正在加载视频...

视频加载失败

آئی پی پیز کا تو دوہرا فائدہ ہو گیا، اب نئی لوڈشیڈنگ پالیسی کے تحت بجلی کم بنانی پڑے گی، مگر پیسے پورے ملیں گے

37,556 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بجلی کا وہ سچ جو آپ کو جاننا چاہیے پہلے یہ سمجھیں کہ آئی پی پی کیا ہے؟ آئی پی پی یعنی وہ نجی کمپنیاں جنہیں حکومت نے بجلی بنانے کا ٹھیکہ دیا۔ معاہدہ ہوا کہ “بجلی بناؤ یا نہ بناؤ، پیسے ملتے رہیں گے۔” اسی کو کیپیسٹی پیمنٹ کہتے ہیں۔اب اصل حساب دیکھیں گزشتہ 10 سال یعنی 2013 سے 2024 تک کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں آئی پی پیز کو 8 ہزار 344 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس وقت آئی پی پیز 150 ارب روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں، اس میں وہ پلانٹس بھی شامل ہیں جو چل ہی نہیں رہے۔ چار پاور پلانٹس کو ماہانہ 10 ارب روپے مل رہے ہیں جبکہ بجلی کی فراہمی صفر ہے۔ 50 ارب روپے کی لاگت سے بنی ایک آئی پی پی کو اب تک 400 ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔یہ پیسے آتے کہاں سے ہیں؟ آپ کی جیب سے، آپ کے بجلی کے بل سے۔ مسلم لیگ ن کے دور 2013 تا 2018 میں سب سے زیادہ 130 کمپنیوں کے ساتھ یہ معاہدے کیے گئے۔ کچھ معاہدے 2050 اور 2051 تک کے ہیں یعنی آنے والی نسلیں بھی یہ قرض چکاتی رہیں گی۔نتیجہ کیا نکلا؟بجلی گھر موجود ہیں، صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ ہے، ضرورت صرف 20 ہزار میگاواٹ کی ہے۔ پھر بھی لوڈشیڈنگ، پھر بھی مہنگے بل، پھر بھی اندھیرا یہ غربت نہیں یہ منظم لوٹ مار ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بطور قوم اپنے حقوق کے تحفظ میں کمزور پڑ چکے ہیں اور یہ لوٹ مار اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عوام نہیں جاگے گی۔ مہرقصوری✍🏻

Mehar Sharafat Ali

16,037 次观看 • 5 个月前