Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی کنونشن سنٹر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا اب بھی کرسکتا ہوں افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں وہ معاملات کو افہام و تفہیم سے...

49,752 views • 11 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

آج کشمیر، میرپور اور کوٹلی سے وفد آیا۔ وفد نے مجھے کشمیر کی صورتِ حال پر بریف کیا۔ بہت افسوس ہے کہ کشمیر میں جانی نقصان ہوا ہے اور وہاں بحران ہے۔ میری وفد سے جتنی بات ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ کشمیری پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے، وہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسائل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔ جو معاہدہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہوا تھا، اس پر عمل کیا جائے۔ موجودہ صورتِ حال سے متعلق معاملات مفاہمت، مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔ کشمیری ہم سے بھی زیادہ اچھے پاکستانی ہیں اور وہ ہم سے زیادہ پاکستان کے لیے درد رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسمبلی میں، میں نے اور اپوزیشن لیڈر نے کشمیر کی صورتِ حال پر بات کی۔ ہم کشمیر کا دورہ بھی کریں گے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔

Asad Qaiser

30,936 views • 2 months ago

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 views • 6 months ago

سہیل آفریدی کا بیان کہ افغانستان پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے تو اس کے ثبوت کیا ہیں انتہائی افسوسناک ہے وزیراعلی خیبرپختونخوا کو کیا ثبوت چاہیے؟ دوحا،استنبول میں ہونےوالےمذاکرات میں افغانستان نےانکارنہیں کیا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی نہیں ہورہی کیا وزیراعلیٰ کے پی کو افواج پاکستان کےافسران، جوانوں، سویلین افراد کی شہادتیں نظر نہیں آرہیں ہیں ایف سی ہیڈ کوارٹرز ، پولیس اور دیگر اداروں پر حملے ہورہے ہیں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث نکلتے ہیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس میں خودکش حملہ کرنے والے کا تعلق بھی افغانستان سے ہے پاکستان افغانستان کا ہمیشہ سے حامی ملک رہا ہے اور آج بھی ہے کوئی بھی ملک اپنی داخلی سلامتی کی قیمت پر تعلقات نہیں بناتا پاکستان کی سلامتی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے ہم قومی سلامتی کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری ادا کریں گے افغان حکومت یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین، پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو کوئی دہشتگرد تنظیم افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کارروائیاں کرے گی تو اس کی سرکوبی کریں گے افغانستان کو پیغام ہے کہ دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل بند کرے

Dr. Tariq Fazal Ch.

14,024 views • 8 months ago

ڈی آئی خان : جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گفتگو افغانستان کی تاریخ میں پاکستان دوست عنصر امارت اسلامیہ کی صورت میں موجود ہے : مولانا فضل الرحمان ملا عمر ؒ کے دور میں بھی جب انقلاب آیا تو پاکستان نے ان کو تسلیم کیا : جے یو آئی سرپراہ مجھے امارت اسلامیہ کی جانب سے دعوت ملی کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات پر باہمی گفتگو ہو:مولانا فضل الرحمان ہم نے دورے کے ایجنڈے پر ریاست کو اعتماد میں لیا : مولانا فضل الرحمان ہمارے دورہ میں دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبہ جات میں باہمی مواقع پر گفتگو دوہ کا ایجنڈا تھا: مولانا فضل الرحمان نائب وزیر اعظم ملا عبدالکبیر کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی، انہوں نے پاکستان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا : مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم سمیت تمام ذمہ داروں سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے مثبت رویے دیکھنے کو ملے : مولانا فضل الرحمان انہوں نے کچھ واقعات کی جانب اشارہ بھی کیا جس سے تلخی پیدا ہوئی لیکن وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مثبتہ رویہ کے حامل تھے: جے یو آئی سربراہ سب اہم بات یہ تھی کہ عسکریت پسندوں کی وجہ سے جو پاکستان کو نقصان ہوا ہے اس کا ہمیں ادراک ہے: مولانا فضل الرحمان اس کے لئے باہمی اتفاق کے ساتھ طویل المدت اسٹریٹجی بناکر مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے : مولانا فضل الرحمان ایران کو کارروائی سے پہلے پاکستان کو آگاہ کرنا چاہیے تھا، ایران کو کارروائی کے بجائے پاکستان سے مدد مانگنی چاہیے تھی، تاہم اب پاک ایران معاملے پر مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمان کشیدگی کی ابتداء ایران نےکی ہے، ایران کے معاملے پر پاکستان کو بھی جوابی احتجاج ریکارڈ کرانا پڑا۔ مولانا فضل الرحمان مغرب میں یہودی لابی اب بھی بانی پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہی ہے، مغرب کی نوکری کرو لیکن پاکستان کے مفادات تو نہ بیچو، جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ پاکستان کےلیےکھڑا ہے، یہ پاکستان کے خلاف کھڑا ہے۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

43,926 views • 2 years ago

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,329 views • 10 days ago

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,913 views • 11 months ago

ابھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ سینیٹر مشتاق احمد خان، جو پاکستان کے اندر مزاحمت کی، انسانی حقوق کی، ظلم اور جبر کے خلاف ایک توانا آواز ہیں، ان کو ان کے دفتر واقعہ ایف ٹین (F-10) مرکز اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اور اطلاعات کے مطابق ان کو کل ایف ٹین اسلام آباد کے اندر، کشمیر میں ہونے والی ناانصافی، جبر اور بربریت کے خلاف مظاہرہ کرنے اور اہل جموں و کشمیر، آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے لیے آواز اٹھانے کے جرم کے اندر گرفتار کیا گیا ہے۔ میں بحیثیت جموں کشمیر نیشنل، ایک جموں کشمیر کے رہنے والے کی حیثیت سے اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اہل کشمیر کے لیے کوئی بھی آواز اٹھاتا ہے، اس کے خلاف ظلم، جبر اور ناانصافی کرنے والوں کے خلاف کوئی بھی آواز اٹھاتا ہے، تو اس کو تحفظ دیا جانا چاہیے تھا، اس کی آواز کو بلند کیا جانا چاہیے تھا، اس کی آواز کو مزید پھیلایا جانا چاہیے تھا۔ لیکن یہاں کشمیر کے لیے، اہل کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کے جرم میں سینیٹر مشتاق احمد خان کو جس طرح گرفتار کیا گیا ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں، میں اہل کشمیر کی طرف سے اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔" وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری Khalid Yousaf Chaudry

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

13,068 views • 1 month ago

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,053 views • 2 months ago

ایک مضبوط اسلامی بلاک ہماری جماعت کے نظریہ اور منشور کا حصہ ہے،فی الوقت یہ بلاک او آئی سی کی شکل میں علامتی طور موجود تو ہے مگر ہم اس کو عملی طور مضبوط بنانا چاہتے ہیں جس میں فلسطین اور کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل حل ہوسکیں،ہمیں اسلامی دنیا میں تقسیم کی وجوہات اور اس کے ممکنہ حل کی طرف بھی سوچنا چاہئے،اختلافات کو کم کر کے معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ریاض معاہدہ خوش آئند ہے،سعودیہ اور پاکستان اسلامی دنیا کو لیڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،دنیا بدل رہی ہے،200 سال بعد پھر سے معیشت ایشیا کی طرف لوٹ رہی ہے،چین امریکہ کی معاشی برتری کو چیلنج کر رہا ہے اور چین کے پاس ایشیا میں وحدت پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے،ہمارے پاس بھی سارک اور آسیان جیسے علامتی فورمز کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ایشیا میں داخلی تنازعات کی بڑی وجہ مودی جیسے حکمران ہیں،لیکن امن پسند قیادت ان اختلافات کو اصولی بنیادوں پر ختم کرسکتے ہیں،بین الاقوامی ثالثی بھی ہم قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس وقت عالمی تغیرات کو سمجھ کر ان کے مطابق فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

22,965 views • 1 year ago

میں یہ سوچتا ہوں کہ محسن نقوی نے کس capacity میں یہ باتیں کی ہیں، وہ کابینہ کے رکن ہیں، اگر ناکام ہو چکا ہے تو پھر یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ مستعفی ہو جائےیا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آجائے، نوکری بھی اسی تنخواہ پر کرنی ہے اور باتیں بڑی بڑی کرنی ہیں تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں ، '''چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا بڑا ہے مجھ کو اکثر ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے''' یہاں پر پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل ہے آج بھی ہے کل بھی تھا وہ ملک کا آئین ہے آئین کے مطابق ملک کو چلاو، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، قانون سازی شروع ہو جائے گی، عوام میں خوداعتمادی بھی آجائے گی، اصل میں ہماری مرضی کی حکومت ہونی چاہئے، ہم پر جبرا حکومت مسلط نہ کی جائے لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں جیسے واقعی عوام کی حکومت ہے جبکہ یہ بھی انہی کی حکومت ہوتی ہیں اور پیچھے لگام ان کے پاس ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمن کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل

Siddique Jan SMT

15,684 views • 1 month ago

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 views • 2 months ago

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 views • 8 months ago

افغان مہاجرین کی جبری انخلاء کا فیصلہ جذباتی قسم کا ہے،افغانستان سے ناراضگی کا زور ہم ان کے ہم مہاجرین پر نکال کر انہیں تکلیف دے رہے ہیں،یہ مسئلہ 2017 میں اٹھا تھا،اس وقت ہم نے تجویز دی تھی کہ آپ کیٹگریز طے کریں، اس میں ایک کیٹیگری گریجوئیٹ مہاجرین کی ہے، یہ لوگ پاکستان کا اسکل ہیں، ان کو دھکے دے کر نکالنے بجائے ملکی ترقی کے لئے انہیں کھپانا چاہئے۔ دوسری کیٹیگری افغان سرمایہ کار کی ہے جو پچھلے 35 برس سے اقتصادی ترقی میں حصہ ملا رہا ہے، ان کے سرمایہ کو تحفظ دیا جائے، اگر وہ اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کریں گے تو اس کے اثرات معیشت پر ہوں گے۔ تیسری کیٹیگری طلباء کی ہے، جن کی منتقلی سے ان کے نصاب میں فرق آئے گا ان کی تعلیم میں حرج ہوگا۔ ان تجاویز کو اس وقت کی کابینہ نے منظور کیا تھا ، اب کونسی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے اور کس نے منظوری دی ہے ؟ افغان مہاجرین یک طرفہ مسئلہ نہیں ہیں،افغانستان پاکستان کا دو طرفہ مسئلہ ہے اور ہم نے خوشی سے ان کو قبول کیا تھا اور پھر پشتون معاشرے میں جہاں مہمان نوازی ان کا ایک طرہ امتیاز ہے ان کی روایات کا ایک روشن حصہ ہے، آپ چالیس سال تک کسی کو مہمان رکھ کر جب گھر سے نکالے اور لات مار کر نکالیں گے تو آپ کی چالیس پینتالیس سال کی مہمانداری کا نفی ہوجائے گی۔ اس لئے مہاجرین کے انخلاء کے لئے جامع حکمت عملی بنائی جائے،ان کی واپسی کا شیڈول طے کیا جائے،یہ واپسی کا کیسا طریقہ ہے کہ ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے،بین الاقوامی برادری کو اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، تو یہ ساری چیزیں نیگوسئیشن سے طے ہو سکتی ہیں اور ہمیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے، الیکشن سے قبل جے یو آئی کا وفد افغانستان گیا تھا،ہم وہاں پر ایک ہفتہ گذار کر کامیاب واپس آئے تو لیکن یہاں حکومت اتنی نااہل ہے کہ انہوں نے ان معاملات کی پاسداری نہیں کی،پاکستان اچھے کردار سے نیک نام ہوگا اس طرح کے کردار سے پاکستان کو آپ بیرونی دنیا میں کوئی اچھا نام نہیں دے رہے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,241 views • 1 year ago

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ۔مولانا فضل الرحمان فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔ مولانا فضل الرحمان قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان کیا ان کو یاد نہیں کہ نازنیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ۔ مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔ مولانا فضل الرحمان اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ مولانا فضل الرحمان فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان تحرکیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمان نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے ۔ مولانا فضل الرحمان برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ۔ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمان اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ۔ مولانا فضل الرحمان کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

40,212 views • 2 years ago