Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

انڈین لڑکے نے اڑنے والی گاڑی بنائی ہے جسے تجرباتی بنیاد پر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے . . اس لڑکے کے پاس کوئی ڈگری نہیں، شوقیہ انجنئیر ہے . . اس کے گاؤں کا شہر سے راستہ تقریبا نوے منٹ ہے، اسطرح کی گاڑی سے فاصلہ دس منٹ...

40,398 görüntüleme • 22 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

اس لڑکی نے جو کیا، وہ واقعی آپ کو غصہ دلا سکتا ہے۔ ایک لڑکی اپنی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے ایک پیٹرول پمپ پر پہنچی۔ انتظار کے دوران وہ مسلسل فون پر بات کرنے میں مصروف رہی۔ اس دوران پمپ ملازم نے گاڑی کی ٹینکی مکمل بھر دی۔ لیکن جیسے ہی ٹینکی بھر گئی، اس کے بعد جو ہوا، اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، پیٹرول ڈلوانے کے بعد لڑکی مبینہ طور پر رقم ادا کیے بغیر وہاں سے چلی گئی۔ اگر یہ بات درست ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان اکثر پیٹرول پمپ کے اُس ملازم کو اٹھانا پڑتا ہے، جسے کئی جگہوں پر یہ رقم اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ مہنگی گاڑی کا مالک ہونا کسی کو اچھا انسان نہیں بنا دیتا۔ انسان کی اصل پہچان اس کی دیانت داری اور دوسروں کے ساتھ اس کے رویے سے ہوتی ہے۔ محنت مزدوری کرنے والے کی حلال کمائی ہڑپ کر کے کوئی بھی عظیم نہیں بن سکتا۔ ایک غریب اور محنت کش انسان کا جائز حق چھین لینے سے بڑھ کر شاید ہی کوئی ظلم ہو۔

Hassan Zaib

85,404 görüntüleme • 1 ay önce

ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل پر جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے طاقتور طبقے کی اخلاقی اور سماجی پستی کا عکاس ہے۔ ایک نجی اشتہاری کمپنی Bionic Films کے مبینہ مالک سلمان فاروقی، جن کے پاس نہ کوئی برداشت تھی، نہ اخلاق، اپنی مرسیڈیز سے ایک موٹر بائیک والے کو ٹکر مار بیٹھے۔ لیکن حادثے سے بڑی ضرب تو اُس غریب لڑکے کی عزتِ نفس پر لگی، جسے صرف اس لیے سرِ عام مارا پیٹا گیا کیونکہ سامنے والا "سی ای او" تھا، اور خود کو "سرکاری افسر" ظاہر کر رہا تھا۔ بات ٹکر کی نہیں، طاقت کے نشے کی ہے۔ معافی مانگتی بہنیں ہاتھ جوڑ رہی تھیں، لیکن "شہر کے شرفاء" کو رحم کہاں آتا ہے؟ یہ وہی شہر ہے جہاں عزت بھی طبقاتی بن چکی ہے — جس کے پاس گاڑی ہے، سرکاری عہدہ ہے، میڈیا پاور ہے، وہ چاہے تو مارے، دھمکائے، عزت پامال کرے اور پھر کیمرے بند کر کے قانون سے بھی بچ جائے۔ سوال یہ ہے: سلمان فاروقی جیسے لوگ کس کی چھتری تلے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ کب تک کراچی میں طاقتور کا قانون چلے گا؟ کیا اس شہر میں غریب کی کوئی عزت نہیں؟ کیا بائیک پر بیٹھا ہر شخص بےوقوف ہے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ اگر آج اس نوجوان کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا، تو شاید وہ اور اس کی بہنیں یوں سڑک پر بے بس نہ ہوتیں۔ سوال صرف سلمان فاروقی پر نہیں، نظام پر ہے۔ یہ نظام کب بدلے گا؟ کیا میڈیا انڈسٹری کے "مائی باپ" قانون سے بڑے ہیں؟ یا پھر ہم سب نے اس ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا حلف اٹھا رکھا ہے؟ @@KarachiPolice_@SouthDig

Fahmidah Yousfi

123,710 görüntüleme • 1 yıl önce