو دن پہلے پورے پاکستان کی مویشی منڈیاں خالی — یہ صرف بحران نہیں، قومی تباہی کا آغاز ہے! پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ سے صرف دو دن پہلے مویشی منڈیوں کا خالی ہونا ایک خطرناک، تشویشناک اور تاریخی صورتحال ہے۔ قربانی جیسے عظیم مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے شہری جانور تلاش کر رہے ہیں، مگر منڈیاں ویران پڑی ہیں۔ یہ صورتحال کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں لائیو اسٹاک سیکٹر کے تباہ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہ برسوں کی مجرمانہ غفلت، ناقص پالیسیوں اور متعلقہ اداروں کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ آج ملک میں ڈے اولڈ کالف (Day Old Calf) بے دریغ ذبح کیے جا رہے ہیں۔ مادہ ڈرائی اینیمل، بچھڑیاں، دودھ دینے والی گائیں، بھینسیں اور ڈیری اینیمل مسلسل سلاٹر ہو رہے ہیں۔ یعنی وہ جانور ختم کیے جا رہے ہیں جو آنے والی نسلوں، دودھ کی پیداوار اور قربانی کے جانوروں کی بنیاد تھے۔ سوال یہ ہے کہ: جب بچھڑیاں ذبح ہوں گی تو کل دودھ دینے والی گائیں کہاں سے آئیں گی؟ جب مادہ بھینسیں ختم ہوں گی تو لائیو اسٹاک کیسے بڑھے گا؟ جب ڈیری اینیمل سلاٹر ہوں گے تو عوام کو دودھ کون دے گا؟ اور جب پورے ملک میں جانور ہی نہیں بچیں گے تو قربانی، گوشت اور ایکسپورٹ کے نظام کا کیا بنے گا؟ یہ صرف فارمر کا مسئلہ نہیں، یہ پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی، زرعی معیشت اور قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہم کھلے الفاظ میں ذمہ دار ٹھہراتے ہیں: ، وفاقی وزیر ، چاروں صوبوں کے محکمہ لائیو اسٹاک، کے ویٹرنری حکام، اور تمام متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو۔ چیف آف آرمی اسٹاف محترم جناب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب، وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، سے اپیل ہے کہ اس مسئلے کو فوری قومی ایمرجنسی سمجھا جائے۔ آج خالی مویشی منڈیاں چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں کہ پاکستان میں لائیو اسٹاک خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ اگر آج بھی ڈے اولڈ کالف، مادہ جانوروں اور ڈیری اینیمل کی سلاٹرنگ نہ روکی گئی تو آنے والے چند سالوں میں پاکستان کو دودھ، گوشت اور قربانی کے جانوروں کے شدید ترین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فوری اقدامات کیے جائیں: ▪️ ڈے اولڈ کالف کی سلاٹرنگ پر مکمل پابندی ▪️ مادہ اور دودھ دینے والے جانوروں کے ذبح پر سخت قانون سازی ▪️ غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے خلاف ملک گیر آپریشن ▪️ قومی بریڈنگ و افزائش نسل پروگرام کا فوری آغاز ▪️ لائیو اسٹاک کو قومی فوڈ سیکیورٹی پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا جائے اگر اب بھی خاموشی رہی تو تاریخ اس تباہی کی ذمہ داری متعلقہ اداروں، پالیسی سازوں اور خاموش تماشائیوں پر ڈالے گی۔ Save Farmer Save Pakistan Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan DG ISPR Agriculture Department Punjab (Pakistan) Sindh Livestock and Fisheries Department Livestock Department South Punjab Faizullah Khan فیض Government of Punjab Government of Pakistan Govt. of Balochistan Ministry of Railways, Government of Pakistan

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

15,686 görüntüleme • 4 ay önce

میں نے اپنے لائیوخطاب میں بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کیوں کیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27،مئی 2025ء میں نے گزشتہ روزمورخہ26،مئی 2025ء کوبھارتی وزیراعظم نریندر مودی کوکوئی خط نہیں لکھاتھا بلکہ اپنے لائیو خطاب میں نریندر مودی صاحب کو مخاطب کیاتھاجسے نریندرمودی صاحب کےنام میراخط سمجھا گیاہےاسی لئے تفصیلی وضاحت کے ساتھ نیاٹوئٹ جاری کیاجارہاہے۔ میں نے اپنے لائیوخطاب میں بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھاکہ میں ان کے اس مؤقف سے نہ صرف سہمت ہوں کہ وہ مظلوم بلوچ عوام کے حق میں publicly آواز اٹھاتے ہیں بلکہ انہیں اس جرات و ہمت پر خراج تحسین بھی پیش کرنے کے ساتھ ساتھ افسوس کابھی اظہارکیاتھا۔ میں نے اپنے خطاب میں کہاتھا کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے مہاجروں اور ان کی اولادوں کو آج تک نہ صرف یہ کہ پاکستانی تسلیم نہیں کیا بلکہ پاکستان میں رہنے والے مہاجروں اوردیگر مظلوم قومیتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی واحد سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کےخلاف بار بار فوجی آپریشن بھی کیے گئے۔ان فوجی آپریشنوں کے دوران 25 ہزار سے زائد مہاجروں کا قتل کیا گیاجن میں بیشتر نوجوان تھے ، ہزاروں مہاجرنوجوانوں کو ان کے والدین کے سامنے گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیاجو آج تک لاپتہ ہیں۔ میں پاکستان کے عوام کوامریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں مہاجروں کے خلاف کی گئی گھناؤنی سازش سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ وہ جان سکیں کہ مجھے بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرنے پر کس نے اورکیوں مجبورکیوں کیا؟ محترم پاکستانیو! مورخہ 23،مئی 2025ء کو پاکستانی نژاد امریکیوں نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فوج کی خود ساختہ جیت پر یوم تشکر منانے کے سلسلے میں ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں ہیوسٹن کے پاکستانی قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔وہاں قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے منتظمین کو ایک وڈیو پیش کی اور منتظمین سے کہا کہ یہ پانچ منٹ کی ڈاکومنٹری ہے، اسے شرکائے تقریب کو ضرور دکھا دیجئے۔ اس دستاویزی فلم میں سات کروڑ مہاجروں اور ان کی متفقہ جماعت ایم کیو ایم جس کا قائد میں یعنی الطاف حسین ہوں،کے بارے میں وڈیو دکھا کر عوام میں یہ کھلا تاثر دیا گیاکہ الطاف حسین اور سات کروڑ مہاجر انڈین ایجنٹ ہیں اور انڈیا ایم کیو ایم کو فنڈز فراہم کرتا ہے۔ اس گھناؤنی اور مکروہ سازش سےالطاف حسین کے کروڑوں چاہنے والوں کی دل آزاری ہوئی اور ان کے جذبات بری طرح مجروح ہوئےلیکن ماسوائے ایک صحافی کےپاکستان کےتمام تجزیہ کاروں،کالم نویسوں، صحافیوں،اینکرپرسنز اور یوٹیوبرزنے مہاجروں کے خلاف اس متعصبانہ عمل اورگھناؤنی سازش پر خاموشی اختیارکیے رکھی اور ان کی جانب سے بانیان پاکستان کی اولادوں کی کھلی تذلیل پرمذمت کاایک لفظ تک ادا نہیں کیاگیا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اپنے لائیوخطاب میں بھارتی وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ مظلوم مہاجروں کا مقدمہ بھی بین الاقوامی سطح پر اٹھائیں اور مہاجروں کی اولادوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے انسانی حقوق کی انجمنوں تک یہ آواز پہنچا کرمہاجروں کی جان و مال کا تحفظ کرانے میں تعاون کریں ۔اپنے خطاب میں ،میں نے یہ بھی کہاتھا کہ مہاجر عوام نہ صرف نہتے اور بے بس ہیں بلکہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کی آواز پر دھیان دینے والا پاکستان میں کوئی نہیں ہے۔ اسی لئے گزشتہ 61برسوں سے مہاجروں کا وقتاً فوقتاً تعلیمی ،معاشی اورجسمانی قتل عام کیا جارہا ہے،لہٰذاخدارا مظلوم مہاجروں کے لئے آواز اٹھائیے۔ پاکستانی قونصل جنرل آفتاب چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی مذکورہ دستاویزی فلم میرے اس ٹوئٹ میں منسلک ہے جسے دیکھنے کے بعد پاکستان کے عوام خود بتائیں کہ انڈیاکے بارے میں دکھائی جانے والی اس دستاویزی فلم میں الطاف حسین اور ایم کیوایم کا نام بلاجواز شامل کرنے کا کیامقصد ہے ؟ کیایہ عمل ایم کیوایم ، الطاف حسین اورمہاجروں سمیت دیگرمظلوم قوموں سے تعلق رکھنے والے میرے کروڑوں چاہنے والوں کو بھارتی ایجنٹ ثابت کرنے کی دانستہ مکروہ اور گھناؤنی کوشش نہیں ہے؟ میرے پاکستانیو! کیایہ سچائی آپ کے علم میں نہیں کہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے بانی پاکستان قائداعظم کی ہمشیرہ اور مادرملت محترمہ فاطمہ جناح تک کوبھارتی ایجنٹ قرار دیاتھااوران کی کھلے عا م تذلیل کی گئی تھی۔پاکستان میں مہاجروں کوشروع سے ہی ہندوستانی کہہ کرپکارا جاتارہا ہے اورانہیں بھارتی ایجنٹ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی جاتی رہی ہے ۔1992ء میں مہاجروں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم پرملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جناح پوربنانے کا بیہودہ الزام لگایااورجناح پور کاخودساختہ جعلی نقشہ بھی ملک کے تمام اخبارات کے پہلے صفحے پر شائع کرایا تاکہ 1/2

Altaf Hussain

23,777 görüntüleme • 1 yıl önce