正在加载视频...

视频加载失败

اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا صرف ان افراد کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت ہوگی جن کے مقدمات زیرسماعت ہوں گے ، اب رانا ثناء اللہ گلو بٹوں کے ہمراہ پہنچا ہے ، پولیس سے بدتمیزی بھی کر رہے ہیں اور اندر داخل ہوگئے ہیں ۔ کیا...

24,882 次观看 • 3 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بریکنگ نیوز 🚨معید پیرزادہ کا شاندار، زبردست تجزیہ۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بڑی گیم ایکسپوز کردی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے خان کی ہسپتال منتقلی دو دنوں میں کرنے کے پیچھے چھپی اصل سٹوری بریک کر ڈالی 🔥🔥 سپریم کورٹ نے دو دن کیوں دیے؟ کیونکہ اگر یہ فیصلہ سپریم کورٹ کر رہی ہے پیشِ نظر عمران خان کی صحت اور ان کی کریٹیکل کنڈیشن اور میڈیکل سچوئیشن پہ۔ پھر سپریم کورٹ یہ کیوں کہتی ہے کہ ان کو دو دن کے اندر اندر آپ اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال میں منتقل کریں؟ سپریم کورٹ کو تو فیصلہ یہ کرنا چاہیے تھا کہ فوری طور پہ فارمر پرائم منسٹر آف پاکستان، in view of his Health Conditions اور جو ہم نے صورتحال دیکھی ہے، انکی زندگی کو خطرہ ہے۔ فوری طور پہ ہر قسم کے ٹیسٹ کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنایا جائے اور فوری طور پہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال کے اندر منتقل کیا جائے۔ اور یہ دو دن دینے جو ہیں، اب مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ دو دن دینا جو ہے وہ بہت سسپیشس (مشکوک) تھے، جیسا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں اور ہر دفعہ بہت سے لوگوں کو غصہ آتا ہوگا جب میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ فیصلے سارے کے سارے ملٹری آفیسرز کرتے ہیں، جنرل عاصم منیر صاحب یہ فیصلے کر رہے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس فیصلے کے اندر ہی ایک لوجک اور ایک سپیس رکھی گئی کھیلنے کے لیے۔ یہ وقت یہاں دیا گیا دو دن کا تاکہ ن لیگ (PML-N) اور پیپلز پارٹی (PPP) کے ساتھ اگر کوئی معاملے پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ اس وقت ایک پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہے، خبر ہے نئے پروونسز (صوبوں) کے بننے کی بات ہونی ہے، 28 ویں ترمیم کی بات ہونی ہے، تو ایک خبر ان کو نکالی گئی سپریم کورٹ آف پاکستان سے۔ یہ دو دن کا وقت دینا جو ہے نا اس کی کوئی سینس نہیں بنتی تھی سپریم کورٹ کی طرف سے۔ دو دن کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وقت دیا ن لیگ کو، پیپلز پارٹی کو سوچنے کے لیے، اگر ان کی کوئی ریزرویشنز (تحفظات) تھیں اس اسٹیج پہ جنرل عاصم منیر کے ساتھ، ان کی اس حوالے سے ہو سکتا ہے وہاں پہ کوئی ان کی بات چیت ہو گئی ہو، کوئی انہوں نے سرنڈر کر دیا ہو۔ کیونکہ ن لیگ والے بڑے سیانے ہیں، یہ جو ریویو انہوں نے فائل کیا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں، اس کے پیچھے پوری ایک گیم ہے۔ یہ کبھی بھی اتنے کچے کھلاڑی نہیں ہیں کہ یہ ہوا میں ایک تیر ماریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی پہلے کوئی بات ہو گئی ہے اور اب انہوں نے ایک ریویو فائل کر دیا ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

148,820 次观看 • 23 天前

جمعیۃ علماء اسلام نے املاک ایکٹ کو مکمل طور غیر شرعی قرار دیا، یہ صرف جمعیۃ کا موقف نہیں بلکہ اس پر امت کا اجتماعی موقف یے،اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس ایکٹ کو مسترد کرچکی ہے،آج اسی ایکٹ کے مماثل ایک قانون ہندوستان میں بھی پاس کیا جا رہا ہے، جس سے اندازہ لگائیں کہ وہاں کی حکومت کس طرح مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، بالکل اسی طرح پاکستان میں بھی مسلمانوں کے اوقاف کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا ہم پاکستان میں اسلامی احکامات کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں؟ سپریم کورٹ کے بعض فیصلے اور حکومتی قوانین قرآن و سنت کے خلاف ہیں،ہم عائلی زندگی میں سپریم کورٹ کے نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کے احکامات کے پابند ہیں اور اعلان کرتا ہوں کہ میں کسی غیر شرعی فیصلے کا پابند نہیں ہوں، آئین کہتا ہے کہ ہر قانون قرآن و سنت کے مطابق ہوگا، اور ہم ان قوانین کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم آئینی و قانونی دائرے میں رہ کر اسلامی اقدار کا تحفظ کریں گے اور عوام میں شعور بیدار کریں گے تاکہ دین کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہ کرسکے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

44,757 次观看 • 1 年前

یہ راولاکوٹ کا ایک منظر ہے۔ اسلام آباد پولیس کی وردیوں کو آپ بخوبی پہچانتے ہوں گے۔ ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مظاہرین پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ مگر اس منظر کو صرف دیکھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ان کے ایک ساتھی شہید ہو گئے جبکہ عمر نذیر خود گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان کے چاہنے والے انہیں حفاظت کے پیشِ نظر ایک خفیہ مقام پر منتقل کر دیتے ہیں جبکہ شہید کی میت ہسپتال کے گیٹ پر موجود ہوتی ہے اور احتجاج جاری رہتا ہے۔ ادھر ایف سی، پی سی، رینجرز اور دیگر فورسز تعینات کی جاتی ہیں۔ اسلام آباد پولیس شیلنگ کرتی ہوئی دھرنے کے مقام تک پہنچتی ہے۔ دوسری طرف لوگ مسلسل یہی مؤقف اختیار کیے بیٹھے ہیں کہ ہم پُرامن ہیں۔ طویل شیلنگ، دوڑ دھوپ اور کشیدہ حالات کے باعث پولیس اہلکار تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس پانی بھی موجود نہیں ہوتا۔ اور پھر وہ منظر سامنے آتا ہے جو اس ویڈیو میں محفوظ ہے؛ دھرنا دینے والے لوگ انہی پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں جو ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ وہی لمحے ہیں جن کے بعد گولیاں چلتی ہیں۔ لاشیں گرتی ہیں۔ درجنوں خاندان سوگوار ہوتے ہیں۔ سینکڑوں لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ یہ وہی حالات ہیں جن میں شہداء کی لاشیں بھی عوام کے حوالے نہیں کی جاتیں۔ مگر اس سب کے باوجود، اس سب کے درمیان بھی، لوگ اسی پولیس کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ پانی دینا شاید کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں، مگر یہ منظر انسانیت کے وقار کی ایک بڑی مثال ضرور ہے۔ یہ اس تہذیب، اس تربیت اور اس شعور کا عکس ہے جس میں دشمنی سے پہلے انسان کو دیکھا جاتا ہے۔ سوچئے، سامنے اسلحے سے لیس وہ لوگ کھڑے ہیں جن پر گولیاں چلانے، شیلنگ کرنے اور لاشوں کو روکنے کے الزامات ہیں، مگر اگر وہ پیاسے ہیں تو انہیں پانی پیش کیا جا رہا ہے۔ پرامن ہونے کی اس سے بڑی دلیل شاید کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف پانی نہیں، یہ انسانیت کا احترام ہے۔ یہ صرف ایک منظر نہیں، یہ ایک قوم کے ظرف کا تعارف ہے۔

Rebel Pulse

24,850 次观看 • 3 个月前