Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسٹیبلشمنٹ کو اور ان کی پالتو سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کو اب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صحافی اکٹھے ہوگئے ہیں۔

219,373 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

8 Yorum

𝐒𝐚𝐥𝐦𝐚 𝐘𝐮𝐬𝐮𝐟 profil fotoğrafı
𝐒𝐚𝐥𝐦𝐚 𝐘𝐮𝐬𝐮𝐟2 yıl önce

ججز اکٹھے ہو گئے ، وکلاء ہو گئے اور صحافی بھی ہوگئے نہیں غیرت آئی تو صرف سیاستدانوں کو حلانکہ سب سے پہلا فرض سیاستدانوں کا بنتا تھا متحد ہونے کا۔

ᵂᵃqᵃˢ ʲᵘᵗᵗ profil fotoğrafı
ᵂᵃqᵃˢ ʲᵘᵗᵗ2 yıl önce

آج اگر اسٹیبلشمنٹ اور نیازی کی ڈیل ہو جائے تو درانی نے عاصم منیر کی تعریفیں کرتے نہیں تھکنا 😂😂😂😂

AaM¡R Rasheed profil fotoğrafı
AaM¡R Rasheed2 yıl önce

کتوں کے بھونکنے سے اپنی منزل کی طرف جانا نہیں چھوڑا جاتا۔ متحد رہ کر اپنی آواز اٹھائیں

Fatima 🐰 profil fotoğrafı
Fatima 🐰2 yıl önce

New version for Establishment

Shake profil fotoğrafı
Shake2 yıl önce

یہ صحافی نہیں یہ جھوٹ اور منافقت کا فطری جوگاڑ ہو رہا ہے۔

ateeq gujjar profil fotoğrafı
ateeq gujjar2 yıl önce

یہ سب صحافی نہیں دلال ہیں۔مخصوص جماعتوں کے پالشی ہیں

Maher Shahid profil fotoğrafı
Maher Shahid2 yıl önce

اور یہ سب ایک وقت میں ان کے پالتوں تھے

Adv Amber profil fotoğrafı
Adv Amber2 yıl önce

ہم اکٹھے ہو کر ہی مقابلہ کر سکتے ہیں۔

Benzer Videolar

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,883 görüntüleme • 1 ay önce

جنید اکبر اور دیگر ایم پی ایز کو صوبے سے باہر بھیجنا نہ صرف سیاسی عدم برداشت کی واضح مثال ہے بلکہ اس سے خطے میں جمہوری عمل کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ جنید اکبر اور ان کے ساتھی ایم پی ایز کا مقصد صرف انتخابی مہم کو منظم کرنا اور پارٹی کارکنان کو متحرک کرنا تھا۔ ان میں نہ کوئی حکومتی عہدہ رکھنے والا شخص شامل تھا اور نہ ہی وہ کسی سرکاری طاقت کے ساتھ آئے تھے، اس کے باوجود ان کے خلاف اس طرح کے اقدامات ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ آج یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پارٹی کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں، وہ عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کچھ عناصر اس بڑھتے ہوئے مومنٹم سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں گلگت بلتستان کے عوام بیدار نہ ہو جائیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ نوجوان، کارکن اور عام شہری الیکشن کے دن بغیر کسی دباؤ کے باہر نکل کر اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کریں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ عوام کو خاموش رکھا جائے، سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے اور لوگوں کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ اصل طاقت ان کا ووٹ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

Muhammad Khalid Khurshid Khan

14,102 görüntüleme • 1 ay önce