Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

🚨 "اسرائیلیوں نے اس فلسطینی بچے، جو ابھی دو سال کا بھی نہیں، کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کی ٹانگ پر سگریٹ بجھائے گئے، اسے چاقو مارا گیا اور اس میں لوہے کی کیل بھی ٹھونک دی گئی۔ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ ایسے لوگ خود کو...

30,655 Aufrufe • vor 6 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اس 9 سال کے بچے کیساتھ ظلم کی انتہا کی گئی ہے ۔ کمزور دل لوگ یہ ویڈیو نہ ہی دیکھیں ۔ قاری ثناء اللہ اس کو بھکر سے دینی تعلیم کے نام پر کلر سیداں کے مدرسے محی الدین لیکر گیا ۔ وہاں اس بچے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب کہا یہ جارہا ہے کہ مبینہ طور پر بچے کیساتھ بدفعلی بھی کی گئی ہے جس سے اس کی جان چلی گئی اور اہلخانہ نے الزام لگایا ہے کہ مدرسے والوں نے بچے کی لاش کو نہلایا بھی ۔ جس سے اس شک کو تقویت مل رہی ہے ۔ گھر والوں کو طبعیت خرابی کا بتایا گیا لیکن ان کو بچہ مردہ حالت میں ملا اور غسل کے دوران تشدد کے نشانات سامنے آئے ۔ وارثان نے نعش واپس کلرسیداں THQ ہسپتال منتقل کرکے پوسٹ مارٹم کرایا۔ مقامی میڈیا نمائندگان بتارہے ہیں کہ مدرسہ حاجی شریف کے زیرِ انتظام چلتا ہے اور ماضی میں بھی ایک طالب علم پر تشدد کا واقعہ پیش آ چکا ہے، جس کی درخواست تھانہ کلرسیداں میں دی گئی تھی مگر حاجی شریف نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کر کے معاملے کو دبا دیا تھا ۔ حاجی شریف بھی فرار ہے اور قاری ثناء اللہ بھی فرار ہے ۔

Tanveer Awan

53,948 Aufrufe • vor 1 Monat

یہ میری آج سے 2 سال قبل کی ویڈیو ہے جب میں نے اس پراپیگنڈا بریگیڈ کو بے نقاب کیا تھا مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشنMSF کے نام پر انہوں نے ایسے نوجوانوں کو اپنے ساتھ وابستہ کیا جو کالج کی تعلیم مکمل کر چکے تھے انہیں باقاعدہ تربیت دی گئی اور پھر انہیں منظم انداز میں اس پراپیگنڈا بریگیڈ کا حصہ بنا لیا گیا ان کا دفتر ماڈل ٹاؤن میں قائم ہے اور یہ سارا عمل نہایت وسعت اور خطیر سرمائے کے ساتھ انجام دیا گیا لیکن جو نوجوان مسلم لیگ نون کا حامی تھا اس کی فکری حالت 2 سال پہلے بھی وہی تھی جو آج ہے ایک موقع پر میری اس سے گفتگو ہوئی میں نے سوال کیا اگر تم اس مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں شامل ہو کر باصلاحیت بن جاتے ہو تو کیا تمہیں یقین ہے کہ تمہیں اسی جماعت میں رہتے ہوئے وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم بنایا جائے گا اس نے جواب دیا بالکل بنایا جائے گا میں نے پھر کاؤنٹر سوال کیا کیا کیپٹن صفدر میں کوئی اہلیت نہیں تھی کہ انہیں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا گیا اس نے کہا اہلیت تھی اسی لیے تو انہیں کیپٹن بنایا گیا 😅 یہ تھا اس نوجوان کا جواب ایسے ہی نادر گوہر اس سوشل میڈیا بریگیڈ میں جمع کیے گئے اور آج بھی اربوں روپے اس پراپیگنڈا لشکر پر صرف کیے جا چکے ہیں جب سے پنجاب کی حکومت نون لیگ کے پاس آئی ہے اس منصوبے کو مزید توسیع دی گئی ہے عوام کا سرمایہ انہی افراد پر نچھاور کیا جا رہا ہے

Agha Sheikh Sarwar

22,704 Aufrufe • vor 7 Monaten

میں یہ سطور ایک بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ خاران کے علاقے کلی بزگ گواش میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، اس نے مجھے بطور بلوچ، بطور صحافی اور بطور انسان اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں بی ایل اے کے مسلح افراد ایک شہری کے گھر میں داخل ہوئے۔ یہ کوئی میدانِ جنگ نہیں تھا، کوئی مورچہ نہیں تھا، بلکہ ایک عام گھر تھا جہاں خواتین اور بچے موجود تھے۔ متاثرہ خاندان نے مجھے بتایا کہ گھر کے تمام افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دو حملہ آوروں کی شناخت بھی ہو چکی ہے، اور یہ لوگ کوئی اجنبی نہیں، مقامی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ اس حملے میں صرف جسمانی تشدد نہیں ہوا، بلکہ گھریلو تقدس کو پامال کیا گیا۔ بلوچ معاشرے میں گھر اور عورت کو ہمیشہ حرمت دی گئی ہے۔ میں نے اپنے بڑوں سے سنا، اپنی تاریخ میں پڑھا اور اپنی زمین پر دیکھا ہے کہ بلوچ روایت میں عورت پر ہاتھ اٹھانا غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس رات، بندوق کے زور پر اسی روایت کو روند دیا گیا۔ میں صاف کہنا چاہتا ہوں کہ عورت پر تشدد کسی بھی نام پر قابلِ قبول نہیں۔ چاہے کوئی خود کو آزادی کا دعویدار کہے، مزاحمت کے نام پر ہتھیار اٹھائے یا کسی نظریے کا سہارا لے ۔ خواتین پر ہاتھ اٹھانا نہ بلوچ روایت ہے، نہ بلوچ غیرت، اور نہ ہی انسانیت۔ اس واقعے کے بعد میں نے خاران ہی نہیں، پورے بلوچستان میں غم اور غصہ محسوس کیا۔ قبائلی عمائدین، سماجی حلقے اور انسانی حقوق کے کارکن سب ایک آواز میں یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ میں بھی انہی لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آج اس پر خاموشی اختیار کی تو کل یہ آگ ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔

Junaid Baloch

10,971 Aufrufe • vor 8 Monaten