Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اسی مسلمان آں حرام نہیں کھاندے (بھولا ریکارڈ) 😳🙆🏻‍♂️🤷‍♂️

13,084 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

دوبارہ سے پڑھیں سبکی tl پر اسکو ہونا چاہیے وہ کوئی عام دن نہیں تھا… وہ ایمان کا امتحان تھا۔ 2022 میں کرناٹک کے ایک کالج کے باہر، جب حجاب کے مسئلے پر ماحول کشیدہ تھا، کچھ شدت پسند لڑکے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسلم طالبہ کی طرف بڑھے۔ وہ لڑکی تھی—مسکان خان۔ اکیلی۔ کمزور جسم… مگر فولاد جیسا حوصلہ۔ سامنے نفرت بھرا ہجوم، کانوں میں شور، دل میں خوف کی ہلکی سی لرزش— مگر اسی لمحے اس کی زبان سے جو صدا نکلی، وہ پوری دنیا نے سن لی: اللہ اکبر! نہ وہ بھاگی، نہ چیخی، نہ پیچھے ہٹی۔ بس ڈٹ کر کھڑی رہی۔ اس ایک لمحے میں اس نے ثابت کر دیا کہ مسلمان عورت کمزور نہیں ہوتی— جب بات دین اور عزت کی ہو، تو وہ پوری امت کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ یہ صرف ایک لڑکی کا واقعہ نہیں تھا… یہ ہر اس بیٹی کی آواز تھی جو اپنے ایمان پر فخر کرتی ہے۔ وہ لمحہ بے حد شاندار تھا— ایسا لمحہ جسے کوئی نہیں بھول پائے گا۔ آؤ، اس منظر کو پھر اپنی ٹائم لائن پر زندہ کریں، تاکہ دنیا دیکھ لے: جب ایک مسلم لڑکی کھڑی ہوتی ہے، تو وہ تاریخ لکھ دیتی ہے۔

عائزے_رومان

17,039 görüntüleme • 6 ay önce

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

Nadia Baloch

32,332 görüntüleme • 6 ay önce

راولپنڈی میں نئے (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سیاسی شخصیات کی سی پی او آفس تک رسائی بڑھنے لگی ہے، جو سابق سی پی او خالد ہمدانی کے دور سے مختلف پالیسی سمجھی جا رہی ہے۔ خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چودھری نعیم اعجاز کو سی پی او آفس تک رسائی نہیں تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چودھری نعیم اعجاز مختلف نوعیت کے تقریباً 200 مقدمات میں نامزد رہے ہیں، جن میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، غیرقانونی اسلحہ اور اراضی پر مبینہ قبضوں کے مقدمات شامل ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ کے حلقے میں گزشتہ سال 19 سالہ شادی شدہ خاتون کے قتل کے مقدمے میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل کو خالد ہمدانی نے گرفتار کر کے اس کے خلاف دہشت گردی اور لنچنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے چودھری عدنان کے قتل کیس میں بھی خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر اور ان کے بیٹے ایم این اے چودھری دانیال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اگرچہ نئے سی پی او کی پالیسی ان کے پیش رو سے مختلف ہو سکتی ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ خدشات ضرور ڈسکس ہورہے ہیں کہ شاید نئی تعیناتیاں پولیس میں سیاسی اثرو رسوخ بڑھانے کا پیش خیمہ ہیں۔

Shabbir Dar

22,595 görüntüleme • 1 ay önce

کسی کی قسم کی کوئی ڈیل نہ پہلے منظور تھی نہ آئندہ منظور ہے ،یہ بات کور کمانڈر اجلاس میں واضع طور پر بیان کردی گی تھی ،نہ ہی تو کوئی اس وقت ایسا موقع تھا نہ موقع ہے ۔اپ دوسروں کو اپنے وطن بلا کر پریشر ڈالیں ۔آزادی یا موت نعرہ آج بھی قائم ہے انشاللہ قائم رہے گا ۔اگر مسٹر خان نے ڈیلیں کرنی ہوتی تو تین سال اپنی زندگی ،لوگوں کی زندگیاں ،اپنا خون بہانے کی کسی کو کیا ضرورت تھی ،آپ باز رہیے ۔ الو کا پھٹہ سہیل آفریدی اسی طرح کور کمانڈروں کی باتوں میں ا کر اُدھر اُدھر بھاگتا رہا تو اس کا حال بھی مسٹر غنڈا پورا جیسا ہی ہو گا ۔ادارے کے چیف اس وقت امارات کے صدر کو بتا رہے کہ سہیل آفریدی کو ملک بھی کہیں بھی انے جانے کی اجازت ہے کوئی رکاوٹ نہیں ،جبکہ سہیل آفریدی کو کہا گیا تھاآج کے دن مسٹر خان کی رہائی کے لیے احتجاج کال کرے ،تاکہ انے والے مین رجیم کردار کے ساتھیوں کو پتہ چل سکے قوم مسٹر خان کی رہائی ہر صورت چاہتی ہے ۔پنجاب کے دورے بعد میں بھی کیے جا سکتے تھے ۔ اسی طرح بے مقصد ،باتوں میں ا کر اہم دن بے مقصد دورے کے کوئی نتائج نہیں ملنے والے سوائے ،آپ شوشل میڈیا پر واہ واہ کرانے کے ،یہی وجہ ہے جب بھی اسلامی ممالک جو رجیم چینج کرانے میں اہم رہے ہیں ان کے سربراہ مملکت کے وقت پی ٹی آئی کوئی احتجاجی کال نہیں دیتی تاکہ ریکارڈ رہے ،لیکن جیسے ہی چین کی کوئی اہم شخصیت کسی دورے کا اعلان ہوتا ہے ،پی ٹی آئی کو دیے ہوئے کمپرومائز وکیل اور آزاد سیاسی لیڈر جو ادارے کے لوگ ہین ،ایکٹو ہو کر احتجاج کرنے ا جاتے ہیں جبکہ وہ سب ادارے کے لوگ ہوتے ہیں ،اصل پی ٹی آئی نہیں ہوتی ۔دونوں صورت میں ادارے کو بیچنے کے مواد پی ٹی آئی کے خلاف مل جاتا ہے ۔چین کا کوئی دورہ کرنے اہے تو پی ٹی آئی ملک دشمن عناصر اسلامی ریاست کا کوئی دورہ کرنے اہے تو پی ٹی آئی ارد گرد مصروف کیوں رہتی ہے ؟ مسٹر آفریدی اپنی سوچ کو پختہ کریں ،عمل نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کسی اور کو انے دیں ،آپ کا پہلا مقصد مسٹر خان کی رہائی ،اسٹریٹ موومنٹ کے لیے پنجاب کی قیادت کی زیادہ زمہ داری تھی کہ آپ لاؤ لشکر کے کر آج ہی لاہور جاتے ،پی ٹی آئی کو اپنی اسمبلی اور اسلام آباد پرامن احتجاج کی کال دینی چاہیے تھی تاکہ جو پیغامات لے کر اتے ہیں ان کو پتہ رہے قوم مسٹر خان کے ساتھ پہلے دن کی طرح کھڑی ہے ،کچھ بھی نارمل نہیں ہے ۔ 🥷🏼🪐🥷🏼✍️🥷🏼🪐👁️۵۲۸۱/۸۲۷۲🥷🏼🪐🥷🏼🪐🥷🏼👀👀👀👁️۲۵۱۷۱)۷۲۸۱🪐🥷🏼🪐✍️✍️🪐🥷🏼🧑🏼‍✈️🧑🏼‍✈️🧑🏼‍✈️👁️👁️🥷🏼🪐۲۶۱۸۲۹۲۶/۶۱۷۱🪐🪐۶۲۷۱۸۲۶۲/۶۲۷۲۸ آپ ہارے ہیں آپ ہار چکے ہیں ،چاہیے آپ شیشے کے پیچھے بیٹھ کر بھی ہار چکے ہیں ،آخری دم تک آزادی یا موت کا نعرہ جاری ہے ۔علیمہ خان کی بات کو حتمی سمجھا جائے ،کسی قسم کے کوئی مزاکرات نہیں ہوں گے ،پہل آپ نے کی تھی معافی بھی آپ کی پہل سے ہوگی ورنہ بھول جائیے جو کہتے ہیں پھر حل کیا ہے ؟ حل ایک ہی ہے عدالتیں آزاد ہو کر آزادی دیں ،سیٹیں 201واپس کی جائیں ،جیلوں میں قید فوجیوں سمعت پی ٹی آئی کے لوگ رہا کی جائیں ،ساری دنیا ملا کر بھی آپ ہاریں گے انشاللہ اللہ آپ حق ہے ،حق کی فتح دیر سے چاہیے ہو لیکن ہو گی ۔ قوم پر امید رکھے انشاللہ اللہ آسانی بھی لائے گا ۔

SAGA in Field

61,188 görüntüleme • 8 ay önce

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,710 görüntüleme • 1 ay önce