正在加载视频...

视频加载失败

افتخار احمد: کیا وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ملاقات نہیں کراتا کرنل رفیع الدین: اس کی وجہ یہ تھی جب تک مارشل لا کا حکم نہیں آتا تھا، اس وقت تک کسی حکم کی پروا نہیں کی جاتی تھی ۔۔۔ نصف دہائی...

19,301 次观看 • 22 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

حکومتِ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جو مؤقف پیش کیا ہے، وہ گمراہ کن ہے،ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ مارچ 2025 سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا ایک فیصلہ اور حکم موجود ہے، جس میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ پاکستان کے قوانین اور بالخصوص صوبہ پنجاب کے جیل قوانین، جہاں اس وقت عمران خان قید ہیں، ایسی ملاقاتوں کی اجازت دیتے ہیں۔ عدالتوں نے بھی حکم دیا تھا کہ ان قوانین پر عمل کیا جائے اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ہر ہفتے کم از کم دو ملاقاتیں کروائی جائیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے کوئی ریکارڈ جھٹلا نہیں سکتا کہ 25 مارچ 2025 سے، جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا یہ فیصلہ اور حکم جاری ہوا، اس حکم پر ایک مرتبہ بھی عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد سے ایک بھی ایسا ہفتہ نہیں گزرا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حکم دی گئی دونوں ملاقاتیں کروائی گئی ہوں۔ اکتوبر 2025 کے بعد تینوں بہنوں میں سے کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد، یعنی 2 دسمبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک، عمران خان کی کسی بہن کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر تشکیل دیے جانے والے ایک میڈیکل بورڈ کو ان کا معائنہ اور علاج کرنا تھا۔اس بورڈ میں ڈاکٹر فیصل سلطان، جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں، اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ، جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، کو شامل کیا جانا تھا۔اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ یہ عمران خان کے حقوق کی نفی ہے، بطور خاندان عمران خان کی بہنوں کے حقوق کی نفی ہے، پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، اور تشدد کی بین الاقوامی تعریف کے مطابق اسے تشدد کے زمرے میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔اس پورے عرصے کے دوران عمران خان کے وکلا کو بھی ان سے باقاعدگی کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور نہ ہی بشریٰ بی بی کے وکلا کو ان سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی گئی۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

19,349 次观看 • 1 天前

"معاملہ اس لیے اہم ہے کہ آج (عمران خان سے ملاقات کے لیے) فیملی جب جائے گی ایک یا دو بجے اڈیالہ جیل تو کیا سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل ان کی ملاقات کروائیں گے ؟ ایز پر ارڈر آف دا سپریم کورٹ ؟ اور کیا جب وہ فیملی اندر جائے گی عمران خان صاحب سے بات ہوگی تو وہاں سے ہمیں یہ بھی مل سکتی ہے خبر کہ کیا پچھلے ایک ہفتے میں دو دفعہ عمران خان صاحب کے بیٹوں سے بات کروائی ہے سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے یا نہیں؟ تو یہ دو پوائنٹس بڑے میجر ہیں اس ارڈر کے اور یہ ڈائریکٹ کرتے ہیں سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے ساتھ اور اگر ان پر عمل نہیں ہوتا تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین کی کاروائی انیشیٹ ہو سکتی ہے کہ پہلا معاملہ تو شفاء کا تھا انتظامیہ اسلام آباد کی تھی اب یہ تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات یا پنجاب حکومت کا معاملہ ہے تو وہ چیزیں جو ہیں وہ میرے خیال میں خراب بھی ہو سکتی ہیں تو اب کل کا دن بڑا اہم ہے کہ حکومت کیا باقی دو نکات پر سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق عمل کرتی ہے یا نہیں"

Saqib Bashir

46,170 次观看 • 8 天前

" جہاں تک مجھے پتہ ہے عمران خان کی جس آنکھ کی بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے (پمز میں) وہاں ڈاکٹر ہی موجود نہیں جہاں ان کا لایا گیا تھا " عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا معاملہ کھول دیا " اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "

Saqib Bashir

155,986 次观看 • 7 个月前

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,029 次观看 • 5 个月前