Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

افففف (ب۔چ) تگڑے لونڈے کا تگڑا لوڑا۔۔۔ گانڈو بچے کے صحیح مزے۔۔۔ 🥵

20,008 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

8 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل!! فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا، چک نمبر 71 ج ب سرلی میں 8 سالہ بچے شکیل کی لاش ایک زیرِ تعمیر اور خالی مکان کے واش روم سے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچہ گزشتہ روز گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا تھا لیکن واپس نہ آیا، جس پر اس کی تلاش شروع کی گئی اور مختلف علاقوں میں اعلانات بھی کروائے گئے۔ بعد ازاں بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے شبے پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی رائے فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کے بعد دی جائے گی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جبکہ شہریوں نے واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ #Faisalabad #FsdTV41 #FaisalabadTV #Thikriwala #CrimeNews #BreakingNews #ChildMurder #Investigation #PunjabPolice #JusticeForChild #PakistanNews

Faisalabad TV

22,695 просмотров • 1 месяц назад

#پڑھا_لکھا_چک مھم کے سلسلے میں آج باگڑی برادری کے ساتھ میٹنگ کرکے انکو تعلیم کی افادیت کی تبلیغ کرکے انکو قائل کیا کے انکے آنے والی نسل کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ھے کے بچوں کو تعلیم کے زیور روشناس کریں۔ اس سلسلے میں پھلی ھی نشست میں 75 بچے بچیاں اسکول میں داخلے کیلیے ملے اور انکو ایک جلوس کی صورت میں خود جاکے اسکول میں داخلے کا آغاز کروایا۔ بچوں کے داخلے کیلیے ب فارم ، پیدائشی سرٹیفکیٹ اور دوسری ضروریات کے اخراجات ٹائون کی طرف سے بھرنے کا اعلان کیا ۔ اسکے علاؤہ ایک نظام پہ بھی متفق ھوے جس کے تحت روانہ کی بنیاد پے ان بچوں کی دیکھ بھال اور اٹینڈنس یقینی بنانے کیلیے ایک نگران مقرر کیا جائیگا جو ٹائون انتظامیہ،اسکول اور والدین کے درمیان پُل کا کردار ادا کرکے بچوں کی حاضری یقینی بنائیگا۔ امید ھے کہ معاشرے کے اس استحصال یافتہ طبقہ کو تعلیم کی طاقت سے ھمنوا کرکے برابر کے شہری بننے کا موقعہ مل سکیگا۔ خدا سے دعا ھے کہ وہ ھم کو ھمت دے اور میں ثابت قدمی سے اس بڑے مقصد کو منزل پہ پہنچا سکوں۔ بیشک خدا نیک کاموں کا حامی و ناصر ھے۔پاکستان پيپلز پارٹی کا منشور ھے تعلیم سب کے لیے بغیر فرق کے اور یہ مقصد ھم حاصل کرکے دکھائینگے۔ Bilawal Bhutto Zardari Pakistan Peoples Party - PPP PPP PPP Digital Aseefa B Zardari Faryal Talpur #chakbilawalka

dr Naveed Mahar

17,402 просмотров • 3 лет назад

جامعہ فریدیہ اسلام آباد کا سات سالہ غیر معمولی نابغۂ روزگار بچہ کبھی کبھی قدرتِ الٰہی ایسے غیر معمولی ذہن اور نادر صلاحیتوں کے حامل بچوں کو دنیا کے سامنے لاتی ہے کہ انسان بے اختیار حیرت و استعجاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں گزشتہ شب ایسا ہی ایک حیرت انگیز مشاہدہ ہوا، جہاں ایک سات سالہ بچے کی عربی دانی، قوتِ حافظہ، فصاحتِ بیان اور علمی استعداد نے اہلِ مجلس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ گزشتہ شب جامع مسجد جامعہ فریدیہ میں تکرار کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا کہ حضرت مولانا اعجاز صاحب دامت برکاتہم ایک کم سن بچے کو اپنے ہمراہ لائے۔ تعارف کرواتے ہوئے فرمایا: "یہ بچہ عربی زبان میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور مشکل سے مشکل عبارت بھی نہایت روانی سے پڑھ لیتا ہے۔" طبعاً اس بات نے تجسس پیدا کیا۔ میں نے بچے سے عربی میں پوچھا: «أين تعلَّمتَ اللغةَ العربية؟» اس نے بلا توقف، نہایت اعتماد اور بے ساختگی سے جواب دیا: «علَّمني الله هذه اللغة.» اس مختصر مگر معنی خیز جواب میں اس کی خود اعتمادی، حاضر جوابی اور غیر معمولی ذہانت کی جھلک نمایاں تھی۔ اسی لمحے اندازہ ہوگیا کہ اس ننھے طالبِ علم میں قدرت نے کوئی خاص صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔ اتفاق سے ہمارے سامنے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی معروف تصنیف «الفقه الأكبر» کی شرح «أحسن الفوائد» موجود تھی۔ میں نے اس میں سے ایک نسبتاً دقیق اور مشکل مقام منتخب کرکے بچے کے سامنے رکھا۔ حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس نے عبارت نہ صرف صحت کے ساتھ پڑھی بلکہ ایسی روانی، اعتماد اور تسلسل کے ساتھ قراءت کی کہ مجلس میں موجود اہلِ علم ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ اسی دوران بچے کے والد محترم مفتی سلمان پشاوری، جو جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہمارے عزیز بھائی مفتی Furqan Rahmani کے ہم سبق اور ہمارے دوست ہیں، نے بتایا کہ یہ بچہ فلکیات، کائنات اور تخلیقِ عالم کے بارے میں نہایت دقیق اور غیر معمولی نوعیت کے سوالات کرتا ہے، جنہیں سن کر بڑے بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو سن کر تاریخِ اسلام کے ان روشن ابواب کا خیال آیا جہاں کم سنی ہی میں بعض نابغۂ روزگار شخصیات نے اپنی غیر معمولی ذہانت، حافظے اور علمی شغف سے اہلِ علم کو حیران کردیا تھا۔ اسی موقع پر مولانا اعجاز صاحب نے تجویز پیش کی کہ عربی شعبے کے طلبہ بھی اس بچے کی علمی صلاحیت کا براہِ راست مشاہدہ کریں۔ چنانچہ طے ہوا کہ اسے مائیک پر بٹھا کر طلبہ کے سامنے گفتگو اور سوال و جواب کا موقع دیا جائے۔ جب یہ سات سالہ بچہ منبر پر جلوہ افروز ہوا تو اس نے سب سے پہلے «مسند الإمام الأعظم» کی عبارت اس قدر سلاست، روانی اور فصیح لہجے میں پڑھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے وہ طویل عرصے سے عربی متون اور کتبِ حدیث کا مطالعہ کر رہا ہو۔ اس کے بعد صحیح بخاری کی عبارت بھی اسی اعتماد اور روانی سے پڑھ کر سنائی۔ واقعی یہ منظر قابلِ حیرت تھا کہ ایک کم سن بچہ ایسی عبارتیں اس انداز میں پڑھ رہا تھا جس کے لیے عام طور پر باقاعدہ علمی مشق اور طویل مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد حاضرین میں سے ایک صاحب نے سورۂ نمل کی آیت: ﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ﴾ کا مفہوم دریافت کیا۔ اس ننھے طالبِ علم نے نہایت سادہ، مربوط اور بلیغ انداز میں آیت کی تشریح بیان کی۔ اس کے اندازِ بیان میں صرف حفظ و تکرار نہیں بلکہ فہم، ربطِ کلام اور مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کی صلاحیت بھی نمایاں تھی۔ پھر کسی نے سوال کیا: «تفقّد» کا کیا معنی ہے؟ اس نے فوراً ایک عملی مثال دیتے ہوئے جواب دیا: «إذا ضاع أحدُ الفلوسِ وبدأ يبحثُ عنها، فحينئذٍ نقول: تفقَّدَ الفلوسَ.» یعنی اس نے محض لغوی معنی بیان کرنے کے بجائے مثال کے ذریعے لفظ کا مفہوم واضح کیا، جو اس کے فہم اور زبان پر گرفت کی ایک اور نمایاں علامت تھی۔ تقریباً ستائیس منٹ تک وہ طلبہ کے مختلف سوالات کا بلا جھجک جواب دیتا رہا۔ اس دوران اس کے اعتماد، حاضر جوابی اور علمی استعداد نے حاضرین کو مسلسل متوجہ رکھا۔ مجلس کے اختتام پر وہ ہمارے کمرے میں آیا تو میں نے اس سے پوچھا: «هل أعجبتكَ الجامعة؟» اس نے فوراً جواب دیا: «أعجبتني في هذه الجامعة القراءةُ والكتبُ والأحاديث، أمّا البناءُ فلم يُعجبني؛ لأن هذا البناءَ يُذيبُ أعينَ الفقراء، وأرى الناسَ اليومَ يتفاخرون بالبناء، وهذا ليس شيئًا جيدًا.» اس جواب نے ایک مرتبہ پھر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ سات برس کے بچے کی زبان سے کتب، مطالعہ اور احادیث سے محبت، دنیاوی نمود و نمائش، تفاخر اور اسراف سے بے زاری پر مبنی ایسی بامعنی گفتگو سننا یقیناً غیر معمولی تجربہ تھا۔ اس وقت اس بچے کی عمر محض سات سال ہے۔ وہ قرآنِ کریم کے سترہ پارے حفظ کر چکا ہے، اکابر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین +

Dr-Ahmad Mustafa

40,385 просмотров • 5 дней назад

اسدطور معمہ: لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ اسد طور اتنا کھلم کھلا کیسے جرنیلوں کا نام لے لے کر ان پر تنقید کررہا ہے۔ آج کے بعد آپ کی حیرت ختم ہوجائے گی ۔ جب کوئی صحافی یا چ ٹیوبر عوام کو نیوٹرل بھی دکھائی دے رہا ہو۔ فوج کا ماوتھ پیس بھی بنا ہو۔ انکا ایجنڈا بھی چلا رہا ہو تو انہیں کیا ضرورت ایسے شاندار اثاثے کو ضائع کریں۔ اس ویڈیو میں اسد طور نے تین موقف اپنائے ہیں جو کہ تینوں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ سب سے پہلے جناب کا موقف جان لیں پھر ان کے جھوٹوں کو بےنقاب کرتے ہیں * فوج اس وقت نیوٹرل ہوئی جب دسمبر 2020 میں جنرل فیض حمید نے عمران خان کے کہنے پر کراچی میں مریم نواز کے بیڈ روم کا دروازہ توڑا شدید تنقید ہوئی۔ پھر کور کمانڈرز کی میٹنگ میں جرنیلوں کی گرما گرمی ہوئی۔ فیض حمید کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اب ہم عمران خان سے دوری اختیار کریں گے۔ * سائفر مکمل جھوٹا بیانیہ ہے۔ عمران خان کو نکالنے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں۔ * عمران خان کو اس لیے ہٹایا گیا کہ عمران خان سے معیشت نہیں چل رہی تھی۔ گورننس نہیں ہوپارہی تھی اور سعودی عرب چین وغیرہ سے عمران خان نے تعلقات خراب کردیے تھے۔ پہلی غلط بیانی: دسمبر میں مریم نواز کے بیڈ روم کا دروازہ توڑا گیا تو اس کے بعد کے واقعات کے باعث فوج نے عمران خان سے دوری اختیار کی۔ دسمبر سے صرف ایک مہینہ پہلے نواز شریف جنرل باجوہ کیساتھ ڈیل کرکے ملک سے طبی بنیادوں پر فرار ہوگئے تھے۔ خواجہ آصف کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ نواز شریف کو فوج نے باہر بھجوایا عمران خان نے نہیں۔ نومبر 2020 میں نواز شریف لندن پہنچ چکا تھا۔ یعنی معاملات اس سے بھی مہینہ دو یا تین قبل طے پا چکے تھے۔ کور کمانڈرز کی میٹنگ میں گرما گرمی ہوئی نہیں جنرل باجوہ کے کہنے پر کچھ جرنیلوں کی جانب سے کی گئی۔ کیونکہ جنرل باجوہ اپنے کچھ ساتھیوں سمیت نواز شریف سے معاملات طے کرچکا تھا اور فیض حمید کو نشانہ بنانا باقی تھا۔ کور کمانڈر اتنی گرما گرمی جوگے ہوتے تو آج عاصم منیر نے پورا ملک ڈبو دیا ہے کسی کی سی نہیں نکل رہی۔ اگلی غلط بیانی کہ سائفر مکمل جھوٹ ہے۔ یعنی جس سائفر پر سلامتی کمیٹی کی میٹنگ ہوچکی۔ امریکہ سے ڈی مارش کیا جاچکا ۔ جس کے مندرجات میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو تمہیں معاف کردیا جائے گا اور اس کے مندرجات سے کسی نے آج تک انکار نہیں کیا چ ٹیوبر کے مطابق وہ سائفر جھوٹ ہے۔ شاندانہ گلزار نے بتایا کہ امریکی ایمبیسی کی بہن یعنی برطانوی ایمبیسی نے انہیں بلایا اور کہا کہ آپ عمران خان سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ شاندانہ کے بقول چھ مزید خواتین اراکین اسمبلی کو بھی یہی کہا گیا جو ڈر کے مارے خاموش ہیں۔ ایک خاتون کو جس کے بچے امریکہ میں تھے اسے اس ذریعے سے کہلوایا گیا۔ بطور ضمنی سوال کوئی چ ٹیوبر سے پوچھ لے کہ کیا اسکے بعد بھی اراکین اسمبلی اسی تواتر سے امریکن ایمبیسی جاتے آتے پائے گئے ہیں؟ جواب ہے نہیں ! اگلی غلط بیانی یہ کی کہ عمران خان نے سعودی عرب چین وغیرہ سے تعلقات خراب کیے۔ عمران خان کے دور میں محمد بن سلمان پاکستان آیا۔ جبکہ عاصم منیر نے ترلے کر دیے کہ دورہ انڈیا کے دوران چند گھنٹوں کے لیے شہزادہ پاکستان آجائے لیکن وہ نہیں آیا۔ چین نے رول اوور کے علاوہ ابھی تک پاکستان کو آلو بھی نہیں دیا۔ الٹا عاصم منیر صاحب امریکی سفیر کو گوادر لے گئے۔ یعنی عمران خان کے دور میں اگر تعلقات خراب تھے تو فوج کے آنے سے تو بالکل ختم ہوچکے۔ چ ٹیوبر کی آخری غلط بیانی یہ کہ عمران خان سے معیشت نہیں چل رہی تھی۔ چھ فیصد گروتھ ، ریکارڈ ترسیلات ، ریکارڈ ایکسپورٹس ، ریکارڈ جاب کرئیشن اگر معیشت کی تباہی تھی تو اس شخص کی ذہنی حالت پر پھر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ چ ٹیوبر کے بقول فوج دسمبر 2020 کے بعد عمران خان سے فاصلے پر ہوئی، پھر اس کے بقول ندیم انجم نے آصف زرداری اور شہباز شریف سے عدم اعتماد کی تحریک پیش کروائی اور خود ندیم انجم کے بقول فوج نے فروری 2022 میں نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا۔ “ایک ہی ذات میں فطرت کے تضادات اتنے “ آخر میں ایک بار پھر ضروری وضاحت کہ یہ شخص جب وہ تمام باتیں پھیلا رہا ہے جو فوج پھیلانا چاہتی ہے تو انہیں ہلکا پھلکا نام لے کر تنقید کرنے سے بھلا کیا تکلیف ہوگی۔ البتہ فائز عیسی کی جھولی میں بیٹھ کر شاید اس نے فائز عیسی کی داڑھی ہکڑ لی تھی جو اس نے اسے جھولی سے اتار دیا۔ لیکن جب جب یہ جرنیلوں اور فائز عیسی کا منہ نوچے گا ہم اسے سنیں گے بھی اور مزہ بھی لیں گے۔ امید ہے آپ کے ذہن کے بہت سے خدشات دور ہوگئے ہوں گے۔ اسد طور صاحب اپنا موقف دینا چاہیں تو طور صاحب اپنے یوٹیوب چینل سے ہی جواب دے سکتے ہیں۔

Enkidu Reborn

295,446 просмотров • 2 лет назад

یہ ہمارے لیہ میں گائوں جیسل کلاسرا کی آج کی ویڈیو ہے جو میرے مسات سمیع اللہ کلاسرا کے کھیت کی ہے جہاں آج اس کی فصل کٹ کر تھریشر کے زریعے گندم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سمیع اللہ نے برسوں کے بعد ہمارے علاقے کی بھولی بسری روایت کو زندہ کر دیا ہے. گندم تھریشر سے نکالنے کے موقع پر زبردست علاقائی ڈھولچی منگوائے اور مزدورں کے ساتھ مل کر ڈھول پر زبردست جھمر ماری ہے۔۔ اپریل کا ماہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں جہاں گندم کی کٹائی ہوتی ہے بڑا خوشیوں والا ہوتا ہے۔ اس خوبصورت ناچتی گاتی ویڈیو نے مجھے اپنے گائوں کا بچپن اور لڑکپن یاد کرا دیا جب گندم کی فصل کاٹنے لے لیے ونگاریں ہوتی تھیں؛ شاندار دیگ پکتی تھی، دیسی گھی کی روٹیاں، مکھن اور تازہ تازہ لسی کے ڈول۔ ڈھول والے بلائے جاتے تھے اور فصل کاٹنے کے مقابلے ڈھول کی تھاپ پر ہوتے تھے کہ کون سا گروپ کتنی زیادہ فصل کاٹتا ہے۔ ونگار ( گائوں کے رضاکاروں کی ٹولیاں) میں دو دو گروپ فصل کاٹنے اکٹھے ہوتے تھے تاکہ ایک دن ایک زمیندار کی پوری فصل کاٹ دیں۔ پورے علاقے کے لوگ کسی ایک کی فصل کاٹنے مفت میں اکٹھے ہوتے۔ کوئی مزدوری کوئی پیسہ نہیں۔ سب مل کر کاٹتے اور اگلے دن وہ زمیندار اس زمیندار کی فصل کاٹنے میں شریک ہوتا جو کل اس کی کٹائی آیا تھا۔ اس طرح پورے علاقے کی گندم کٹتی تھی۔ بس ایک شرط ہوتی تھی کہ کھانا بہت اچھا اور ڈھولچی زرا تگڑا ہو۔ ہر کوئی اپنی اپنی تیز درانتی گھر سے لے کر کھیت پہنچ جاتا۔ دو دو گروپ بنائے جاتے مقابلہ پر۔ صبح سویرے سویرے سورج ابھرنے سے پہلے سب کھیت میں موجود اور ڈھول کی پہلی تھاپ پر کٹائی کا مقابلہ شروع۔ اس سے پہلے سب کو مکھن روٹی گڑ کے ساتھ ناشتہ اور دوپہر کے بعد دیگ کا سالن اور گرم روٹی اور سوجی کا حلوہ یا میٹھی سویاں اور پھر ٹھنڈی لسی اور پھر ڈھول کی تھاپ پر کٹائی شروع۔ شام کو گندم کے گھٹے گنے جاتے اور جس کے زیادہ ہوتے تو وہ ڈھول کی تھاپ پر ناچ ناچ کر پورا کھیت برابر کر دیتے۔ ہارنے والے گروپ پر تبرے اور لطیفے نعرے۔۔ رات گئے گھروں کو لوٹ جاتے۔۔ سارا دن گرم کھیت میں ڈھول بجتا رہتا اور اس کی تھاپ پر درانتیوں کی رفتار بھی تیز ہوتی رہتی۔ یوں لگتا مردوں کی کلائیوں سے زیادہ درانتی ڈھول کی دیوانی ہے جو گندم کے کھیت میں مستی سے جھومتے جارہی ہے۔ پوری بستی اس موسیقی بھرے رنگ میں بسنتی کی طرح رنگ جاتی۔ ہر طرف ہنستے مسکراتے چہرے، ڈھول پر گیت گاتے مزدور کسان اور پھر جس دن تھریشر کے بعد گندم نکالی جاتی تو پھر گائوں کے بچے اپنا حصہ لینے پپنچ جاتے ( میں بھی یہ حصہ لیتا رہا ہوں) اور کھیت کا مالک سب کو کچھ نہ کچھ گندم دیتا کہ خوشی کا دن ہے اور ہم بچے وہ گندم دکان پر فورا بیچ کر مٹھائی کھاتے۔ گندم کی فصل اچھی پیداوار دے جاتی تو زمیندار بیٹے کی شادی کر دیتا اور اگر زیادہ اچھی ہوجاتی تو اپنی بھی ساتھ دوسری شادی کر لیتا اور اگر بمپر کراپ کے بعد جیب بھر جاتی تو دو تین پرانی دشمنیاں نکال کر جیبیں بھر کر تھانے اور وکیل کے پاس پپنچ کر وہیں جیبیں خالی کر آتا۔ اب سمیع اللہ سے پوچھنا پڑے گا اس کی فصل کس لیول کی ہوئی ہے۔۔ 😎 ابھی آپ ڈھول کی تھاپ پر ہمارے دیہاتیوں کے محنتی خوبصورت مزدورں کی خوشی سے لطف اندوز ہوں۔ زندگی سے لطف اندورز اور مزہ لینا کےلیے بہت امیر یا ارب پتی ہونا ضروری نہیں۔ روز مزدوری مل جائے، عزت سے سارا دن کام کر لیں، شام کو اپنا کام ختم کر کے ناچنے کے لیے ایک تگڑا ڈھولچی مل جائے۔ اور انسان کو زندگی سے اور کیا چائیے۔۔ مزہ لیں ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہمارے ان مزدورں کی خوشی بھری اس سادگی بھری خوبصورت زندگی کا ۔۔ تحریر/رئوف کلاسرا #RaufKlasra #village #VillageLifeBeauty

Rauf Klasra

48,399 просмотров • 3 месяцев назад

ایمان مزاری سے معصومانہ سوال! ایمان بی بی اگر اس ادارے کی ذہنیت میں مسئلہ ہے تو تاریخ میں جب جب کسی ایک پارٹی کی حکومت آتی ہے تو باقی سیاسی جماعتیں اسکے خلاف اتحاد کیوں بنا لیتی ہیں؟ بقول آپکے توشہ خانہ میں حافظ صاحب کا کردار ہے تو کیا جنرل #AsimMunir نے #ImranKhan کو خانہ کعبہ والی گھڑی چوری کر کے بیچنے کا مشورہ دیا؟ ذرا یہ بتائیں کہ 71 کے سقوط کے بعد حکومت فوج کو ملی یا کسی سیاسی پارٹی نے اسکا فائدہ اٹھایا؟ دنیا کی باقی فوجیں ٹینک،بندوق اور ہتھیاروں کے بغیر ملک کی حفاظت کرتی ہیں؟ آپکا قلم صرف فوج مخالف اور پاکستان مخالف ہی کیوں لکھتا ہے؟ آپ خود کو ہیومن رائٹس کی علمبردار کہتی ہیں آپکا قلم #فلسطین پہ اب تک کیوں نہیں لکھ پایا؟ #Kashmir پر ظلم پر آپکا قلم مردہ کیوں ہو گیا ہے؟ آپکی والدہ ایک عام سی صحافی سے چند ہی سالوں میں ارب پتی بن گئی ہیں اس جادوئی بزنس پر آپکا قلم کیوں نہیں لکھ پاتا؟ #إسرائيل کو آپکا قلم اسکا مکروہ چہرہ کیوں نہیں دکھا پایا؟ 47 سے اب تک کتنے چیف آف آرمی سٹاف آئے یہ تو بتائیں۔ان میں سے آپکو صرف چار نام یاد ہیں باقی تمام جو پاکستان میں موجود ہیں انکے بارے میں بتاتے ہوئے آپکے قلم کو موت کیوں آتی ہے؟ آپ اور آپ جیسے تمام محب وطن لوگوں کے مطابق جنرلز کرنلز کے پاس اربوں روپے کے اثاثے ہیں۔ بی بی پچھلے 6 #PMA لانگ کورسز میں پاس آوٹ ہونے والے 180 کیڈٹس، برگیڈئیر اور جنرلز کے بچے تھے.بی بی فوج کے ڈسپلن میں ولدیت کا رینک مرتبہ اور حثیت نہیں دیکھی جاتی بارڈ ایریاز میں تعیناتیاں بلا تخصیص بلا مخصوص شناخت ہوتی ہیں۔ جنرلز کے یہ 180 بیٹے بلوچستان ،وزیرستان ،اور بارڈر ایریا پر تعینات رہے وہ خطرناک ترین محاز جہاں زندگی کا بھروسہ نہیں ان علاقوں میں سپاہی سے لیکر جنرلز تک کے بیٹے شہید ہوئے تب آپکے قلم نے کیوں نہیں لکھا کہ کرنل یا جرنل کا بیٹا شہید ہو گیا؟ بقول آپکے ان ملک کو لوٹنے والوں کا ایک بیٹا شہید ہوا تو فوجی خاندانوں نے اپنے دوسرے بیٹے کیوں پیش کئے؟ جب ان جنرلز کے پاس اربوں روپے ہیں اور یہ بزنس مین بھی ہیں اپکے مطابق تو یہ اپنے بیٹے انڈسٹریلسٹ کیوں نہیں بناتے؟بزنس مین کیوں نہیں بناتے؟ انھیں کمپنیاں کیوں کھول کر صرف باس بن کر عیش کی زندگی کیوں گزارنے نہیں دیتے؟انھیں اس جگہ کیوں جھونک دیتے ہیں جہاں موت ہر دم دستک دیتی ہے؟ گولی اندھی ہوتی ہے وہ یہ نہیں جانتی کہ سامنے جنرل کا بیٹا ہے یا کرنل کا یا سپاہی کا۔یہ جاننے کے باوجود ان جنرلز نے اپنے بیٹے فوج کے سپرد کیوں کئے؟ آپ فوجی جرنلز کو ملنے والے فائدوں سے واقف ہیں تو آپ ہیومن ایکٹویسٹ کیوں بنی؟ آپ جزیرے بنانے کیلئے فوج میں کیوں نہیں گئیں؟ مزے کی بات یہ ہے کہ اربوں روپے، پلاٹ اور جزیروں جیسی کہانیاں گھڑنے والے اپنے بچوں کو فوج میں نہیں بھیجتے بلکہ انڈسٹریلسٹ، سیاست دان اور بیورو کریٹس بناتے ہیں۔ یہ اپنی اولادوں کے لیے مہنگی ترین سکیورٹی ایجینسز ہائر کرتے ہیں ان کی حفاظت کے لیے ماہانہ کروڑوں روپے ادا کرتے ہیں اگر آپکی بات مان لی جائے اور فوج میں واقعی اربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں تو دولت کے پجاری اس سے دور کیوں ہیں۔ اپنے بچے فوج میں کیوں نہیں بھیجتے تاکہ وہ بھی کل کو جنرل بن سکیں؟ کہیں اسکی وجہ یہ تو نہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ جنرل بننے سے پہلے زندگی کی تیس سال اس گولی کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا جو اندھی ہے جو کرنل،جرنل،سپاہی کسی کو نہیں جانتی؟ جواب کا انتظار۔۔۔۔ #غداروں_کا_مکمل_بائیکاٹ

Sadia Khalid

37,359 просмотров • 2 лет назад