Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آئے دن دنیا اور زندگی کے جھمیلے ہمیں اپنے میں ایسا الجھاتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر ایک تھکن بری طرح قابو پا لیتی ہے۔ ہمیں کوئی بات بھلی نہیں معلوم ہوتی۔ ہم اپنے کٹھن حالات سے پنپنے کے قابل نہیں رہتے۔ ایسے میں گیت ہی ہیں کہ ہمیں...

13,386 views • 11 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

معروف چینی محقق وکٹر گاؤ کا شرمین نروانی کے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر تفصیلی جواب: میں پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج غیور مسلمان ہیں اور وہ عالمِ اسلام کے تمام ممالک کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے کسی برادر اسلامی ملک کی بربادی نہیں چاہیں گے۔ ایران جنگ میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔ پاکستان، سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی فوجی پہلے ہی بڑی تعداد میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ لہٰذا اگر کوئی سعودی عرب کے خلاف کوئی بیوقوفانہ حرکت کرے گا تو یہ معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اس وقت تک اپنے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جب تک کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی سنجیدہ ترین خطرہ ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اِس وقت اُس سطح پر ہیں۔ جہاں تک پاکستان اور چین کی بات ہے تو ہم حقیقی بہن، بھائی ہیں۔ اور ہم ایک دوسرے کو تمام تر طرح سے مدد اور حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی قانونی طور دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ پر ہم بہت سے اہم ترین معاملات پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپس میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ لہٰذا اگر چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کو منفی انداز میں دیکھنے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دنیا میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی تعلقات ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کو پتہ ہے اسے کیا کرنا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے جائز مفادات کا ایک زبردست محافظ ہے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے۔

Naya Daur Videos

96,465 views • 6 months ago

#StrongmanCDF منی لانڈرنگ اور جسم فروش ی کے دھندے سے گاڑی خریدنے والی مشہور زمانہ ب**** ٹک ٹاکر سنو ریٹا سسٹر اپنی اوقات سے بڑھ کر موٹر سائیکل والوں کو گالیاں دے رہی ہیں وہ جانتی ہیں کہ انہیں کوئی پوچھے گا نہیں کوئی روکے گا نہیں کوئی ان کے خلاف ایکشن نہیں رہے گا کیونکہ جن لوگوں نے ان کے خلاف ایکشن لینا ہے وہ شام کو ان کے پیروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ایک ویڈیو میں یہ خود کہہ چکی ہیں کہ پاکستان میں کسی کی جرات نہیں کہ ہمیں ہاتھ لگائے ایجنسی کے لوگ ہمارے پیچھے اس بات سے اندازہ لگائیں کے روزانہ منی لانڈرنگ کرنے والے جسم فروشی کا دھندا کرنے والے یہ سنو ریٹا سسٹرز قانون کو اپنے پاؤں کی جوتی پر رکھتی ہیں یہ ہر ویڈیو میں ننگی گالیاں دیتی ہیں اور ظاہر ہے ٹک ٹاک چھوٹے بچے سب دیکھتے ہیں لیکن ان کو کوئی شرم نہیں اور نہ ہی ہمارے پیمرا اور پی ٹی اے والوں کو شرم ہے نہ ایف ائی جو ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے #ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام #خان_کی_واپسی_ناگزیر_ہے #tiktokpakistan
1:33

Sensitive content

#StrongmanCDF منی لانڈرنگ اور جسم فروش ی کے دھندے سے گاڑی خریدنے والی مشہور زمانہ ب**** ٹک ٹاکر سنو ریٹا سسٹر اپنی اوقات سے بڑھ کر موٹر سائیکل والوں کو گالیاں دے رہی ہیں وہ جانتی ہیں کہ انہیں کوئی پوچھے گا نہیں کوئی روکے گا نہیں کوئی ان کے خلاف ایکشن نہیں رہے گا کیونکہ جن لوگوں نے ان کے خلاف ایکشن لینا ہے وہ شام کو ان کے پیروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ایک ویڈیو میں یہ خود کہہ چکی ہیں کہ پاکستان میں کسی کی جرات نہیں کہ ہمیں ہاتھ لگائے ایجنسی کے لوگ ہمارے پیچھے اس بات سے اندازہ لگائیں کے روزانہ منی لانڈرنگ کرنے والے جسم فروشی کا دھندا کرنے والے یہ سنو ریٹا سسٹرز قانون کو اپنے پاؤں کی جوتی پر رکھتی ہیں یہ ہر ویڈیو میں ننگی گالیاں دیتی ہیں اور ظاہر ہے ٹک ٹاک چھوٹے بچے سب دیکھتے ہیں لیکن ان کو کوئی شرم نہیں اور نہ ہی ہمارے پیمرا اور پی ٹی اے والوں کو شرم ہے نہ ایف ائی جو ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے #ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام #خان_کی_واپسی_ناگزیر_ہے #tiktokpakistan

Khurram Khan

275,686 views • 1 month ago

دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں: ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف کھڑے ہو اور مظلوم کے مددگار بنو۔ آج جب دنیا کے تمام ظالم ایک ہو چکے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب مظلوم متحد ہوں اور اپنی جدوجہد کو منظم کریں۔ میں آپ کے سامنے ہوں،میرے کئی ساتھی اور دوست گزشتہ دس سال سے لاپتہ ہیں۔ اس لاقانونیت اور ظلم کے خلاف ہمیں مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ پنجاب سمیت پاکستان بھر کے عوام اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام غیرت مند، باشعور اور بہادر ہیں، اور وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم پر ایسے عناصر کو مسلط کر دیا گیا ہے جو ظلم و جبر کے ذریعے عوام کے حقوق سلب کر رہے ہیں۔ ان بے بصیرت کرپٹ وطن دشمن حکمرانوں نے ماضی کے سانحات، خصوصاً مشرقی پاکستان کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ماہ رنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، اور کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا۔ اسلام آباد میں بلوچ بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ہم نے اس وقت بھی اس کی مذمت کی، دھرنے میں جا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے سروں پر چادر رکھی۔ ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت پورے پاکستان کے عوام ظلم کا شکار ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وطن عزیز کی بقا کے لیے ہم سب مظلوم ایک ہو جائیں اور ان وطن دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ بلوچستان کی ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا، ورنہ یہ ظالم باقی ماندہ پاکستان کو بھی برباد کر دیں گے۔ ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے اور ان ظالموں کو روکنا ہے۔ اور اے ظالمو! سن لو، جب کسی تحریک میں خواتین شامل ہو جائیں، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں متحد رہنا ہے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے عوام کا اس پر سب سے زیادہ حق ہے۔ ان شاء اللہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ان ظالموں کو روکے گی اور وطن عزیز کو امن و انصاف کا گہوارہ بنائے گی۔ (بلوچستان ۔مستونگ،لکپاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے زیر اہتمام جاری دھرنے سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

21,963 views • 1 year ago

ان کے کام دیکھو، بچے سے لے کر بوڑھا تک ان کی اس طرح کی حرکات میں ملوث ہیں. صرف عید پر نہیں، پنجاب کے ثقافتی پروگراموں میں بھی افغان پٹھان یہ سب کرتے پھرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہم تو پنجاب میں صرف روزی کمانے آتے ہیں. جب پکڑے جاتے ہیں تو ان سے بڑا شریف شخص دنیا میں کوئی نہیں ہوتا، اجتماعی طور پر بھی ان کی یہی سوچ ہے،ہم ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر جب بھی پنجابی پٹھان کی بات آتی ہے،ان میں سے کئی نمک حرام گواہی دیتے ہیں کہ ہم پنجاب میں جب رہتے ہیں یا پنجاب میں ہمیں جب سکیورٹی گارڈ رکھا جاتا ہے تو ہماری نظریں ان کی عورتوں پر ہوتی ہیں۔ اور ایسے ایسے دعوے کرتے ہیں کہ جو میں ادھر غلطی سے بھی نہی لکھ سکتا۔ کیا سی سی ڈی صرف اور صرف پنجابیوں کو حالف فرائی،فُل فرائی اور گھوڑا فرائی کرنے کیلئے بنائی گئی ہے؟؟؟ ان کو لگام کس نے ڈالنی ہے؟؟؟ CRIME CONTROL DEPARTMENT (CCD) PUNJAB Maryam Nawaz Sharif Government of Punjab

Qamar PindiAana 🌾✨

54,520 views • 6 months ago

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 views • 6 months ago

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 views • 4 days ago