Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسلام آباد حملے کا ملزم پشاور کا تھا اور اس نے نوشہرہ میں بھی سٹے کیا تھا ! بے اختیار ولی ۔۔۔ خیبرپختونخواہ والو ان کی شکلیں یاد رکھنا جو کرسی کی لالچ میں اپنے لوگوں اور سرزمین کو بدنام کر رہے ہیں ۔۔

26,060 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

پیش خدمت ہے جناب سہیل آفریدی کے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کا لنک👇🏼 "بے گناہ" سہیل آفریدی اپنے ہی فیس بک ویڈیو میں بتا رہا ہے کہ وہ کہاں موجود ہے اور ہیکل اور جیکل کہہ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی وہاں موجود نہیں تھا۔ حد ہو گئ بھئ جی ہاں، 9 مئی کو سہیل آفریدی کور کمانڈر ہاؤس پشاور پر حملے کی قیادت کر رہا تھا۔ اب تحریکِ انصاف کا پراپیگنڈہ نیٹ ورک سہیلُآفریدی کی اپنی جاری کردہ ویڈیوز کو جعلی قرار دے کر اصل جرم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ہیکل اور جیکل سمیت جو جو بھی اچھل کود کر کے ویڈیو کو جعلی اور سہیل آفریدی کا نومئی سے تعلق ثابت نہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے وہ یاد رکھیں یہ ثابت شدہ ہے اور سہیل آفریدی کی اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کردہ ویڈیو کا فرانزک ہونے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ریاستی اداروں پر حملے کے یہ ناقابل تردید شواہد سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے کافی ہیں ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹو آئین کا محافظ ہوتا ہے، مجرم اس منصب اور مسندپر نہیں بیٹھ سکتا۔

Ikhtiar Wali

113,321 görüntüleme • 9 ay önce

انٹرنیشل رئیر منرل سروے کے مطابق باجوڑ اور وادی تیراہ میں کوئی معدنی ذخائر نہیں ہیں یہ دونوں علاقے افغان بارڈرز پر ہیں ان کی اصل وجہ اس علاقے کا پوسٹ کی کاشت کیلئے مناسب ہونا ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی پوسٹ جس کو انگریزی میں پوپی کہتے ہیں بہترین کوالٹی کی ہوتی ہے اس لیے یہ انڈر ورلڈ، منشیات فروشوں اور سمگلروں کیلئے بہت اہم ہے۔ اصل کہانی یہ جو نیچے نعیم اختر صاحب نے اپنی پوسٹ میں بیان کی یے۔ افغان طالبان اس وقت پوری دنیا کی کل ضرورت کا 80 فیصد آئس اور ہیروئن پیدا کر رہے ہیں۔ یہ زہر پاکستان میں داخل کرنے اور پھر وہاں سے ساری دنیا میں پھیلانے کے لئے ان کو پاکستان کی سرحدوں پر کوئی رکاؤٹ نہیں چاہئے۔ خاص طور پر وادی تیراہ کے راستے سے جہاں اس کی چار بدنام گزرگاہیں موجود ہیں۔ افغان طالبان کی یہ اربوں ڈالرز کی کمائی ہے۔ پاکستانی فوجی آپریشنز اور سرحدوں پر فوجی دستوں کی موجودگی کی وجہ سے ڈرگز کا یہ سارا بزنس متاثر ہو رہا ہے۔ اس لئے وہ مسلسل سرحدی چوکیوں پر حملے بھی کروا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ پاکستان میں آپریشنز کی مخالفت بھی کر رہے ہیں جس میں پی ٹی آئی ان کی معاؤنت کر رہی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر صاحب نے سمگلنگ کیلئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اختیار کی ہے جس کیلئے سخت سرحدی بیکنگ اور کنٹرول قائم کیا گیا ہے یہ تکلیف اس کی ہے۔

عباس خٹک

12,037 görüntüleme • 9 ay önce