正在加载视频...

视频加载失败

اعجاز چوہدری صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا اور سٹنٹ ڈلا۔ جب سٹنٹ ڈلا تو اس کا گردوں پر اثر ہوا اور کافی عرصے تک ڈاکٹرز کہتے رہے کہ گردوں کے ماہرین کو دکھایا جائے کیونکہ گردوں کے باقاعدہ علاج کی ضرورت ہے لیکن اسکو ویسے ہی تاخیر کا شکار...

45,930 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

تمام اسلامی ، اخلاقی، معاشرتی روایات کو پامال کرتا سیاسی انتقام: شاید ہی اتنے نیچ گھٹیا دشمن کسی کو ملے ہوں جو عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ملے۔ "اعجاز چوہدری صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا اور ان کو سٹنٹ ڈالا گیا جس کی وجہ سے ان کے گردوں پر اثر ہوا۔ کافی عرصے تک ڈاکٹرز کہتے رہے کہ گردوں کے ماہرین کو دکھایا جائے کیونکہ گردوں کے باقاعدہ علاج کی ضرورت ہے لیکن اسکو ویسے ہی تاخیر کا شکار کیا جاتا رہا جیسے عمران خان کی آنکھ کے مسئلے کو لٹکایا جاتا رہا۔ جب چیک اپ کرایا گیا تو پتہ چلا کہ اعجاز چوہدری صاحب کا گال بلیڈر نکالنا پڑے گا۔جب گال بلیڈر نکالنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کا انفیکشن بڑھ چکا ہے پہلے انفیکشن کا علاج کرنا ہوگا،یعنی انفیکشن کا مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے انکا گال بلیڈر نہ نکالا جا سکا۔ چونکہ گال بلیڈر ریموو نہ کیا جاسکا تو گردوں کا علاج بھی نہیں ہوسکا اور اس وقت انکی گردوں کی سٹیج تھری آگئی ہے اور خدشہ یہ ہے کہ اگر ابھی بھی علاج نہ کیا گیا تو انکو ڈائیلسز پر ڈالنا پڑے گا۔ اعجاز چوہدری کے علاج میں مجرمانہ تاخیر ہوئی وقت پر علاج ہوتا تو شاید ان کے گردے اس حد تک خراب نہ ہوتے"۔اسد اللہ خان

PTI

13,261 次观看 • 1 个月前

”آج جمعہ،6 فروری 2026 ہے۔ عمران خان صاحب کی فیملی کی جانب سے میرے ساتھ ایک رپورٹ شیئر کی گئی، جو آج ہی کی تاریخ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کی تکلیف کے لیے کون سے ٹیسٹس کیے گئے، لیکن ان ٹیسٹس کی رپورٹس یا رزلٹس کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تشخیص کے مطابق عمران خان صاحب کو سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن ہوا ہے۔ یہ وہی تکلیف ہے جس کا ذکر پہلے بھی میڈیا میں آ چکا ہے، جس میں آنکھ سے خون واپس لے جانے والی شریان میں خون جم جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج کے طور پر ایک آنکھ کے اندر ایک خاص دوا کا انجیکشن لگایا گیا، جو اس بیماری میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہمیں جو تشویش پہلے بھی تھی، اور جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا تھا، وہ یہ ہے کہ خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انہیں ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ ضرور لکھا گیا ہے کہ کوالیفائیڈ اور ایکسپیرینسڈ آف Ophthalmologists نے انہیں دیکھا، یعنی آنکھ کے ماہرین نے معائنہ کیا، لیکن ہر آنکھ کا ماہر اس بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کہ ایسے مریض کو ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ جبکہ ایسے ڈاکٹرز ہمارے ملک میں دستیاب ہیں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں، اس لیے ہم دوبارہ امید کرتے ہیں کہ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بلایا جائے گا تاکہ وہ خان صاحب کا معائنہ، ایویلیوایشن اور علاج کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فالو اپ کی ضرورت ہے، اور یقیناً وہ پلان بھی کیا گیا ہوگا، لیکن اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں کہ فالو اپ کب ہوگا اور اس دوران کیا علاج کیا جائے گا۔ ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے، جس کا پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، کہ اس بیماری کے پیچھے اکثر کوئی اور میڈیکل کنڈیشن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں کہ آیا کسی میڈیکل اسپیشلسٹ نے خان صاحب کو دیکھا، کوئی متعلقہ ٹیسٹس کیے گئے، یا اگر کوئی ایسی میڈیکل کنڈیشن سامنے آئی ہے تو اس کا کوئی علاج شروع کیا گیا یا نہیں۔ میں دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت سنجیدہ بیماری ہے، اور اس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں آئے، اور مزید فالو اپ اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں، میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ مجھے رسائی دی جائے۔ میں گزشتہ تقریباً پچیس سال سے عمران خان صاحب کا پرسنل فزیشن ہوں، اور میرے ساتھ ساتھ دستیاب اسپیشلائزڈ، کوالیفائیڈ اور ٹرینڈ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بھی اجازت دی جائے تاکہ ہم خان صاحب کی دیکھ بھال میں شامل ہو سکیں اور یہ یقینی بنا سکیں کہ انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے “ ڈاکٹر عاصم یوسف #FreeTheSoulOfPakistan #AllowAccessToImranKhan

Jibran Ilyas

65,792 次观看 • 6 个月前

" جہاں تک مجھے پتہ ہے عمران خان کی جس آنکھ کی بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے (پمز میں) وہاں ڈاکٹر ہی موجود نہیں جہاں ان کا لایا گیا تھا " عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا معاملہ کھول دیا " اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "

Saqib Bashir

155,986 次观看 • 6 个月前