Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

امریکا اور ایران دونوں خودمختار اور آزاد ممالک ہیں، جن کے اپنے سیاسی مقاصد ہیں، اور انہی مقاصد کے حصول کے لیے یہ تنازعہ پیدا ہوا ہے،دنیا اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے اور اس پر بڑی ذمہ داری عائد ہو چکی ہے۔ پاکستان نے ایک ثالث...

15,148 просмотров • 4 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

معروف چینی محقق وکٹر گاؤ کا شرمین نروانی کے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر تفصیلی جواب: میں پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج غیور مسلمان ہیں اور وہ عالمِ اسلام کے تمام ممالک کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے کسی برادر اسلامی ملک کی بربادی نہیں چاہیں گے۔ ایران جنگ میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔ پاکستان، سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی فوجی پہلے ہی بڑی تعداد میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ لہٰذا اگر کوئی سعودی عرب کے خلاف کوئی بیوقوفانہ حرکت کرے گا تو یہ معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اس وقت تک اپنے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جب تک کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی سنجیدہ ترین خطرہ ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اِس وقت اُس سطح پر ہیں۔ جہاں تک پاکستان اور چین کی بات ہے تو ہم حقیقی بہن، بھائی ہیں۔ اور ہم ایک دوسرے کو تمام تر طرح سے مدد اور حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی قانونی طور دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ پر ہم بہت سے اہم ترین معاملات پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپس میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ لہٰذا اگر چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کو منفی انداز میں دیکھنے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دنیا میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی تعلقات ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کو پتہ ہے اسے کیا کرنا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے جائز مفادات کا ایک زبردست محافظ ہے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے۔

Naya Daur Videos

96,427 просмотров • 5 месяцев назад

آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے ہر محبِ وطن پاکستانی کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ یہ مناظر جاپان کے ہیں، جہاں "اسپیشل بچوں" کی معصوم آوازوں میں جب “دل دل پاکستان، جان جان پاکستان” کے بول گونجے، تو وقت جیسے تھم گیا۔ یہ صرف ایک نغمہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمی عزت اور محبت کا ثبوت ہے جو آج پاکستان کو دنیا کے ہر کونے میں مل رہی ہے۔ جاپانی بچوں کی یہ آوازیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کا بیانیہ اب "خوف" کا نہیں بلکہ "محبت اور امن" کا بن چکا ہے۔ جب جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں بچے ہمارا قومی نغمہ گاتے ہیں، تو یہ ہماری ثقافتی سفارت کاری کی سب سے بڑی جیت ہے۔ دل دل پاکستان" ہماری وہ شناخت ہے جو نسل در نسل اور ملک در ملک منتقل ہو رہی ہے۔ یہ ویڈیو ان دشمنوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دور میں پاکستان نے جس طرح عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کیا ہے، اس نے عام عالمی شہری کے دل میں پاکستان کی جگہ بنا دی ہے۔ آج دنیا ہمیں ایک "مددگار اور ذمہ دار" قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے 🇵🇰🇵🇰😍💝😍🇵🇰🇵🇰

scorpio♏#DJ 🧓🏻

11,763 просмотров • 4 месяцев назад

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو “پتھر کے دور میں دھکیلنے” کی دھمکی دے کر دنیا کو ہلا دیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اب ان کی بات پر کوئی یقین کرتا ہے؟ گزشتہ 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کرنے کے دعوے اور پھر نئی دھمکیاں—یہ تضاد عالمی سطح پر بے چینی بڑھا رہا ہے۔دوسری جانب ایران نے سخت مزاحمت دکھائی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کی فوجی طاقت کو نقصان پہنچا ہے اور انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ آنے والے دن ایران کے لیے مزید مشکل اور طویل ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ خطہ پہلے ہی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔اسی دوران سفارتی راستے مکمل بند نہیں ہوئے اور پاکستان مذاکرات کے ممکنہ مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔کیا یہ واقعی جنگ کا اختتام ہے… یا ایک اور خطرناک دھوکہ؟ آج کے On My Radar میں میرے ساتھ موجود ہیں ایئر وائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری، جو اس صورتحال کا گہرا، مدلل اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتے ہیں۔مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

15,637 просмотров • 5 месяцев назад

مذاکرات کی باتیں بہت مگر باقاعدہ مذاکرات ابھی کہیں دور ہیں اس کے برعکس امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شدت اختیار کر رہی ہے، مگر پھر بھی پس پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان indirect negotiations میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔اس کے باوجود زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں، جس نے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات اور درآمدی بل کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔آج کے On My Radar میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح انداز میں کہا کہ یہ جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی اور اس کا واحد حل مذاکرات ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران عالمی سمندری قوانین کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں پر کوئی پابندی یا ٹیکس عائد نہیں کر سکتا، اور پاکستان کو فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہوگا تاکہ عالمی جھٹکے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ OMR مکمل شو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

14,804 просмотров • 5 месяцев назад

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 просмотров • 5 месяцев назад

پاکستان ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جو طالبان کبھی پاکستان کے قریب ترین اتحادی سمجھے جاتے تھے، آج وہی پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ سرحد پار فضائی حملے، سخت بیانات اور تمام سیاسی قیادت کی غیر معمولی یکجہتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاست سمجھتی ہے کہ اب سرخ لکیر عبور ہو چکی ہے۔یہ صرف بیرونی جنگ نہیں، پاکستان اندرونِ ملک دہشتگردی اور شورش کے خلاف بھی ایک شدید جنگ لڑ رہا ہے، جس کی جڑیں افغانستان سے جڑی بتائی جا رہی ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ یہ تعلق کہاں اور کیسے ٹوٹا؟ آج کے On My Radar میں اس جنگ اور بدلتے سیکیورٹی منظرنامے پر نہایت گرم اور فکر انگیز گفتگو کی گئی ہے۔ پروگرام میں ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز ملک اور سینئر صحافی و مصنف زاہد حسین کھل کر تجزیہ کرتے ہیں۔مکمل اور تفصیلی گفتگو کے لیے On My Radar کی مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں۔

Kamran Khan

34,513 просмотров • 6 месяцев назад

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 просмотров • 2 лет назад

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 8 месяцев назад