Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

او کیڑا تیرا 'کونسیچوشن' تینوں پورے ملک دا ووٹ چوری کرن دی اجازت دیندا اے اوئے کنجرا! دس نا؟

91,709 views • 1 year ago •via X (Twitter)

10 Comments

Humanity's profile picture
Humanity1 year ago

Amrika hiiiii apney pet iss CORRUPT MURDERER fake hafiz PMA Deceiver ki: Gichhi marrroorrey ga. Kandd parrrrey ga. Makko thapppey ga. Explode him in air like darkness-of-batil (aka ZiaulHaq)

Abdullah سلطان's profile picture
Abdullah سلطان1 year ago

راجہ صاب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مستری کیخلاف آج کا کوئی کیانی گیم ڈال رہا ہے۔ مستری کے دن تھوڑے ہیں۔ آپ کی کیا خبر ہے؟

Syed Abul Huda سید ابوالھدیٰ's profile picture
Syed Abul Huda سید ابوالھدیٰ1 year ago

.

FANCO's profile picture
FANCO2 years ago

NEW OFFICIAL COLLABORATION ALERT! Get your PERSONALIZED @Godzilla_Toho Japanese hanko stamps at for yourself, friends and family! #fanco #godzilla #GodzillaMinusOne 👉

Mohd Munawar's profile picture
Mohd Munawar1 year ago

This man is singing Quran. Not reading it.

Mazhar Javed's profile picture
Mazhar Javed1 year ago

منیرا کنجر بے غیرت

Yousafzai82's profile picture
Yousafzai821 year ago

ایسے تو اس دانت ٹوٹے کو دجال نہیں کہتے۔۔ ویسے جب یہ ذہنی مریض منہ کھولتا ہیں گندی ہی پہلاتا ہیں😆

Raja4547's profile picture
Raja45471 year ago

Sirf Kanjar nahi Ots da kanjar lol

Farwa Hassan Askari's profile picture
Farwa Hassan Askari1 year ago

#ForwardedAsReceived

Dimple queen's profile picture
Dimple queen1 year ago

میرے پاپا آرمی سے ریٹائرڈ ہیں کافی دنوں سے Unknown نمبر سے کال آ رہی کہ آپ isi آفس آئیں کوئی وجہ نہیں بتائی کہ کیوں بلایا ہے کیا جانا چاہئے کہ نہی

Related Videos

مقدمہ پنجاب دا ۔۔۔ کہندے ن پنجاب کھا گیا اے پنجاب کھا گیا اے ، کی کھا گیا ؟ پنجاب تے آپ کھادا گیا اے ۔۔ پنجاب دیاں حکومتاں کم کر دیان ، باقی صوبیاں وچ ونڈیاں پیندیان ، پنجاب نے نئی کھادا ، تُسی کھا گئے او ھاں پاکستان خراب کرن وچ پنجاب دا حکمران طبقہ شامل اے پَر کلا اے نئیں ، سندھ ، بلوچستان تے خیبر پختونخواہ دا حکمران طبقہ وی اس خرابی وچ شامل اے ساڈے تین دریا سن ، ایوب خان انڈیا نوں دے گیا تے پنجاب دیاں زرخیز زمیناں ریگستان بن گئیاں پاکستان بنیا ،تقسیم صرف بنگال تے پنجاب ھوۓ ، خون صرف پنجاب دا وغیا ، او کِسے نوں یاد نئیں ۔۔ 65 دی جنگ وچ خون پنجابی دے وغیا، پَر کِسے نوں یاد نئیں گوادر وزیر اعظم ملک فیروز خان نون نے خرید کے پاکستان چ شامل کیتا ،بلوچستان دا حصہ بنایا ، ادے وچ بلوچستان دا کوئ پیسہ نئیں لگا ، صلہ اے ملیا کہ پنجاب دے وزیر اعظم نوں بے عزت کر کے کڈ دِتا پنجاب وچ کوئ ونڈ نئیں ، ایتھے پنجابی پٹھان بلوچ سندھی لوکل مہاجر دا کوئ چکر نئیں ، سب رل کے رھنے ایں ، تے ھسدے وسدے جیوندےرھن او چاندے ن کہ پنجاب دے جوان وی بُھوتر جان ، تے رد ِ عمل وچ ایتھے وی ساڈے پراواں دا خُون وغے ، اسی ایس جال وچ نئیں پھنسنا ، اسی لڑنا نئیں ، پَر پنجاب دا دفاع ضرور کرنا اے ، سچی دلیل دے نال ، پنجابیاں نے اپنے آ پ نوں پاکستان وچ ضم کر لِیتا سی ، چنگی گَل اے ، پَر اسی ھُن گونگے نہیں رھنا ۔۔

Khawaja Saad Rafique

145,158 views • 1 year ago

محسن نقوی کی سلطنت میں سال 2025 کے دوران پاکستان میں آف لوڈ کیے گئے کل 66 ہزار مسافروں میں سے 51 ہزار کو ایف آئی اے نے بیرونِ ملک سفر سے روکا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے فیصلے دستاویزات کی جانچ، ڈیٹا ویریفکیشن اور آن لائن تصدیق کی بنیاد پر کیے گئے؟ اس دعوے کی ایک کلاسک مثال شہری احتشام الحق کا واقعہ ہے، جو 13 جون کو باکو روانہ ہو رہا تھا۔ درست پاسپورٹ، ویزا اور ہوٹل بکنگ سمیت تمام سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود ایف آئی اے اہلکاروں نے پہلے اسے آف لوڈ کیا، پھر پاسپورٹ پر آف لوڈ اسٹیمپ لگا دی۔ اس کے بعد اہلکاروں نے سفر کی اجازت کے بدلے 80 ہزار روپے رشوت طلب کی۔ شہری نے رقم ادا کی تو اسی آف لوڈ اسٹیمپ کے ساتھ اسے بیرونِ ملک روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ شہری اپنا دورہ مکمل کر کے وطن واپس آیا تو اس نے ایف آئی اے کے اس غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز پر مبنی اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔اس پورے معاملے کی مزید تفصیلات سینئر صحافی نصرت جاوید اور عدنان حیدر کے پروگرام خبر نشر میں

Waseem Malik

59,016 views • 8 months ago

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 views • 10 months ago

بیرسٹر عقیل ملک 👈 جب دال نا گلے تو پھر بائیکاٹ کا سہارا، کیا یہ پی ٹی آئی کا جمہوری رویہ ہے؟ کیا ہری پور اور لاہور میں پی ٹی آئی کی برانڈنگ امیدواروں کے حق میں استعمال نہیں ہوئی، کیا پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی اہلیہ الیکشن نہیں لڑ رہی تھیں، یہ دوغلی پالیسی ہے۔ پی ٹی آئی کو پورے پنجاب میں کمپین چلانے میں مکمل آزادی تھی، لوگ ان کو ووٹ دینے نہیں آئے تو حکومت کا کیا قصور۔۔ ہری پور خیبر پختونخوا میں ہے تو وہاں الیکشن میں اسی صوبے کے پریزائیڈنگ افسران تھے، کون کہتا ہے عمر ایوب کی اہلیہ کو آر او آفس نہیں جانے دیا۔ سینیٹر عون عباس بپی 👈 ہری پور کا آر او الیکشن کمیشن کا نمائندہ تھا جو اسلام آباد سے آیا اور چلا گیا۔۔ آر او صوبائی انتظامیہ کا حصہ نہیں تھا۔ لاہور میں ہمارا امیدوار کمپین نہیں کر پایا۔۔ بیرسٹر عقیل ملک👈 یہ تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے، اگر وہ صوبے کا ڈی سی لگاتا تو وہ کیا ان کے لیے چیزیں مینیج کرتا کیونکہ وہ صوبائی حکومت کو جوابدہ ہے۔ Barrister Aqeel Malik Senator Aon Abbas Buppi #FaislaAapKa TEAM Hum News

Asma Shirazi

11,911 views • 9 months ago

ہندوستان کے اتنے بڑے دفاعی سسٹم کو چار گھنٹوں میں تباہ کردیا گیا لیکن ملک میں موجود مسلح گروہوں کو پچھلے چالیس سال سے ختم نہیں کیا جاسکا،اس وقت پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے،پاکستان میں اگر کہیں کوئی رٹ ہے تو وہ مسلح لوگوں کی ہے تو پھر ہماری مسلح قوتیں کیا کر رہی ہے؟ اگر ان سے بات کی جائے تو کہتے ہیں ہم قربانیاں دے رہے ہیں آپ ہماری قربانیوں کو نہیں مانتے، جب آپ واقعی قربانی دیں گے تو ہم ایسے تسلیم کریں گے جیسے انڈیا کے مقابلے میں آپ نے چار گھنٹے قربانی دی اور ہم نے اس کو تسلیم کر لیا۔ اگر آپ عوام کے ووٹ چوری کرکے اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کریں گے اور عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ الیکشن ہماری رائے کی مطابق نہیں، تو پھر جیسے فوج کو مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے تو عوام کو بھی اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے،ہمیں عوام کے ساتھ اسلام آباد آنے پر مجبور نا کیا جائے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

43,276 views • 1 year ago

امرتا پریتم کی آواز میں انکی مشہور نظم جو بٹوارے پر وارث شاہ کو مخاطب کر کے لکھی تھی،۔ امرتا پریتم کی آواز میں سنیں۔ ( 31 اگست 1919ء گوجرانوالہ- 31 اکتوبر 2005ء دہلی) اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول اک روئی سی دھی پنجاب دی تُوں ِلکھ ِلکھ مارے وین اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن اُٹھ دردمنداں دیاں دردیا اُٹھ تک اپنا پنجاب اج بیلے لاشاں ِوچھیاں تے لہو دی بھری چناب کسے نے پنجاں پانیاں وچ دِتی زہر رلا تے انہاں پانیاں نے دھرت نُوں دِتا پانی لا ایس زرخیز زمین تے لُوں لُوں پُھٹیاں زہر گٹھ گٹھ چڑھیاں لالیاں پُھٹ پُھٹ چڑھیا قہر ویہو ولسّی وا فیر وَن وَن وگی جھگ اوہنے ہر اِک وانس دی انجھلی دِتی ناگ بنا ناگاں کِیلے لوک مُونہہ بَس فیر ڈنگ ہی ڈنگ پل او پل ای پنجاب دے نیلے پے گے انگ وے گلے اوں ٹُٹے گیت فیر، ترکلے اوں ٹُٹی تند ترنجنوں ٹُٹیاں سہیلیاں چرکھڑے کُوکر بند سنے سیج دے بیڑیاں لُڈن دِتیاں روڑھ سنے ڈالیاں پینگ اج پپلاں دِتی توڑ جتھے وجدی سی پُھوک پیار دی اوہ انجھلی گئی گواچ رانجھے دے سب وِیر اج بُھل گئے اوہدی جاچ دھرتی تے لہُو وسیا قبراں پیاں چوون پرِیت دِیاں شاہ زادیاں اج وِچ مزاراں روون وے اج سبھے کیدو بن گئے ، حُسن عشق دے چور اج کتھوں لیائیے لبھ کے وارث شاہ اِک ہور اَج آکھاں وارث شاہ نُوں کتھوں قبراں وچوں بول تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول شکریہ اسلم ملک

اردو ورثہ

16,632 views • 3 days ago

اسمبلی کی داخلہ کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ پارلیمنٹ لاجز پر صفائی اور دیگر کاموں کے لیے اسٹاف کو کم از کم اجرت جو 37000 ہے وہ بھی نہیں دی جارہی۔ ٹھیکدار آدھے پیسے خود رکھتا ہے۔بقول شرمیلا فاروقی لاجز میں صفائی کی بدترین حالت ہے اور یہ قید خانہ بن چکا ہے۔ سی ڈی اے چیرمین محمد علی رندھاوا نے فرمایا ہم تو ٹھیکدار کو فی بندہ 37000 دے دیتے ہیں۔ وہ آگے سے پورے پیسے نہیں دے رہا۔ رندھاوا صاحب کے پر بھی ٹھیکدار کے آگے جلتے ہیں۔ اندازہ کریں جہاں قانون بنانے والوں کے اپنے گھر میں ملازمین کو کم از کم اجرت نہیں مل رہی باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟ سی ڈی اے حکام کے ڈھیلے ڈھالے جوابات سے لگ رہا تھا انہیں اس کی پرواہ نہیں کہ وہ ٹھیکدار ان سے 37000 لے کر آگے ورکرز کو دس ہزار دے رہا ہے یا بیس یا تیس۔۔ باقی اپنی جیب میں ڈال رہا ہے یا افسران کی چونچ بھی گیلی کر رہا ہے، کیونکہ خود ان بڑے افسران کو تنخواہیں اور مراعات پوری مل رہی ہیں تو پھر فکر کاہے کو۔۔ مکمل تفصیلات 👇 Capital Development Authority - CDA, Islamabad Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i Muhammad Ali Randhawa Prime Minister's Office Sardar Ayaz Sadiq Palwasha Khan SenatorSherryRehman

Rauf Klasra

14,250 views • 9 months ago

الطاف حسین اور اس کی MQM نے پاکستان میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ نظام اوراسٹیٹس کو کے خلاف آواز بلند کی تو اس کی سزادینے کے لئے اس کے خلاف منفی پروپیگنڈوں کاطوفان کھڑا کیا گیا،میں نے سیاست میں فوج اوراس کی ایجنسیوں کی مداخلت کی مخالفت کی تواس پرمجھے فوج کا دشمن اورملک دشمن قراردیدیا گیا۔ ایک سازش کے تحت پورے ملک کے عوام بالخصوص اہل پنجاب کو الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم کے خلاف گمراہ کیاگیا، طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے، پروپیگنڈوں کے ذریعے پنجاب کے عوا م میں الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم کے خلاف نفرت پیدا کی گئی تاکہ اہل پنجاب ملک میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام اوراسٹیٹس کو کے خاتمے اور غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت کےلئے الطاف حسین کے حق پرستانہ پیغام کوسننے اوراس کے قریب آنے کے بجائے اس سےنفرت کریں۔ لیکن جب عمران خان کو فوج کی جانب سے اقتدار سے نکالا گیا ، عمران خان کوکمرہ عدالت سے جس طرح غیرقانونی طریقے سے گرفتارکیا گیا، پورے پنجاب میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور عمران خان کے چاہنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیاگیا، ان پردہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے اور ان کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو اہل پنجاب کو اپنی سوچ وفکرکا زاویہ بدلنا پڑا اورانہیں بھی سمجھ میں آگیا کہ ملک میں اصل حکومت کس کی ہوتی ہے،ملک کی پالیسیاں کون بناتا ہے، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کس طرح پورے نظام حکومت کوکنٹرول کرتی ہے، کرپٹ سول اورملٹری بیورو کریسی کس طرح ملک کولوٹتی ہے،سویلین حکومت برائےنام ہوتی ہےاورتمام فیصلے فوج کرتی ہے اسی وجہ سے عمران خان نے بھی حقیقی آزادی کانعرہ لگایا۔ پنجاب کے وہ لوگ خصوصاًتحریک ا نصاف سےتعلق رکھنےوالے وہ نوجوان جو ایسے ہی پروپیگنڈوں سے گمراہ ہوکر الطاف حسین اور اس کی MQM کودہشت گرد، بھتہ خور، ملک دشمن اورنہ جانے کیاکیا قرار دیتے آئے تھے،اب عمران خان کو جس طرح یہودی ایجنٹ، ملک دشمن قرار دیا جارہاہے، PTI کو دہشت گرد قراردیاجا رہا ہے، PTI کے رہنماؤں کو دس دس سال کی سزائیں دی جارہی ہیں، تو کیا اب اسٹیبلشمنٹ کے ان الزامات، مقدمات اورعدالتوں سے دی گئی ان سزاؤں کی بنیاد پر کیا پی ٹی آئی کے کارکنان اور اہل پنجاب یہ ماننے کےلئے تیارہیں کہ عمران خان کرپٹ اوریہودی ایجنٹ ہیں؟ PTI کے رہنما اور کارکنان دہشت گرد ہیں؟ میں اہل پنجاب سےکہتا ہوں کہ الطاف حسین ملک دشمن یاغدار نہیں بلکہ باغی ہے جس نے ملک میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورکرپٹ نظام حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا، الطاف حسین کے فالوورز بھی دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستان کوحقیقی معنوں میں اس کرپٹ نظام سے آزاد کرانے اورمظلوموں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکن ہیں۔اہل پنجاب کوسمجھ لینا چاہیے کہ تاریخ میں جس نے بھی ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کی ہے اسے اسی طرح بدنام کیا جاتا ہے،اسے کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مظلوم عوام کواس سے بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں ملک کےخلاف نہیں اس کرپٹ نظام کامخالف ہوں۔ میں آج بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سےکہتاہوں کہ وہ ایم کیوایم کے خلاف سیاسی انتقام بند کرے، عمران خان کوجیل سے رہاکرے، اسی طرح الطاف حسین کو بھی پاکستان کے آئین وقانون کے دائرے میں کام کرنے کی اجازت دے، اسی طرح میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ملک کےنظام کوبھی آزاد کیاجائے اورفوج اور اس کے ادارے خود کوبھی آئین اورقانون کے دائرے میں رکھیں کیونکہ آئین وقانون کی پابندی سب پر لازم ہے۔ میں آج بھی ناراض بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں، عمران خان اورفوجی جرنیلوں کے درمیان صلح اور مفاہمت کےلئے صلح کار کے طور پر کام کرسکتا ہوں ۔ الطاف حسین فکری نشست نمبر 296 سے خطاب 11 اگست 2025

Altaf Hussain

12,543 views • 1 year ago

ہمارے دوست وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب کا یہ اعتراف کتنا خوفناک ہے اس کا اندازہ شاید کسی کو امریکہ ایران چکر میں نہیں ہوا۔ وہ سی ڈی اے کے وزیر انچارج ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھی اس ادارے میں کام ہو تو دس لاکھ روپے (رشوت) دینی پڑے گی۔ نقوی صاحب دو سال سے اس ادارے کے سربراہ ہیں جس کے بارے کہہ رہے ہیں وہاں کرپشن کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ وہ ادارہ جس میں وزیراعظم تک کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے آپ وزیروں کو تو چھوڑ ہی دیں۔ نقوی صاحب دو سال سے اس سونے کی کان جیسے ادارے کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ اپنے لاڈلے کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو لائے اور اسلام آباد کا پہلے چیف کمشنر اور پھر سونے کی کان سی ڈی اے کا چیرمین لگا دیا اور وہ چیرمین خود کو نقوی صاحب کے علاوہ کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتا تھا بلکہ اکثر قائمہ اجلاسوں میں ان کی رعونت اور تکبر کو سب نوٹ کرتے تھے۔ پچھلے سال جولائی میں سترہ ارب تو دسمبر میں چوبیس ارب کے پلاٹ بیچے گئے۔ مطلب چھ ماہ میں سی ڈی اے کے پاس چالیس ارب تھا۔ ہزاروں درخت کاٹے گئے، جنگل تباہ کیے گئے، غیرضروری اور ناقص فلائی اوور اور سڑکیں بنائ گئیں جو پہلی بارش پر ٹھس ہوئیں۔ ماحول تباہ کیا۔ پورے شہر کو ایک گریڈ بیس کے افسر نے تہس نہس کر دیا اور ابھی چند دن پہلے رندھاوا صاحب اور نقوی صاحب چین گئے اور وہاں سے فرمایا کہ اسلام آباد شنگھائی بنے گا۔ شنگھائی خاک بنتا الٹا آج وزیر صاحب فرما رہے ہیں وہ ان دو سالوں میں جب رندھاوا نقوی جوڑی اس ادارے کو چلا رہی تھی وہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ نتیجہ نکلا ہے ایک گریڈ بیس کے افسر کو خوفناک اختیارات دینے کا۔ یہ دراصل رندھاوا صاحب کے خلاف چارج شیٹ ہے کیونکہ دو سال سے وہ سفید سیاہ کے مالک تھے۔ نقوی صاحب کو اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سی ڈی اے کی وزارت کا چارج چھوڑ دینا چاہئے۔ ان دو سالوں کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ چالیس ارب کہاں خرچ ہوا۔ لاہور کا لاڈلا کنٹریکٹر کون تھا جسے سب اربوں کے کنٹریکٹ نصیب ہوئے۔ رندھاوا صاحب تو اپنے ساتھ درجن بھر ڈی ایم جی افسران ڈیپوٹیشن پر لائے تھے ان کی یہ کارگردگی تھی کہ ریٹ دس لاکھ روپے چل رہا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس گریڈ بیس کے افسر کے دور میں رشوت کا ریٹ دس لاکھ تک جا پہنچا ہے اسے نقوی صاحب نے ڈی جی پاسپورٹ لگا دیا ہے۔ دو سال بعد نقوی صاحب ہمیں پاسپورٹ آفس کا ریٹ بتا رہے ہوں گے کہ کام کرانا ہے تو دس لاکھ ریٹ ہے؟ اگر سی ڈی اے کا ریٹ آج دس لاکھ ہے تو رندھاوا صاحب کیسے کلئرنس لے کر ایک اور سونے کی کان کے مالک بنا دیے گئے ہیں۔ ؟ ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی جن کے دور میں بقول ریٹ دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے؟ نقوی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے اور آپ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ مان لیں یہ آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ جب رندھاوا صاحب پورا شہر اجاڑ رہے تھے آپ ان کے محافظ بن کر کھڑے تھے حالانکہ جب وزیراعلی تھے تو بڑا آپ کی کارگردگی کا شور سنا تھا۔ پنجاب بارہ کروڑ کا صوبہ اور اسلام آباد پچیس لاکھ لیکن یہاں آپ ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور اب بتا رہے ہیں جس ادارے کو آپ نے دو سال ہیڈ کیا اس کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ نقوی صاحب کے دس لاکھ ریٹ انکشاف سے اب آپ سب کو خواجہ آصف کی بات سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان بیوروکریٹس بیرون ملک شہریت اور پرتگال میں دھڑا دھڑ جائیدادیں کیسے خرید رہے ہیں۔۔ 😎 Shehbaz Sharif Maryam Nawaz Sharif Mohsin Naqvi Capital Development Authority - CDA, Islamabad Sohail Muhammad Ali Randhawa Ahsan Iqbal Dr. Musadik Malik Junaid Akbar Barrister Gohar Khan Khawaja M. Asif Khawaja Saad Rafique Palwasha Khan Shazia Atta Marri SenatorSherryRehman Raja Khurram Nawaz Nabil Gabol Syed Agha Rafiullah Sher Afzal Khan Marwat Dr. Tariq Fazal Ch. Syed Naveed Qamar Hina Rabbani Khar Sana Ullah Khan Mastikhel

Rauf Klasra

89,361 views • 4 months ago

اس ویڈیو کو ایک بار ضرور دیکھیں اور سنیے! 📌 حقیقت کیا ہے۔ 2022 میں میاں اسلم اقبال پنجاب میں وائس چیئرمین ایل ڈی اے اور محکمہ ہاؤسنگ کے سینیئر وزیر تھے تو اس وقت میاں اسلم اقبال نے پریس کانفرنس کر کے عوام الناس کو آگاہ کیا تھا تنبیہ دی تھی کہ آپ یہاں پارک ویو میں ناجائز قابض کی ہرگز زمین مت خریدیں یہ جگہ دریائے راوی کا حصہ ہے اور روڈا نے ان کو این او سی بھی اس لیے دیا تھا کہ یہ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ جائیں اور دریائے راوی کی جگہ خالی کر دے مگر پارک ویو سوسائٹی کا مالک عبدالعلیم خان موجودہ وفاقی وزیر فارم 47 اپنی ضد پر قائم رہا جس سے آج غریب عوام کا اربوں روپیہ داؤ پر لگ گیا اس فارم 47 کے وفاقی وزیر نے میاں اسلم اقبال کو پورے ملک میں 50 سے زائد جھوٹے مقدمات میں نامزد کیا اور جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور کے باہر 2 قتل 302 جیسی جھوٹی ایف آئی آر میں نامزد کر کے میاں اسلم اقبال کو مرکزی ملزم بنایا گیا۔ حالانکہ 9 مئی کو میاں اسلم اقبال لاہور میں موجود ہی نہیں تھے #Ruda #Parkview #lahorefloods

Mian Aslam Iqbal

80,380 views • 1 year ago