Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

الجزیرہ کو DGISPR کا دیا گیا انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔۔ الجزیرہ نے سوال کیا تھا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ایران کے بعد اگلا ہدف پاکستان ہوا تو ؟؟؟ DG ISPR ڈی جی آئی ایس پی آر: پاکستان کے عسکری اداروں میں اس...

21,922 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

پاکستان نے اس سے پہلے پوری دنیا میں امن کے حوالے سے جو کردار ادا کیا، وہ قابلِ تعریف تھا۔ پوری دنیا نے اس کی تعریف کی اور ہمیں بھی اس پر بڑا فخر محسوس ہوا۔لیکن ہم پینترا کیسے بدلتے ہیں، یہ ذرا دیکھ لیجیے۔ یہ چھوٹے موٹے، ننھے منے صحافی، جو اسٹیبلشمنٹ کے ماؤتھ پیس سمجھے جاتے ہیں، ان کے بیانیے میں اچانک تبدیلی آ گئی ہے۔اگر آپ اس پورے تنازع کو دیکھیں تو دوبارہ جنگ کی شروعات امریکہ نے کی۔ لیکن ان ماوتھ پیس کا نہ ان کا اپنا کوئی ضمیر ہے، نہ سچ بولنے کی طاقت، اور نہ ہی ظلم کو ظلم کہنے کی ہمت۔ جس نے ظلم کیا، جس نے بربریت کی، اور جس نے امن کے عمل کو سبوتاژ کیا، وہ امریکہ تھا۔ لیکن اسے ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے یہ ماؤتھ پیس دوبارہ IRGC کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اب انہیں بھی اندازہ ہے کہ آگے کس پلڑے میں بیٹھنا ہے۔ کیونکہ کل رائٹرز کی خبر آئی کہ کویت اور پاکستان بھی دفاعی تعاون کے ایک نئے مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یعنی کل پھر یہ بھی کہا جائیگا کہ کویت پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک دشمن ہم پہلے ہی افغانستان کو بنا چکے ہیں، بھارت پہلے سے ایک اعلان شدہ حریف ہے، جبکہ ملک کے اندر حالات بھی مثالی نہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اگر ہم ایک اور تنازع میں کودیں گے اور ایران کے ساتھ بھی محاذ آرائی کی طرف جائیں گے تو اس کے نتائج بھی پاکستان کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جب پورے محلے سے تعلقات خراب ہوں تو اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہتا۔خدارا اپنے ملک کے بارے میں سوچیں، اس پر رحم کریں، اور کم از کم پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھ کر بیانیہ تشکیل دیں۔ دنیا کے سامنے ایک خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر ابھریں، نہ کہ دوسروں کے بیانیے کو اپنا کر ان کی زبان بولیں اور دوسروں پر الزامات لگاتے پھریں۔

Harmeet Singh

11,013 Aufrufe • vor 1 Monat

معروف چینی محقق وکٹر گاؤ کا شرمین نروانی کے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر تفصیلی جواب: میں پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج غیور مسلمان ہیں اور وہ عالمِ اسلام کے تمام ممالک کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے کسی برادر اسلامی ملک کی بربادی نہیں چاہیں گے۔ ایران جنگ میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔ پاکستان، سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی فوجی پہلے ہی بڑی تعداد میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ لہٰذا اگر کوئی سعودی عرب کے خلاف کوئی بیوقوفانہ حرکت کرے گا تو یہ معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اس وقت تک اپنے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جب تک کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی سنجیدہ ترین خطرہ ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اِس وقت اُس سطح پر ہیں۔ جہاں تک پاکستان اور چین کی بات ہے تو ہم حقیقی بہن، بھائی ہیں۔ اور ہم ایک دوسرے کو تمام تر طرح سے مدد اور حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی قانونی طور دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ پر ہم بہت سے اہم ترین معاملات پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپس میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ لہٰذا اگر چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کو منفی انداز میں دیکھنے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دنیا میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی تعلقات ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کو پتہ ہے اسے کیا کرنا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے جائز مفادات کا ایک زبردست محافظ ہے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے۔

Naya Daur Videos

96,427 Aufrufe • vor 5 Monaten

دنیا میں کسی کے لیے، چاہے اس نے سینکڑوں قتل کیے ہوں، چاہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اسمگلر ہو، چاہے اس نے دنیا کی بدکاریاں کی ہوں، آج تک کسی کے لیے یہ نہیں ہوا کہ اس کے گھر والوں سے ملاقات پر پابندی ہو۔ عمران خان کا کیا کام؟ ایک سابق وزیراعظم ہے، نہ سہی ایک اچھا کرکٹر رہ چکا ہے، نہ سہی پاکستان کا سٹیزن تو ہے۔ ان سے ملاقات پر پابندی کس بنیاد پر؟ حالات بغاوت کے بھی پکے ہیں، حالات مردہ باد زندہ باد کے بھی پکے ہیں، حالات خانہ جنگی کے پکے ہیں۔ ہمیں صرف یہ ڈر ہے کہ خدانخواستہ اگر ہم عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پاکستان اس کو سہہ سکے گا یا نہیں؟ اس کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس کا ہم سب کو ڈر ہے۔ ہم مجرم سمجھتے ہیں شہباز شریف کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں ہر اس پارٹی کو جس نے 24ویں، 25ویں ترامیم میں ووٹ دیا۔ آپ کے ووٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آپ نے اپنے عدلیہ کے پر کاٹ دیے، آپ نے اپنی میڈیا پر پابندی لگائی، آپ نے اپنے پارلیمنٹ کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ اب آپ کے خلاف جائے گا۔ زرداری صاحب ہو سکتا ہے آپ صدر نہ رہیں، شہباز صاحب ہو سکتا ہے آپ وزیراعظم نہ رہیں کیونکہ آپ نے ایک غلط تالاب میں پانی ڈال دیا ہے۔ یہ ابھی بھی وقت ہے، مہربانی کریں۔" اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

20,224 Aufrufe • vor 3 Monaten

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,157 Aufrufe • vor 2 Monaten

ہم کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے نہیں بیٹھے وہ ایک افسوسناک اضطرابی گفتگو تھی اس میں کوئی ایسا بیانیہ نہیں تھا جس کا جواب دیا جائے محض الزامات تھے ہم آپ کو اس کا جواب نہیں دینگے صرف اتنا کہیں گے پاکستان کی عوام کو مت دھتکارو، پاکستان کی عوام عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان سیکیورٹی تھریٹ نہیں عمران خان نے اس ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے پاکستان کے کروڑوں نوجوان عمران خان کی وجہ سے اس بیانیے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نسل پرستی فرقہ واریت صوبائیت جیسے تمام بیانیوں کو رد کرکے عمران خان پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے عمران خان جو ایک قومی لیڈر ہے اس کو سیکیورٹی تھریٹ کہا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور پہلی بار یہ بات نہیں ہوئی۔ 1990 میں میں اصغر خان کا وکیل تھا جس نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے خلاف مقدمہ لڑا اس کا موقف تھا کہ انہوں نے انتخابات میں مداخلت کی جس کی وجہ سے ہمارے عسکری اداروں کا امیج خراب ہوا ہے۔ سولہ سال مقدمہ چلا اس وقت کی ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ایک ایفی ڈیوٹ فائل کیا جس میں تسلیم کیا کہ ہم نے مداخلت کی ہم نہیں چاہتے تھے بینظیر وزیراعظم بنے پیپلز پارٹی کا وجود باقی رہے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نیشنل سیکیورٹی تھریٹ ہیں۔ بار بار انہوں نے فیصلے کیے کہ عوام کا کوئی مقبول لیڈر سیکیورٹی تھریٹ ہے جس کو منظر سے ہٹانا ضروری ہے لیکن ایسا ممکن نہیں پاکستان کی عوام باشعور ہے ان کے دلوں سے آپ ان کے لیڈر کو نہیں ہٹا سکتے پاکستان کے عوام جانتے ہیں ان کی خاطر کون سیاست کررہا ہے، کون ہے جو عہدے سے بے نیاز ان کے حقوق کی خاطر لڑ رہا ہے۔اس بدلتے ہوئے معاشی نظام میں جب تک عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں ہونگے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ جب تک پاکستان کی عوام کی مرضی پاکستان کے ایوانوں میں پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس میں نہیں گونجے گی تب تک فلاح ممکن نہیں ہے۔ آپ نے سولہ سیٹوں والی پارٹی کو پاکستان کی حکومت دے کر کہا یہ عوامی فلاح کے منصوبے بنائیں گے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ جھوٹ اور فریب کے اس نظام کو پاکستان کے عوام کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

64,970 Aufrufe • vor 8 Monaten

ایک زمانے میں زیادہ تر لوگ ٹی وی دیکھا کرتے تھے اور اس وقت ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ پی ٹی آئی کی شوشل میڈیا ٹیم پیڈ ہے اورصرف ٹرول کرتی ہے- پھر ہوا رجیم چینج اور سب کو پتہ چل گیا ٹی وی چینلز کی اصلیت کا اور لوگ اپنی خبریں سوشل میڈیا سے لینے لگے۔ اس دوران سب کو اندازہ ہوا کے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم دنیا کی سب سے زیادہ innovative ڈیجیٹل ٹیم ہے جو اپنے ملک سے اتنا پیار کرتی ہے کہ اپنی نوکری، کاروبار، پڑھائی اور فیملی ٹائم قربان کر کے عمران خان اور پاکستانی عوام کی عکاسی کرتی ہے اور ان کو بدلے میں کوئی عہدہ نہیں چاہیے ، صرف ایک آزاد اور بہتر پاکستان چاہیے تاکہ وہ دنیا میں سر اٹھا کر جییں! سسٹم نے سب کچھ قابو پا لیا مگر اس سوشل میڈیا کی طاقت کے آگے ہار گیا- بدترین فسطائیت اور بلا چھیننے کے باوجود ۸ فروری کو نا صرف ووٹرز کو موبیلائز کیا سوشل میڈیا نے بلکہ پورے پاکستان میں امیدواروں کے انتخابی نشان بھی یاد کروا دیے! اسی طاقت کو کم کرنے کے لیے مہرے استعمال کر رہے ہیں اب۔ نتیجہ وہی ہوگا جو ۸ فروری کو ہوا تھا، کیونکہ یہ ۹۰ کی دہائی نہیں ہے۔ لوگ بہت باشعور ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں پی ٹی آئی کے جو سوشل میڈیا والنٹئیرز ہیں وہ عمران خان اور پاکستان کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔ آپ سب اس جدوجہد کے ہیرو ہیں اور اس وڈیو میں پوری دنیا کے اخبارات اور ویب پورٹلز نے اعتراف کیا ہے اور وہ جھوٹا ٹرول والا بیانیہ ہمیشہ کے لیے دفنا دیا ہے۔ اب دنیا ہم سب کو اے آئی وڈیو ، فیس بک باٹ اور سسٹم کی censorship کو توڑنے کے experts کے تور پر جانتی ہے۔ اگلے کئی سالوں تک ایک case study ہوگا پی ٹی آئی سوشل میڈیا۔ یہ سب آپ کے آئڈیاز تھے۔ میرا تمام سوشل میڈیا کے ٹائیگرز اور ٹائیگریسس کو سلام ہے۔ شکریہ!

Jibran Ilyas

127,556 Aufrufe • vor 2 Jahren

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 Aufrufe • vor 1 Monat