Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آپ لوگوں کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوتا ہے سر پر کھڑے ہو کر چائے اور دودھ ابال رہے ہوں پھر بھی وہ گر جائیں 😂😂😂

11,290 views • 17 days ago •via X (Twitter)

19 Comments

Rashid chughtai's profile picture
Rashid chughtai17 days ago

جو لوگ فون پہ لگے ہوتے ہیں 😂😂😂😂😂

Sonia Talha Siddiqui's profile picture
Sonia Talha Siddiqui16 days ago

ہاہاہاہاہاہاہاہا 😂

Fahad's profile picture
Fahad17 days ago

اگر خیال کہیں اور ہو تو ایسا ہو جاتا ہے 😅

Sonia Talha Siddiqui's profile picture
Sonia Talha Siddiqui16 days ago

خیال تو چائے میں ہی تھا پھر بھی ہو گیا 😂

sabir khoso's profile picture
sabir khoso16 days ago

ابھی چاے بی کر اٹھا ہوں جی بہت شکریہ

New Hope 😶‍🌫️'s profile picture
New Hope 😶‍🌫️15 days ago

موبائل کی طرف توجہ ہو تو ہوجاے

Ahmad Hassan's profile picture
Ahmad Hassan16 days ago

جی بالکل بچپن میں جب امی یہ 6ڈیوٹی سونپتی تھی تو اکثر ہو جاتا تھا

Besharat Ullah's profile picture
Besharat Ullah14 days ago

Hahahaha bhut time

Abdul Razzaq's profile picture
Abdul Razzaq15 days ago

دھیان فون کی طرف ہو تو ہو جاتا ہے

چوہدری قاسم's profile picture
چوہدری قاسم16 days ago

اتنی چائے کتنے افراد کے لیے بنا رہی بتائیں 😀

Sonia Talha Siddiqui's profile picture
Sonia Talha Siddiqui16 days ago

ماشاءاللہ سے چھ کے لئے الحمدللہ 😊

AZ's profile picture
AZ13 days ago

Bilkul hoa hai

محفوظ الرحمن اعوان's profile picture
محفوظ الرحمن اعوان17 days ago

جی ہاں کیوں کہ انچ کا پتہ نہیں چلتا

Amanmalik's profile picture
Amanmalik16 days ago

ہاں بالکل ایسا اکثر ہوتا ہے

Tariq Zaman Malik's profile picture
Tariq Zaman Malik16 days ago

ہمارے ساتھ تو نہیں ہوا لیکن ہوتے ہوئے دائیں بائیں دیکھا ہے اکثر

Amir H. Qureshi's profile picture
Amir H. Qureshi16 days ago

😁😁

عباس خٹک's profile picture
عباس خٹک16 days ago

بہت دفعہ ہوتا ہے 😂😂

𝑲𝒂𝒔𝒉𝒊𝒇 𝒎𝒂𝒉𝒎𝒐𝒐𝒅's profile picture
𝑲𝒂𝒔𝒉𝒊𝒇 𝒎𝒂𝒉𝒎𝒐𝒐𝒅13 days ago

بہت دفعہ

Hasan Arfi's profile picture
Hasan Arfi11 days ago

ہاہا، بالکل! چائے اور دودھ کو شاید ہماری نگرانی بھی کافی نہیں لگتی۔ 😂😂

Related Videos

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,843 views • 2 months ago