正在加载视频...

视频加载失败

اسلام آباد پولیس میں ذہنی تناؤ شدت اختیار کر گیا۔۔۔ اربوں روپے کی نئی گاڑیاں، تھانوں کی تزئین و آرائش مگر اسلام آباد پولیس کا رویہ جوں کا توں۔۔!!! سوشل میڈیا پر اخلاقیات کا درس دینے والی پولیس کا اصل چہرہ بے نقاب Islamabad Police کے پاس انصاف کے...

14,368 次观看 • 17 小时前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بریکنگ نیوز۔ ای کامرس کے نام پر اربوں روپے کا فراڈ، چار چینی باشندے گرفتار، متاثرین کی بڑی تعداد تھانہ کوہسار کے باہر جمع ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق خود کو ای کامرس کمپنی ظاہر کرنے والی گولڈ بکس نامی کمپنی، جو 2024 سے قبل رجسٹرڈ ہوئی تھی، مبینہ طور پر پاکستانی شہریوں سے اربوں روپے کا فراڈ کر کے غائب ہونے کی کوشش میں تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کمپنی میں کام کرنے والے افراد اور متاثرین کو مبینہ فراڈ کا علم ہوا تو انہوں نے کمپنی سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی چائنیز شہریوں کو گھیر لیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور چار چائنیز شہریوں کو تحویل میں لے کر تھانہ رمنا منتقل کر دیا گیا۔ اس وقت متاثرہ شہریوں کی بڑی تعداد تھانہ رمنا کے باہر موجود ہے جبکہ مبینہ فراڈ میں مرکزی کردار قرار دیے جانے والے چار چائنیز شہری تھانے کے اندر موجود ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں اربوں روپے کے مالی فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

Atta ur Rehman Kohistani

19,557 次观看 • 4 个月前

گروپ کپٹن عاصم طارق کو گولی مارنے کے بعد سعد عباسی نے صرف ایک کال کی... پھر فوراً اپنا موبائل بند کر دیا۔ وہ سیدھا غوری ٹاؤن پہنچا، موٹر سائیکل ایک گلی میں چھوڑ دی، بائیکیا لی اور دوست کے میڈیکل سٹور پہنچ گیا۔ بیگ وہیں رکھوایا، پستول دوسری جگہ چھپا دی، پھر کپڑوں کی دکان سے شرٹ بدل کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔ اگلا پڑاؤ فیض آباد بس اڈہ تھا، جہاں اس نے لاہور کی ٹکٹ خریدی اور روانہ ہو گیا۔ ادھر پولیس اس کے دوست تک پہنچ چکی تھی۔ سعد نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے بھیرہ کے قریب بس سے اتر کر دوبارہ اسلام آباد کا رخ کیا۔ اسے لگا پولیس لاہور میں اسے تلاش کرتی رہے گی، مگر اس کا یہی منصوبہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ اسلام آباد پہنچ کر اس نے کسی اور کے فون سے دوبارہ اسی دوست کو کال کی اور کہا: "میں اپنا سامان لینے آ رہا ہوں۔" بدقسمتی سے پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی۔ سعد خود سامنے آنے کے بجائے ایک بچے کو بیگ لینے بھیجتا ہے۔ جیسے ہی بچہ بیگ لے کر اس کے پاس پہنچا، پولیس نے گھیر لیا اور ملزم گرفتار ہو گیا۔ اب اس کے فرار کے دوران مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں، جنہوں نے پوری فرار کی کہانی کو بے نقاب کر دیا۔

Shehroz Azhar

148,619 次观看 • 2 个月前

آج اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی، بیبگر اور دیگر اسیر کارکنان کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگایا گیا، جس میں ان کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلوچستان کی عدالتوں، حکومت، اور میڈیا سے مایوس ہو کر، خواتین، بزرگ مائیں، اور معصوم بچے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے اس امید کے ساتھ کہ شاید ریاست کے دارالحکومت میں، جہاں اعلیٰ عدلیہ، حکمران، اور میڈیا سب موجود ہیں، ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر ایک بار پھر نہ صرف ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ ان کا آئینی حقِ احتجاج بھی چھین لیا جارہا ہے۔ پہلے پولیس اہلکاروں نے احتجاجی کیمپ کے ٹینٹ اور اسپیکر تک ضبط کر لیے۔ بزرگ خواتین اور بچے بارش اور خراب موسم کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے، اب جبکہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی نے مظاہرین کو گرفتاری اور ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کی یہی طاقت پر مبنی پالیسیاں آج بلوچستان کو جلا رہی ہیں۔ انصاف کے مطالبے پر سنجیدہ ردعمل دینے کے بجائے، اگر ریاست بزرگ ماؤں اور بہنوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹے گی، تو یہ نہ صرف ظلم ہوگا بلکہ ایک اور شرمناک باب رقم کیا جائے گا۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

18,209 次观看 • 1 年前

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 次观看 • 1 年前

گزشتہ روز کراچی کے فقیر کالونی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر احتجاج ہوا۔ احتجاج کے فوراً بعد جب مظاہرین بس کے ذریعے واپس ملیر جا رہے تھے، تو کراچی پولیس نے فقیر کالونی کے قریب بس کو روک کر تمام مظاہرین کو بس سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔ وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا، بی وائی سی کے مظاہرین کی رہائی کے لیے محمود آباد تھانے پہنچے۔ ابتدا میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر دینے سے انکار کر دیا اور بعد میں کہا کہ رات بارہ بجے آئیں، تب ایف آئی آر دی جائے گی۔ جب رات بارہ بجے وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت چھ وکلا تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر بند کر کے ایک ایک کر کے بدترین تشدد اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا۔ ان پر انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک مسلسل جسمانی تشدد کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کے تشدد کے بعد، وکلا کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا گیا۔ یہ صرف اسی ملک میں ممکن ہے جہاں وکلا، جو اپنے مؤکلوں کے قانونی حقوق کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں، خود پولیس کی تحویل میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ ریاست اپنی عقل و شعور کھو چکی ہے اور صحیح و غلط، انصاف و ناانصافی کا فرق مٹ چکا ہے۔

Sammi Deen Baloch

36,511 次观看 • 1 年前