Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اسلام اۤباد میں حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر ایک بہت بڑا فیصلہ کیا گیا ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ شاید "ادارے" کی طرف سے یہ مشورہ اۤیا ہے کہ فوجی افسران یا دیگر لوگ جن کو اۤرمی رُولز کے تحت سزائیں...

220,258 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 Aufrufe • vor 2 Jahren

دیکھیں سبیح بھائی جیل میں جانا میرے لیے بہت آسان ہے، میں آپ کو حلفاً کہہ رہا ہوں۔ میرے اپنے گھر والے مجھے اگست 2023 سے کہہ رہے ہیں کہ تم جیل میں چلے جاؤ، وہاں جا کر کم سے کم تم سے ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات ہو جایا کرے گی، تین وقت کا کھانا ملے گا، جگہ جگہ جہاں تم در بدر ہوتے پھر رہے ہو وہاں نہیں ہو گے، ہو سکتا ہے کوئی کمپنی بھی مل جائے اندر، پولیٹیکل کیپیٹل بھی آپ کو پتہ ہے سبیح بھائی، پاکستان کی سیاست میں جیل جا کے پولیٹیکل بھی بڑا بنتا ہے نا۔ تو یہ تنقید بھی جو ہے، جو آپ کہہ رہے ہیں 42ہزار کمنٹ ہیں میرے لئے، یہ بھی ختم ہو جائے گی جب میں جیل میں بیٹھا ہوں گا لڈو کھیلوں گا، یا مشکل وقت تو ہوتے ہی ہیں۔ لیکن یہ بھی میں اپ کو بتاتا ہوں کہ جو زندگی میں نے گزاری ہے نا پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں اکیلے، وہ اگر جیل سے بدتر نہیں تو جیل سے بہتر بھی نہیں تھی۔ ایک سال ہو گیا میں نے اپنے بچوں کی شکل نہیں دیکھی، ایک سال ہو گیا میں نے اپنے گھر والوں سے ملاقات نہیں کی۔ میرا گھر سیلڈ، میرے کاروبار کو بھی سیل کیا گیا، میرے گھر کو توڑ دیا گیا، میرے بوڑھے والدین کو دو مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ میرے لیے بہت آسان ہے کہ میں خان صاحب سے کہو کہ خان صاحب اب وقت اگیا ہے کہ میں جیل چلا جاتا ہوں، ضمانت ہونی ہوگی تو ہو جائے گی، نہیں ہونی ہوگی تو نہیں ہوگی۔ میں جیل میں وقت گزاروں گا پانچ مہینے یا چھ مہینے، باقی بھی تو لوگ گزار ہی رہے ہیں نا۔ ظاہر ہے میں بھی گزار سکتا ہوں اللہ کے فضل سے۔ پولیٹیکل کیپٹل بھی میرا بڑھ جائے گا، تنقید بھی ختم ہو جائے گی اور یہ جو پارٹی کا میرے اوپر ایک بات ہے دیکھیں بڑا کام کرنا پڑتا ہے۔۔۔ حماد اظہر کا انٹرویو-4 جون،2024

Fiza Alam

31,304 Aufrufe • vor 16 Tagen