Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

💥💥💥انجینئر محمد علی مرزا کا جیو کے ساتھ یکجہتی میں مولوی علما کو دھمکی دی💥💥💥 انشاءاللہ وہ دن دور نہیں ہم مولویوں کو اٹھا کر پھینک دیں گے۔ انشاءاللہ ہم انہیں قتل نہیں کریں گے، بلکہ شمالی علاقے بھیج دیں گے جہاں وہ دن میں چار بار شادی کر...

28,535 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,697 просмотров • 2 месяцев назад

ان دنوں عاطف اسلم کی مسجد میں دی جانے والی اذان کی وڈیو بہت وائرل ہے۔ جس کے نیچے موجود بے شمار کمنٹس نے مجھے یہ پوسٹ لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ ویسے تو میں یہ بات بہت عرصے سے کہنا چاہ رہی تھی لیکن آج سمجھ لیں کہ وہ موقع ہاتھ لگ ہی گیا۔ بہت عرصہ پہلے، یوں کہہ لیں کہ میرے جاہلیت کے زمانے میں، میں بھی میوزک اور ڈرامہ انڈسڑی میں کام کرنے والوں کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھتی تھی۔ خاص طور پر ان کے منہ سے نماز وغیرہ کا ذکر سننا بڑا عجیب لگتا اور میں بھی باقی کے لوگوں کی طرح انہیں جج کرتی تھی کہ اس انڈسٹری میں کام کرنے والے تو بہت گناہگار ہیں۔ اب اس پوسٹ میں، میں اس انڈسٹری کو جسٹیفائی نہیں کرنے لگی اور نہ ہی اس بات کو کہ اس انڈسٹری میں کام کرنا گناہ ہے یا نہیں۔ میں بات کرنے لگی ہوں ان لوگوں کی۔ بات یہ ہے کہ ہم ہر اس شخص کو گناہگار سمجھتے ہیں، جن کے گناہ سے ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ وضاحت دیتی ہوں۔ ایک شخص ہے وہ بہت جھوٹا انسان ہے۔ وعدہ خلافی کرتا ہے۔ سود لیتا ہے۔ رشوت بھی لیتا ہے اور دیتا بھی ہے لیکن شراب نہیں پیتا۔ دوسرا شخص یہ سارے گناہ نہیں کرتا لیکن شراب پیتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پہلا شخص اپنے سارے گناہوں کے ساتھ کمفرٹیبل ہے، وہ انہیں برا نہیں سمجھتا۔ اس لیے اسے لگتا ہے کہ جو شرابی ہے، وہ تو بہت بڑا گناہگار ہے۔ اب دوسرا شخص پہلے والے کو گناہگار سمجھے گا کہ وہ تو سود کا کاروبار کرتا ہے۔ رشوت کا بھی لین دین ہے تو یہ تو بڑے گناہ کررہا ہے۔ ہم دوسروں کو ان گناہوں پر جج کرتے ہیں جن کے ساتھ ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ ہم جھوٹ بہت آسانی سے بول لیتے ہیں لیکن اگر کوئی ہمارے سامنے چغلی کرلے تو ہم اسے اس کے گناہ پر پکڑ لیں گے۔ جھوٹ بولنے والے کو کبھی جھوٹ گناہ نہیں لگتا۔ چغلی کرنے والے کو کبھی چغلی گناہ نہیں لگتی۔ اس طرح ہم انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی نماز اور قرآن کو بھی اسی بات پر جج کرتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ صدقہ دینے والے ہوں۔ ہم سے زیادہ عبادت کرنے والے ہوں۔ ڈرامہ دیکھنا بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا ڈرامے میں کام کرنا۔ تو پھر ہم ڈرامہ دیکھتے وقت کیوں نہیں کہتے کہ ہمارا نماز سے کیا لینا دینا؟ یا یہ کہ اتنے ڈرامے دیکھنے کے بعد، اتنے جھوٹ بولنے کے بعد، اتنی چغلیاں کرنے کے بعد، اتنے گانے سننے کے بعد اب ہم نماز کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ جیسے ہمیں لگتا تھا کہ عبایا میں موجود لڑکی یا داڑھی والا لڑکا بڑے نیک ہوں گے جبکہ جینز شرٹ پہننے والی لڑکی یا شیو والا لڑکا دین سے بہت دور ہو گا۔ لیکن میں نے حقیقت ان کے برعکس دیکھی ہے۔ ہم گناہ ثواب کا معاملہ کسی کے ظاہر کو دیکھ کر نہیں پرکھ سکتے۔ یہ لوگ سارا دن اسی سنگر کے گانے سنیں گے اور پھر جب اسے کوئی نیکی کرتے دیکھیں گے تو اس پر فتویٰ لگا دیں گے۔ کتنے منافق اور دوغلے لوگ ہیں۔ سارا دن ریلز دیکھنے والے ریلز بنانے والوں کو گناہگار بول رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ جسے نیکی کا موقع ملے وہ بڑا خوش قسمت ہے۔ کیونکہ اس دور میں نیکیاں کرنا بہت مشکل ہے۔ اللہ کے گھر میں اذان دینا ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ نیکی وہی شخص کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ چنتے ہیں۔ تو آج کے بعد اگر کسی کا گناہ آپ کو بہت بڑا لگ رہا ہے تو یاد رکھنا کہ آپ کے گناہ بھی کسی دوسرے کی نظر میں بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔ گناہ ثواب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی رہنے دیں۔ اپنی عدالت نہ لگائیں بلکہ اگلی عدالت کی فکر کریں جس میں آپ کے بھی گناہ برابر تولے جائیں گے۔ کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو بخش دیں گے تو اللہ تعالی ان لوگوں کو بھی بخش دیں گے۔ کیونکہ وہ صرف آپ کا رب نہیں ہے۔ #atifaslam #atifaslamofficial

Eshaal زہـــرہ

12,698 просмотров • 5 месяцев назад

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل اپنے موقف پر، اپنے کیے گئے انکشاف پر ڈٹ گئے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا تہلکہ خیز انکشاف کرکے سہیل آفریدی کو چیلنج کردیا 🔥🔥 کل کے جو آپ کے انٹرویوز آئے اُس میں آپ نے Deny کیا اُس خبر کو جو ہم نے دی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آپ کی ایک بہت ہی اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی اور ہم نے کورکمانڈر کا نام لیا تھا۔ پہلے ہم نے جس دن خبر دی بتایا کہ دو سے چار بجے، اُسی دن ہمارے سورس نے کنفرم کیا کہ ٹائمنگ غلط تھی چار بجے کے بعد اور یہ بھی بتایا کہ وہ سنئیر ترین پولیس افسران کے ساتھ ملاقات میں تھے، آئی جی کے گھر کے قریب۔ کتنی گاڑیوں پر گئے، کون کون انکے ساتھ تھا کورکمانڈر کے، کیسے وہ چیف منسٹر ہاؤس تک پہنچے۔ وہ تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں، ہم ان Details میں نہیں جارہے۔ اور ہمارے Source نے بتایا کہ ملاقات چار ساڑھے چار بجے کے بعد ہوئی، اگلے ہی ویلاگ میں ہم نے وہ اپڈیٹ کیا۔ آپ نے کہا کہ وہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری ذمہ داری کے ساتھ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں، اگر خبر غلط ہو تو میں پہلے ہی کہے دیتا ہوں، یہ سنی سنائی ہے، ہم اسکے اوپر پہرہ نہیں دے سکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے بہت قریبی شخصیت وہ اس کے سورس ہیں اور وہ ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بتا دیں، میں پکڑا بھی گیا تو خیر ہے، لیکن یہ آفریدی صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ سب کو پتہ ہے۔ اچھا اب کیا آپ پہلی مرتبہ کورکمانڈر سے ملے ہیں، کئی مرتبہ پہلے بھی ملے ہیں۔ اب آپ اس ملاقات کو Deny کر رہے ہیں۔ میں کہے رہا ہوں ایک ملاقات نہیں، آپ کی بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور پہلے بھی ہوتی رہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور ہمارے بہت ساری ملاقاتیں علم میں بھی ہیں اور ہم نے کبھی یہاں سے رپورٹ نہیں کیا کیونکہ وہ Importants نہیں ہیں۔ آپ چیف منسٹر کے عہدے پر ہیں کئی وجوہات کی بناہ پر آپ کو ان سے ملنا پڑ سکتا ہے۔ اب کیونکہ یہ جلسے سے ایک دن پہلے معاملہ تھا اور پھر 27 تاریخ کے اوپر ہماری Reservations ہیں۔ کورکمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا، پولیٹیکل کمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا۔ بہت سے سنئیر لوگوں سے میں نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ Date کیسے دی گئی ہے۔ اُسی پر میں نے بھی سوالات اُٹھائے، مراد سعید صاحب نے بھی اُٹھائے اور علیمہ خانم صاحبہ نے بھی اُٹھائے۔ اب آپ نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوئی، میں ابھی بھی پوری ذمہ داری سے اور ایمانداری سے اپنی خبر کے اوپر کھڑا ہوں کہ ملاقات ہوئی۔ بلکہ آپ کو ایک اور Interesting بات بتا دوں۔ کل تین آپ کے انٹرویو چلے، تین ڈیفرنٹ چینل پر۔ حالانکہ پورے سال کے اندر کبھی آپ کا کوئی بھی ایسا انٹرویو چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے فون کے اندر میسج ہے کبھی اچھے دن آئیں گے تو یہ کیمرے میں ریکارڈ کر لیجیے تاکہ ثبوت رہے کہ جن تین لوگوں نے کل آپ کا انٹرویو لیا، انٹرویو کے فوراً بعد اُنہی کی ٹیم میں سے مجھے یہ میسج بھیجا گیا۔ وہ بہت ہی معتبر شخصیت جنہوں نے میسج بھیجا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے چیف منسٹر نے آپ کی خبر کو جھٹلا دیا ہے کہ اُنکی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے آگے سے کہا مجھے پتہ ہے اور ان کا جھٹلانا ہی بنتا ہے، یہی انکی پوزیشن ٹھیک ہے۔ میں بار بار تو چیزیں Rep نہیں کروں گا، میں نے جو کہنا تھا کہے دیا۔ تو اُس شخصیت نے آگے سے کہا کہ میری بھی یہی خبر ہے کہ اُنکی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ میں بالکل خدا کو گواہ بناکر آپ کو بات کہتا ہوں اور یہ انہوں نے کہا اور کبھی آپ کو دیکھا بھی دیں گے اُنکی اجازت سے ویسے نہیں۔ ان سے اجازت لے کے اور وہ اجازت دے بھی دیں گے کیونکہ وہ خان صاحب کے خیرخواہ ہیں اور وہ چاہیں گے کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میرے پاس یہ خبر تھی۔ اور انہوں نے ایک جملہ بولا کہ ایسی ملاقاتیں چھپتی تھوڑی ہیں۔ اگر مجھے ساری Details پتہ ہے، ایک ایک بات پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے، تو CM صاحب کو بھی چھپانی نہیں چاہیے تھی۔ میں اپنی خبر پر ابھی بھی قائم ہوں کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو میں خود مانتا اور آپ سے معذرت کرتا کیونکہ کوئی میرا یہ کوئی IQ لیول کا ٹیسٹ تو نہیں ہے ناں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

64,969 просмотров • 19 дней назад

"پشتون بہت باوقار لوگ ہیں، بہت کشادہ دل رکھتے ہیں، درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسا نہ بولیں، ایسا نہ بولیں۔ یہ بہت برا کام ہے، یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اس حوالے سے میں نے بہت پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ ​ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ کیوں لیتا ہے، مولوی صاحب؟ کیوں ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ لیتا ہے اور تلوار نکال کر وار کرتا ہے؟ یہ بہت برا کام ہے۔ یہ باتیں وہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کو اتنا آسان مت سمجھیں کہ آپ نے کسی کو مار دیا اور وہ بھول جائیں گے۔ ​اس کا حساب ہم لیں گے، خدا کی قسم، انشاءاللہ الرحمٰن۔ ہم اس کا حساب لیں گے اور قرآن شریف کی رو سے لیں گے۔ پشتونوں کی روایات اور جرگہ کی رو سے لیں گے۔ عزیزان! ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، برا نہیں کریں گے۔ ہمارے ساتھ جو برا ہوا ہے ہم اسے معاف کر دیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں گے۔ ​لیکن اب ہم اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ہم تمام پشتونوں کے مشورے سے آگے بڑھیں گے۔ تمام پشتونوں سے، یہ پشتونوں کے مشورے سے ہوگا۔ ہم تمام پشتونوں سے مشورہ کریں گے۔ پشتون ہر جگہ موجود ہیں۔ جنہوں نے گولیاں چلائی ہیں... ہم نہتے لوگ ہیں۔ ہم نہتے لوگ ہیں عزیزان! ​لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ہمیں ماریں گے اور پھر وہ ہمارے وطن پر حکمرانی کریں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کہ میرے وطن پر حکمرانی کرنے والا بھی بہادر ہو اور اگر میں نے اپنی باری نہ لی تو میں مسلمان بھی نہیں ہوں، میں پشتون بھی نہیں ہوں۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

33,198 просмотров • 1 месяц назад

بلوچ قوم! جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن بڑی “بہادری” سے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ “بہادری” سے رات کے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے۔ آج وہ چھوٹے بچوں کو بھی جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے، اور خواتین کو بھی جبری طور پر لاپتہ کر رہا ہے۔ اس سب کی وجہ ہماری خاموشی ہے۔جب دشمن یہ دیکھتا ہے کہ ہم خوف کا شکار ہو چکے ہیں، تو وہ اور زیادہ بہادر بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔اپنی نسلوں کی حفاظت اور اپنے لوگوں کو بچانے کا ہمارے سوا کوئی آسرا نہیں۔ہمیں خود آگے آنا ہوگا، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ان کے عزیز جبری طور پر لاپتہ کیے جائیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔ وہ آگے آئیں، اور ظلم کے خلاف بولیں۔اور ہم پورے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔ کل بیسیمہ میں ماہ جبین بلوچ کی رہائی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ہم بیسیمہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔اور ہم اپنے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ظلم صرف ایک گھر تک محدود نہیں،، یہ ظلم ہم سب کو ختم کر دے گی لیکن خاموشی کا جو داغ ہم پر لگ جائے گا، وہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔ آگے آئیں… اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں! #ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

39,753 просмотров • 1 год назад

جمعیۃ علماء اسلام نے املاک ایکٹ کو مکمل طور غیر شرعی قرار دیا، یہ صرف جمعیۃ کا موقف نہیں بلکہ اس پر امت کا اجتماعی موقف یے،اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس ایکٹ کو مسترد کرچکی ہے،آج اسی ایکٹ کے مماثل ایک قانون ہندوستان میں بھی پاس کیا جا رہا ہے، جس سے اندازہ لگائیں کہ وہاں کی حکومت کس طرح مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، بالکل اسی طرح پاکستان میں بھی مسلمانوں کے اوقاف کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا ہم پاکستان میں اسلامی احکامات کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں؟ سپریم کورٹ کے بعض فیصلے اور حکومتی قوانین قرآن و سنت کے خلاف ہیں،ہم عائلی زندگی میں سپریم کورٹ کے نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کے احکامات کے پابند ہیں اور اعلان کرتا ہوں کہ میں کسی غیر شرعی فیصلے کا پابند نہیں ہوں، آئین کہتا ہے کہ ہر قانون قرآن و سنت کے مطابق ہوگا، اور ہم ان قوانین کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم آئینی و قانونی دائرے میں رہ کر اسلامی اقدار کا تحفظ کریں گے اور عوام میں شعور بیدار کریں گے تاکہ دین کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہ کرسکے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

44,757 просмотров • 1 год назад

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,163 просмотров • 2 месяцев назад

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 просмотров • 12 дней назад

ہمیں مل کر مغرب کو یہ عقیدہ بتانا چاہیے کہ ہمارے دلوں میں نبی ﷺ کے لیے کتنا پیار ہے۔ مسلمان ممالک کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ مغرب کو بتائیں کہ ہمارے لیے اللہ کی کتاب قرآن اور نبی ﷺ کا پیار سب سے بڑھ کر ہے۔ ہمارے دلوں میں ہمارا نبی ﷺ بستا ہے۔ -مغرب میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے بارے میں جب تک عالم اسلام کے سربراہ مل کر آگاہی نہیں دیں گے، تب تک انہیں ہمارے نبی ﷺ سے رشتے کے بارے میں ضرور بتانا چاہیے۔ نبی ﷺ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں۔ -یورپی یونین کے ہیومن رائٹس کورٹ نے پہلی بار کہا کہ فریڈم آف سپیچ کی آڑ میں کسی کے دین کو تکلیف نہیں پہنچائی جا سکتی۔ -جس طرح وہ اپنی اقدار اور حساس معاملات کے بارے میں دنیا سے احترام کی توقع رکھتے ہیں، اسی طرح ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ہمارے ایمان اور ہمارے نبی ﷺ کی شان کا احترام کیا جائے۔ تمام مسلم ممالک کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ نبی کریم ﷺ کی حرمت اور ناموس ہمارے ایمان کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اگر کوئی اس مقدس ہستی کی توہین کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد یا مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے دلوں کو مجروح کرتا ہے۔ پاکستان کے حقیقی وزیراعظم عمران احمد خان نیازی Imran Khan #Islamophobia #اسلاموفوبیا_ڈے_شکریہ_خان

PTI

345,096 просмотров • 5 месяцев назад