Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اماراتUAE میں لوگو کو Job's سے فارغ کیا جارہا ہے! لوگوں کو جھوٹ بولا جارہا ہے جیسے اس خاتون کو کہا گیا ہے, کہ کمپنیوں کو ری ڈیزائن اور اپڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) میں حالات انتہائی سنگین ہوتے جا رہے...

137,865 Aufrufe • vor 20 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

میں ٹرمپ انتظامیہ کی ان کیمیرابریفنگ سے نکلا ہوں جہاں بند دروازوں کے پیچھے بھی وہی باتیں ہو رہی ہیں جو باہر ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ اپنے شوق کی جنگ میں پڑ تو گیا ہے لیکن آگے اس کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے۔ اسکا دعوی ہے کہ حملہ اسلئے کیاکہ ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا ۔ یہ جھوٹ ہے! اگر ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا تو پچھلے سال ٹرمپ نے یہ دعوی کیوں کیا کہ اس نے ایران کا ایٹمی پروگرام Obliterate کر دیا ہے؟ ٹرمپ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اس نے امریکی قوم سے پرائی جنگوں میں نہ پڑنے کا وعدہ کیوں توڑا؟ ٹرمپ کہتا ہے کہ اس نے خامنائی کو قتل کر کے ایران کو آزاد کر دیا لیکن سی آئی اے کی رپورٹ ہے کہ خامنائی کے بعد ایران اور زیادہ radical ہو جائے گا۔اصل میں وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو 40سال سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور اسے چالیس سالوں میں ٹرمپ جیسا عقل سے پیدل صدر نہیں ملا تھا جو امریکہ کو پرائی جنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جائے۔ اب اسے ٹرمپ کی صورت میں مل گیا ہے۔ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس جنگ کی End Gameکیا ہو گی۔امریکی سینیٹر نے ٹرمپ کی آتما رول دی

Harmeet Singh

12,373 Aufrufe • vor 6 Monaten

ٹرمپ کون ہوتے ہیں کہ وہ کسی آزاد قوم اور ان کی سرزمین پر قبضہ کرنےکی بات کررہے ہیں ؟ ایک آزاد قوم کو دوسرے ملکوں میں مہاجر بنانے کی بات کررہے ہیں، ٹرمپ کا کا کٹھ پتلی پندرہ مہینے سے فلسطینیوں کا قتل عام کر کے انسانی جرم کا مرتکب ہوا ہے،اگر صرف دو تین شہروں میں فوجی کاروائی کے نتیجے میں قتل ہونے والوں کے پاداش میں صدام حسین کو لٹکایا جا سکتا ہے تو اس پاداش میں جہاں نیتن یاہو کو سرعام پھانسی ملنی چاہیے تھی اس کو آج امریکہ فلسطینیوں کے خون پر ان کو سپورٹ کر رہا ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد جب دنیا میں یہودی در بدر ہو گئے اور جرمنوں کے ہاتھوں پٹ گئے تو اس زمانے میں لیگ آف نیشنز اقوام متحدہ میں قرارداد پاس کی کہ ان دربدر شدہ یہود یوں کو جگہ دینا ان کو از سرِ نو بسانا یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے، بین الاقوامی ذمہ داری قرار دے کر صرف فلسطین کی سرزمین کو اس کے لیے کیوں خاص کیا گیا؟ کسی ملک نے ان کو جگہ نہیں دی اور سب کو اکٹھا کر کے فلسطین کی سرزمین میں لایا گیا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو، کسی یہودی کو جبراً کہیں آباد نہیں کیا جائے گا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی سرزمین پر سرزمین والوں سے پوچھے بغیر جبرا ان کو آباد نہیں کیا جا سکتا، یہودیوں کو بھی جبراً لا کر آباد کیا گیا، فلسطین سے بھی جبراً زمین لی گئی اور وہاں ان کو آباد کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین Over Populated Area ہے یہاں مزید کسی کو آباد کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود Over Populated Area پر ان کو آباد کیا گیا، قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور ہے اس پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، اس معاشی لحاظ سے کمزور ترین ملک پر اتنی بڑی یہودی آبادی کا بوجھ ڈال دیا گیا، اور آج تک یہ صرف بوجھ ہی نہیں بلکہ ان کی پیٹھ میں گھونپا ہوا چھرا ہے، خنجر ہے جو آج بھی ہمارے جسم کو چھو رہا ہے اور ہمارے جسم سے لہو بہہ رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,921 Aufrufe • vor 1 Jahr

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 Aufrufe • vor 9 Monaten

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 Aufrufe • vor 9 Monaten

چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق اس دور کے امریکی صدر ریگن کی چاپلوسی کیا کرتے تھے امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو زبردستی ضیاء الحق نے گھسایا، عمران خان ہمیشہ سے جنگوں کے خلاف ہیں اور ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ہمیں پرائی جنگ میں نہیں کودنا چاہیئے، آج پھر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چاپلوسی کرتا ہے اس نے افغانستان پر زبردستی حملہ کر دیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بگرام ایئر بیس ہمارے پاس ہونی چاہیے تھی اور اگر ہم یہاں سے ایران پر حملہ کرتے تو ایران کی حکومت کو اور اس کے ملک کو تباہ کر سکتے تھے، آج اسی چاپلوسی میں یہ جنگ شروع کر دی گئی ہے اور پاکستان پھر پرائی جنگ میں کود گیا ہے، خواجہ آصف آج عاصم منیر کا چمچہ بنا ہوا ہے جس طرح اس کے والد ضیاء الحق کے چمچے تھے اور وہی چیز دھرائی جا رہی ہے، یہ چمچہ کلچر پاکستان کے اندر تباہی و بربادی کا ذریعہ بن رہا ہے، ضیاء الحق کو پرائی جنگ میں کودنے سے کیا ملا تھا؟ معیشت اس نے تباہ کر دی پاکستان میں ہیروئین کلچر لے کے آ گیا کلاشن کوف کلچر لے کے آ گیا، افغانستان کی سپریم کورٹ کے اعظم شیخ مولوی عبد الرؤف نے پاکستان کے خلاف لڑنا جہاد قرار دے دیا ہے اور افغان نوجوانوں کو کہا ہے کہ ہم پہ جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور اپنے ملک کا دفاع اب ہم نے کر دیا ہے اور یہ ایک جہاد ہے، دونوں طرف سے جہاد کے فتوے آ رہے ہیں دونوں طرف مسلمان ہیں اور بے مقصد جنگ، دوسرے کی جنگ پاکستان نے شروع کر دی ہے تو پھیل رہی ہے، کیا دہشتگردی بگرام ایئر بیس امریکہ کو دینے سے ختم ہو جائے گی؟ #PakAfghanConflict #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

10,252 Aufrufe • vor 6 Monaten

آپ نے جن افغانوں کو یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے رہے کہ ہم نے ان کی اتنے سال مہمان نوازی کی اور پھر جس ذلالت اور انسانیت سے گرے ہوئے انداز میں آپ نے ان کو نکالا اور پھر اب آپ حملہ آور ہوئے اور کس کے کہنے پر حملہ آور ہوئے جس طرح زبیر بھائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایران کے معصوم 136 بچوں کے خون کا قاتل ہے وہ سکول پر بمباری کر رہا تھا اور اس وقت بھی سکول پر بمباری ہو رہی تھی میناب میں جہاں پر کلاس روم میں بچے بیٹھے ہوئے تھے اس ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھی آپ کو افغانستان کی جنگ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایز ڈوئنگ اے گریٹ جاب کس کو آپ الو بنا رہے ہیں ہم یہ 25 کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ یہی جو آج کابل کے اوپر لوگ بیٹھے ہیں کل آپ کہہ رہے تھے کہ غلامی کی زنجیریں آزاد ہو گئی ہیں پوری قوم کو پتہ ہے آج ایسا کیا ہو گیا کہ آپ بمباریاں کر رہے ہیں سویلینز کو مار رہے ہیں ادھر بھی کیجولٹیز ہو رہی ہیں ہم تو نہیں چاہتے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان امن کی داعی ہے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہمیشہ امن کا ایجنڈا لے کر چلتی ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ اس مسئلے میں سیریس ہیں تو ہم آپ کو فیسلیٹیٹ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر خیبر پختونخواہ کی حکومت ہے وہاں کے قبائلی عوام ہیں آپ نے کس سے پوچھا ہے کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس معاملے میں آن بورڈ لیا گیا ہے یقیناً ہرگز نہیں مجھے پتہ ہے تو کس طرح یہ معاملہ لے کر جا رہے ہیں دوسری بات ایران کے حوالے سے ابھی تک پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی ریاستی بیانیہ ایران کے حوالے سے بالکل بھی کلیئر نہیں ہے کہ ہم اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں خالی بیانوں سے کام نہیں چلتا میں آج یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ حکومت جوائنٹ سیشن بلائے جس کا ہم نے مطالبہ کیا ہے اس جوائنٹ سیشن میں قرارداد لے کر آئیں مذمت کریں جو اسماعیل ہنیہ صاحب کو شہید کیا گیا جو رہبرِ معظم تھے جن کا ہمارے دلوں میں ان کے لیے بہت احترام ہے مذمت کریں ان 136 بچوں کی جن کو امریکیوں نے مارا ہے اسرائیلیوں نے صیہونیوں نے مارا ہے 170 سے اوپر ہیں پہلے جب وہ تو 136 رپورٹ ہوئے تھے تو ہم اس میں ساتھ دیں گے آپ تگڑے ہو جائیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

24,171 Aufrufe • vor 6 Monaten