Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اپنا گندا مضر صحت چورن (کوکنگ آئل) بیچنے کے لئے فراڈ پھیلایا گیا کہ دیسی گھی، سرسوں تیل مضر صحت ہے۔ فضول وڈیوز کی بجائے یہ مکمل وڈیو ضرور دیکھیں ! شیئر کیجیئے ، دھوکے سے نکلیں !

15,101 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

وزیراعظم شہباز شریف نے جوش خطابت میں فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کی مہنگائی ختم کرنے کے لیے اپنے کپڑے بیچ دیں گے۔ کپڑے اب عوام بیچنے پر آگئی ہے۔ حکومتوں کی بے ایمانی اور دھوکا دیکھنا ہو تو یہی آج رات تیل کی قیمتوں سے دیکھ لیں۔ جو تیل اس وقت آئل کمپنیوں اور پٹرول پمپس پر دستیاب ہے یہ سب پرانے پچاس سے پچپن ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدا اور لایا گیا اور اس میں سب لاجسٹک لاگت/ٹیکس پرافٹ ڈال کر قیمت کا تعین کیا گیا۔ اب جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمت اچانک بڑھی ہے لیکن ابھی پاکستان نے نئی عالمی پرائس پر تیل نہیں خریدا۔ لیکن یہاں حکومت، پٹرول پمپس اور آئل کمپنیوں نے فورا ہی عالمی ریٹ لگا دیا ہے۔ یوں ایران امریکہ لڑائی حکومت، آئل کمپنیوں اور پٹرول پمپس کے لیے بہت بڑا موقع بن کر آئی ہے کہ یہ راتوں راتوں اربوں کما لیں، حکومت زیادہ ٹیکس/لیوی کمائے گی، آئل کمپنیاں کم قیمت پر خریدا گیا آئل ڈبل قمیت پر بیچیں گی جبکہ ہزاروں پٹرول پمپس کا پرافٹ بھی ڈبل ہوجائے گا۔ یہ لڑائی ان سب کو مالی فائدہ دے گی اور جیب عوام کی خالی ہوگی۔ آن اے لائٹر نوٹ تو کیا یہ سارا جنگی میلہ دنیا بھر میں عوام کی پگ چرانے/جیبیں کاٹنے کے لیے رچایا گیا ہے ؟ Sohail Iqbal Bhatti GTV News HD GTV News Updates Shehbaz Sharif Ministry of Finance, Government of Pakistan Ali Pervaiz Malik

Rauf Klasra

17,156 views • 6 months ago

🚨عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سے ان پر ٹارچر کنفرم ہو رہا ہے۔ یہ بھی کنفرم ہوتا ہے کہ انکی اور آل صحت متاثر ہو رہی ہے ۔ اس رپورٹ سے کنفرم ہوتا ہے کہ عمران خان کو پلانگ کر کے اذیت دی جا رہی ہے ۔ میرے ذرائع نے تصدیق کی کہ عمران خان کے بلڈ پریشر سے متعلق خبریں نہ صرف درست ہیں بلکہ یہ کہا گیا کہ آپ لوگ اس معاملے کو ہلکا مت لیں اس سیریسلی دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عمران خان کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کسی کے انتقام کا، جسکا مقصد انکے صحت کو متاثر کرنا ہے انکو اذیت دینا کسی کی انا کی تسکین کے لیے ان پر ذہینی ٹارچر کیا جا رہا ہے جو رپورٹ کی صورت میں نظر آ رہا ہے ۔ جبکہ عمران خان جیل جانے سے پہلے ایک فٹ انسان تھےانکا بلڈ پریشر کبھی شوٹ نہیں کیا۔ جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے اسکا مطلب یہ بتانا ہے کہ ہم عمران خان کا ریگولر چیک اپ کروا رہے ہیں ڈاکٹروں تک رسائی ہے۔ جب کہ عمران خان کے تفصیلی ٹیسٹ کی کوئی رپورٹ اس میں شامل نہیں ہے۔ اور نیشنل ٹی وی پر مزاکرات کا چورن بیچا جارہا ہے اور دیکھایا جا رہا ہے کہ اس سارے معاملے میں ولن تحریک انصاف ہے۔‼️ (شہزاد اکبر )

Rodium-A

18,659 views • 18 days ago

والدِ محترم ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کی آرٹفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ فیک وڈیوز بنائی جارہی ہیں، جن میں مختلف قسم کے وظیفے اور ٹوٹکے بتائے جارہیں ہیں۔۔ یعنی بغیر محنت اور جدوجہد کے کچھ وظائف اور ٹوٹکوں کے ذریعہ دولتمند بن جانے کے خواب دکھائے جارہے ہیں۔ گویا خوشحال ہونے کا غیر مستند اور جھوٹا شارٹ کٹ۔۔۔! جھوٹ پر مبنی ان وڈیوز کو لوگ کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں جوکہ سراسر ناجائز اور حرام ہے۔ اس فتنے کے حوالے سے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ : ۱۔ والدِ محترم نے کبھی اسطرح کے اوراد اور وظائف نہیں بتائے۔ لہذا اس قسم کی کوئی بھی وڈیو اگر سامنے آئے تو نہ اسے دیکھیں اور نہ ہی شیئر کریں۔ ۲۔ اس وڈیو اور اسکے چینل کے خلاف یوٹیوب میں رپورٹ کریں کہ یہ fake ہے اور misleading ہے۔ ۳- اگر آپ کے علم میں کوئی شخص اسطرح کی وڈیوز بناتا ہے تو اسے روکیں۔ جزاکم اللہ خیرا اللہ تعالی فیک وڈیوز بنانے والوں کو ہدایت دے اور ان کے کام کو ناکام بنادے۔ آمین

Asif Hameed

14,704 views • 5 days ago

🔥‼️🚨 Alert 🔥‼️🚨 عمران خان کو آج دیکھ کر ایک سوال ضرور بنتا ہے آج عمران خان کو ہسپتال لے جانے کی خبر کے ساتھ جب ان کی تازہ ظاہری حالت دیکھی تو دل میں ایک سوال آیا کہ سوشل میڈیا پر چند دنوں سے آخر کس قدر بے رحمی کے ساتھ ایک زندہ انسان کی موت کی خبریں پھیلائی جا رہی تھیں؟ موت کی افواہیں، آخری رسومات کی باتیں، دعوے، قیاس آرائیاں اور خوف پھیلانے والی پوسٹس—یہ سب کچھ اس انداز میں کیا گیا جیسے کسی انسان کی زندگی کوئی معمولی خبر ہو۔ لیکن آج جب عمران خان سامنے آئے تو کم از کم ان کی ظاہری حالت دیکھ کر یہ ضرور محسوس ہوا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی سنسنی خیز باتوں اور حقیقت کے درمیان کتنا بڑا فرق ہوسکتا ہے۔ وہ بظاہر اسی حوصلے اور اسی مضبوطی کے ساتھ دکھائی دیے جس طرح وہ جیل جانے سے پہلے نظر آتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کی صحت کے بارے میں موجود خدشات کو نظر انداز کیا جائے۔ صحت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور مکمل طبی معائنہ ضروری ہے۔ لیکن صحت کے بارے میں تشویش اور کسی کی موت کی جھوٹی خبر پھیلانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہمیں معلومات تک رسائی ضرور دی ہے، مگر افسوس کہ اسی سوشل میڈیا نے جھوٹ، خوف اور سنسنی کو بھی بہت طاقت دے دی ہے۔ اختلاف کریں، تنقید کریں، سوال اٹھائیں، سیاسی بحث کریں—سب کا حق ہے۔ مگر کسی انسان کی زندگی اور موت کو کلکس، ویوز، ریچ اور سیاسی پروپیگنڈے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ آج کا منظر شاید ہم سب کے لیے ایک سبق ہے: خبر وہ نہیں جو سب سے پہلے پھیل جائے؛ خبر وہ ہے جو سچ ثابت ہو۔ اور عمران خان کے معاملے میں بھی ہمیں افواہوں کے بجائے آنکھوں دیکھی حقیقت، مستند معلومات اور انسانی ہمدردی کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیاست اپنی جگہ، انسانیت اپنی جگہ۔ زندہ انسان کو مرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر مت ماریں۔

❤️ Dr Raheela Khalid | Global Affairs

323,989 views • 17 days ago

" کسی وقت میں (اسلام آباد ہائیکورٹ میں) یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں یوم آزادی تقریب سے خطاب "ہم پاکستان کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنا سب سے جو مختص کیا گیا کردار ہے وہ غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ ہر کسی کا حق ان کے گھروں تک پہنچا دینا ہمارا کام ہے اس مقصد کے حصول کے لئے بینچ اور بار ایک ہی نظام کے دو ستون ہیں ایک مضبوط ، باوقار ، آزاد اور مضبوط عدلیہ نظام کے لئے ناگزیر ہیں جب کہ بینچ کی ذمہ داری ہماری شفافیت اور قانون کے مطابق فیصلوں کے ذریعے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے اس کے لئے میں آپ لوگوں سے یہ بات آج کے موقع پر شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ ایک سال پہلے کے بعد آج ہی کے دن دوسری دفعہ آپ سے مخاطب ہوں اس وقت میں اور آج کے وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی عدالتوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پر لوگوں کا اعتماد کیلکولیٹیڈ طریقے سے دیکھیں سے تو آجُ یومیہ دائری اڑھائی سو کے قریب ہے اس کے باوجود کہ ججز ہمارے پاس کم تھے لیکن کسی وقت میں یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں اور کتنا عدالتوں میں ریلیف ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کا عدالتوں میں آنا اور مسائل کو لےکر آنا اور ان کے حل کے لئے وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں "

Saqib Bashir

53,268 views • 19 days ago

کروڑوں پاکستانیوں کے لیئے ایک پریشان کن خبر ہے امہنگائی کا ایک طوفان پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے؟ ایران امریکا مذاکرات میں ڈیڈ لاک نے اب عالمی تیل کی قیمتوں کو بے قابو کر دیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان جیسی امپورٹ بیسڈ اکانومی کیلئے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ملک اپنی 80 فیصد سے زائد تیل کی ضروریات درآمد کرتا ہے۔ اس اضافے کے باعث نہ صرف پیٹرول کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ ہونے جارہا ہے اس کے ساتھ ہی بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیاء بھی مزید مہنگی ہوں گی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا ہفتہ وار آئل امپورٹ بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، روپے پر دباؤ اور مہنگائی میں تیزی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق معیشت کی گروتھ بھی نمایاں کم ہوسکتی ہے۔مکمل صورتحال جاننے کیلئے ہمارا On My Radar دیکھیں اور یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

11,840 views • 4 months ago

یہاں روایتی بحث ہو رہی ہے کہ خدا نخواستہ اگر ہم اپنی طرف دیکھیں، ہمارے بال بچے ہوں، یا یہ واقعہ ان وزراء صاحبان یا اراکینِ قومی اسمبلی کے بچوں کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو اُن کے کیا احساسات ہوتے؟ آج ہم اپنی سیاست کے لیے تقریریں کر رہے ہیں، لیکن میں جو بات کر رہا ہوں، وہ دل سے کر رہا ہوں۔ مجھے اس واقعے پر تکلیف ہے اور مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ان معصوم بچوں کے والدین کس کرب سے گزر رہے ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس واقعے کی تحقیقات کرے گی۔ یہ ایک مذاق ہے۔ یہ بہت بڑا سانحہ ہے اور اس کی تحقیقات کسی معمولی انتظامی کمیٹی کے ذریعے نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ صرف وزیرِ صحت استعفیٰ دیں۔ وزیرِ صحت کے پاس تو کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ وہ اپنے عہدے پر رہیں، لیکن یہ اجتماعی ذمہ داری (Collective Responsibility) کا معاملہ ہے۔ اس سانحے کی ذمہ داری صرف ایک فرد پر عائد نہیں ہوتی بلکہ تمام متعلقہ حکام اور ذمہ دار اداروں کا بھی تعین ہونا چاہیے۔ میں پمز واقعے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ میرا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے، ذمہ داران اور مجرمان کا تعین کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلوائے۔ میں یہ بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آئیں اور آئندہ ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

Asad Qaiser

16,279 views • 7 days ago

میں آج پنجا ب اسمبلی کے باہرحکو مت پاکستان کی گندم خریداری پالیسی کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والےکسانوں کی گرفتاریوں اوران پرتشدد کی شدید مذمت کرتاہوں۔ کسان حکومت سے کوئی بھیک یا خیرات نہیں بلکہ اپناحق مانگ رہے ہیں لیکن انہیں ان کا حق دینے اور ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ان پرتشدد کیاجارہا ہے، انہیں گرفتارکیا جارہا ہے۔ پنجاب اورسندھ کے کسان لاکھوں ٹن گندم لئے حکومت سے فریادیں کررہے ہیں کہ ان کی گندم خریدی جائے لیکن حکومت کی جانب سے مسلسل انکارکیا جارہا ہے اور کسانوں کوجواب دیاجارہا ہے کہ سرکار کے پاس گندم کے بہت ذخائر موجود ہیں لہٰذا حکومت گندم نہیں خریدسکتی۔ جبکہ حقائق یہ سامنے آرہے ہیں کہ گزشتہ سال پنجاب میں 46لاکھ ٹن گندم موجودتھی اس کے باوجود حکمراں اشرافیہ نے گزشتہ سال22 اکتوبر 2023ء کویوکرین سے 34لاکھ ٹن گندم درآمد کرلی۔ اس حکمراں مافیا نے 3100 روپے کے حساب سے یوکرین سے گندم خرید کرپنجاب میں 4300 روپے کے حساب سے فروخت کی۔ اس طرح اس حکمراں مافیانے ایک اندازے کے مطابق 85 ارب روپے کامنافع کمایا۔ یہ حکمراں مافیا اپنی بے قاعدگیوں کے ذریعے قومی خزانے سے اربوں روپے لوٹ رہی ہے جبکہ چھوٹے کسانوں سے ان کی گندم نہیں خریدی جارہی ہے، اس طرح کسانوں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے ۔حکومت کی گندم خریداری پالیسی کی وجہ سے چھوٹے کسان سڑکوں پر گندم لئے اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہیں ۔یہ سراسرظلم ہے کہ آج اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے باہرپرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کوپولیس کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورانہیں گرفتارکیاگیا۔ میں اس ظلم کی شدید مذمت کرتاہوں اورحکومت سے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ کسانوں پر یہ ظلم بند کرے،گرفتارکئے گئے کسانوں کوفی الفور رہا کیا جائے، حکومت گندم خریداری پالیسی پر فی الفورنظرثانی کرے۔ خدارا اس بات کا احساس کیا جائے کہ کسانوں کی گندم کھلے آسمان تلے پڑی ہے اور بارشیں بھی شروع ہوچکی ہیں، لہٰذا اس سے پہلے کہ کسانوں کی ہزاروں ٹن گندم بارشوں کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائے اور کسان مکمل طور پر تباہ ہوجائیں، کسانوں سے ان کی گندم مناسب نرخوں پر خریدی جائے اورکسانوں کی حق تلفی بند کی جائے

Altaf Hussain

11,610 views • 2 years ago