Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اگر آپ کا(سولر) کسٹمر بیٹری لگا لے گا تو کیا وہ دو تین سال بعد آپ کے پاس واپس آئے گا؟آہستہ آہستہ آپ کے بہت سارے(سولر)کسٹمرز گرڈ سے نکل جائیں گے اور یہ چیز گرڈ کیلئے بہت خطرناک ہے۔ جب لوگ بیٹریاں لگائیں گے تو ہمارے ڈسکوز،جنہیں آج چھوٹا...

99,187 views • 7 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 views • 10 months ago

ایک ماہرنگ کو قید کیا ہے آج بلوچستان کا ہر فرد ہر عورت وہی بات کر رہی یے جو ماہرنگ کیا کرتی تھی ۔ آپ کیوں اتنے نااہل اور کمزور اور بذدل ریاست ہیں کہ ہر دوسرے دن آپکی عوام روڈوں پہ رل رہی ہوتی ہے لاشیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں وہ رو رہے ہوتے ہیں،انصاف کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ ان بچوں کو بچانا ریاست اور فوج کی ذمہ داری ہے ۔ اگر آپ ہمارے بچوں،ہمارے گھروں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر آپ یہ وردی پہننے کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ جب تک آپ عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے آپ کسی ٹائٹل حقدار نہیں ہیں یہ وردی اس بات کی گارنٹی ہے کہ آپکی عوام محفوظ ہے کیونکہ انکے پاس فوج ہے۔ اگر اس فوج اور ایف سی کے باوجود میرے جوان بچوں کے جنازے پڑے ہوئے ہیں تو یہ فوج یہ ایف سی کسی کام کے نہیں ۔ جب وہ چار تھے آپ نے انکو کیوں نہیں مارا؟ جب وہ چار سے بارہ ہوئی آپ نے انکو کیوں نہیں پکڑا؟ اب وہ بار سے چار سو ہو گئے ہیں ابھی بھی وہ بھاگ گئے ہیں۔ یہ آپشن کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کہ آپ زمین چھوڑ کر چلے جاؤ۔اتنی ساری فوج ایف سی کس لیے ہے اگر وہ اس زمین کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔ ہمارااپنی زمین پہ جینا حرام ہے۔ یہ ہجرت اور آپریشن والا آپشن ہی کیوں ہے ؟ آپکے پاس اس بات کی گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے ؟ اور وہ بول کے گئے ہیں کہ ہم دوبارہ آئیں گے انکی یہ اسٹمنٹ آپکی نااہلی ، نالائقی کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔ اگر یہ آرمی جو ہمیں بلوچستان میں تحفظ نہیں دے سکتی وہ اس ملک میں کہیں بھی تحفظ نہیں دے سکتی ہم صرف آپ سے زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں ۔

Rodium-A

27,638 views • 2 months ago

سولر پینلز کے ساتھ بیٹری اسٹوریج کا بڑھتا رجحان، حکومت، نیپرا اور ڈسکوز کے لیے خطرے کی گھنٹی پاکستان میں بجلی صارفین اب خاموشی سےصرف بل ادا کرنے والے خاموش شہری نہیں رہے بلکہ وہ اپنی چھت پر شمسی پینل (Solar Panels) لگا رہا ہے، دن کو شمسی توانائی سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اور اسے بیٹری میں محفوظ کر کے شام اور رات کو استعمال کر رہے ہییں۔ فیکٹریاں، دکانیں، زرعی ٹیوب ویلز، بینک، اسکول اور بڑے گھرانے آہستہ آہستہ قومی گرڈ (National Grid) پر اپنا انحصار کم کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی حکومتی منصوبے سے نہیں آئی، بلکہ بجلی کے بھاری بلوں، مہنگی گرڈ بجلی اور سستی ہوتی شمسی ٹیکنالوجی نے اسے خود جنم دیا ہے۔ رینیوایبلز فرسٹ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 11.5 گیگا واٹ ایسے شمسی پینل استعمال ہو رہے ہیں جو نہ تو نیٹ میٹرنگ (Net Metering) میں شامل ہیں اور نہ ہی براہِ راست قومی گرڈ کا حصہ ہیں۔ یہ زیادہ تر کمرشل، صنعتی، زرعی اوردور دراز کے علاقوں میں بسنے والے گھریلو صارفین استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کا ایک بڑا حصہ اب سرکاری نظام سے باہر چلا گیا ہے. بیٹری اسٹوریج اس تبدیلی کا اگلا بڑا مرحلہ ہے۔ بیٹری اسٹوریج سے مراد وہ نظام ہے جس میں دن کے وقت شمسی بجلی کو بیٹری میں محفوظ کیا جاتا ہے اور شام یا رات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے 2024 میں تقریباً 1.25 گیگا واٹ آور لیتھیم بیٹری اسٹوریج درآمد کیا۔ 2025 کے پہلے دو ماہ میں مزید 400 میگا واٹ آور بیٹری اسٹوریج درآمد ہوا۔ مجموعی طور پر یہ تقریباً 1.65 گیگا واٹ آور بنتا ہے، جو 165,000 گھروں میں لگی 10 کلو واٹ آور گھریلو بیٹریوں کے برابر ہے۔ یہ صرف صارف کے لیے سہولت نہیں، قومی گرڈ کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ اگر صارف دن میں شمسی بجلی بنائے، اسے بیٹری میں محفوظ کرے اور شام کو گرڈ سے کم بجلی لے تو ڈسکوز کی فروخت کم ہو گی۔ مگر بجلی گھروں کو دی جانے والی کپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔ سو جو لوگ بیٹری اور شمسی نظام لگا سکتے ہیں وہ گرڈ سے دور ہو جائیں گے، جبکہ غریب، کرایہ دار اور کم آمدنی والے صارفین مہنگے بجلی کے نظام کو بھگتتے رہیں گے۔ یہاں حکومت کی پالیسی پر سب سے بڑا سوال اٹھتا ہے۔ حکومت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ (Net Billing) میں بدل کر شاید ڈسکوز کا ریونیو بچانا چاہتی ہے، مگر اس سے صارفین بیٹری اسٹوریج کی طرف مزید تیزی سے جا سکتے ہیں۔ اگر صارف کو دن کی بجلی سستے داموں گرڈ کو دینی پڑے اور شام کو مہنگی بجلی خریدنی پڑے تو وہ بیٹری خریدنے کو ترجیح دے گا۔ یوں حکومت کی پالیسی گرڈ کو بچانے کے بجائے گرڈ سے علیحدگی، یعنی گرڈ ڈیفیکشن (Grid Defection)، میں اضافہ کر سکتی ہے۔ مسئلہ صرف گرڈ کا نہیں، عوامی تحفظ کا بھی ہے۔ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (Battery Energy Storage System/BESS) صرف بیٹری کا ڈبہ نہیں ہوتا۔ اس میں بیٹری سیلز (Battery Cells)، بیٹری مینجمنٹ سسٹم (Battery Management System/BMS)، انورٹر (Inverter)، ٹھنڈک کا نظام (Cooling System)، ہوا کی نکاسی یعنی وینٹی لیشن (Ventilation)، آگ سے بچاؤ کا نظام (Fire Protection) اور محفوظ وائرنگ شامل ہوتی ہے۔ اگر کم معیار کے بیٹری پیک گھروں، اسکولوں، بینکوں اور فیکٹریوں میں لگ رہے ہیں تو یہ صرف بجلی کا نہیں بلکہ جان و مال کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ حکومت کو جواب دینا ہو گا کہ درآمدی بیٹری سیلز کا معیار کون چیک کر رہا ہے؟ بیٹری مینجمنٹ سسٹم کی جانچ کس ادارے کے پاس ہے؟ گھروں اور کاروباری مقامات پر بیٹری کی تنصیب کے لیے وینٹی لیشن اور آگ سے بچاؤ کے اصول کہاں ہیں؟ انسٹالرز کی تربیت اور سرٹیفکیشن (Installer Certification) کون کر رہا ہے؟ خراب یا پرانی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ (Recycling) کا نظام کہاں ہے؟ اگر یہ سب کچھ واضح نہیں تو پاکستان ایک ایسے شعبے میں داخل ہو رہا ہے جہاں فائدہ بھی بڑا ہے اور خطرہ بھی بڑا۔ اسی پس منظر میں سرکاری الیکٹرک بسوں کا سوال بھی اہم ہے۔ حکومتیں الیکٹرک بسیں تو لا رہی ہیں، مگر ان کے چارجنگ اسٹیشنز کو شمسی توانائی پر کیوں منتقل نہیں کیا گیا؟ بس ڈپو، ٹرمینلز اور سرکاری عمارتوں کی چھتیں دن میں شمسی بجلی بنا سکتی ہیں۔ یہی بجلی بیٹری میں محفوظ کر کے شام یا رات کو بسوں کی چارجنگ کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اگر عام شہری اپنے گھر پر شمسی پینل اور بیٹری لگا سکتا ہے تو حکومت اپنے الیکٹرک بس ڈپو پر ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکتی؟ الیکٹرک بس اگر مہنگی گرڈ بجلی سے چارج ہو گی تو گرڈ پر نیا بوجھ پڑے گا۔ اگر وہی بس شمسی بجلی اور بیٹری اسٹوریج سے چارج ہو تو شہر کی آلودگی بھی کم ہو گی، گرڈ پر دباؤ بھی گھٹے گا اور سرکاری ٹرانسپورٹ کا خرچ بھی کم ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر نئے الیکٹرک بس منصوبے کے ساتھ شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج کا منصوبہ لازمی ہونا چاہیے۔ پاکستان کو فوری طور پر بیٹری اسٹوریج کے لیے قومی پالیسی بنانی ہو گی۔ اس پالیسی میں درآمدی معیار، حفاظتی ضابطے، تنصیب کے اصول، انسٹالرز کی سرٹیفکیشن، ری سائیکلنگ، شعبہ وار ڈیٹا، گرڈ منصوبہ بندی اور سرکاری الیکٹرک بس چارجنگ کو شامل کیا جائے۔ نیپرا، این ٹی ڈی سی اور ڈسکوز کو بھی بیٹری اسٹوریج کو خطرہ نہیں بلکہ نئی حقیقت سمجھ کر اپنی منصوبہ بندی بدلنی ہو گی۔ بیٹری اسٹوریج کا انقلاب پاکستان میں آ چکا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شہری آگے نکل گیا ہے اور حکومت ابھی پالیسی ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ریاست نے اس تبدیلی کو محفوظ، منصفانہ اور منظم نہ کیا تو کل یہی بیٹریاں گرڈ، ڈسکوز، کپیسٹی پیمنٹس کے چنگل سے بچانے کے لئے نجات دہندہ اور موجود بجلی کے نظام کے خطرہ بن جائیں گی۔ Amir Mateen #PakistanEnergy #BatteryStorage #SolarPower #EnergyTransition #PowerSector #GridReform

Muhammad Akmal Khan

23,313 views • 2 months ago

"پشتون بہت باوقار لوگ ہیں، بہت کشادہ دل رکھتے ہیں، درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسا نہ بولیں، ایسا نہ بولیں۔ یہ بہت برا کام ہے، یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اس حوالے سے میں نے بہت پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ ​ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ کیوں لیتا ہے، مولوی صاحب؟ کیوں ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ لیتا ہے اور تلوار نکال کر وار کرتا ہے؟ یہ بہت برا کام ہے۔ یہ باتیں وہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کو اتنا آسان مت سمجھیں کہ آپ نے کسی کو مار دیا اور وہ بھول جائیں گے۔ ​اس کا حساب ہم لیں گے، خدا کی قسم، انشاءاللہ الرحمٰن۔ ہم اس کا حساب لیں گے اور قرآن شریف کی رو سے لیں گے۔ پشتونوں کی روایات اور جرگہ کی رو سے لیں گے۔ عزیزان! ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، برا نہیں کریں گے۔ ہمارے ساتھ جو برا ہوا ہے ہم اسے معاف کر دیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں گے۔ ​لیکن اب ہم اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ہم تمام پشتونوں کے مشورے سے آگے بڑھیں گے۔ تمام پشتونوں سے، یہ پشتونوں کے مشورے سے ہوگا۔ ہم تمام پشتونوں سے مشورہ کریں گے۔ پشتون ہر جگہ موجود ہیں۔ جنہوں نے گولیاں چلائی ہیں... ہم نہتے لوگ ہیں۔ ہم نہتے لوگ ہیں عزیزان! ​لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ہمیں ماریں گے اور پھر وہ ہمارے وطن پر حکمرانی کریں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کہ میرے وطن پر حکمرانی کرنے والا بھی بہادر ہو اور اگر میں نے اپنی باری نہ لی تو میں مسلمان بھی نہیں ہوں، میں پشتون بھی نہیں ہوں۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

33,198 views • 2 months ago