正在加载视频...

视频加载失败

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔🌹🌹 زندگی حسین ہونی چاہیے🔥🔥 ، چاہے اخلاقیات اور انسانیت کو نظر انداز کردے 🤭🤭👇

50,649 次观看 • 9 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🔥‼️🚨 Alert 🔥‼️🚨 عمران خان کو آج دیکھ کر ایک سوال ضرور بنتا ہے آج عمران خان کو ہسپتال لے جانے کی خبر کے ساتھ جب ان کی تازہ ظاہری حالت دیکھی تو دل میں ایک سوال آیا کہ سوشل میڈیا پر چند دنوں سے آخر کس قدر بے رحمی کے ساتھ ایک زندہ انسان کی موت کی خبریں پھیلائی جا رہی تھیں؟ موت کی افواہیں، آخری رسومات کی باتیں، دعوے، قیاس آرائیاں اور خوف پھیلانے والی پوسٹس—یہ سب کچھ اس انداز میں کیا گیا جیسے کسی انسان کی زندگی کوئی معمولی خبر ہو۔ لیکن آج جب عمران خان سامنے آئے تو کم از کم ان کی ظاہری حالت دیکھ کر یہ ضرور محسوس ہوا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی سنسنی خیز باتوں اور حقیقت کے درمیان کتنا بڑا فرق ہوسکتا ہے۔ وہ بظاہر اسی حوصلے اور اسی مضبوطی کے ساتھ دکھائی دیے جس طرح وہ جیل جانے سے پہلے نظر آتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کی صحت کے بارے میں موجود خدشات کو نظر انداز کیا جائے۔ صحت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور مکمل طبی معائنہ ضروری ہے۔ لیکن صحت کے بارے میں تشویش اور کسی کی موت کی جھوٹی خبر پھیلانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہمیں معلومات تک رسائی ضرور دی ہے، مگر افسوس کہ اسی سوشل میڈیا نے جھوٹ، خوف اور سنسنی کو بھی بہت طاقت دے دی ہے۔ اختلاف کریں، تنقید کریں، سوال اٹھائیں، سیاسی بحث کریں—سب کا حق ہے۔ مگر کسی انسان کی زندگی اور موت کو کلکس، ویوز، ریچ اور سیاسی پروپیگنڈے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ آج کا منظر شاید ہم سب کے لیے ایک سبق ہے: خبر وہ نہیں جو سب سے پہلے پھیل جائے؛ خبر وہ ہے جو سچ ثابت ہو۔ اور عمران خان کے معاملے میں بھی ہمیں افواہوں کے بجائے آنکھوں دیکھی حقیقت، مستند معلومات اور انسانی ہمدردی کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیاست اپنی جگہ، انسانیت اپنی جگہ۔ زندہ انسان کو مرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر مت ماریں۔

❤️ Dr Raheela Khalid | Global Affairs

324,177 次观看 • 1 个月前

پچھلے کچھ عرصے سے ٹویٹر پر حاضری بہت کم ہوئی (ری سیٹلمنٹ پراسس میں بزی تھا) "ون کانسٹیٹویشن ایونیو"بلڈنگ والے واقعے کے بعد میں واپس اپنے آبائی شہر لاہور شفٹ ہو گیا ہوں۔ اسلام آباد بہت ہی حسین ہے مگر دل نہیں لگا۔ لیکن اسلام آباد میں اپارٹمنٹ میں رہنے کے بعد لاہور واپس آ کر گھر کے بجائے"اپارٹمنٹ"میں رہنے کو ترجیح دی۔ پاکستان میں اکیلا رہتا ہوں تو اکیلے بندے کے لیے گھر کی نسبت اپارٹمنٹ سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے اپارٹمنٹ میں سبزے اور پہاڑوں کا ویو تھا تو خواہش تھی کہ لاہور میں بھی اپارٹمنٹ ایسا ہو کہ سبزہ نظر آئے۔ الحمداللہ۔۔ایسا آپشن ملا کہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور سبزہ اب زیادہ Miss نہیں ہونگے۔ اب یہ ہی سوچا ہے کہ لاہور(جو کہ آبائی شہر ہے) کبھی نا چھوڑا جائے،مستقل رہائش یہیں رکھی جائے، باقی چاہے پورے پاکستان سمیت دنیا میں بندہ جہاں مرضی گھومتا رہے۔ گھر واپس آئے تو لاہور آئے۔ ان شاء اللہ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

25,020 次观看 • 4 个月前

میں اب صحافی نہیں رہنا چاہتی۔ صرف اس لیے کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نظر نہیں آتے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا ہمیں دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ دوسال کی ایسی نسل کشی کے بعد جو ہر جگہ واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی، جب میڈیا ادارے غزہ میں ہونے والے واقعات سے دانستہ آنکھیں چراتے رہے اور اپنے الفاظ استعمال کرتے رہے۔ مثال کے طور پر بچوں کو ’بچے‘ کہنے کے بجائے ’نوجوان‘ یا ’افراد‘ کہنا وغیرہ۔ محض دکھائی دینا عمل کو جنم نہیں دیتا، یہ اس لیے نہیں کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی نہیں کی، بہت سے لوگوں نے کی، آپ جیسے لوگوں نے بھی، لیکن اصل مسئلہ حکومتوں کا تھا۔ میڈیا نے ایسا کردار ادا کیا جیسے وہ سیاسی پارٹنر ہو اور سیاسی نظاموں کی تکمیل کر رہا ہو اور میں نے یہ جان لیا کہ حقیقی جمہوریت کہیں موجود نہیں، دنیا بھر کی حکومتیں ایک جیسی ہیں، چاہے وہ گلوبل ساؤتھ میں ہوں یا گلوبل نارتھ میں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ میں آمریت کھل کر سامنے ہوتی ہے جبکہ گلوبل نارتھ میں آمریت کو جمہوریت کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ وہ فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس جمہوری نظام ہے، ہمارے پاس انتخابات ہیں لیکن وہ ان گروہِ عوام کی آواز کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہر ہفتے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں اور تب مجھے احساس ہوا کہ صرف صحافی ہونا بے معنی ہے لیکن اس کے باوجود میں انسان پر یقین رکھتی ہوں، میں اب بھی انسانیت پر یقین رکھتی ہوں کہ انسانیت ہی کو رہنمائی کرنی چاہیے اور غالب آنا چاہیے، اسی لیے ہم آج یہاں موجود ہیں تاکہ خود کو تعلیم دیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دیں، نہ صرف اس بارے میں کہ فلسطین کیسے آزاد ہوگا کیونکہ فلسطین ضرور آزاد ہوگا، شاید آج نہیں شاید کل نہیں لیکن یقیناً کسی دن۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ پوری دنیا فلسطین کی طرح کیسے آزاد ہو سکتی ہے

شبانہ شوکت

30,100 次观看 • 7 个月前