Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اسٹیبلشمنٹ کو اور ان کی پالتو سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کو اب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صحافی اکٹھے ہوگئے ہیں۔

219,679 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 8

Фото профиля 𝐒𝐚𝐥𝐦𝐚 𝐘𝐮𝐬𝐮𝐟
𝐒𝐚𝐥𝐦𝐚 𝐘𝐮𝐬𝐮𝐟2 лет назад

ججز اکٹھے ہو گئے ، وکلاء ہو گئے اور صحافی بھی ہوگئے نہیں غیرت آئی تو صرف سیاستدانوں کو حلانکہ سب سے پہلا فرض سیاستدانوں کا بنتا تھا متحد ہونے کا۔

Фото профиля ᵂᵃqᵃˢ ʲᵘᵗᵗ
ᵂᵃqᵃˢ ʲᵘᵗᵗ2 лет назад

آج اگر اسٹیبلشمنٹ اور نیازی کی ڈیل ہو جائے تو درانی نے عاصم منیر کی تعریفیں کرتے نہیں تھکنا 😂😂😂😂

Фото профиля AaM¡R Rasheed
AaM¡R Rasheed2 лет назад

کتوں کے بھونکنے سے اپنی منزل کی طرف جانا نہیں چھوڑا جاتا۔ متحد رہ کر اپنی آواز اٹھائیں

Фото профиля Fatima 🐰
Fatima 🐰2 лет назад

New version for Establishment

Фото профиля Shake
Shake2 лет назад

یہ صحافی نہیں یہ جھوٹ اور منافقت کا فطری جوگاڑ ہو رہا ہے۔

Фото профиля ateeq gujjar
ateeq gujjar2 лет назад

یہ سب صحافی نہیں دلال ہیں۔مخصوص جماعتوں کے پالشی ہیں

Фото профиля Maher Shahid
Maher Shahid2 лет назад

اور یہ سب ایک وقت میں ان کے پالتوں تھے

Фото профиля Adv Amber
Adv Amber2 лет назад

ہم اکٹھے ہو کر ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔

Похожие видео

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 просмотров • 3 месяцев назад

جنید اکبر اور دیگر ایم پی ایز کو صوبے سے باہر بھیجنا نہ صرف سیاسی عدم برداشت کی واضح مثال ہے بلکہ اس سے خطے میں جمہوری عمل کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ جنید اکبر اور ان کے ساتھی ایم پی ایز کا مقصد صرف انتخابی مہم کو منظم کرنا اور پارٹی کارکنان کو متحرک کرنا تھا۔ ان میں نہ کوئی حکومتی عہدہ رکھنے والا شخص شامل تھا اور نہ ہی وہ کسی سرکاری طاقت کے ساتھ آئے تھے، اس کے باوجود ان کے خلاف اس طرح کے اقدامات ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ آج یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پارٹی کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں، وہ عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کچھ عناصر اس بڑھتے ہوئے مومنٹم سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں گلگت بلتستان کے عوام بیدار نہ ہو جائیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ نوجوان، کارکن اور عام شہری الیکشن کے دن بغیر کسی دباؤ کے باہر نکل کر اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کریں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ عوام کو خاموش رکھا جائے، سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے اور لوگوں کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ اصل طاقت ان کا ووٹ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

Muhammad Khalid Khurshid Khan

14,341 просмотров • 3 месяцев назад