Sensitive content

This media may contain sensitive content.

正在加载视频...

视频加载失败

ان سے ملیں #MiddleClass پاکستانی #CocoLovelock چھوٹا قد مگر خواب بڑے بڑے مڈل کلاس نے ہمیشہ کوئی نئی گشتی ہی میڈیا پر پیش کی ہے۔ اب بھی کہتا ہوں کہ انکو #OnlyFans کے اکاؤنٹ بنا کر دیں تاکہ یہ اپنے جسم کی اچھی قیمت وصول کریں۔ coco lovelock #Pakistan...

11,489 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

سوشل میڈیا تنقید سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا - میں سوشل میڈیا پر جھوٹ بول کر اپنے بچوں کو حرام کا پیسہ نہیں کہلاتا - کچھ لوگوں نے کہا تھا میں کبھی بھی پاکستان چھوڑ کے نہیں جاؤں گا اور میں نے خود دیکھا کہ گدھے پر گدھا بیٹھ کر یہاں آگیا - شاہد آفریدی بال ٹیمپرنگ کر کے کھیل میں بددیانتی کرنے والا یہ شخص جو اپنی حلال کمائی کو حرام میں بدل دیتا ہے خود افریدی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے مگر اپنے ہی قبیلے پر ہونے والے ڈرون حملوں پر کبھی زبان نہیں کھولتا یہ نوسرباز ان لوگوں پر زبان درازی کر رہا ہے جنہوں نے اس ملک میں رہ کر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں وہ اذیتیں جھیلیں جن کا تصور بھی یہ شخص خواب میں نہیں کر سکتا انہوں نے مزاحمت کی تاریخ رقم کی اور اب اگر وہ اس ملک سے ہجرت کر گئے کیونکہ اس وطن میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی تو ان پر بھونکنا یہ شخص اپنا فرض سمجھتا ہے بڑے گھر کی ناجائز اولاد اب نوجوانوں کو یہ درس دے رہا ہے کہ انہیں کس سمت میں چلنا چاہیے میرے خیال میں پہلے اپنا قبلہ درست کرے پھر نصیحت کی بات کرے تو شاید بات میں وزن پیدا ہو

Agha Sheikh Sarwar

599,576 次观看 • 9 个月前

خاموشی جرم ہے! دہشت گردوں کو پناہ دینے والے بھی مجرم ہیں! جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ قاتل کہاں سے آتے ہیں؟ انہیں پناہ کون دیتا ہے؟ ان کے لیے محفوظ راستے کون بناتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے کچھ عناصر جان بوجھ کر یا خوف کی وجہ سے ان شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی اور چشم پوشی مزید خون بہانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آتے—یہ ہمارے ہی شہروں، دیہاتوں، اور محلوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں رہائش دیتا ہے، کوئی خوراک، اور کوئی ان کی نقل و حرکت پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر ان کے معاون بن جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! جو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہی ایک دن انہی کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی کے خیرخواہ نہیں! یہ عناصر نہ مذہب کے وفادار ہیں، نہ ملک کے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کو یتیم، ماں کو بے سہارا، اور گھروں کو ویران کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف بروقت اطلاع نہ دینا، ان کی پشت پناہی کرنا، یا خوف کے مارے خاموش رہنا—یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ اپنی پولیس اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں! ہماری پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، مگر ان کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام دہشت گردوں کے بارے میں بروقت اطلاع دیں۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں، اگر کوئی غیر متعلقہ شخص علاقے میں رہائش اختیار کرے، اگر کسی کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں—تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اب فیصلہ کریں! آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ جنگ صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دہشت گردوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کا راستہ روکیں! کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں، کیونکہ خاموشی کا مطلب ہے کہ آپ خود اپنے شہر، اپنے ملک، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوں! خاموشی جرم ہے!

Defense Intelligence

20,096 次观看 • 1 年前

عمران ریاض کی لیک آڈیو، میاں اشفاق کا مشکوک کردار ڈاکٹر شہباز گل کی نظر میں ! اس ویڈیو میں ڈاکٹر شہباز گل کی گواہی کے بعد عمران ریاض کی آڈیو سنی جا سکتی ہے، جس میں میاں اشفاق کے حوالے سے ان کے خیالات جانے جا سکتے ہیں۔ کمپنی بہادر کی ایک ادا بہت اچھی لگتی ہے مجھے، کہ یہ اپنے ہر اثاثے کو بے نقاب کر کے رہتی ہے۔ ایک بات مجھے اپنی قوم کی بھی بہت اچھی لگتی ہے کہ اپنے صیاد کے پریم میں رہنے کے تصور سے بھی بہت پریم کرتی ہے۔ کل سے ڈاکٹر شہباز گل کا ایک کلپ وائرل ہوا پڑا ہے، جس میں وہ میاں اشفاق کو مبینہ طور پر آئی ایس آئی کا وکیل کہہ رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب بڑے نیچرل سے انداز میں کسی پر یہ پھبتی بھی کس جاتے ہیں کہ میں نے خود کو ٹارزن بنا کر پیش نہیں کرنا۔ پاکستانی صحافت میں یہ اعزاز جناب عمران ریاض کے حصہ میں آیا ہے کہ انہیں ٹارزن کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، ٹارزن صاحب کی ایک آڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر ٹارزن جی میاں اشفاق کے بہت بڑے حمائتی نظر آتے ہیں۔ یہ بات عادل راجہ بھی کہہ چکے کہ میاں اشفاق اصل میں ایجنسیوں کے وکیل ہیں، اپنی آڈیو میں ٹارزن جی اس بات پر سیخ پا نظر آتے ہیں کہ عادل راجہ نے میاں اشفاق کو غدار کیوں کہا؟ حقیقت جبکہ یہ ہے کہ عادل راجہ نے میاں اشفاق کو ایجنسی کا بندہ کہا تھا، جس کی گواہی ڈاکٹر شہباز گل نے بھی دے دی۔ یعنی عادل راجہ ایک بار پھر سچے ثابت ہوئے۔ ممکن ہے کہ ٹارزن جی کی یہ مبینہ آڈیو ان کی نہ ہو، اگر وہ چاہیں تو اس کی تردید کر سکتے ہیں ! تمام آثار اب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹارزن صاحب کوئی نہ کوئی ڈیل کر چکے میاں اشفاق کی وساطت ، مگر ٹارزن جی کی ضد ہے کہ انہیں صحافت کا ٹیپو سلطان ہی مانا جائے۔ دوسری طرف عوام کی بہت بڑی تعداد بھی ابھی تک ٹارزن صاحب کو ہیرو مانتی ہے۔ ٹارزن جی خود اشارہ کر چکے ہیں کہ عنقریب ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع ہو گا، لگتا ہے کہ ٹارزن صاحب کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے کہ بہت جلد ان کی حقیقت بے نقاب شروع ہونے والی ہے، لگتا ہے کہ لیکس کا موسم شروع ہونے والا ہے۔

Kashif Aslam

106,841 次观看 • 10 个月前

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,731 次观看 • 5 个月前

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,604 次观看 • 1 个月前