Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسوقت(شدید سردیوں) میں بجلی کا 4 ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ہم بجلی بنانے کیلئے (پاورپلانٹس کو) تیل نہیں دے پارہے۔ ہمارا اِمپورٹ بل بہت بڑھ گیا ہے۔لیکن وہ(پاورپلانٹس) ہم سے پیسے پورے چارج کریں گے۔ سوچیں جنہوں نے کپیسٹی پیمنٹس کے معاہدے کئے کیا...

18,946 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

کاروباری حضرات چیخ رہے ہیں کہ اتنی مہنگی بجلی کے ساتھ وہ کاروبار نہیں چلا سکتے اس وجہ سے لوگ سولر پر شفٹ ہو رہے ہیں یا فیکٹری مالکان اپنی بجلی پیدا کرنے کے سورسز لگا کر قومی گرڈ سے کٹ رہے ہیں۔ اس کا نقصان کیا ہورہا ہے کہ جب کیپسٹی 48 ہزار اور ڈیمانڈ 19 ہزار میگا واٹ ہے بجلی مہنگی ہونے سے جب لوگ مزید گرڈ سے بجلی لینا چھوڑیں گے تو یہ فرق بڑھے گا اس فرق کے بڑھنے سے فی یونٹ ریٹ میں اضافہ ہوگا جبکہ بجلی مہنگی ہوگی تو مزید لوگ گرڈ سے بجلی لینا بند کریں گے۔ حکومت نے کیونکہ معاہدے کیے ہیں اس نے پیسے ادا کرنے ہیں تو اس کا حل بجلی مہنگی کرکے نکالا جارہا ہے۔ عمران خان کے دور میں بجلی 18/20 روپے یونٹ رہی، عمران خان نے غریبوں کو بھی ریلیف دیا اور انڈسٹری کو بھی ریلیف دیا۔ عمران خان سبسڈی بھی اس حکومت سے زیادہ دے رہے تھے انہوں نے سبسڈی کم کردی اور فی یونٹ ریٹس تین گنا بڑھا دئیے۔ 1994 میں بجلی کا انڈسٹری لوڈ 36 فیصد تھا آج 24 فیصد رہ گیا ہے جو پورے خطے میں سب سے کم ہے انڈیا میں 55 فیصد اور بنگلہ دیش میں 45 فیصد انڈسٹری استعمال کرتی ہے۔ ایم این اے Rana Atif

PTI

32,433 görüntüleme • 4 ay önce

بجلی کا وہ سچ جو آپ کو جاننا چاہیے پہلے یہ سمجھیں کہ آئی پی پی کیا ہے؟ آئی پی پی یعنی وہ نجی کمپنیاں جنہیں حکومت نے بجلی بنانے کا ٹھیکہ دیا۔ معاہدہ ہوا کہ “بجلی بناؤ یا نہ بناؤ، پیسے ملتے رہیں گے۔” اسی کو کیپیسٹی پیمنٹ کہتے ہیں۔اب اصل حساب دیکھیں گزشتہ 10 سال یعنی 2013 سے 2024 تک کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں آئی پی پیز کو 8 ہزار 344 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس وقت آئی پی پیز 150 ارب روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں، اس میں وہ پلانٹس بھی شامل ہیں جو چل ہی نہیں رہے۔ چار پاور پلانٹس کو ماہانہ 10 ارب روپے مل رہے ہیں جبکہ بجلی کی فراہمی صفر ہے۔ 50 ارب روپے کی لاگت سے بنی ایک آئی پی پی کو اب تک 400 ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔یہ پیسے آتے کہاں سے ہیں؟ آپ کی جیب سے، آپ کے بجلی کے بل سے۔ مسلم لیگ ن کے دور 2013 تا 2018 میں سب سے زیادہ 130 کمپنیوں کے ساتھ یہ معاہدے کیے گئے۔ کچھ معاہدے 2050 اور 2051 تک کے ہیں یعنی آنے والی نسلیں بھی یہ قرض چکاتی رہیں گی۔نتیجہ کیا نکلا؟بجلی گھر موجود ہیں، صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ ہے، ضرورت صرف 20 ہزار میگاواٹ کی ہے۔ پھر بھی لوڈشیڈنگ، پھر بھی مہنگے بل، پھر بھی اندھیرا یہ غربت نہیں یہ منظم لوٹ مار ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بطور قوم اپنے حقوق کے تحفظ میں کمزور پڑ چکے ہیں اور یہ لوٹ مار اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عوام نہیں جاگے گی۔ مہرقصوری✍🏻

Mehar Sharafat Ali

16,018 görüntüleme • 4 ay önce

اس ملک میں ہر روز کچھ نہ کچھ بڑا ہورہا ہوتا ہے۔ اب یہ سن لیں۔ اس ملک کو گرمیوں میں 25 ہزار میگا واٹ بجلی اور سردیوں میں دس بارہ ہزار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سیاسی حکمرانوں اور بابوز نے مل کر 41 ہزار میگا واٹ بجلی کے معاہدے کر لیے۔ اکثر آئی پی پی ایز حکمرانوں کے اپنے ہیں یا ان بچوں کے ہیں۔ جس کو اپنے بچے کو کاروباری کرانے کی ضرور پڑی اس نے کہا بیٹا کہہ دیتا ہوں تو IPP لگا لے، گھر بیٹھے بغیر بجلی پیدا کیے تجھے اربوں capacity charges ملیں گے۔ بڑے بڑے سرکاری بابوز نے عہدے پروموشن کی لالچ میں انی مچا دی۔ اپنے ایک پائو گوشت کے لیے پورا اونٹ ذبح کر دیا۔ چلیں تین چار ہزار میگا واٹ زیادہ لگ جاتی لیکن ان بے رحم لوگوں نے 17/18 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی کے یونٹس لگا دیے۔ اب خرچ 25 ہزار ہورہی ہے لیکن ان ائی پی پی ایز کو ادائیگی 41 ہزار میگا واٹ کی ہورہی ہے۔ یہ سنیں کہ وہ افسران جو اس سرپلس بجلی پیدا کرنے میں شامل ہیں جس سے اربوں کی مفت ادائیگی ہورہی ہے، اب انہوں نے حکومت سے فرمائش کی ہے کہ انہیں اس ملک کو 17/18 ہزار میگا واٹ سرپلس بجلی کا تحفہ دینے پر تین سو ڈالر فی میگا واٹ انعام دیا جائے۔۔ نہ صرف استمعال نہ ہونے والی 17/18 ہزار میگا واٹ کی ادائیگی ہورہی ہے بلکہ ان ائی پی پی ایز کا قرض بھی 2200 ارب ہے جس پر 173 ارب سود الگ سے دیا جارہا ہے اور اب وہی اس کے ذمہ دار افسران تین سو ڈالرز فی میگا واٹ انعام بھی مانگ رہے ہیں۔ اس ملک کو اس حالت میں لانے کے جو ذمہ دار ہیں، مہنگی بجلی سے لوگوں کی چیخیں نکوا دی ہیں وہ اب الٹا ڈالروں میں انعام بھی چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی شرم حیا نہیں ہے کہ 17/18 ہزار سرپلس بجلی پیدا کر کے انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔الٹا ملک اور قوم کا بٹھا بٹھانے والے افسران اب ڈالروں میں انعام بھی مانگ رہے ہیں۔ حد ہوگئی ہے۔ واقعی یہ لوگ اتنے بے رحم ہیں؟ یا سب ملے ہوئے ہیں۔ کوئی اپنے ملک اور قوم کے ساتھ اتنا ظلم کیسے کرسکتا ہے؟ Sohail Iqbal Bhatti Shehbaz Sharif Syed Naveed Qamar GTV News HD SenatorSherryRehman Omar Ayub Khan Nadeem Afzal Chan Ahsan Iqbal

Rauf Klasra

76,066 görüntüleme • 1 yıl önce

"پشتون بہت باوقار لوگ ہیں، بہت کشادہ دل رکھتے ہیں، درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسا نہ بولیں، ایسا نہ بولیں۔ یہ بہت برا کام ہے، یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اس حوالے سے میں نے بہت پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ ​ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ کیوں لیتا ہے، مولوی صاحب؟ کیوں ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ لیتا ہے اور تلوار نکال کر وار کرتا ہے؟ یہ بہت برا کام ہے۔ یہ باتیں وہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کو اتنا آسان مت سمجھیں کہ آپ نے کسی کو مار دیا اور وہ بھول جائیں گے۔ ​اس کا حساب ہم لیں گے، خدا کی قسم، انشاءاللہ الرحمٰن۔ ہم اس کا حساب لیں گے اور قرآن شریف کی رو سے لیں گے۔ پشتونوں کی روایات اور جرگہ کی رو سے لیں گے۔ عزیزان! ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، برا نہیں کریں گے۔ ہمارے ساتھ جو برا ہوا ہے ہم اسے معاف کر دیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں گے۔ ​لیکن اب ہم اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ہم تمام پشتونوں کے مشورے سے آگے بڑھیں گے۔ تمام پشتونوں سے، یہ پشتونوں کے مشورے سے ہوگا۔ ہم تمام پشتونوں سے مشورہ کریں گے۔ پشتون ہر جگہ موجود ہیں۔ جنہوں نے گولیاں چلائی ہیں... ہم نہتے لوگ ہیں۔ ہم نہتے لوگ ہیں عزیزان! ​لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ہمیں ماریں گے اور پھر وہ ہمارے وطن پر حکمرانی کریں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کہ میرے وطن پر حکمرانی کرنے والا بھی بہادر ہو اور اگر میں نے اپنی باری نہ لی تو میں مسلمان بھی نہیں ہوں، میں پشتون بھی نہیں ہوں۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

33,198 görüntüleme • 1 ay önce

میں اپنے حلقے کے ایک مزدور کا بل لے کر آیا ہوں۔ 322 یونٹ استعمال کیے، بل آیا 12,056 روپے۔ یعنی فی یونٹ 37 روپے 44 پیسے۔ جناب سپیکر، اس بل پر نظر ڈالیں تو صرف ٹیکس ہی 4 ہزار سے زیادہ ہیں۔ میٹر رینٹ، سروس رینٹ، FPA، FC سرچارج، GST، انکم ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس... ٹیکس پر ٹیکس۔ 322 یونٹ کا بل، آخر میں ٹوٹل بن گیا 16,047 روپے۔ یعنی فی یونٹ 50 روپے پڑا۔ حکومت کہتی ہے کہ 8,465 روپے کمانے والا "غربت کی لائن سے اوپر" ہے۔ لیکن اس مزدور کا بجلی کا بل ہی 16 ہزار آ گیا۔ وہ کھائے گا کیا؟ بچوں کو پڑھائے گا کیا؟ پیسکو والوں نے پول، ٹرانسفارمر، تار، میٹریل سب کے پیسے عوام سے لیے۔ انسٹالیشن کے بھی پیسے لیے۔ پھر بھی جب میٹر لگوانے جاؤ تو رشوت مانگتے ہیں۔ 16 ہزار مانگتے ہیں، 4 ماہ بعد میٹر لگاتے ہیں، اور پہلا بل 1 سال بعد لاکھوں کا بھیج دیتے ہیں۔ ،پیسکو میں 18 سے 20 ہزار پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ پرائیویٹائزیشن کے نام پر بھرتی بند کر دی۔ عملہ کم ہے تو لوڈشیڈنگ 12 سے 18 گھنٹے ہو رہی ہے۔ تربیلا ڈیم سے 6400 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔ وہ بجلی ہماری ہے، ہمارے صوبے کی ہے۔ لیکن ہمیں 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ دے رہے ہیں۔ یہ ظلم بند ہونا چاہیے۔ عوام پر ٹیکس کا بوجھ کم کریں-

Shahram Khan Tarakai

22,438 görüntüleme • 2 ay önce