正在加载视频...

视频加载失败

اپنے حلقے سے بڑا انتخابی مینڈیٹ حاصل کرنے والے ایم این اے حاجی امتیاز چوہدری کی مسلسل اور بلاجواز حراست بنیادی انسانی حقوق، آئین اور عوامی جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔ ایک طرف ان کی 100 سالہ ضعیف والدہ شدید علالت کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں...

23,008 次观看 • 11 小时前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

گلگت بلتستان کی عوام نے اپنے معدنی وسائل پر غیرآئینی قبضے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے مسلط حکمرانوں کے غیردانشمندانہ اور غیر شفاف فیصلے پاکستان کو اندرونی تصادم کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ ریاست کی یہ پالیسی کہ ایک جانب گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی، سیاسی اور انسانی حقوق سے محروم رکھا جائے، اور دوسری جانب ان کی سرزمین کے قیمتی وسائل کو عوامی رضامندی کے بغیر ہتھیانے کی کوشش کی جائے، شدید عوامی غم و غصے کو جنم دے رہی ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اب وہ دور گزر چکا ہے جب طاقت یا چالاکی سے عوامی حقوق کو دبا لیا جاتا تھا۔ آج کے باشعور عوام اپنے وسائل، شناخت اور حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر مقتدر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کی شرکت اور رضامندی کے بغیر صرف طاقت کے بل بوتے پر گلگت بلتستان کے معدنی وسائل پر قبضہ کر لیا جائے گا تو یہ ایک بہت بڑی بھول ہے۔

Senator Allama Raja Nasir

27,974 次观看 • 1 年前

بریکینگ نیوز 🚨 🛑عمران خان کے بیٹے سلمان خان کا ٹوئٹ بھی آگیا, پوری دنیا دیکھ رہی ہے!! ہمہیں اطلاع دی گئی ہے کہ میرے والد، عمران خان، کے دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی ختم ہو چکی ہے، اور رپورٹس کے مطابق صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔ یہ 922 دن کی تنہائی میں قید، طبی غفلت (خون کے ٹیسٹوں سے انکار) اور جیل میں مناسب علاج کی دانستہ طور پر تردید کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ذمہ داری مکمل طور پر موجودہ رژیم، آرمی چیف اور ان کی حمایت کرنے والے کٹھ پتلیوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ جسمانی زوال ان کے احکامات، ان کی نگرانی اور ان کی ذمہ داری کے تحت ہو رہا ہے۔ انہوں نے انصاف کے نظام کو مسخ اور توڑ مروڑ کر میرے والد کو تنہائی میں قید رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ میرا بھائی اور میں اب بھی اپنے والد سے ملنے کے لیے ویزے سے محروم ہیں جبکہ ان کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ تاریخ اس ناانصافی کو ضرور ریکارڈ کرے گی۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی اداروں اور جمہوری ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم و ستم کا مقابلہ کریں اور ذمہ داروں کو سزا دلانے کو یقینی بنائیں۔

ZEShan ⚫

80,211 次观看 • 6 个月前

“جب کوئی نوجوان ریاست سے سوال کرتا ہے تو وہ لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔" اسلام آباد کے نوجوان اور انسانی حقوق کے کارکن سلیمان سہیل چند روز سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک اور باضمیر نوجوان کی آواز خاموش کروانے کی یہ گھٹیا حرکت انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ سلیمان سہیل کی پراسرار گمشدگی صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ملک کے آئین، آزادیِ اظہارِ رائے اور ہر باضمیر شہری کے بنیادی حقوق پر راست حملہ ہے۔ جو نوجوان کل تک ہزاروں مستحقین کو کھانا کھلانے اور معاشرے کی خدمت میں پیش پیش تھا، آج اسے ریاست سے سوال کرنے کی پاداش میں خاموش کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے؛ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبری گمشدگیوں اور خوف کی فضا قائم کرنے سے نہ تو سوالات دم توڑتے ہیں اور نہ ہی عوام کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا جا سکتا ہے۔ سلیمان سہیل کو فوری اور بلا تاخیر بازیاب کیا جائے، کیونکہ یہ خاموشی آئندہ کسی بھی سچ بولنے والے کا مقدر بن سکتی ہے۔

PTI

22,436 次观看 • 2 天前

حکومت نے جو 900 افراد کی جانب سے 198 ملاقاتوں کے اعداد و شمار دیے ہیں وہ مکمل طور پر گمراہ کن ہیں۔ 2023، 2024 اور 2025 کے ابتدائی حصے کے دوران، ہاں، مقدمات کی سماعتیں ہو رہی تھیں۔ مثال کے طور پر، 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی تھی۔ ان سماعتوں کے دوران 50، 60 یا 70 شریک ملزمان آتے تھے اور ہاں، مسٹر خان ان سے ملاقات کر سکتے تھے۔ لیکن اس مقدمے کی نوعیت بھی اس کے بعد سے یکسر تبدیل کر دی گئی ہے۔ اور عمران خان کو دیگر تمام شریک ملزمان سے الگ کر دیا گیا ہے اور ان کا مقدمہ اکیلے ویڈیو لنک پر چلایا جاتا۔ وہ جیل کی کوٹھڑی میں اکیلے بیٹھتے ان کے سامنے ایک موبائل فون، ایک سیلولر فون رکھ دیا جاتا ہے۔ کئی میل دور موجود متعلقہ جج کو ویڈیو کال کی جاتی ہے، اور عدالت میں جج محض اس موبائل فون کو اپنے سامنے رکھتا، جس کی اسکرین پر عمران خان کو جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا تھا، اور پھر ان کی حاضری لگا دی جاتی ہے کہ وہ عدالت میں موجود ہیں۔ یہ اس طریقۂ کار کی مضحکہ خیزی ہے جس کے تحت یہ مقدمہ چلایا جاتا رہا۔ چنانچہ عمران خان وہاں مکمل تنہائی میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ نہ اپنے وکلاء سے رابطہ کر سکتے ہیں، نہ یہ سن سکتے کہ ان کے خلاف گواہ کیا بیان دے رہے ہیں، اور نہ ہی وہ گواہوں کے بیانات کے حوالے سے اپنے وکلاء کو ہدایات دے سکتے ہیں کہ جرح کس طرح کی جائے۔ اس کے خلاف ہم نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے آئینی درخواستیں دائر کی ہیں۔ میں نے ایک درخواست دائر کی ہے اور مسٹر قاسم نے بھی ایک درخواست دائر کی ہے۔ لیکن ان درخواستوں میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ لہٰذا جس انداز میں عمران خان کا ٹرائل کیا گیا وہ منصفانہ قانونی عمل کے بنیادی تصور ہی کی نفی ہے۔ ایک شخص جیل کی کوٹھڑی میں اکیلا بیٹھا ہے، اس کے سامنے ایک موبائل فون رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے وکلاء سے بات نہیں کر سکتا، اسے معلوم نہیں کہ اس کے خلاف کیا گواہی دی جا رہی ہے، اور پھر آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹرائل ہے؟ کیا اسے ٹرائل کہا جا سکتا ہے؟ سلمان اکرم راجہ

PTI

35,835 次观看 • 4 天前

ابھی راشد یوسف صاحب کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی چاروں بیٹیاں اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں انہوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس اہلکار اور ایف سی کے جوان ان کی گلی کے اطراف موجود ہیں اور آنے جانے والے تمام مہمانوں کی سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت ان کے لیے ناقابل برداشت اذیت بن چکی ہے اور پولیس ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑک رہی ہے اہل خانہ کے مطابق جب پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان کے والد کو گھسیٹ کر حراست میں لیا حالانکہ ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود ان کے والد کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا وہ پورے ہوش و حواس میں تھے اور اہلکاروں کے ساتھ گئے مگر تھانے میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی تاب نہ لا کر وہ جانبر نہ ہو سکے اور جان کی بازی ہار گئے بچیوں نے بتایا کہ پولیس مسلسل ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ بیان دیں جبکہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے کی ذہنی حالت میں نہیں ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ چند کارکن ضرور آئے ہیں مگر ابھی تک پارٹی کا کوئی ذمہ دار رہنما نہیں پہنچا یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ معصوم بچیاں یتیم ہو چکی ہیں اور اسی حالت میں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اہل خانہ نے بتایا کہ والد کی تدفین کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ہے مگر پولیس نے اس خبر کو بھی دبانے کی کوشش کی ہے اس وقت بچیاں شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں تحریک تحفظ آئین اس وقت لاہور میں موجود ہے اور اخلاقی طور پر سب سے پہلے ان یتیم بچیوں کے پاس جانا اور ان کے غم میں شریک ہونا لازم ہے جو اس وقت ایک ظالم ریاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان بچیوں کو صبر عطا فرمائے اور ہم سب پر فرض ہے کہ اس کڑے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں

Agha Sheikh Sarwar

32,070 次观看 • 7 个月前

یہ تازہ ترین تشدد ہے،قابل مذمت، قابل نفرت۔ موجودہ فارم 47 کی حکومت کی اخلاقی حیثیت/قانونی تو عوام کو معلوم ہی ہے لیکن ان کی عوامی حمایت کی صورتحال یہ ہے کہ جیل میں قید ایک شخص کال دیتا ہے اور یہ پورا ملک بند کرکے لاٹھی چارج، شیلنگ اور بدترین تشدد سے ملک کا تماشہ بناددیتے ہیں،اپنے اور جمہوریت کے چہرے پر کالک مل دیتے ہیں،ان کی پوری اتحادی حکومت جیل میں قید شخص کی ایک کال کا مقابلہ نہیں کرسکتی، ریاستی معاملات کو چلانے اور بحرانوں کے حل کی ان کے اندر کوئی صلاحیت نہیں ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بیانیہ اور احتجاجی حکمت عملی کے مقابلے میں ان کے ساتھ کو ئی مقابلہ کا فرد بھی نہیں ہے جو آگے آئے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ ایک غیر سیاسی وزیر داخلہ کے علاوہ پوری حکومتی کابینہ/اتحادی غائب ہوتے ہیں۔ اس لئے گزارش ہے عدلیہ سے کھلواڑ بند کرو پارلیمنٹ سے کھلواڑ بند کرو جمہوریت سے کھلواڑ بند کرو اور سیدھے سبھاو اپنے گھر کی راہ لو اور پاکستان کی جان خلاصی کراو۔

Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان

294,156 次观看 • 1 年前