Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آپ نے جواب ہی دینا تھا تو دوسرے ٹوئیٹ کو کوٹ کرتے۔ جس میں اسد کھوکھر صاحب کی جولائی 2022 میں ٹکٹ جاری ہونے کی بات تھی۔ رہی بات سیاست میں سب ملتے ہیں تو پھر آپ عمران خان صاحب کو بھی ایسی سیاست سکھا دیتے۔ ہم نے تو...

257,546 views • 2 years ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,553 views • 1 month ago

بریکنگ نیوز 🚨سہیل آفریدی کی لانگ مارچ کیلئے 27 ستمبر کی کال، عمران ریاض خان نے اہم ترین بڑا سوال اٹھا دیا 🔥🔥 دو مہینے عمران خان کا کیا بنے گا؟ اب عمران خان دو مہینے انتظار کرتے رہیں گے کہ دو مہینے بعد کا سہیل آفریدی نے ٹائم دے دیا ہے تو دو مہینے اب میں جیل کاٹتا ہوں۔ میں اگست کی گرمی بھی برداشت کرتا ہوں، میں ستمبر کی گرمیاں بھی برداشت کرتا ہوں۔ میں آنکھ کا پرابلم بھی برداشت کرتا ہوں، ہسپتال لے کر جاتے ہیں، نہ جاتے یہ بھی برداشت کرتا ہوں۔ ملاقات کرواتے ہیں نہیں کرواتے یہ بھی برداشت کرتا ہوں۔ آپ نے ٹائم دینا ہے تو ہفتے کا بھی دینا ہے، دو دن کا بھی دینا ہے۔ آپ دس دن کا ٹائم بھی دے سکتے ہیں۔ سہیل آفریدی کو تو لایا بھی اس لیے گیا تھا ناں کہ تیاری کریں اور احتجاج کریں اور عمران خان صاحب کو باہر نکالنا ہے۔ تو جو تیاریاں آپ کی پچھلے ایک سال میں نہیں ہوسکیں، وہ تیاریاں اب آپ دو ماہ میں کرلیں گے۔ جو کام آپ ایک سال میں نہیں کر سکے وہ آپ دو ماہ میں بھی نہیں کرسکیں گے۔ اور اگر آپ نے جو کام کرنا ہے وہ آپ دس دن میں، پانچ دن میں بھی کرسکتے ہیں، ایک ہفتے میں بھی کرسکتے ہیں۔ عمران خان کے نام پر پاکستانی نکلتے ہیں۔ تو عمران خان نے کچھ اور کہا تھا۔ یہ اب اسلام آباد کی جانب جائیں گے دوبارہ قتل عام ہو جائے گا، کوئی حرکت کریں گے یہ لوگ۔ تو دیکھتے ہیں ہوتا کیا ہے لیکن عمران خان صاحب کا کیا ہوگا، اس دوران بالکل خاموشی رہے گی یا کوئی تحریک چلتی رہےگی۔ عمران خان صاحب کے علاج کیلئے یا انکی ملاقاتوں کیلئے کیا ہوگا، اتنی لمبی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔ تو کیا اس بات کی گارنٹی ہے کہ اس بیچ عمران خان صاحب کو، اُنکی صحت کو کچھ اور نقصان نہیں پہنچے گا۔ دیکھیں ناں اگر تو آپ کو اس بات کی فکر ہے کہ عمران خان صاحب کی حالت ٹھیک نہیں ہے، یا انکے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو آپ نے ٹائم دے دیا دو مہینے کا، دو مہینے آپ کو دے رہے ہیں، دو مہینے آپ عمران خان کے ساتھ زیادتی کر سکتے ہیں اُس کے بعد ہم آپ کو زیادتی نہیں کرنے دیں گے۔ یہ بہت عجیب چیز ہے مجھے سننے میں بھی بہت عجیب لگی۔ بہرحال پاکستان تحریک انصاف ایک پولیٹیکل پارٹی ہے، یہ انکا اپنا Decision ہے انہوں نے یہ فیصلہ لے لیا ہے، اسکی منطق فلحال مجھے سمجھ نہیں آرہی۔

‏زہـــرہ لیــاقت

12,816 views • 29 days ago

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 views • 8 months ago

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 views • 9 months ago

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 views • 17 days ago

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,447 views • 12 days ago

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 views • 10 months ago

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,437 views • 3 months ago

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 views • 2 years ago