Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اصل ایجنڈا آزاد کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنا تھا۔ آٹا، روٹی، بجلی کے یونٹ، 12 سیٹیں ایک ڈھکوسلہ ہے،حقیقت تو اب نکلی سردار امان کے منہ سے

17,068 Aufrufe • vor 3 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

طاہرہ توقیر گیلانی، توقیر گیلانی کی اہلیہ ہیں، توقیر گیلانی آزاد کشمیر میں خودمختار کشمیر کے بیانیے کے سب سے بڑے علمبرداروں میں شمار ہوتے ہیں، پاکستان اور اسکے اداروں کے خلاف ان کے سخت گیر موقف کے باعث انہیں 2020 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) سے نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنا الگ دھڑا قائم کر لیا، اسی گروپ میں بعد ازاں سردار امان خان بھی شامل ہوئے، جو آج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت کر رہے ہیں، طاہرہ توقیر گیلانی بھی اسی گروپ کی سرگرم رکن ہیں۔ توقیر گیلانی خود تو امریکہ کا ویزا حاصل کرکے وہاں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں، لیکن ان کے قائم کردہ گروپ کا ایک سرکردہ رہنما سردار امان خان آج JAAC کی قیادت کر رہا ہے، جبکہ اسی گروپ کی سرگرم رکن اور توقیر گیلانی کی اہلیہ طاہرہ توقیر گیلانی، JAAC کے حوالے سے بالکل مختلف اور متضاد مؤقف رکھتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گروپ ایک ہے، مقصد ایک ہے اور قیادت بھی ایک ہی سوچ سے نکلی ہے، تو پھر JAAC کے بارے میں دو متضاد بیانیے کیوں؟ اصل موقف کون سا ہے؟ سردار امان خان والا یا طاہرہ توقیر گیلانی والا؟ اس معمے کی وضاحت تو توقیر گیلانی صاحب ہی کر سکتے ہیں جو آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ہماری ہر رائے اور تبصرے کو سہولت کاری سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اس متضاد موقف کے حوالے سے ہمارے پاس جو معلومات ہیں شاید ہم چاہ کر بھی بیان نہیں کرسکتے، کیونکہ آزاد کشمیر کے بعض خودساختہ دانشور فوری تعصب اور سہولت کاری کی اسناد بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔

Shabbir Dar

13,527 Aufrufe • vor 2 Monaten

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 Aufrufe • vor 2 Monaten