Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

۱۷ اکتوبر ۲۰۲۳کو Mohammad Malick اور اس کے علاوہ چند پروگرام میں یہ کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو کسی ایک حلقے میں 80،000 ووٹ پڑے لیکن RO کہہ دیں کہ نہیں 8،000 ووٹ پڑے ہیں تو کوئ کیا کر لے گا ؟ کیوں کے واضع نظر...

91,024 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von Adeel Azhar
Adeel Azharvor 2 Jahren

@MalickViews Bhai toa pls stop calling them with the titles which should be given to elected people!

Profilbild von Naeem Ahmed
Naeem Ahmedvor 2 Jahren

@MalickViews Because CJ of county is busy listening to 40 yr old cases and he does not watch TV!

Profilbild von Hamza 🇵🇰
Hamza 🇵🇰vor 2 Jahren

@MalickViews You were absolutely right

Profilbild von Riz Malik ⁱᴾⁱᵃⁿ
Riz Malik ⁱᴾⁱᵃⁿvor 2 Jahren

@MalickViews It’s a mockery of democracy and justice system in Pakistan. Nations and countries are working on new ways of living and how to cope with upcoming challenges. Whereas in Pak we are still debating and worried that election will be controlled and mandate stolen. No way toward.

Profilbild von AM(PTI)🇵🇰🇵🇰🇵🇰
AM(PTI)🇵🇰🇵🇰🇵🇰vor 2 Jahren

@MalickViews Yes but at least raise voice… do programs on it.. write columns… Wrong is Wrong say it loud n clear

Profilbild von Muhammad
Muhammadvor 2 Jahren

@MalickViews

Profilbild von Muhammad Rahim KHATTAK
Muhammad Rahim KHATTAKvor 2 Jahren

@MalickViews EVM مشین کا ایک نقصان یہ بھی تھا کہ اس میں 88 کو 688 نہیں کیا جا سکتا تھا۔

Profilbild von YASAR MAHMOOD
YASAR MAHMOODvor 2 Jahren

@MalickViews بالکل سر یہی وہ پوائنٹ ہے جو ہم سمجھ نہیں پا رہے۔ ہر دفعہ یہی ہوتا ہے سے بات بڑھ کر اس بار دیدہ دلیری سے ہونے پر آگئی ہے۔ اب یہی سوچ ہے کہ کوئی کیا کر لے گا۔ جس طرح کے فارم 45 اپلوڈ کئے گئے ہیں، وہ ایک واضح پیغام ہے آئین اور قانون کیلئے۔

Profilbild von Muhammad Naveed Iqbal🇵🇰
Muhammad Naveed Iqbal🇵🇰vor 2 Jahren

@MalickViews لندن پلان والوں کی موجیں ہیں

Profilbild von jay Ali
jay Alivor 2 Jahren

@MalickViews

Ähnliche Videos

ہمارے ملک میں ایک آئین ہے، اور اس آئین کی روح سے ایک پارلیمنٹ ہے۔ یہ عوام کی نمائندہ ہے، اور اس پارلیمنٹ کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ عوام کی قوت کو مضبوط کرے، عوام کے حقوق کی جنگ لڑے، عوام کو طاقتور بنائے۔ لیکن آج ہماری پارلیمنٹیں مقتدرہ کی قوت میں اضافہ کر رہی ہیں اور عوام کو کمزور بنا رہی ہیں۔ پاکستان کے عوام آج کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ پاکستان کے عوام ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن عوام کا ووٹ منظرِ عام پر نہیں آتا، پتہ نہیں کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ گلگت میں الیکشن ہوا، اور ایک پولنگ اسٹیشن پر، جہاں جمعیۃ علماء کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جیت رہی تھی، اس کے بکسے دریا میں ڈال دیے گئے۔ اب بتاؤ، دریا میں بکسے کہاں ڈھونڈو گے؟ ووٹ کہاں سے گنو گے؟ اب اس قسم کے عوام کے حقِ رائے دہی پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اس کے حقِ بیعت پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اور پارلیمنٹ عوام کے حق کی جنگ نہیں لڑے گی، بلکہ مقتدرہ کو طاقتور بنانے کی جنگ لڑے گی، جو دھاندلی کراتی ہے، جو نتائج تبدیل کراتی ہے، جو عوام کے ووٹ کو اپنے قبضے میں لے کر اپنی مرضی کے نتائج سامنے لاتی ہے، ان کو طاقتور بنائے گی، تو پھر یہی انداز ہوگا کہ نہ آپ کو گندم ملے گی اور نہ آپ کو چاول ملے گا۔ پھر بھوک اور افلاس کے علاوہ آپ کے پاس کچھ نہیں ہوگا، پھر فساد کے علاوہ آپ کے حصے میں کچھ نہیں ہوگا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا قصور میں خطاب #مولانا_کی_للکار

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,941 Aufrufe • vor 2 Monaten

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,040 Aufrufe • vor 2 Monaten