正在加载视频...

视频加载失败

اویس یونس کہاں ہے۔ اس کا کیا قصور ہے کہ بار بار گرفتار کیا گیا اور اب جبری گمشدگی۔ ہمیں اس کی صحت اور جان کے بارے میں تشویش ہے۔ ریاستی جبر کے شکار اویس کے لئیے آواز اٹھائیں! #PakistanUnderFascism

40,831 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

9 条评论

Azad sooch 的头像
Azad sooch1 年前

اس کا قصور یہ ہے کہ وہ امریکہ کو چھوڑ کر پاکستان آیا اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے

I S F ⭕️ 的头像
I S F ⭕️1 年前

ہم نہ دہشت گرد ہیں نہ غدار ہم محب وطن پاکستانی ہیں #گولی_کیوں_چلائی

Haider Ali 的头像
Haider Ali1 年前

پی ٹی آئی لیگل ٹیم اویس یونس کی گمشدگی کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیوں نہیں کرتی ؟؟

Ishtiaq Rasool 的头像
Ishtiaq Rasool1 年前

شیر جب میدان میں آئے گا تو لومڑیاں میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گی۔ پھر سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ انشااللہ

I am Imran Khan - Faizan 的头像
I am Imran Khan - Faizan1 年前

پی ٹی آئی کی نام نہاد قیادت نے اب تک کس کے لیے آواز اٹھائی؟

Eagle Eye 的头像
Eagle Eye1 年前

🥺

Hammad 的头像
Hammad1 年前

Ufff

ProudPakistani 的头像
ProudPakistani1 年前

Ask Hammad . He will know as he was complicit with Pushpa

Makzz 的头像
Makzz1 年前

🥲🥲🥲

相关视频

اس وقت ایک ہی خاندان کے چار افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں حانی دلواش، خیرنساء واحد، مجاہد دلواش اور فرید اعجاز شامل ہیں۔ ان افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین نے کرکی تیجابان کے مقام پر سی پیک روڈ بلاک کر کے احتجاج شروع کر رہے ہیں۔ جبری گمشدگیاں اس وقت ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں اب اس جبر کا نشانہ خواتین اور لڑکیاں بھی بن رہی ہیں۔ حانی دلواش اور خیرنساء کو تین روز قبل حب چوکی کے علاقے سے جبری طور پر اٹھایا گیا، اور اس کے بعد سے وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کی عدم بازیابی نے نہ صرف خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بلوچستان میں خواتین بھی اب محفوظ نہیں رہیں۔ آئین اور قانون کو بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، بلوچستان کے لوگ کریں تو کیا کریں، ان متاثرہ خاندان کے لئے احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے گزارش ہیکہ اس خاندان کے ساتھ کھڑے ہوکر انکے لئے آواز اٹھائیں۔ #SaveBalochWomen

Sammi Deen Baloch

10,756 次观看 • 9 个月前

حمدان محمد علی کو 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے جبری حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ آج ان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونا تھا، مگر اس سے ایک دن قبل انہیں تین دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور اب ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سی ٹی ڈی اور پولیس قانون اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج حمدان کے لواحقین نے اس سنگین ناانصافی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے تمام افراد، تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور اور مؤثر آواز اٹھائیں، تاکہ جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔

Sammi Deen Baloch

54,869 次观看 • 7 个月前

ابھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ سینیٹر مشتاق احمد خان، جو پاکستان کے اندر مزاحمت کی، انسانی حقوق کی، ظلم اور جبر کے خلاف ایک توانا آواز ہیں، ان کو ان کے دفتر واقعہ ایف ٹین (F-10) مرکز اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اور اطلاعات کے مطابق ان کو کل ایف ٹین اسلام آباد کے اندر، کشمیر میں ہونے والی ناانصافی، جبر اور بربریت کے خلاف مظاہرہ کرنے اور اہل جموں و کشمیر، آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے لیے آواز اٹھانے کے جرم کے اندر گرفتار کیا گیا ہے۔ میں بحیثیت جموں کشمیر نیشنل، ایک جموں کشمیر کے رہنے والے کی حیثیت سے اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اہل کشمیر کے لیے کوئی بھی آواز اٹھاتا ہے، اس کے خلاف ظلم، جبر اور ناانصافی کرنے والوں کے خلاف کوئی بھی آواز اٹھاتا ہے، تو اس کو تحفظ دیا جانا چاہیے تھا، اس کی آواز کو بلند کیا جانا چاہیے تھا، اس کی آواز کو مزید پھیلایا جانا چاہیے تھا۔ لیکن یہاں کشمیر کے لیے، اہل کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کے جرم میں سینیٹر مشتاق احمد خان کو جس طرح گرفتار کیا گیا ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں، میں اہل کشمیر کی طرف سے اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔" وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری Khalid Yousaf Chaudry

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

13,068 次观看 • 1 个月前